مکہ مکرمہ میں پاسپورٹ اور ویزہ کی کاپی نہ رکھنے والوں کی پکڑ دھکڑ

کنعان نے 'خبریں' میں ‏نومبر 13, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,691
    مکہ مکرمہ میں پاسپورٹ اور ویزہ کی کاپی نہ رکھنے والوں کی پکڑ دھکڑ

    07 نومبر 2017

    لاہور (ڈویلپمنٹ سیل) مکہ مکرمہ میں پاسپورٹ اور ویزہ کی کاپی نہ رکھنے والوں کی پکڑ دھکڑ شروع، پاکستان سے عمرہ کی سعادت کے لیے جانے والوں کو حرمین شریفین جاتے ہوئے پاسپورٹ کی کاپی اور عمرہ ویزہ کی کاپی ساتھ لے جانے کی ہدایت، مکہ میں ایسے افراد کو پکڑا جا رہا ہے جن کے پاس پاسپورٹ کی کاپی اور عمرہ ویزہ کی کاپی نہیں ہوتی، عمرہ کمپنیوں کی گارنٹی پر انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے ، ملک بھر کے عمرہ ایجنٹوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عمرہ کے لیے جانے والوں کو سختی سے ہدایت کریں کہ وہ حرم شریف جاتے ہوئے پاسپورٹ اور عمرہ ویزہ کی کاپی اپنے پاس رکھیں چیک کرنے پر انہیں دکھائیں
    ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    74
    کیا کیا قوانین ہیں۔
    سب سے پہلے اس دفعہ یہ قانون لاگو کیاگیا تھا کہ سعودی ایئرلائن کے علاوہ کسی دوسرے ایئرلائن میں حج/عمرہ پر نہیں جاسکتے۔ اور پہر یہ خبر آئی تھی کہ بائیو میٹرکس فنگر پرنٹ دئے بنا ویزا نہیں جاری کی جائے گی۔
    اور پاسپورٹ تو معتمر کے مکہ /مدینہ پہونچتے ہی سیاحتی ایجینسی والے لے جاتے ہیں۔ پہر چاہے سم کارڈ کا حصول ہو یا ڈاکٹر کو دکھانا ہو یا کوئی اور ایمرجنسی، بڑی مشکل سے ہاتھ لگتی ہے۔ اس سے آسان سا کوئی حل تلاش کرنا ویسے انکے لئے کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئیے۔۔ لیکن ہمیشہ پچھلے دفعہ سے اگلی مرتبہ کوئی مشکل راہ دکھائی دیتی ہے۔

    اللہ جانے کیسے کیسے حالات ہیں مکہ مدینے کے سفر میں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,691
    السلام علیکم

    جب آپ کسی دوسرے ملک میں جا رہے ہیں یا وہاں طویل قیام ہے تو پھر ان کے قوانین سے بھی واقفیت ہونی ضروری ہے تاکہ کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے پھر جب ایک ملک حالت جنگ میں ہے اور کچھ خطرات کا سامنا بھی ہے تو ان خطرات سے نپٹنے کے لئے کبھی بھی کسی بھی وقت قانون میں تبدیلی یا سختی کی جا سکتی ہے۔

    جو لوگ سعودی عرب کام کے ویزہ پر قیام پذیر ہوتے ہیں ان کے پاس وہاں کی فوٹو آئی ڈی ہوتی ہے، جو عمرہ ویزہ پر جاتے ہیں انہیں پاسپورٹ کی کاپی اور ویزہ کی کاپی دوران قیام جیب میں رکھنی چاہئے تاکہ کہیں بھی پوچھ گیچھ کے دوران وہ اسے دکھا کر بچ سکتے ہیں یہ اس لئے ہے کہ کچھ لوگ عمرہ ویزہ کے بہانہ وہاں جاتے ہیں جس پر عمرہ بھی کرتے ہیں اور پھر بعد میں غائب ہو جاتے ہیں اور چھپ کر کام کرتے ہیں یا کچھ لوگ جن کے کام کے ویزے ختم ہو چکے ہوتے ہیں اور انہیں دوبارہ تجدید نہیں کرواتے اور اللیگل کام کرتے ہیں۔ یہ سکیورٹی رسک ہوتا ہے۔

    والسلام
     
    • متفق متفق x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,568
    @Abdulla Haleem
    اس خبر میں کوئی نئی بات نہیں. برصغیر کے میڈیا کو سنسنی پھیلانے کی عادت ہے.یہ معمول کی پکڑ دھکڑ ہے.عمرہ کرنیوالوں کا پاسپورٹ ایجنسی کے پاس ہوتا ہے.قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ان لوگوں کی پکڑ کرتے ہیں. جن کے پاس اقامہ نہیں ہوتا. یا وہ کسی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہوتا ہے.
     
    • متفق متفق x 1
  5. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    74
    ابو عکاشہ بھائی۔

    آپ شائد وہیں پر ہوتے ہیں اس لئے ان کے گن گانا اور سب اچھا کی رٹ لگانا آپ کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے۔

    لیکن سال بہ سال آسانی کی بجائے مشکلات سے نبرد آزما ہونا کوئی آسان کام تو نہیں ہیں ناں؟

    ابھی مالدیپ کی پاسپورٹ بایو میٹرک ہے اور یہاں کوئی سٹیمپ اس میں نہیں لگائے جاتے اور امیگریشن میں خود کار دروازوں سے چیک ان چیک آؤٹ ہونا ہوتا ہے۔

    کسی امیگریشن آفسر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    لیکن اسی پاسپورٹ ہولڈرز کو بھی سعودیہ ایمبسی والے شک کی نگاہ سے دیکھیں تو بری بات ہے۔
    اور کسی مالدیپی کے بارے میں آج تک یہ نہیں سنا یا سنی گئی ہے کہ کبھی بھی سعودیہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سعودیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے کی غرض سے یا کسی اور وجہ سے وہ بندہ وہاں ٹہرا ہوا ہو۔

    یہاں کے قانون زیادہ سخت ہے اور کوئی ٹریویل ایجینسی آج تک اپنے کسی بندے کو سعودیہ چھوڑ کر نہیں آیا الا یہ کہ حج کے دنوں میں کوئی آئی سی یو میں داخل ہوں۔

    تو ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ہم سعودیہ کے قوانین کے پاس کرنے والوں کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کیا جائے جو عادتا ایسے غیر قانونی حرکتیں کرنے والوں کے ساتھ کیا جاتاہے۔

    اور ابھی پچھلے دنوں یورپین یونین اور برطانیہ میں داخلہ کے بڑے گزرگاہوں سے خود کار دروازوں سے داخل ہونے کی اجازت مالدیپی پاسپورٹ حاملین کو بھی دئے جاچکے ہیں۔

    ایسے میں ہم سمجھتے ہیں کہ سعودیہ والوں کو بھی آسانیاں پیش کرنی چاہئیے نا کہ بیکار کی سختی کی۔

    شکریہ

    *
    اور آج کل تو سعودی فساد اور کرپشن تو موضوع بنا ہوا ہے۔
    شائد آئندہ دنوں میں کچھ اچھا ہوجائے۔۔۔۔ امید لگائے بیٹھے ہیں۔
     
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,691
    السلام علیکم

    محترم عبداللہ حلیم! ابھی تک تو بائیومیٹرک پاسپورٹ جس ملک کا جاری شدہ ہے اسی ملک کے ائرپورٹس پر داخل ہونے کے وقت وہاں لگے اسمارٹ دروزں کے لئے کارآمد ہوتا ہے۔ ملک سے باہر جانے کے لئے داخلہ بورڈنگ پاس سے ہوتا ہے اور جہاز میں بیٹھنے سے پہلے بورڈنگ پاس کے ساتھ پاسپورٹ بھی چیک کیا جاتا ہے۔ اسمارٹ دروزے اس ملک میں واپس پر یہاں سے گزر سکتے ہیں یا ایمگریشن کاؤنٹر پر سے بھی جا سکتے ہیں خیال رہے کہ بچے اگر ساتھ ہیں تو پھر والدین بھی اسمارٹ دروزہ اسعتمال نہیں کر سکتے کیونکہ بچوں کے نہ تو ہاتھ سکین ہوتے ہیں۔

    برطانیہ میں بھی چاہے امریکی پاسپورٹ ہو یا یورپئین انہیں پاسپورٹ پر تصویر والا صفحہ اوپر کر کے ایمیگریشن کاؤنٹر کے سامنے سے گزرنا پڑتا ہے، ہر 5 کے بعد ایک کا پاسپورٹ آفیسر اپنے ہاتھ میں پکر کے چیک کر سکتا ہے یا جس پر کوئی شک ہو۔

    آج ہی کی خبر دبئی ائر پورٹ کے حوالہ سے اس کا بھی مطالعہ فرمائیں معلوماتی ہے۔

    دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 120 جدید اسمارٹ دروازوں کی تنصیب

    پاکستانی پاسپورٹ ہو یا دنیا کا کوئی بھی پاسپورٹ جس پر ویزہ لگا ہو اسے اس ملک میں جانے کے لئے تھوڑی معلومات گوگل سے ان کی ایمبیسی کی سائٹ کھول کر چیک کر لینی چائیں۔ حج و عمرہ کے لئے 5 عرب ممالک کے علاوہ سب کو ویزہ حاصل کرنا پڑتا ہے اور ایسا رہنا بہت ضروری ہے، مثال سے برطانیہ سے جب منظور شدہ ٹریول ایجنٹ کے پاس جائیں تو نام میں تھوڑا سا بھی ڈاؤٹ ہونے پر ایجنٹ آپ سے کہے گا کہ جس جگہ تم رہتے ہو وہاں کی مسجد کے امام سے تصدیق شدہ لیٹر لے کر آؤ کہ تم مسلمان ہو قادیانی یا کوئی اور نہیں۔

    والسلام
     
  7. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    13,568
    میں نے صرف تصحیح کی کوشش کی ہے. کہ یہ معمول کی کاروائی تھی. ویزہ پالیسی کے حوالے سے آپ براہ راست متعلقہ افراد، حکام سے رابطہ کریں. ان کی ایمبیسی جا کر شکایت درج کروائیں. جہاں تک گن گانے کی بات ہے. اس بات پر صرف مسکرایا جا سکتا ہے.
     
  8. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    74

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں