حضرت عمر(رض)اور عصرحاضر

محمدارسلان نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اکتوبر، 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدارسلان

    محمدارسلان نوآموز

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2017
    پیغامات:
    11
    صدیوں نے مسلمانوں نے شاندار عمارتوں کی تعمیر کرکے تاریخ میں اپنا نام فن تعمیر کے شوقین حکمران کے طور پر لکھوایا ہے ۔اسلام میں ایسی عمارات جاہ وہشم کے لئے قومی خزانہ سے تعمیرکرانے کی ممانعت تھی اور اس کا درس حضرت عمر فاروق ؓ نے دیا تھا ،آپؓ نے اپنے عہد میں بے شمار تعمیرات کرائیں مگر بیت المال کو ہر قسم کے تعیش اور نمود کے لئے استعمال نہیں ہونے دیا۔ لیکن آج اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ قومی خزانے کو لوٹنے کے لئے وہ اعلٰی شان عمارتیں اور تعمیرات کراتے ہیں۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے دور خلافت میں تعمیر ات کی بنیاد رکھ کر اسلامی حکومت کو یہ راہ دکھائی تھی کہ ایک مسلمان کو مملکت میں کس قسم کی عمارات کو تعمیر کرانا چاہئے۔ ”الفاروق“میں مولانا شبلی نعمانی نے آپؓ کی ان خدمات کا ذکرمفصل کیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو عمارات تیار کرائیں،وہ تین قسم کی تھیں :
    1 – مذہبی : آپ ؓ نے چار ہزار مسجدیں تعمیر کرائیں۔
    2 – فوجی : قلعے ، چھاو ٔنیاں، بارکیں ۔
    3 - ملکی : مثلاً دارالامارة وغیرہ یعنی صوبجات اور اضلاع کے حکام جہاں قیام رکھتے تھے اور جہاں ان کا دفتر رہتا تھا۔ دیوان یعنی جہاں دفتر کے کاغذات رہتے تھے۔ فوج کا دفتر بھی اسی مکان میں رہتا تھا۔ بیت المال – یعنی خزانے کا مکان – یہ عمارت مضبوط اور مستحکم ہوتی تھی۔ قید خانے : مدینہ منورہ میں قید خانہ،بصرہ میں جو قید خانہ تھا وہ دارالامارة کی عمارت میں شامل تھا۔ مہمان خانے ، یہ مکانات اس لیے تعمیر کئے گئے تھے کہ باہر والے جو دو چار روز کے لیے شہر میں آ جاتے تھے وہ ان مکانات میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ کوفہ میں مہمان خانہ تعمیر کرایا۔ مدینہ منورہ کا مہمان خانہ 17 ہجری میں تعمیر ہوا۔
    حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں عمارتوں کو بڑی شان و شوکت کا مظہر نہیں بنایا جاتا تھا ۔ اسلام فضول تکلفات کی اجازت نہیں دیتا۔ زمانہ بعد میں جو کچھ ہوا ہوا لیکن اس وقت تک اسلام بالکل اپنی سادہ اور اصلی صورت میں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہایت اہتمام تھا کہ یہ سادگی جانے نہ پائے۔ اس کے علاوہ اس وقت تک بیت المال پر حاکم وقت کو آزادانہ اختیارات حاصل نہ تھے۔ بیت المال تمام قوم کا سرمایہ سمجھا جاتا تھا۔ اور لوگ اس کا اصلی مصرف یہ سمجھتے تھے کہ چونا پتھر کی بجائے مال زیادہ ترانسانوں کے کام آئے۔ یہ خیال مدتوں تک رہا۔ اور اسی کا اثر تھا کہ جب ولید بن عبد الملک نے دمشق کی جامع مسجد پر ایک رقم کثیر صرف کر دی تو عام ناراضگی پھیل گئی۔ اور لوگوں نے علانیہ کہا کہ بیت المال کے روپیہ کا یہ مصرف نہیں ہے۔ بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو عمارتیں بنیں وہ عموماً اینٹ اور گارے کی تھیں۔ بصرہ کا ایوان حکومت بھی اسی حیثیت کا تھا۔ البتہ فوجی عمارتیں نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتی تھیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں