حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم

محمدارسلان نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏اکتوبر، 15, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدارسلان

    محمدارسلان نوآموز

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 8, 2017
    پیغامات:
    11
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک بھیڑیا کسی چرواہے کی بکریوں کے پاس آیا اور اُن میں سے ایک بکری اٹھا کر لے گیا۔ چرواہے نے اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس کے منہ سے بکری نکلوا لی۔ بھیڑیا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہاں اپنی پشت کے بل گھٹنے اوپر اٹھا کر بیٹھ گیا اور اپنی دم اوپر اٹھا کر کہنے لگا: تم نے میرے منہ سے وہ رزق چھین لیا ہے جو اللہ نے مجھے عطا کیا تھا۔ اس چرواہے نے کہا: بخدا میں نے آج سا دن پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ بھیڑیا باتیں کر رہا ہے۔ بھیڑئیے نے جواب دیا: اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ ایک آدمی ( یعنی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ) دو میدانوں کے درمیان واقع نخلستانوں (مدینہ) میں بیٹھا جو کچھ ہوچکا اور جو ہونے والا ہے اُس کی خبریں لوگوں کو دے رہا ہے۔ وہ آدمی ( یعنی چرواہا) یہودی تھا۔ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوگیا اور پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور پھر فرمایا: یہ قیامت سے قبل واقع ہونے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہ وقت قریب ہے کہ ایک آدمی اپنے گھر سے نکلے گا اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور جوتوں کے تسمے اور اس کا چابک اسے بتائیں گے کہ اس کے گھر والوں نے اس کے بعد کیاکیا۔
    أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 2 /306، الرقم: 8049، وعبد الرزاق في المصنف، 11: 383، الرقم: 20808، وابن راهويه في المسند، 1 /357، الرقم: 360، وابن کثير في شمائل الرسول: 341، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8 /291، والأزدي في الجامع، 11: 383، الرقم: 20808وعبد بن حميد في المسند ، 1: 277، الرقم: 877، والبيهقي في دلائل النبوة، 6 /41، 42، 43، والأصبهاني في دلائل النبوة، 1: 113، الرقم: 116.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں