نبی کا جوتا

ابوعکاشہ نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏اکتوبر، 17, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,568
    نبی کا جوتا

    ابن جوزی رحمہ اللہ ،کتاب الاذکیاء میں لکھتے ہیں کہ

    "عباسی خلیفہ امیرمہدی ایک دفعہ دربار عام میں تھے کہ ایک شخص وارد ہوا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک جوتا تھا ۔ جو کہ ایک روما ل میں لپٹا ہوا تھا ۔ اس نے عرض کہ ائے امیر المؤمنین یہ رسول اللہ ﷺ کا جوتا ہے ۔ جو میں آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ لایا ہوں ۔ قبول کیجئے ۔ فرمایا لاؤ ۔ اس شخص نے جوتا دیا تو مہدی نے اس کے اندر کے حصہ کو بوسہ دیا ۔ اپنی آنکھوں سے لگایا اور حکم دیا کہ اس شخص کو دس ہزار درہم دئیے جائیں ۔
    جب وہ درہم لے کر چلا گیا تو مہدی نے ہم نشینوں سے کہا کہ کیاتمہارا خیال ہے کہ میں یہ سمجھا نہیں ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس جوتے کو دیکھا بھی نہیں ۔چہ جائیکہ اس کو پہنا ہو ۔ ہمارے طرز عمل میں یہ مصلحت تھی کہ اگر ہم اس کی تکذیب کرتے تو وہ لوگوں سے یہ کہتا پھرتا کہ میں نے امیر المؤمنین کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا جوتا پیش کیا ۔ مگر امیرالمؤمنین نے اس کو مجھ پر پھینک دیا ۔
    اور اس کی اطلاع کو رد کرنے والوں کی نسبت تصدیق کرنے والے بہت لوگ ہوتے ۔ کیونکہ عام لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری سطح کو دیکھتے ہیں اور ہر کمزور کی حمایت پر کمربستہ ہوجاتے ہیں ۔ طاقتور کے مقابلہ پر چاہے وہ کمزور ظالم ہی کیوں نا ہو ۔ اور طاقتور حق و انصاف پر ہو ۔
    تو ہم نے دس ہزار میں درحقیقت اس کی زبان خریدی ہے ۔ اور بظاہر اس کا ہدیہ قبول کیا اور اس کے قول کی تصدیق کردی ۔ جو کچھ ہم نے کیا ۔ ہماری رائے میں یہی مناسب معلوم ہوا"

    خلیفہ مہدی تیسرے عباسی خلیفہ ،حاکم تھے ۔ ذہین شخص تھے ۔ خلیفہ کا یہ کہنا کہ میں نے اس کی زبان خریدی ۔ فہم و فراست کی عمدہ مثال ہے ۔ زبانوں کو لگام دینے سے فتنہ و فساد پرکنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ مگر یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایسے بدبخت بھی موجود رہے ہیں ۔ جنہوں نے دوسری صدی ہجری میں ہی نعلین مبارک کے تبرک کے نام پر پیٹ بھرنا شروع کردیا تھا ۔ اب تو نبی کے جوتے بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں