شادی

اجمل نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اکتوبر، 30, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    433
    پہلے کتنی سادگی تهی
    بڑی بہن کی شادی کی تاریخ مقرر ہو چکی تهی
    لیکن
    کوئی شادی ہال بک نہیں کیا گیا
    کوئی بیوٹی پارلر سے کنٹیکٹ نہیں کی گئی
    کوئی وڈیو یا تصاویر بنانے والے کو نہیں کہا گیا
    اور شادی کے رنگ برنگے کارڈ بهی نہیں چهاپے گئے

    ابا حضور اپنے دوست احباب کو زبانی دعوتیں دیئے پهر رہے ہیں تو امی جان اپنی سہیلیوں اور پڑوسیوں کو جا کر بتا رہی ہیں کہ اس تاریخ کو بیٹی کی شادی ہے، آپ نے آنا ہے اور ہاں تین دن پہکے ڈوهلکی رکهی گئی ہے اس میں شرکت کرکے ہماری خوشیوں کو دو بالا کرنی ہے ۔
    دور رہنے والے رشتہ داروں کو خطوط ارسال کر دیئے گئے ہیں کہ بیٹی کی شادی ہے اور آپ کی شرکت لازمی ہے ۔
    اور قریب رہنے والے رشتہ داروں کے یہاں ابا اماں دونوں جاکر دعوت دے رہے ہیں اور جو ناراض ہیں انہیں منایا جا رہا ہے۔
    پھر کوئی ناراضگی باقی نہیں رہی اور تمام لوگوں نے خوشی خوشی شرکت کی۔

    شادی کی تقریبات کیلئے محلے والوں نے اپنے گهروں کے دروازے کهول دیئے
    اور یوں سادگی سے شادی ہوگئی ۔
    دلہن کو سبھوں نے اپنی دعاؤں میں رخصت کیا ۔
    اور اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔

    نہ زیادہ اخراجات کا بوجھ پڑا اور نہ ہی مقروض ہونا پڑا ۔

    اور نبی کریم ﷺ کی درج ذیل حدیث پرکچھ حد تک عمل بھی ہوگیا:

    إنَّ أَعْظَمَ النِّکَاحِ بَرَکةً أیْسَرُہُ مَوٴُنَةً (مسند أحمد: ۹۴۶)

    ’’ سب سے بابرکت شادی (نکاح) وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ کیا گیا ہو‘‘

    کاش ایسی سادگی کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔
    اور شادی کو آسان بنائی جائے ۔
    تاکہ ہر نوجوان بچے اور بچیوں کی شادی وقت پر ہو جائے!
    ۔
     
    Last edited: ‏بوقت مارچ 13, 2019 9:26 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. صدف شاہد

    صدف شاہد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    309
    بہت عمدہ پیغام
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    433
    و ایاک
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں