عجیب دستور

ابوعکاشہ نے 'مطالعہ' میں ‏نومبر 6, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,373
    مگرمچھ کے آنسو بہانے والے ۔ شاید آپ لوگوں کا واسطہ پڑا ہو ۔مگریہ تلخ حقیقت ہے ۔

    ہمارے ہاں یہ عجیب دستور ہے کہ جب کوئی شخص زندہ ہوتا ہے تو سب اس کی کھال ادھیڑنے میں ہی مشغول ہوتے ہیں، جوں ہی وہ فوت ہوتا ہے ہر جانب سے اس کی وہ وہ خوبیاں بھی بیان ہونے لگتی ہیں جن سے مرحوم خود بھی ناواقف ہی کوچ کر گئے. ان مبالغۃ الآراء شردھانجلیوں کے پیچھے درحقیقت وہ مسرت کار فرما ہوتی ہے جو مرحوم کی موت سے میسر آئی ہوتی ہے کہ شکر ہے راستہ صاف ہوا. ہم بنیادی طور پر حسد کی ماری قوم ہیں، کسی زندہ کی خوبیوں کا اعتراف ہمیں خودکشی کے مساوی لگتا ہے. ہم اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے اعتراف سے متعلقہ شخص کے قد میں مزید اضافہ نہ ہو جائے. اس معاملے کی حقیقت سمجھنا یوں بھی بہت آسان ہے کہ ہمارے ہاں کسی زندہ کی ملائی مار قسم کی تعریف اسی صورت میں کی جاتی یے جب وہ کسی عہدے پر ہو. جوں ہی وہ عہدے سے محروم ہو جائے تعریفی مکھن اور مکھن باز بھی غائب ہو جاتے ہیں. کتنی عجیب بات ہے کہ ہم مولویوں کے ہاں بھی "اکابر" صرف وہی ہیں جو یا تو کسی مدرسے کے مہتمم ہیں یا کسی تنظیم کے سربراہ. علم کے وہ بڑے بڑے پہاڑ جو تحقیق یا تدریس سے وابستہ ہیں اور ان کا علم اس درجے کا ہے کہ دامن جھاڑ دیں تو دو چار درجن مہتممین و قائدین ٹپ ٹپ کر کے ٹپک پڑیں "مقام اکابر" فائز ہونے سے محروم ہیں. اب ایسے ماحول کسی کا تعریف کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

    بشکریہ. رعایت اللہ فاروقی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں