خطبہ حرم مدنی 10-11-2017 " شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور سلیقہ" از حذیفی حفظہ اللہ

شفقت الرحمن نے 'خطبات الحرمین' میں ‏نومبر 10, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    663


    فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر علی بن عبد الرحمن الحذیفی حفظہ اللہ نے 21 صفر 1439 کا مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ بعنوان " شکر کی اہمیت، فضیلت، افادیت اور سلیقہ" ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ شکر ہر شخص پر واجب اور ضروری ہے؛ چنانچہ اللہ تعالی اپنی نعمتیں بھی شکر کی یاد دہانی کیلیے لوگوں کو بتلاتا ہے؛ کیونکہ کچھ نعمتوں کا تو انسان کو ادراک ہوتا ہے لیکن اکثر نعمتوں کا انسان کو ادراک ہی نہیں جیسے کہ محافظ فرشتے اور انسانی رگ و پے خود کار طریقے سے ہر وقت کام میں لگے رہتے ہیں اور انسان کو ان کا احساس بھی نہیں ہوتا، پھر انہوں نے کہا کہ شکر کے لیے نعمت کنندہ سے محبت، اس کے سامنے عاجزی اور اس بات پر یقین محکم کہ ہمہ قسم کی نعمت اللہ کی جانب سے ہی ہے اور یہ اس کا محض فضل ہے، پھر زبان سے شکر ادا کرے اور نعمت کا صحیح استعمال کرے۔ نعمت ملنے پر تکبر کرنا شکر کے منافی ہی نہیں بلکہ زوال نعمت کا باعث بھی ہے۔ شکر کا اعلی مرتبہ یہ ہے کہ مصیبت میں بھی اللہ کا شکر ادا کریں، ایسے لوگوں کو جنت میں سب سے پہلے داخل کیا جائے گا، شکر کے مظاہر میں: عقیدہ توحید، نبی ﷺ پر ایمان، ہر حالت میں اللہ کی اطاعت اور نافرمانی سے دوری شامل ہیں، شکر گزاری نعمتوں کو ابدی زندگی دیتی ہے، دنیاوی اور اخروی سزاؤں سے بچاتی ہے، نیز شکر انبیائے کرام کا معمول ہے، پھر انہوں نے خاص نوعیت کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے مملکت حرمین کے امن اور استحکام کو عظیم نعمت الہی قرار دیا اور سب سے مطالبہ کیا کہ اس پر اللہ کا شکر بجا لائیں تا کہ اللہ تعالی اس ملک کے امن کو دوام بخشے، پھر انہوں کتاب و سنت کی روشنی میں شکرانے کیلیے کچھ دعائیں بھی ذکر کیں اور آخر میں شاہ سلمان حدیث کمپلیکس کا ذکر کرتے ہوئے سب مسلمانوں کیلیے ڈھیروں دعائیں فرمائیں۔

    عربی خطبہ کی آڈیو، ویڈیو اور ٹیکسٹ حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں

    پہلا خطبہ:

    تمام تعریفیں بلند و بالا اللہ کیلیے ہیں، وہی علم اور قدرت رکھنے والا ہے، میں ظاہری اور باطنی تمام نعمتوں پر اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں، نیز اس کی نعمتوں پر دائمی شکرانے کی توفیق بھی مانگتا ہوں، میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ یکتا ہے ، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد اللہ کے بندے ، رسول ، اور اس کے خلیل ہیں، یا اللہ! اپنے بندے ، اور رسول محمد جو کہ بشیر و نذیر اور سراج منیر ہیں ان پر ، انکی اولاد اور اپنے مال و جان کیساتھ غلبہ دین کیلیے جد و جہد کرنے والے صحابہ کرام پر رحمتیں ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما، حتی کہ ان کی جد جہد سے سر زمین ہدایت و نور سے چمک اٹھی ۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    تقوی الہی اختیار کرو؛ تو رضائے الہی اور جنت پا لو گے، اور غضب و عذاب الہی سے بچ جاؤ گے۔

    اللہ کے بندو!

    اللہ تعالی تمہیں اپنی خاص و عام نعمتوں کی یاد دہانی اس لیے کرواتا ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو، فرمانِ باری تعالی ہے: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ} ایمان والو! تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو، کیا اللہ کے سوا کوئی خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دے؟ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے؛ تو تم کہاں بہکتے جا رہے ہو؟[فاطر : 3]

    اسی طرح فرمایا: {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت اور اس عہد کو یاد کرو جو اللہ نے تم سے لیا تھا، جب تم نے کہا تھا: "ہم نے سن لیا اور عہد کی پاسداری کی"، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سینے کے رازوں کو جاننے والا ہے۔[المائدة : 7]

    ایک مقام پر فرمایا: {أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً} کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی سب چیزیں تمہارے لیے مسخّر کی دی ، اور تم پر ظاہری و باطنی نعمتیں بہا دیں![لقمان : 20]

    اللہ تعالی نے یہ بھی بتلا دیا کہ سب نعمتیں اللہ کی طرف سے ہیں، تا کہ ہم اللہ کا حق ادا کرنے کیلیے اسی کی عبادت اور شکر بجا لائیں، اور اللہ تعالی سے مزید نعمتوں کی چاہت رکھیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ} تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے[النحل : 53]

    اسی طرح فرمایا: {مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ} آپ کو جو بھی بھلائی ملے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو بھی برائی پہنچے تو وہ آپ کے نفس کی طرف سے ہے۔[النساء : 79]

    چنانچہ ہر اعتبار سے نعمتیں انسان کو فضل اور رحمت الہی کی وجہ سے ملتی ہیں، جبکہ نقصانات انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں، اگرچہ اللہ تعالی نے انہیں ہمارے مقدر میں لکھا ہوتا ہے، تاہم اللہ تعالی کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرماتا بلکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ} لیکن اللہ تعالی جہانوں پر فضل کرنے والا ہے۔[البقرة: 251]

    لوگوں کو کافی نعمتوں کا ادراک ہوتا ہے، لیکن اکثر نعمتوں سے نابلد رہتے ہیں! اے انسان! کتنی ہی نعمتوں سے اللہ تعالی نے تمہیں نوازا ہے؟ تم ان نعمتوں سے لا شعوری میں لطف اندوز ہوتے ہو، اور کتنی ہی مصیبتیں اللہ تعالی نے تمہارے علم میں لائے بغیر تم سے دور کیں ؟!

    جیسے کہ اللہ تعالی نے انسان کی حفاظت کے بارے میں فرمایا: {لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ} ہر شخص کے آگے اور پیچھے اللہ کے مقرر کردہ نگران ہوتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں [الرعد : 11]

    اسی طرح فرمایا: {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} اس نے زمین و آسمانوں اور تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے اور سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں [الجاثیہ : 13]

    جسم کے سارے اعضا انسان کے ارادے کے بغیر بدن اور زندگی کے مفاد کیلیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ} اور تمہاری جانوں میں بھی [نشانیاں ہیں]، کیا تم دیکھتے نہیں؟[الذاريات : 21]

    ایسے ہی فرمایا: {وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ} اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرو تو گن نہیں سکو گے، بیشک انسان ہی ظالم اور نا شکرا ہے۔[إبراہیم : 34] بلکہ نعمتوں کے اعداد و شمار سے عاجز اکثر نعمتوں کے بارے میں تو جانتے بھی نہیں ہیں!

    اللہ تعالی ہمیں نعمتیں اس لیے عنایت کرتا ہے کہ ہم انہیں عبادت و اطاعتِ الہی ، اور زمین کی آباد کاری و اصلاح کیلیے صرف کریں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ} وہ تم پر اسی طرح اپنی نعمتیں مکمل فرماتا ہے، تا کہ تم سلامتی کے ساتھ رہو۔[النحل : 81]

    اسی طرح فرمایا: {وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} اور اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے بالکل نابلد پیدا کیا اور اس نے تمہارے کان ،آنکھیں اور دل بنا دیئے ، تاکہ تم شکر کرو [النحل : 78]

    نعمتوں کا شکر ادا کرنے کیلیے ان چیزوں کو جمع کرنا ضروری ہے کہ: نعمتیں عطا کرنے والے سے محبت، نعمتوں کی نوازش پر اللہ تعالی کیلیے انکساری، ہر اعتبار سے یقین محکم کہ حاصل شدہ تمام نعمتیں اللہ کی طرف سے محض فضل و احسان ہیں، بندے کا اللہ تعالی پر کوئی حق نہیں ، زبان کے ذریعے ان نعمتوں پر ثنائے الہی بجا لائے، انہیں اللہ کا فقیر و محتاج بن کر قبول کرے، نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے انہیں اللہ تعالی کی پسندیدہ جگہوں میں استعمال کرے ۔

    چنانچہ جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں کو رضائے الہی کی جگہوں پر استعمال کرے، انہیں اقامتِ دین کیلیے بروئے کار لائے، ان کے ذریعے فرائض و واجبات ادا کرتے ہوئے مخلوق کیساتھ اچھا برتاؤ رکھے تو ایسا شخص نعمتوں کا شکر ادا کرنے میں کامیاب ہے۔

    اور جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں کو غضبِ الہی کی جگہوں میں استعمال کرے، یا ان نعمتوں سے متعلق واجب حقوق ادا نہ کرے تو ایسا شخص ناشکری کا مرتکب ہوگا۔

    نعمتوں کی وجہ سے غرور و تکبر نہیں کرنا چاہیے، شیطان کسی کے دل میں یہ وسوسہ نہ ڈالے کہ وہ ان نعمتوں کی وجہ سے دوسروں پر فوقیت رکھتا ہے، اور اسے یہ نعمت اس لیے عنایت کی گئی ہے کہ اس کے پاس دوسروں کے مقابلے میں امتیازی صفات ہیں!!

    یہ بات ذہن نشین رہے کہ اللہ تعالی خیر و شر کے ذریعے شاکر و صابر لوگوں کو ممتاز کرنے کیلیے آزمائش کرتا ہے، کیونکہ نصف ایمان صبر اور نصف شکر پر مشتمل ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُمْ مِنْ آيَاتِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ} کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالی کی نعمت سے سمندر میں کشتی چلتی ہے تاکہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے، اس میں ہر صابر و شاکر کے لیےبہت سی نشانیاں ہیں [لقمان : 31]

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب لکھ بھیجا کہ: "نعمت عطا کرنے والے کا لوگوں پر کم از کم یہ حق ہے کہ اس کی نعمت کو معصیتِ الہی کے راستے میں استعمال نہ کیا جائے"

    نعمتوں پر شکر کرنے سے بڑا مقام یہ ہے کہ مصیبتوں پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، ایک مسلمان ایسی تکالیف پر حمد الہی کا دامن مت چھوڑے جسے وہ ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتا؛ کیونکہ اس مرتبے کے لوگوں کو سب سے پہلے جنت میں داخلے کیلیے بلایا جائے گا، اس لیے کہ ان لوگوں نے ہر حالت میں اللہ کی حمد خوانی کی تھی۔

    اللہ تعالی نے ہمیں ہر حالت میں شکرانے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ} چنانچہ تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، تم میرا شکر ادا کرو، اور ناشکری مت کرو۔[البقرة : 152]

    ایسے ہی فرمایا: {وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} لیکن اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کر دے، اور اپنی نعمت تم پر مکمل فرما دے، تا کہ تم اس کے شکر گزار بن جاؤ۔[المائدة : 6]

    ایک مقام پر فرمایا: {وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ} اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔[النحل : 114]

    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ: (اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر اللہ تعالی سے محبت کرو) ترمذی نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ، اور اسے صحیح کہا ہے۔

    اور شکر کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ اللہ تعالی پر ایمان ہو، اور یہی نبی ﷺ کی رسالت کا شکر بھی ہے، آپ کو اللہ تعالی نے سب لوگوں کیلیے رحمت بنا کر ارسال فرمایا۔

    اس کے بعد ہر چھوٹی سے چھوٹی نعمت کا الگ الگ شکر کرنا ضروری ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں میں کوئی نعمت چھوٹی نہیں ہوتی۔

    نعمتوں کی سب سے بڑی ناشکری؛ قرآن و سنت کا انکار ہے، اسلام کا انکار کرنے کی صورت میں کسی بھی نعمت کا شکر سود مند ثابت نہیں ہو سکتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے: { وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} اور جو ایمان سے انکار کر دے تو اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔[المائدة : 5]

    جبکہ اللہ تعالی نے شکر گزاروں کیساتھ مسلسل نعمتوں، اور وافر خیر و برکت کا وعدہ کیا ہوا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} اور جب تمہارے رب نے اعلان کیا: اگر تم شکر کرو گے تو تمہیں اور زیادہ دونگا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے ۔[ابراہیم : 7]

    شکر گزار ہی دنیا و آخرت کی بھلائیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہونگے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} اور اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو عنقریب بدلہ دے گا۔[آل عمران : 144]

    اسی طرح فرمایا: { وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ} جو دنیا کا بدلہ چاہے ہم اسے دنیاوی بدلہ دیتے ہیں، اور جو آخرت کا بدلہ چاہے تو ہم اسے اخروی بدلہ دیتے ہیں، اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو جزا دینگے۔[آل عمران : 145]

    شکر گزار ہی دنیاوی سزاؤں اور نقصانات سے نجات پائیں گے، اسی طرح آخرت کی تکالیف سے محفوظ رہیں گے، اللہ تعالی نے قومِ لوط کے بارے میں فرمایا: {إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ (34) نِعْمَةً مِنْ عِنْدِنَا كَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ }ہم نے ان پر پتھر برسائے، صرف آل لوط کو ہم نے سحری کے وقت بچایا [34 ] یہ ہماری طرف سے نعمت تھی، اور ہم شکر کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ [القمر : 34 - 35]

    شکر کرنا انبیا، رسولوں، اور اللہ کے مؤمن بندوں کا مقام ہے، اللہ تعالی نے نوح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: { إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا} بیشک وہ شکر گزار بندے تھے[الإسراء : 3]

    ایسے ہی فرمایا: {إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (120) شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ} بلاشبہ! ابراہیم ایک امت ، اللہ کے فرمانبردار اور یکسو رہنے والے تھے، وہ ہرگز مشرک نہ تھے [120] وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے ، اللہ نے انہیں منتخب کر لیا اور ان کی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی بھی فرمائی۔[النحل : 120 - 121]

    ایک مقام پر فرمایا: {قَالَ يَا مُوسَى إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} اللہ تعالی نے فرمایا: موسیٰ ! میں نے تجھے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لیے تمام لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے منتخب کر لیا ہے جو کچھ میں تجھے دوں اس پر عمل پیرا ہو اور میرا شکر گزار بن[الأعراف : 144]

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : "آپ ﷺ رات کو اتنا لمبا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے" تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: "اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کرتے ہیں کہ قدم سوج جاتے ہیں! حالانکہ اللہ تعالی نے آپ کی گزشتہ اور پیوستہ تمام لغزشیں معاف کر دی ہیں!" تو آپ ﷺ نے فرمایا: (تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں!) بخاری، مسلم

    شکر گزار لوگوں پر اللہ تعالی خصوصی کرم نوازی فرماتا ہے، جو دوسروں پر نہیں ہوتی، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ}اس طرح ہم نے بعض لوگوں کے ذریعہ دوسروں کو آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ [وہ انہیں دیکھ کر] کہیں کہ: "کیا ہم میں سے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے؟" [دیکھو] کیا اللہ تعالی اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ؟ [الأنعام : 53]

    اللہ کی مخلوق میں سے شکر گزار لوگ اللہ کے مقرب بندے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انکی تعداد کم ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ} میرے بندوں میں شکر گزار کم ہیں ۔[سبأ : 13]

    شکر گزار بندے! ہمیشہ شکر کرو، اور اسی عمل پر کار بند رہو، کیونکہ جو اللہ کے ساتھ وفا کرتا ہے، اللہ تعالی اسکے ساتھ وفا فرماتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ} تم مجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو، میں تم سے کیا ہوا عہد پورا کرونگا، اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو[البقرة : 40]

    تمہیں شیطان پھسلانے میں کامیاب مت ہو؛ کہ کہیں تم شکر گزاری میں کمی کا شکار ہو جاؤ، یا شکر گزاری سے ناشکری میں پلٹ جاؤ، اور تمہارے حالت بہتر سے ابتر ہو جائے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کہ ہم نے کتنی ہی کھلی کھلی نشانیاں انہیں دی تھیں ، پھر جو قوم اللہ کی نعمت کو پا لینے کے بعد اسے بدل دے تو یقینا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو سخت سزا دینے والا ہے [البقرة : 211] یعنی جو شخص اللہ تعالی کی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالی اسے سخت سزا دیتا ہے۔

    چنانچہ جو شخص دائمی شکر گزاری کرتا رہے تو اللہ تعالی اسے مزید عنایت فرمائے گا، جو شخص صراطِ مستقیم پر گامزن رہے اسے عزت اور نعمتیں ملتی رہیں گی، اور جو معصیت سے اطاعت میں آ جائے تو اللہ تعالی بھی اس کے حالات ابتری سے بہتری میں تبدیل فرما دیتا ہے۔

    جو شخص نیکیاں کرے، اور برائیوں سے دور رہے تو اللہ تعالی اس کے تمام معاملات اپنے ذمے لے کر کامیابی کیلیے راستہ ہموار فرما دیتا ہے، اس طرح اس کے تمام معاملات بخوبی انجام پاتے ہیں، چنانچہ انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اور آپ جبریل سے اور وہ اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ: (جو میرے کسی ولی کی اہانت کرے، اس نے میرے خلاف اعلانِ جنگ کیا، مجھے اپنے کسی بھی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مجھے موت ناپسند کرنے والے میرے بندے کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے، مجھے اس کی ناگواری پسند نہیں، لیکن روح قبض کرنا بھی ضروری ہے، اور میرے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کوئی نیکی کرنا چاہتے ہیں لیکن میں انہیں نیکی سے اس لیے روک دیتا ہوں کہ وہ اس نیکی کی وجہ خود پسندی میں مبتلا ہو جائیں گے، چنانچہ خود پسندی کی وجہ سے انکی نیکی برباد ہو جائے گی، میرا بندہ فرائض پر عمل کر کے سب سے زیادہ میرا قرب حاصل کرتا ہے، اور میرا بندہ نفل عبادت اتنی کرتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، اور جس سے میں محبت کروں تو میں اس کی سماعت، بصارت[اپنے کنٹرول میں کر کے] اس کا معاون، حامی و ناصر بن جاتا ہوں، جس وقت وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں، وہ مجھ سے مانگتا ہے تو عنایت کرتا ہوں، وہ میری بندگی چاہتا ہے تو میں اسکی خیر خواہی چاہتا ہوں، میرے کچھ بندوں کے ایمان کیلیے تونگری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے فقیر بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، جبکہ میرے کچھ بندوں کیلیے فقیری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے امیر بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، اور میرے کچھ بندوں کیلیے بیماری ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے صحت مند بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، میرے کچھ بندوں کیلیے صحت ہی مناسب ہوتی ہے، اگر میں اسے بیمار بنا دوں تو وہ بگڑ جائے گا، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ میں بندوں کے معاملات انکے سینوں میں چھپے رازوں کے مطابق چلاتا ہوں، کیونکہ میں جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں) اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے، اور اس کے کچھ الفاظ کے شواہد صحیح بخاری میں موجود ہیں۔

    اللہ کے بندو! ایسے شکر گزار بنو جن پر اللہ تعالی اپنی خیرات خوب برساتا ہے، امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "مدارج السالکین" میں اللہ تعالی کا ایک مقولہ ذکر کیا ہے کہ: "میرا ذکر کرنے والے میری مجلس کے حقدار ہیں، میرا شکر کرنے والے میری طرف سے زیادہ خیرات کے مستحق ہیں، میرے اطاعت گزار ہی میرے ہاں با عزت ہیں، نافرمان لوگوں کو میں کبھی بھی اپنی رحمت سے مایوس نہیں کرتا، چنانچہ اگر گناہگار توبہ کریں تو میں انکا حبیب ہوں، اور اگر توبہ نہ کریں تو میں انکا طبیب ہوں، میں انہیں مصائب سے دوچار کرتا ہوں تا کہ معایب سے پاک صاف کروں"

    اللہ تعالی نے تمہیں کامیاب ہونے والے ان لوگوں میں شمولیت کا حکم دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {بَلِ اللَّهَ فَاعْبُدْ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ} بلکہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرو، اور شکر گزاروں میں شامل رہو[الزمر : 66]

    اللہ تعالی نے قرآن مجید کی سورت النحل میں کچھ نعمتوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا ہے، کیونکہ ان کی خیر و برکت امت پر قیامت تک جاری رہے گی۔

    ہمارے نبی ﷺ کی مفید نصیحتوں میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں، اس لیے تم ہر نماز کے بعد کہا کرو: "اَللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبادَتِكَ"[یا اللہ! تیرے ذکر، شکر، اور اچھی طرح تیری عبادت کیلیے میری مدد فرما]) اس روایت کو ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے اور یہ نبوی نصیحت ساری امت کیلیے ہے۔

    حمد و شکر کے کچھ معانی ایک دوسرے میں شامل ہیں، تاہم ان دونوں میں سے ہر ایک کے مخصوص جزوی معانی بھی ہیں۔

    اللہ تعالی کی مسلمانوں پر عام و خاص نعمتیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالی کا شکر کرنا اور اس کی اطاعت پر استقامت اختیار کرنا واجب ہے؛ چنانچہ اس ملک پر اللہ تعالی کی خصوصی نعمتیں ہیں اور ان نعمتوں میں سے عظیم نعمت یہ ہے کہ یہاں پر سب متحد ہیں، اور اتحاد ایک ایسی نعمت ہے جس کی لڑی میں دینی اور دنیاوی تمام فوائد پروئے جاتے ہیں، باہمی اتحاد کے باعث نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم والا صحیح عقیدہ پروان چڑھتا ہے، ملک خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، شریروں کے شر سے انسان بچتا ہے، دینداری مضبوط ہوتی ہے اور دشمنوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔

    باہمی اتحاد کی وجہ سے شان بڑھتی ہے، ملت عظمت پاتی ہے، نیکی کا حکم دیا جاتا ہے برائی سے روکا جاتا ہے، ظالم کو ہاتھوں سے پکڑا جاتا ہے، حقوق کو تحفظ ملتا ہے، مال و جان محفوظ ہوتے ہیں، سرحدیں محفوظ ہوتی ہیں اور معاملات سنور جاتے ہیں۔

    جبکہ اتحاد مفقود ہو تو پوری قوم میں دینی اور دنیاوی ہر اعتبار سے اتنی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں کہ کوئی فرد یا پورا معاشرہ اس کی اصلاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، چنانچہ حکیم و علیم ذات کا فرمان کتنا ہی عظیم ہے کہ: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ} اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر اس وقت کی جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی تو تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے۔ اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اللہ تعالی اسی انداز سے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ راست کو پاسکو [آل عمران: 103]

    اللہ تعالی کی اس ملک پر ہونے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ یہاں شریعت اسلامیہ نافذ ہے، مملکت سعودی عرب کی عدالتوں کا دستور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔

    اور شریعتِ اسلامیہ ہی عدل اور بہترین قانون ہے جو کہ تمام لوگوں کے درمیان عدل قائم کر سکتا ہے، تمام انسانوں کے حقوق کو مکمل طور پر تحفظ دے سکتا ہے ان میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتا، فرمانِ باری تعالی ہے: {قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ} آپ کہہ دیں بیشک مجھے میرے رب نے صراط مستقیم کی جانب ہدایت دے دی ہے کہ وہی دین مستحکم ہے جو طریقہ یکسو ابراہیم کا تھا اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے [الأنعام: 161]

    امت اسلامیہ ہی تمام اقوام کے مابین بہترین امت کا درجہ رکھتی ہے ان کے ہاں غلو اور تساہل دونوں میں سے کچھ بھی نہیں پایا جاتا، اس میں کسی کے حقوق سلب نہیں کئے جاتے اور نہ ہی غصب کئے جاتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا} اور ہم نے تمہیں اسی طرح بہترین امت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تم پر گواہ ہو جائیں۔[البقرة: 143]

    اب اگر کوئی مسلمان شخص اللہ تعالی کے حقوق میں یا حقوق العباد میں کسی قسم کی کوتاہی کرتا ہے تو اس کا سبب اسلامی شریعت نہیں ہے بلکہ اس کا سبب وہ شخص ہے جو شرعی احکام سے جہالت یا ہوس پرستی میں ڈوبا ہوا ہے، تاہم اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرمائے گا، نبی ﷺ کا فرمان ہے: (آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں) یہ شریعت اللہ تعالی کی جانب سے نازل شدہ ہے؛ اس لیے اس میں کسی اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہے۔

    اللہ تعالی کی اس ملک پر یہ بھی نعمت ہے کہ یہاں استحکام اور امن و امان ہے اور امن کی بدولت اسلامی شعائر کی ادائیگی جا رہتی ہے، اسی کی بدولت زندگی کی ضروریات میسر ہیں، اسی کے سائے تلے لوگوں کو روزی میسر ہے، راستے پر امن ہیں، اسی کی بدولت پوری دنیا میں مفید امور کا تبادلہ ہوتا ہے، زندگی کے تمام گوشے خوشحال نظر آتے ہیں، اسی کی بدولت مال و جان اور عزتیں محفوظ ہیں ، خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں اور تجارت کو فروغ ملتا ہے۔

    مملکت سعودی عرب پر امن ہو تو یہ سعودی عرب اور تمام مسلمانوں کیلیے مفید ہے؛ کیونکہ یہاں پر حرمین شریفین ہیں اور تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس ملک کا تمام مسلمانوں پر حق ہے؛ فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ} بیشک تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔[الحجرات: 10]

    اس بابرکت ملک پر اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں تسلسل کے ساتھ مفید اور بہترین منصوبوں پر کام جاری ہے جو کہ تمام شہریوں اور مسلمانوں کی خدمت کیلیے شروع کیے گئے ہیں ، ان تمام منصوبوں میں سب سے پہلے حرمین شریفین کے راحت آمیز منصوبے اور حرمین سے متعلقہ پراجیکٹ ہیں جو کہ حجاج ، زائرین اور معتمرین کے لیے مختص ہیں، یہ تمام منصوبے ہم پر اللہ تعالی کے شکر اور حمد کے متقاضی ہیں۔

    شکر کرنے پر فائدہ شکر کرنے والے کا ہی ہوتا ہے جبکہ شکر کی ادائیگی سے غفلت پر نقصان غافل کا ہی ہوتا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ}اور جو شکر کرے تو وہ اپنے لیے ہی شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ تعالی غنی اور تعریف کا مستحق ہے۔ [لقمان: 12]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن کریم کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اسکی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، اور ہمیں سید المرسلین ﷺ کی سیرت و ٹھوس احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو ۔


    دوسرا خطبہ

    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں ، وہ جسے چاہتا ہے نیکی کی توفیق دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے اپنے عدل و حکمت کے باعث رسوا فرماتا ہے اور وہ خواہش پرستی میں ڈوب جاتا ہے، میں اسی کی حمد خوانی اور شکر بجا لاتا ہوں ، اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں، اور بخشش طلب کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اسکے علاوہ کوئی معبودِ بر حق نہیں وہ اکیلا اور یکتا ہے ، وہ آسمان و زمین کا پروردگار ہے، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی و سربراہ محمد اسکے بندے اور رسول ہیں ، آپ ہی عزت و تکریم کا قبلہ ہیں، یا اللہ !اپنے بندے اور رسول محمد ، انکی آل، اور تمام نیکو کار صحابہ کرام پر اپنی رحمت ، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

    حمد و صلاۃ کے بعد:

    شکر الہی ادا کرتے ہوئے تقوی الہی اختیار کرو، اور اسکا ذکر ایسے کرو جیسے ذکر کرنے کا حق ہے۔

    اللہ کے بندو!

    اللہ تعالی کا فرمان ہے: {إِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكُمْ وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ وَإِنْ تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ مَرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ} اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے پرواہ ہے، وہ اپنے بندوں سے کفر پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے ۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ، وہ تو دلوں کا حال جاننے والا ہے [الزمر : 7]

    یہ بات ذہن نشین کر لو کہ: انسان جتنی بھی اللہ کی عبادت و ریاضت کر لے کسی بھی صورت میں اللہ کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا، پھر بھی فرائض کی ادائیگی کرے اور ممنوعات سے دور رہے، اور یہ بات سمجھ لے کہ اگر اللہ تعالی کی رحمت نہ ہوتی تو وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہو تا، اسی طرح اپنی کمی کوتاہی پر استغفار کرتا رہے، اللہ تعالی سے اپنی مدد اور کامیابی کیلیے دعا گو رہے اور کثرت سے ذکرِ الہی میں مشغول رہے؛ کیونکہ ذکر کرنے سے انسان بڑے بلند مقام اور مرتبے تک پہنچ جاتا ہے۔

    ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: (رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مِطْوَاعًا، لَكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ صَدْرِي [یا اللہ! مجھے اپنا بہت زیادہ شکر اور ذکر کرنے والا بنا، تجھ سے بہت زیادہ ڈرنے والا، تیری اطاعت کرنے والا، تیرے لیے مر مٹنے والا، اور تیری ہی جانب رجوع اور انابت کرنے والا بنا، میرے پروردگار! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول فرما، میری حجت ثابت کر دے، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان راست فرما، اور میرے سینے سے کینہ نکال باہر کر]) ابو داود نے روایت کیا ہے، اور ترمذی اسے حسن صحیح حدیث قرار دیا۔

    اور ایک حدیث میں ہے کہ: ( جو شخص صبح کے وقت کہے: "اَللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ" [یا اللہ! صبح کے وقت جو بھی نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے تو وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے اس میں تیرا کوئی شریک نہیں] تو رات کو اسے جو نہ مل سکا وہ اسے مل جائے گا۔ اور جو شخص شام کے وقت کہے: "اَللَّهُمَّ مَا أَمْسَى بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ" [یا اللہ! شام کے وقت جو بھی نعمت مجھے یا تیری مخلوق میں سے کسی کو ملی ہے تو وہ صرف تیری ہی طرف سے ہے اس میں تیرا کوئی شریک نہیں] تو دن میں اسے جو نہ مل سکا وہ اسے مل جائے گا)

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} یقیناً اللہ اور اسکے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام پڑھو[الأحزاب: 56]، اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ: (جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا)

    اس لیےسید الاولین و الآخرین اور امام المرسلین پر درود پڑھو۔

    اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَسَلِّمْ تَسْلِيْمًا كَثِيْرًا ۔

    یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، اور علی سے راضی ہوجا، تابعین کرام اور قیامت تک انکے نقشِ قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہوجا، یا اللہ ! انکے ساتھ ساتھ اپنی رحمت، اورکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل و رسو فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ پوری دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کو اسلام کی وجہ سے مقہور بنا دیا گیا ہے یا اللہ ان سے ظلم کے بادل چھٹ دے۔ یا اللہ! مسلمانوں کے دلوں میں باہمی الفت ڈال دے، اور جن کی آپس میں ناچاقیاں ہیں ان کی صلح فرما دے، انہیں سلامتی والے راستے پر گامزن فرما، اور نہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لا کھڑا فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

    یا اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیوں کا خاتمہ فرما، یا اللہ! مصیبت زدہ مسلمانوں کی مصیبتیں وا فرما، یا اللہ! تکلیف زدہ مسلمانوں کی تکلیفیں رفع فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا اللہ! تمام مسلمان بیماروں کو شفا یاب فرما، یا ذو الجلال والاکرام!

    یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، چالوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ یا اللہ! تمام مسلمانوں اور ان کی اولاد کو شیطان ، شیطانی چیلوں ، چالوں اور شیطانی لشکروں سے محفوظ فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    یا اللہ! یا ذو الجلال والاکرام! ہم تجھ سے دعا گو ہیں، ہم تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول اور عمل کا سوال کرتے ہیں، یا اللہ! ہم جہنم اور اس کے قریب کرنے والے قول اور عمل سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔

    یا اللہ! ہمیں حق بات کو حق بنا کر دکھا اور پھر ہمیں اس کی اتباع کرنے کی توفیق بھی عطا فرما ۔ یا اللہ! ہمیں باطل بات کو باطل ہی دکھا اور پھر ہمیں اس سے اجتناب کرنے کی توفیق بھی عطا فرما۔ یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے باطل ہمارے لیے پیچیدہ مت بنا ، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! ہمارے اگلے، پچھلے، اعلانیہ، خفیہ اور وہ گناہ بھی معاف فرما جنہیں تو ہم سے بھی زیادہ جانتا ہے، یا ذو الجلال والاکرام!

    یا اللہ! یا ارحم الراحمین! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں ہمارے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے محفوظ فرما، یا اللہ! ہم تیرے کڑے فیصلوں ، سخت مشقت اور بد بختی سے تیری پناہ چاہتے ہیں ، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہم سب تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے شر سے حفاظت فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ان کے نشانے درست فرما، یا اللہ! انہیں صحیح سلامت اپنے علاقوں میں واپس پہنچا، یا ارحم الراحمین!

    یا اللہ! اپنے بندے خادم حرمین شریفین کو اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ہر نیکی کے کام میں انکی مدد فرما، اس کی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما، اور اس کے تمام اعمال اپنی رضا کیلیے قبول فرما، یا اللہ! انہیں صحت و عافیت عنایت فرما، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! انہیں پیشانی سے پکڑ کر ہر اچھے کام کی توفیق دے، یا رب العالمین!

    یا اللہ! شاہ سلمان حدیث نبوی کمپلیکس کو برکتوں والا بنا، یا اللہ! اس کمپلیکس کو ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے خیر برکت والا بنا، یا اللہ! اس کمپلیکس کے ذریعے تمام مسلمانوں کو اسی طرح فائدہ پہنچا، جیسے کہ تو نے اس سے پہلے شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کے ذریعے مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا، یا ذوالجلال و الاکرام!

    یا اللہ! انہیں قرآن کریم اور حدیث نبوی کی خدمت پر بہترین جزائے خیر عطا فرما، یا اللہ! انہیں قرآن کریم اور حدیث نبوی کی نشر اشاعت پر بہترین جزائے خیر عطا فرما، بیشک تو ہر چیز پہ قادر ہے۔ یا اللہ! اس جلیل القدر خدمت پر روزِ قیامت ان کا ترازو وزنی فرما، یا رب العالمین!

    یا اللہ! ان کے ولی عہد کو بھی تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق عطا فرما، اور انکی تیری مرضی کے مطابق رہنمائی فرما ، یا اللہ! انہیں پیشانی سے پکڑ کر ہر اچھے کام کی توفیق دے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    یا اللہ! ہم تجھ سے دعا گو ہیں کہ ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما، یا اللہ! بارش نازل فرما۔

    یا اللہ! یا ذوالجلال والاکرام! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما، یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما، یا رب العالمین! بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ} اللہ تعالی تمہیں عدل و احسان اور قریبی رشتہ داروں کو (مال) دینے کا حکم دیتا ہے، اور تمہیں فحاشی، برائی، اور سرکشی سے روکتا ہے ، اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو [النحل: 90]

    اللہ کا تم ذکر کرو وہ تمہیں کبھی نہیں بھولے گا، اسکی نعمتوں پر شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

    پی ڈی ایف فارمیٹ میں پڑھنے یا ڈاؤنلوڈ کرنے کیلیے کلک کریں۔
     
    Last edited: ‏نومبر 11, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    24
    سبحان اللہ ۔۔۔ جزاک اللہ
     
  3. اظہر عطاء

    اظہر عطاء رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 2, 2016
    پیغامات:
    7
  4. شفقت الرحمن

    شفقت الرحمن ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جون 27, 2008
    پیغامات:
    663
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں