نظریہ "وحدت الوجود" کفریہ اور شرکیہ عقیدہ

ام عائشة السلفیہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اکتوبر، 18, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام عائشة السلفیہ

    ام عائشة السلفیہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اگست 31, 2017
    پیغامات:
    14
    باطل عقائد میں سے ایک نظریہ "وحدت الوجود" ہے یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ
    ہر موجود چیز بذات خود اللہ ہے،
    وحدت الوجود کے اس عقیدہ کو ابن العربی صوفی نے پروان چڑھایا ہے ۔
    وہ اپنی کتاب فصوص الحکم میں لکھتے ہیں :
    فأنت عبد وأنت رب
    "یعنی تو بندہ ہے اور تو رب ہے"
    خالق ومخلوق کا وجود ایک ہے ۔ گویا انسان خالق بھی ہے مخلوق بھی
    (اعاذنا اللہ منہا)
    اس عقیدہ کے حاملین کو "اتحادیہ" بھی کہا جاتا ہے، یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ اس طرح ملا ہوا ہے کہ تمام موجودات متعدد وجود کی بجائے ایک ہی وجود بن گیا ہے !!

    ان لوگوں کے ہاں اس عقیدے کا حامل ہی موحد ہے، حالانکہ حقیقت میں ایسے لوگ توحید سے کوسوں دور ہیں
    عقیدہ "وحدت الوجود" کے باطل ہونے پر علما کا اتفاق ہے ، ان کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ عقیدہ کفریہ اور شرکیہ ہے، چونکہ یہ عقیدہ ایسے نظریات پر مشتمل ہے جو حقیقی عقیدہ توحید جو کہ دین اسلام کا نچوڑ اور خلاصہ ہے اسے ختم کر دیتا ہے، اس لئے علما اس عقیدہ کو ختم کرنے اور اس کے خلاف محاذ قائم کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

    اس نظریے کہ باطل ہونے کے دلائل قرآن و حدیث اور عقلِ سلیم سے بے شمار تعداد میں ملتے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں :

    اللہ عزوجل فرماتا ہے:
    { وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءاً إِنَّ الإِنسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ}
    ترجمہ :اور ان لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جزو بنا ڈالا، بلاشبہ انسان صریح کفر کا مرتکب ہے ۔ [الزخرف:15]

    ایک جگہ فرمایا:
    { وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ. سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ }
    ترجمہ: نیز ان لوگوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری بنا ڈالی، حالانکہ جن خوب جانتے ہیں کہ وہ[مجرم کی حیثیت سے]پیش کئے جائیں گے ، اللہ ان سب باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں ۔[الصافات:159]

    دیکھیں: کیسے اللہ تعالی نے ان لوگوں پر کفر کا حکم لگایا ہے جنہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا حصہ قرار دیا، اور بعض مخلوق کی اللہ تعالی کیساتھ رشتہ داری بیان کی ،تو اس شخص کا کیا حکم ہوگا جو خالق اور مخلوق کا ایک ہی وجود مانے!؟

    ایک مسلمان سے کیسے ممکن ہے کہ وہ وحدت الوجود کا عقیدہ رکھے حالانکہ اس کا ایمان ہے کہ اللہ تعالی ہر چیز کا خالق ہے، وہ کیسے قدیم اور ازلی خالق کو اور نو پید مخلوق کو ایک کہہ سکتا ہے!! حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئاً}
    ترجمہ: پہلے میں نے تمہیں پیدا کیا حالانکہ تم معدوم تھے [مریم :9]

    اور اللہ سبحانہ تعالی فرماتا ہے:
    { أَوَلا يَذْكُرُ الإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا }
    ترجمہ: کیا انسان کو یہ یاد نہیں ہے کہ پہلے بھی ہم نے اسے پیدا کیا حالانکہ وہ معدوم تھا [مریم:67]

    قرآن کریم کا مطالعہ کرنے والا قرآن مجید کے نظم اور خطاب میں موجود مسلمہ واضح حقائق جان لے گا کہ مخلوق اور خالق ایک چیز نہیں ہو سکتے؛ جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    {وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ}
    ترجمہ: اللہ کے سوا جن چیزوں کو وہ پوجتے ہیں وہ چیزیں آسمانوں اور زمیں سے رزق مہیا کرنے کا بالکل اختیار نہیں رکھتیں [النحل : 73]

    چنانچہ جواس حقیقت کی مخالفت کرتا ہے، تو وہ قرآن اور دین کی حتمی اور فیصلہ کن نصوص کی مخالفت کرتا ہے ۔

    مزید بر آں جو قباحتیں وحدت الوجود کے دعوے سے لازم آتی ہیں ،اس باطل عقیدے کی تردید کے لئے کافی ہیں ، جواس عقیدے پر ایمان لے آتا ہے تو اس کی حالت اسے بد کاری کے حلال اور ایمان و کفر کے درمیان برابری قرار دینے پر مجبور کر دے گی، کیونکہ ان کے وہم و گمان کے مطابق دعوی یہ ہے کہ عقائد کا انحصار ایک وجود کے ساتھ ایمان لانے پر ہے ، اس عقیدے سے یہ بھی لازم آئے گا کہ اللہ عز و جل کی گھٹیا ترین مخلوقات، چوپاؤں ، پلید اشیا وغیرہ کی طرف کی جائے ، اللہ تعالی ان کے شاخسانوں سے بہت بلند و بالا ہے ۔
    اسی طرح ماضی وحال کے تمام اکابرین بھی صوفی مذہب کے بنیادی عقیدے وحدت الوجود کا انکار کرتے ہوئے اس کا زبردست رد کرتے ہیں۔مثلاً
    01۔ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ مسئلہ وحدت الوجود کے متعلق اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں: اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ وحدت الوجود کا مسئلہ کتاب وسنت کے واضح اور صریح نصوص کی بنیاد پر بے شک وشبہ کفر بواح ہے۔(ابقاء المنن،صفحہ 193)
    02۔ عبداللہ بہالپوری رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: اب وحدت الوجود کا عقیدہ صوفیوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔آپ سب کچھ نہ کچھ سکو ل کی تعلیم رکھتے ہیں۔یہ جدھر دیکھتا ہوں تو ہی تو ہے اور ہمہ اوست کا عقیدہ یہ وحدت الوجود کا عقیدہ....اور یہ خالصتاً کفر ہے۔ ایسا گندہ عقیدہ ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں۔(خطبات بہالپوری، جلد 1، صفحہ 327)
    03۔ حافظ عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اب رہی ''توحید الہٰی' ' سو اس کے متعلق بہت دنیا بہکی ہوئی ہے۔بعض تو اس کا مطلب ''ہمہ اوست'' سمجھتے ہیں یعنی ہر شے عین خدا ہے۔(فتاویٰ اہلحدیث، جلد 1، صفحہ 154)
    تنبیہ: یہاں عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ وحدت الوجودیوں کو گمراہ قرار دے رہے ہیں۔ یادرہے کہ ہمہ اوست اور وحدت الوجودکی حقیقت ایک ہی ہے اور یہ ایک ہی عقیدے کے دو نام ہیں بس ہمہ اوست کی اصطلاح ہندو وغیرہ کفار لوگ استعمال کرتے ہیں اور وحدت الوجود کی اصطلاح صوفیوں کے ہاں مستعمل ہے۔عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: معلوم یوں ہوتا ہے کہ ''ہمہ اوست'' کی اصطلاح ان ملحدین کی تھی جنہوں نے اسلام کا لبادہ نہیں اوڑھا اور وحدۃ الوجود کی اصطلاح ان ملحدین کی ہے جنہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام اور اسلامی عقیدہ کی بیخ کنی کی جیسے ابن عربی، ابن سبعین، عفیف تلمسانی وغیرہ ہم۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 20)
    اسی طرح شاہ ولی اللہ حنفی صوفی بھی ہمہ اوست اور وحدت الوجود کو قریب قریب ایک ہی عقیدہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: تو دونوں میں ایسی مشابہت پیدا ہوگئی کہ تمیز کرنا مشکل ہوگیا۔اور صفائی اور باریکی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے رنگ میں اس طرح ظاہر ہوا کہ لوگوں کی نظروں کے لئے مشکل آن پڑی ''فکا نما خمر لاقدح''جیسے شراب ہے شیشہ نہیں گویا کہ شراب ہے جو منجمد ہے اور پیمانے کا وجود نہیں ''وکا نما قدح ولا خمر'' گویا پیمانہ ہے شراب نہیں۔(انفاس العارفین،صفحہ 231)
    04۔ مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ نے عقیدہ وحدت الوجود پر بڑا تفصیلی رد کیا ہے۔ وہ اس عقیدہ کو ہندو مذہب سے مستعارعقیدہ قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں: ہم پہلے یہ بتلا چکے ہیں کہ یہ نظریہ خود اسلام کے وجود میں آنے سے ہزار ہا سال پہلے ہندؤں کے اپنشدوں میں موجود تھا...اس طرح یہ نظریہ دوسرے مذاہب میں بھی پایا جاتا تھا، تو جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے زمانہ میں(یعنی دوسری صدی ہجری کے آخر میں) یونانی، لاطینی اور سنسکرت کی بے شمار کتابوں کا ترجمہ عربی زبان میں ہونے لگا تو ان کتابوں میں فلسفہ وحدت الوجود اور تصوف کی بیشمار مسائل پر بحث موجود تھی۔انہی نظریات و مسائل سے ہمارے صوفیاء نے بھی متاثر ہونا شروع کیا۔(شریعت و طریقت،صفحہ 92)
    عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی صوفیوں کا وحدت الوجود کا عقیدہ غیرشرعی اور غیراسلامی ہے۔چناچہ لکھتے ہیں: چونکہ عقیدہ وحدت الوجود قرآن کی تعلیم سے براہ راست متصادم تھا اس لئے علمائے دین مخالف ہوگئے۔(شریعت و طریقت،صفحہ 87)
    مزید فرماتے ہیں: اب اتفاق کی بات ہے کہ وحدت الوجود کا مسئلہ عقل یا فلسفہ کا مسئلہ بھی ہے اور وجدان یا تصوف کا بھی ۔بالفاظ دیگر یہ خالص مادہ پرستانہ فلسفہ بھی ہے اور صوفیا ء کا روحانی مسئلہ بھی۔اور ان دونوں کا اس مسئلہ پر اتحاد و اتفاق بھی ہوجاتا ہے لیکن اس کے باجود وحی الہٰی سے متصادم ہے۔(شریعت و طریقت،صفحہ 93)
    05۔ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے بھی وحدت الوجودیوں کا مفصل رد کیا ہے ۔اس عقیدہ سے متعلق اپنا نظریہ بیان کرتے ہوئے زبیرعلی زئی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مروجہ وحدت الوجود کا عقیدہ قرآن و حدیث کے سراسر خلاف بلکہ کفر و باطل ہے۔ (تحقیقی،اصلاحی اور علمی مقالات، جلد 5، صفحہ 55)
    06۔ شیخ الحدیث ابوعمر عبدالعزیز النورستانی حفظہ اللہ وحدت الوجود کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں: بہرحال عقیدہ وحدۃ الوجود کو توحید وجودی کہو،شرک وجودی کہو یا کفر وجودی یہ نظریہ کفر ہی کفراور زندقہ ہے۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 16)
    07۔ شیخ الحدیث محمد رفیق اثری حفظہ اللہ کے نزدیک بھی وحدت الوجود کفر،شرک اور الحاد ہے۔اس سلسلے میں وہ عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کی رائے کی مکمل موافقت کرتے ہیں چناچہ اپنے دستخط شدہ فتوے میں لکھتے ہیں: وحدۃ الوجود یا وحدۃ الشہود یا توحید وجودی کے بارے میں مولانا عبدالعزیز نورستانی حفظہ اللہ کی مفصل تحریر کا مطالعہ کیا، اسے فکر سلف صالحین و محدثین رحمہم اللہ کے عین مطابق پایا، میں ان کی تائید و تصدیق کرتا ہوں۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 39)
    08۔ بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ کا شمار بھی وحدۃ الوجود کے شدید مخالفین میں ہوتا ہے انہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف توحید خالص میں وحدۃ الوجود کے قائلین کے دلائل کا تعاقب و علمی رد کرتے ہوئے ان کا خوب محاسبہ و محاکمہ کیا ہے۔ دیکھئے: (توحید خالص، صفحہ 253 تا454)
    09۔ شیخ الحدیث ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کہتے ہیں: وحدۃ الوجود کی بھول بھلیاں ہوں یا وحدۃ الشہود کی موشگافیاں ہوں، ان کا ٹھیٹھ اسلام جسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے حبیب سیدنا محمد رسولﷺ پر نازل کیا تھا، سے کوئی تعلق نہیں۔آپ ﷺ کے ارشادات یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فرمودات میں ان اصطلاحات اور اس کی تفصیلات کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ایک مسلمان کیلئے ان اصطلاحات کی تعلیم و تفہیم قطعاً غیرضروری ہے۔بلکہ وحدۃ الوجود سے توحید اور شرک کی تفریق ختم ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 40)
    10۔ شیخ الحدیث ابو زکریا عبدالسلام رستمی حفظہ اللہ وحدۃ الوجود کو عین شرک وکفر قرار دیتے ہیں۔دیکھئے: وجہ ششم: وحدۃ الوجودعین حلول ہے اور عقیدہ حلول عین کفر اور شرک ہے۔
    وجہ ھفتم: عقیدہ وحدۃ الوجود اور حلول شرک کیلئے زینہ بلکہ عین کفر اور شرک ہے۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 43)
    11۔ ابو محمد امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ عقیدہ وحدۃ الوجود کا فیصلہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: اہل السنۃوالجماعۃ کے تمام محققین علماء کرام کا یہ متفق علیہ فتویٰ ہے کہ عقیدہ وحدت الوجود اور توحید وجودی کفریہ اور شرکیہ عقیدہ ہے بلکہ یہ یہود اور نصاریٰ کے کفر سے بھی بڑھ کر کفر ہے۔(ڈاکٹر اسرار صاحب کا نظریہ توحیدالوجودی اور اس کا شرعی حکم،صفحہ 55)

    ہم اللہ سے سلامتی و عافیت کا سوال کرتے ہیں ،اور ہدایت سے بھٹکے لوگوں کی ہدایت کی امید کرتے ہیں۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "یہ کہنا کہ ہر چیز کا وجود اللہ تعالی کا وجود ہی ہے، یہ لادینیت کی انتہا ہے، مشاہدات، عقل اور شریعت سے اس عقیدے کی خرابی واضح ہے، اس قسم کی لا دینیت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کو ثابت کیا جائے اور اس کی مخلوقات سے مشابہت کی نفی کی جائے، یہی اللہ پر ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کا دین اور طریقہ کار ہے "
    "درء تعارض العقل و النقل "(1/283)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں