جب تمہارے حاکم شریر ہوں ۔ ضعیف حدیث

محمدارسلان نے 'ضعیف اور موضوع احادیث' میں ‏اکتوبر، 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدارسلان

    محمدارسلان نوآموز

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2017
    پیغامات:
    11
    نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    مسلمانو! جب تمہارے حاکم نیک دل ہوں اور تمہارے امیر فیاض*ہوں اور تمہارے معاملات کی بنیاد مشورہ پر ہو
    تو زمین کی سطح پر تمہارا رہنا زمین کے پیٹ میں*جانے سے بہتر ہے۔
    اور جب تمہارے حاکم شریر ہوں اور تمہارے امیر بخیل ہوں
    اور تمہارے معاملات کا فیصلہ عورتوں کی رائے پر ہو
    تو زمین کے پیٹ میں تمہارا جانا زمین کی سطح پر رہنے سے بہتر ہے۔ (سنن الترمذی)
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,060
    یہ حدیث سخت ضعیف ہے ۔۔

    2266- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَشْقَرُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالاَ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "إِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ خِيَارَكُمْ، وَأَغْنِيَاؤُكُمْ سُمَحَائَكُمْ، وَأُمُورُكُمْ شُورَى بَيْنَكُمْ، فَظَهْرُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ بَطْنِهَا، وَإِذَا كَانَ أُمَرَاؤُكُمْ شِرَارَكُمْ، وَأَغْنِيَاؤُكُمْ بُخَلاَئَكُمْ، وَأُمُورُكُمْ إِلَى نِسَائِكُمْ، فَبَطْنُ الأَرْضِ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ ظَهْرِهَا". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ فِي حَدِيثِهِ غَرَائِبُ يَنْفَرِدُ بِهَا لاَ يُتَابَعُ عَلَيْهَا وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ.
    * تخريج: تفرد بہ المؤلف (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۲۰) (ضعیف)
    (سندمیں صالح بن بشیر المری ضعیف راوی ہیں)

    ۲۲۶۶- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:''جب تمہارے حکمراں، تمہارے اچھے لوگ ہوں، اورتمہارے مال دار لوگ ،تمہارے سخی لوگ ہوں اورتمہارے کام باہمی مشورے سے ہوں تو زمین کی پیٹھ تمہارے لیے اس کے پیٹ سے بہترہے، اورجب تمہارے حکمراں تمہارے برے لوگ ہوں ، اورتمہارے مال دارتمہارے بخیل لوگ ہوں اور تمہارے کام عورتوں کے ہاتھ میں چلے جائیں تو زمین کا پیٹ تمہارے لیے اس کی پیٹھ سے بہترہے '' ۔
    امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح المری کی روایت سے جانتے ہیں، اورصالح المری کی حدیث میں ایسے غرائب ہیں جن کی روایت کر نے میں وہ منفرد ہیں، کو ئی ان کی متابعت نہیں کرتا، حالاں کہ وہ بذات خودنیک آدمی ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں