جب اسرائیل اور انڈیا نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا

کنعان نے 'متفرقات' میں ‏نومبر 13, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,691
    جب اسرائیل اور انڈیا نے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا


    1981 میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو کامیابی سے تباہ کرنے کے بعد اسرائیل کا حوصلہ بہت بڑھ گیا اور اس نے انڈیا کے ساتھ ملکر پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ دی ایشین ایج کی دو جرنلسٹس کی لکھی ہوئی ایک مشہور کتاب

    Deception Pakistan, the US and the Global Weapons Conspiracy
    میں اس سارے واقعے کی کافی تصیلات موجود ہیں۔

    یہ 80 کی دہائی کا درمیان عرصہ تھا ۔ انڈین گجرات کے جمان گڑھ ایئر فیلڈ پر اسرائیلی جہازوں کا ایک سکواڈرن پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر پر حملہ کرنے کے لیے بلکل تیار تھا ۔ انہوں نے پاکستان کا ایک بڑا مسافر بردار جہاز گرانے کا ارادہ کیا تھا جو صبح سویرے بحر ہند کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا اسلام آباد جانے والا تھا ۔ ان کا پلان تھا کہ وہ ایک کومبیٹ یا ٹائٹ گروپ کی شکل میں پرواز کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونگے تاکہ پاکستانی ریڈارز کو دھوکہ دیا جا سکے اور ریڈار آپریٹرز یہ سمجھیں کہ شائد یہ کوئی ایک ہی بڑا مسافر بردار جہاز ہے۔ پھر وہ کہوٹہ پر بمباری کر کے اسکو تباہ کر دینگے اور وہاں سے سیدھے جموں کشمیر جا کر ری فیولنگ کرینگے اور نکل جائینگے !

    آئی ایس آئی نے اپنی بھاگ دوڑ تیز کر دی اور بالاآخر حملے سے صرف چند گھنٹے پہلے حملے اور سازش کا سراغ لگا لیا گیا ۔ یعنی حملہ صبح 4 بجے ہونا تھا اور جنرل ضیاءالحق کو رات 12 بجے اطلاع دی گئی ۔ جنرل ضیاء نے ساری صورت حال کا تیزی سے جائزہ لیا اور فوری فیصلہ کیا کہ حملے کو روکا نہیں جائیگا بلکہ ناکام بنایا جائیگا تاکہ پاکستان کو جوابی حملے کا جواز مل سکے اور فوراً ہی ایک بھرپور جوابی حملے کا پلان بنایا گیا۔

    پاکستانی ایئر فورس کے تین دستے تشکیل دئیے گئے۔

    • پہلے کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اسرائیلی جہازوں کے حملے کو ناکام بنائے اور ان کو مار گرائے (اس معاملے میں اسرائیل کے خلاف پاکستان کا ریکارڈ 100 فیصد ہے)
    • دوسرے دستے کو ممبئ ٹرومبے میں موجود انڈیا کے بھا بھا نیوکلئیر پلانٹ کو تباہ کرنے کا ٹاسک ملا۔
    • جبکہ تیسرے دستے کو نجیو ڈیزرٹ میں موجود اسرائیل کے ڈیمونا نیوکلئیر پلانٹ کو تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
    لیکن اسرائیل پر حملے میں مسئلہ یہ تھا کہ پاکستانی جہاز وہاں ری فیولنگ نہ کر پاتے اور انکا گرنا لازمی تھا۔ یعنی واپسی نہیں تھی اور یہ ایک فدائی مشن تھا ۔ اس کے لیے 4 جوانوں کی ضرورت تھی۔ جب ائیر فورس کے جوانوں سے پوچھا گیا تو 10 تیار ہو گئے اور ان میں 4 کا انتخاب کرنے کے لیے قرعہ ڈالنا پڑا۔ ہر جوان یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے بے چین تھا۔

    کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق کی عظم و ہمت ، قوت فیصلہ اور جنگی حکمت عملیوں سے خوف زدہ انڈین جنرلز اس حملے کے حق میں نہ تھے اور اسکو خودکشی قرار دے رہے تھے۔ انکو قائل کرنے میں اسرائیل اور اندارا گاندھی سے بہت محنت کی تھی۔

    جنرل ضیاء اور پاکستانی ائیر فورس شدت سے حملے کے منتظر تھے۔ وہ اس کو عالم اسلام کے دو بڑے دشمنوں کو انکی ایٹمی قوت سے محروم کرنے کا ایک سنہری موقع سمجھ رہے تھے۔

    امریکی سیٹلائیٹ نے پاکستانی جہازوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کو نوٹ کیا اور فوراً اسرائیل اور انڈیا کو آگاہ کیا اور انہوں نے نہایت بھونڈے انداز میں اپنے مشن سے پسپائی اختیار کرلی۔ اسکو چھپایا بھی نہ جا سکا نتیجے میں پوری دنیا میں دونوں کی سبکی ہوئی۔

    تب پاکستان نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ نہ پاکستان عراق ہے اور نہ ہی پاکستانی فوج عراقی فوج ہے ۔ آئندہ ایسی کسی بھی مہم جوئی کو اسرائیل کے لیے ایک بھیانک خواب میں تبدیل کر دیا جائیگا۔

    تحریر: جاوید چوھدری
    پیر‬‮ 12 جون‬‮ 7102
    ---------------

    بحوالہ:
    1.
    Deception: Pakistan, the United States, and the Secret Trade in Nuclear Weapons by Adrian Levy, Cathy Scott-Clark
    2.
    Pakistan's Bomb: Mission Unstoppable - NPR
    3.
    ‘Israel planned to hit Kahuta from India’s Jamnagar base - Dawn
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں