ہجری سال کے اختتام یا ابتدا کی کوئی دعا مستند نہیں

عائشہ نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏ستمبر 22, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    کئی لوگ ہجری سال کے اختتام اور نئے ہجری سال کی دعائیں ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں جو کسی حدیث مبارک سے ثابت نہیں۔
    نئے سال کی ابتدا کی کسی دعا کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا اس لیے بھی درست نہیں کہ محرم سے نئے ہجری سال کی ابتدا کا فیصلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں کیا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محرم سے نیا سال شروع ہی نہیں ہوتا تھا تو پھر ان دعاؤں کی کوئی حقیقت نہیں۔
    ذیل میں ان دعاؤں اور علمائے کرام کے ان کے بارے میں حکم کو ذکر کر دیا گیا ہے۔ اگر آپ کو کوئی نئی دعا نظر آئے تو یہاں لکھ دیجیے تا کہ عوام کو بتایا جا سکے۔
    1-نئےسال کی ابتدا پر بسم اللہ پڑھیں، آیۃ الکرسی پڑھیں اور پھر یوں دعا کریں: اللهم يا محول الأحوال حول حالي إلى أحسن الأحوال بحولك وقوتك يا عزيز يا متعال ، وصلى الله على نبينا محمد وصحبه۔
    2- بسم اللہ اور درود کے بعد یہ تین بار یہ دعا پڑھیں تو شیطان کہے گا یہ شخص ساری عمر کے لیے محفوظ ہو گیا۔: اللهم إني أسالك فى هذا العام الجديد العصمة فيه من الشيطان وأوليائه والعون لى على هذه النفس الأمارة بالسوء .. وأسألك اللهم عملا يقربني إليك ياذا الجلال والإكرام وصل الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم
    3- جب سال یا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام وجوار من الشيطان ورضوان من الرحمن۔
    اسی طرح جاتے سال کے لیے یہ دعا سکھائی جا رہی ہے کہ
    4-"ہجری سال کے اختتام پر وضو کریں، ضحی کے وقت دو رکعت نفل ادا کریں پھر یہ دعا کریں: بسم الله الرحمان الرحيم وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليما، اللهم ما عملت في هذه السنة مما نهيتني عنه فلم أتب منه ولم ترضه ونسيته ولم تنسه وحلمت علي بعد قدرتك على عقوبتي ودعوتني إلى التوبة بعد جرأتي على معصيتك فإني أستغفرك فاغفر لي بفضلك وما عملت فيها مما ترضاه ووعدتني عليه الثواب فأسالك اللهم يا كريم يا ذا الجلال والإكرام أن تتقبله مني، ولا تقطع رجائي منك يا كريم وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليما.اسی طرح زوال کے بعد یہی عمل کریں، پھر عصر کی نماز سےپہلے یہی عمل کریں۔ آپ کی اس تین مرتبہ دعا کے بعد شیطان کہے گا ہم نے اس شخص کے لیے پورا سال محنت کی اور اس نے ایک لمحے میں ہماری محنت برباد کر دی۔"
    علمائے کرام کے مطابق اوپر ذکر کردہ تمام دعائیں اور عمل غیر مستند ہیں۔
    شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ السحیم فرماتے ہیں: سال کی ابتدا یا اختتام کی کوئی دعا صحیح نہیں۔
    تیسری دعا کے متعلق یہ بات درست ہے کہ یہ طبرانی کی معجم اوسط میں ہے مگر اس کی سند میں رشدین بن سعد ضعیف راوی ہے۔ اس بنا پر یہ دعا بھی درست نہیں۔
    خلاصہ یہ کہ نئے یا پرانے ہجری سال کی ابتدا یا اختتام کی کوئی عبادت، دعا یا مبارک باد کے مخصوص الفاظ نبی کریم ﷺ سے ثابت نہیں ہیں۔ اسی بات کے متعلق شیخ العثیمین، اور شیخ عبدالکریم الخضیر کا تفصیلی فتوی یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
    حوالہ جات:
    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=122522
    http://www.ahlalhdeeth.com/vb/showthread.php?t=146982
    http://www.urdumajlis.net/threads/نئے-ھجری-سال-کی-مبارکباد-دینے-کاحکم.2531/
    ترجمہ و ترتیب: راقمہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    548
    جزاک اللّہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    وایاکم۔
     
  5. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    نئے ہجری سال کی دعا سے متعلق میں نے شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کے شاگرد حافظ محمد طاھر السلفی حفظہ اللہ سے پوچھا تھا کہ آیا یہ دعا باسند صحیح ثابت ہے کہ نہیں کیونکہ کچھ محقق اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں اور کچھ صحیح، تو انہوں نے جواب دیا کہ:
    ”وعلیکم السلام و رحمة الله وبركاته... بھائی اس روایت کی ایک صحیح سند امام بغوی رحمہ اللہ کی معجم الصحابہ میں موجود ہے....“
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ذرا زحمت کر کے وہ سند یہاں ذکر فرما دیں۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 22, 2018
    • متفق متفق x 2
  7. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    ان شاء اللہ ضرور سند معلوم کرکے یہاں پیش کروں
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 22, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,444
    دونوں اراکین سے التماس ہے کہ شریف شریف کھیلنے کے بجائے صحیح اور ضعیف پر توجہ دی جائے تو ہمارے علم میں بھی اضافہ ہو۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    میں آپ کی بات سے بالک متفق ہوں، ہونا تو ایسا چاہئے تھا کہ سیدھا سند کا مطالبہ ہوتا، سند کو شریف کہہ کر طنز کیا گیا۔
     
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,444
    کوئی بات نہیں حسن ظن رکھئے، عائشہ سسٹر مجلس علماء کی رکن ہیں، ان کا طنز آپ پر نہیں بلکہ اس سند پر ہو سکتا ہے جس کا جواب ان کے پاس موجود ہو گا۔
     
    • متفق متفق x 2
  11. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    440
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ قَالَ: نا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ قَالَ: نا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَتَعَلَّمُونَ هَذَا الدُّعَاءَ إِذَا دَخَلْتِ السَّنَةُ أَوِ الشَّهْرُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ، وَالْإِيمَانِ، وَالسَّلَامَةِ، وَالْإِسْلَامِ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ، وَجَوَازٍ مِنَ الشَّيْطَانِ۔
    ۔۔۔ترجمہ: جب نیا سال یا نیا مہینہ شروع ہوتا تو صحابہ کرام ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے ۔اے اللہ ! اس کو (نیا سال یا نیا چاند) ہم پر امن و ایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ لائیے۔

    یہ حدیث ’ المعجم الأوسط‘ میں مذکور ہے جو رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ کی وجہ سے ضعيف ہے جس کا ذکر مسند الإمام أحمد بن حنبل میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ قال نور الدين الهيثمي في " مجمع الزوائد ومنبع الفوائد " 10/139: رواه الطبراني في " المعجم الأوسط " واسناده حسن، وتعقبه الحافظ ابن حجر في حاشية النسخة، فقال: فيه رِشدين بن سعد وهو ضعيف۔
    رشدين بن سعد کے بار ے میں کلام:
    اس کا نام رشدين بْن سعد، وَهو بن أبي رشدين، وأَبُو رشدين اسمه سعد، يُكَنَّى أبا الحجاج المِهْري مصري کے القاب سے مشہور ہے۔
    أسماء الرجال کی کتب میں رشدین بن سعد کی احادیث کو ضعیف مانا گیا ہے۔ جیسا کہ کتاب ’ الكامل في ضعفاء الرجال‘ میں ہے ۔
    سمعت أحمد بن مُحَمد بن حرب جرجاني يقول: سَمعتُ يَحْيى بْن مَعِين يقول رشدينين ليسا برشيدين رِشْدِين بْن كُرَيْب ورشدين بْن سعد.
    حَدَّثَنَا مُحَمد بْن علي، قَال: حَدَّثَنا عثمان بن سَعِيد، قلتُ ليحيى بْن مَعِين: فرشدين بْن سعد قَالَ لَيْسَ بشَيْءٍ.
    حَدَّثَنَا ابْنُ حماد، حَدَّثَنا معاوية، عَن يَحْيى، قال: رشدين بْن سعد ضعيف.
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَطِيرِيُّ، حَدَّثَنا عَبد اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بن الدورقي قال يَحْيى بن مَعِين رشدين بْن سعد ليس بشَيْءٍ۔
    سمعتُ ابْن حماد يقول: قال السعدي رشدين عنده معاضيل ومناكير كثيرة.
    سمعتُ ابْن حماد يقول: قال السعدي سمعتُ ابْن أبي مريم يثني على رشدين في دينه.

    اس کے علاوہ کتاب ’ الجرح والتعديل ‘ میں بھی ان کے بارے میں ذکر ہے۔
    حدثنا عبد الرحمن سمعت أبي يقول: رشدين بن سعد منكر الحديث وفيه غفلة، ويحدث بالمناكير عن الثقات، ضعيف الحديث، ما أقربه من داود بن المحبر، وابن لهيعة استر، ورشدين أضعف.
    حدثنا عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن رشدين بن سعد فقال: ضعيف الحديث.

    جب کہ دوسری حدیث جو اس ضمن میں ہے۔
    · حدثني إبراهيم بن هانىء بن أصبغ قال: أخبرني ابن وهب عن حيوة عن أبي عقيل عن جده عبد الله بن هشام قال: كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعلمون هذا الدعاء كما يتعلمون القرآن إذا دخل الشهر أو السنة: " اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام وجوار من الشيطان ورضوان من الرحمن.
    ترجمہ: جب نیا سال یا نیا مہینہ شروع ہوتا تو صحابہ کرام ایک دوسرے کو یہ دعا ایسے سکھایا کرتے تھے جیسے وہ قرآن ایک دوسرے کو سکھاتے تھے ۔اے اللہ ! اس کو (نیا سال یا نیا چاند) ہم پر امن و ایمان ، سلامتی اور اسلام کے ساتھ رحمن کی خوشنودی اور شیطان سے حفاظت کے ساتھ لائیے۔

    یہ حدیث " معجم الصحابة"میں ہے جس میں مذکورہ بالا حدیث جو رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ کی وجہ سے ضعيف تھی وہ راوی اس حدیث میں نہیں ہیں۔
    سند کا مدار أَبِي عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ.[1] پر ہے جس کی وجہ سے امام ابن حجر نے وهذا موقوف على شرط الصحيح کا حکم لگایا ہے اور عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ کی وجہ سے رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ والی سند کو بھی تقویت ملتی ہے۔۔
    عُقَيْلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ کے بار ے میں کلام:
    کتاب موسوعة أقوال الإمام أحمد بن حنبل في رجال الحديث وعلله میں ہے وقال صالح بن أحمد بن حنبل: قال أبي: أبو عقيل زهرة بن معبد، ثقة، جده من أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم
    اور تهذيب التهذيب میں ہے
    معبد" بن عبد الله بن هشام بن زهرة بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تيم بن مرة التيمي القرشي روى عن أبي هريرة في فضل الرباط وعنه ابنه أبو عقيل زهرة بن معبد ذكره بن حبان في الثقات.
    یعنی أبو عقيل زهرة بن معبد کو ثقة قرار دیا ہے۔

    امام ابن حجر کی کتاب الإصابة في تمييز الصحابة میں ہے:
    ۔ ۔ ۔ حديثا آخر رواه عن الصحابة، ولفظه: كان أصحاب رسول اللَّه صلى اللَّه عليه وسلّم يتعلّمون الدعاء كما يتعلمون القرآن إذا دخل الشّهر أو السنة: اللَّهمّ أدخله علينا بالأمن والايمان، والسّلامة والإسلام، وجواز من الشّيطان، ورضوان من الرّحمن
    وهذا موقوف على شرط الصحيح.
    امام ابن حجر نے حدیث کے بارے میں فرمایا ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • مفید مفید x 1
  12. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    بہت ظلم ہوا ہے آپ کے ساتھ، ہمیں علم نہیں تھا کہ لفظ شریف آپ کی چھیڑ ہے۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    جنہیں علم درکار ہے ان کے لیے تفصیلی حوالہ جات موجود ہیں۔ کھیلنے والی بات نامناسب اور غیر ضروری ہے۔
     
  14. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,444
    قوانین مجلس کا خیال رکھا جائے:

    ع (3): کسی دوسرے ممبر پر ذاتی تنقید، حملہ اور طنز کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  15. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    شیخ حافظ محمد طاھر السلفی حفظہ اللہ نے اس کی سند بھیجی ہے:
    حدثني إبراهيم بن هانىء بن أصبغ قال: أخبرني ابن وهب عن حيوة عن أبي عقيل عن جده عبد الله بن هشام قال: كان أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعلمون هذا الدعاء كما يتعلمون القرآن إذا دخل الشهر أو السنة: " اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان والسلامة والإسلام وجوار من الشيطان ورضوان من الرحمن.
    معجم الصحابة للبغوي : 543/3
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. مزمل حسین

    مزمل حسین نوآموز

    شمولیت:
    ‏جنوری 14, 2018
    پیغامات:
    22
    ماشاء اللہ! سن کر اچھا لگا کہ عائشہ بہن مجلس علماء کی رکن ہیں،
    شاید میں نے ایک ساتھ ان کے دو تھریڈ جس میں روایتوں کو ضعیف اور من گھڑت کہا گیا تھا، وہاں میں نے ان کی روایات کو حسن کہا تھا۔ اس وجہ سےانہوں نے سند شریف کہا مطالبہ کردیا۔
    اور دوسری طرف مقام عبرت! کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں