اسلام آباد کو بند کرنے کی غیر سنجیدہ سیاسی روایت کے نتائج

عائشہ نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏نومبر 14, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    اسلام آباد اور راولپنڈی کے مکین آج کل ایک مرتبہ پھر سردی، دھرنے اور راستوں کی بندش کا سامنا بہت صبر و تحمل سے کر رہے ہیں۔ یہاں سفر تیز ور باکفایت بنانے کے لیے کئی تدابیر اختیار کی گئیں جس پر خوشی ہوتی تھی لیکن یوں لگتا ہے کہ بعض سیاسی رہنما ترقی دیکھ کر جل جاتے ہیں۔
    آج کل دگنا وقت اور پیسہ خرچ کرکے اپنی منزل پر پہنچنے پر بھی یقین نہیں ہوتا کہ جس کام کے لیے آئے ہیں ہو سکے گا یا نہیں۔ ٹریفک پولیس نے متبادل راستے تو دیے ہیں لیکن ایک چھوٹے سے مذہبی گروہ نے پورے دو شیروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ ساری زیادتی اس عظیم ہستی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام پر ہو رہی ہے جس نے راستوں کے حق ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور راستوں میں بیٹھنے والوں سے کہا تھا کہ کسی کو تکلیف مت دینا۔ کیا صرف عمامہ اور داڑھی ہی سنت ہے؟ کیا ایمبولینس کا راستہ روکنا مسلمانی ہے؟
    یہ غیر یقینی حالات ان غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دار اور بے حس سیاسی و مذہبی سیاسی رہنماؤں کی بنائی ہوئی بری روایت ہے جو سیاسی حکمت سے پیدل تھے لیکن شہرت اور قیادت کا بہت شوق تھا۔ غیر ذمہ دار قیادت پوری قوم کے لیے مصیبت ہوتی ہے۔ ہر سال سرما کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد کو بند کرنے کے شوقین جڑواں شہر وں پر عذاب کی مانند نازل ہو جاتے ہیں اور خلق خدا سے بددعائیں سمیٹ کر دفع ہوتے ہیں۔
    جنہوں نے پاکستان کے پہلے مارشل لا، پہلے دھرنے اور پہلے لانگ مارچ کی تاریخ کا مطالعہ کر رکھا ہے وہ منفی سیاست کوفورا بھانپ لیتے ہیں۔ مسئلہ ان کا ہے جو اب بھی ایسے لوگوں کو سیاسی رہنما سمجھتے ہیں۔ اور جن کے مذہبی رہنما ایسے کارنامے کر رہے ہیں ان سے بہتر وہ ہیں جو افیون کھا کر کسی پل کے نیچے پڑے رہتے ہیں۔
    صورت حال یہ ہے کہ روز اس امید سے گھر پلٹتے ہیں کہ کل حالات بہتر ہوں گے لیکن روز یہ امید دم توڑ دیتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 2
  2. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,830
    اللہ جانے کہ یہ مظاہرے، جھگڑے، دھرنے سب پاکستان میں ہی کیوں نمودار ہوتے اور یہاں ہی پروان چھڑتے ہیں، اور لوگ بھی عجیب عقل کے اندھے جو ہر جاہل آدمی کو مذہبی رہنما اور سیاست سے نابلد کو سیاسی لیڈر مان بیٹھتے ہیں۔
    میں حلفا کہہ سکتا ہوں ان دھرنے والوں میں ایک بھی آدمی نے سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں پڑھی ہوگی۔۔۔
    یہ شہرت کا جنون انسان سے ہر چیز کھینچ لیتا ہے، میں نے اس رضوی کی تقریرں سنی ہیں اگر ممبر مصطفی میں جان ہوتی تو اس کی ایسی واہیاتیوں پر اس کو اٹھا کر پھینک دیتا اور بندہ بالکل کورا ہے، لیکن بریلوی عوام معصوم ہیں شائد جبھی محبت رسول کا نام لیکر ان سے ہر جائز و ناجائز کام کروایا جا سکتا ہے۔
    اللہ ان کو ہدایت دے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    6,650
    جی جی یہ پر امن نہیں بلکہ "پهُر امن" مظاہرین ہیں۔ بات شیریں زبان گالیوں سے شروع ہوئ اور لاٹھیوں اور گھونسوں تک آ گئ ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
    لگتا ہے کہ یہ لوگ ڈنڈوں کے زور پر امن "بے حال" کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
    ویسے اب تک یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ انتظامیہ اتنے دن سے کیا کر رہی ہے۔ لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں ہیں۔ اور معلوم نہیں کس بات کا انتظار کر رہے ہیں۔
    رضوی صاحب نے چار روز پہلے کہا تھا کہ ہم گردنیں کٹانے آۓ ہیں۔ لیکن!
     
    • متفق متفق x 1
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    انتظامیہ نے پچھلے دھرنے پر بھی صبر جمیل کیا تھا۔ اس سال بھی تقدیر کے لکھے پر راضی ہے۔ جمہوری حکومتوں کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  6. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,830
    صبر و تحمل ہی یہاں تک پہنچا دیتا ہے یہاں سعودیہ میں کرے ناں کوئی ایسا کام طبیعت بنا دی جاتی ہے۔ تمہیں حقوق مل رہے ہیں اچھے انداز سے مطالبہ پیش کرو، یہ کیا کام ہوا کہ لوگوں کے حقوق غصب کرو اور جلاو گھیراؤ کرو۔
    مجھے ایک بات یہاں یاد آئی ہمارے حدیث کے استاد ہیں ڈاکٹر عبداللہ باری فتح اللہ، انڈیا سے تعلق رکھتے ہیں چند دن قبل ہی بتا رہے تھے کہ جب بابری مسجد کا مسئلہ ہوا تو میں امارات میں تھا وہاں پر چند پاکستانی نوجوانوں نے مظاہرہ شروع کر دیا اور مظاہرے کی آڑ میں سونے کی دوکانوں پر خوب ہاتھ صاف کیئے گئے نتیجہ یہ نکلا کہ امارات کی حکومت جو ہمدردی کر رہی تھی بے درد بن گئی اور ان کو پکڑ کر الٹا جیل میں ڈال دیا گیا۔
    یہ مظاہرے بس اسی آڑ میں ہوتے ہیں ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں تو ایسی باتوں پر ان کی سیرت کو مزید لوگوں میں عام کریں کتابیں چھپوا کر مفت تقسیم کی جائیں، اچھے انداز میں پروگرام مرتب کیئے جائیں سیرت مصطفی لوگوں کو سنائی جائے، ایسی چیزیں تو موقعہ ہوتی ہیں کہ لوگوں تک اپنی بات کھل کھلا کر پیش کی جائے۔
    اب ان کے اس انداز سے لبرلز اور ملحدین مزید طعن و تشنیع کر رہے ہیں کہ لو جی یہ رسول سے محبت کرنے والوں کا حال ہے۔۔۔!! اور ایسے آوارہ لوگ ہی رسولوں کی گستاخی کروانے کا باعث بنتے ہیں اور فتوے دوسروں پر صادر کرتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    لوگ اس وقت سارے مذہبی لوگوں کو کوس رہے ہیں چاہے ہم ان کے حامی نہیں۔لاکھ کہیں آپ کا اس تحریک
    سے تعلق نہیں مگر ہر روز یہی سوال ہوتا ہے۔
     
  8. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    930
    السلام علیکم! دل سے بد دعائیں نکلتی ہیں خادم حسین رضوی سے ، انتہائی گندی زبان کا مالک اور ان کے اندھے مقلد۔گورنمنٹ ڈرتی ہے کہ اس سے پہلے یہ ممتاز قادری کی پھانسی کی شکل میں ان قبرپرستوں کو آکسیجن فراہم کر چکی ہے، ان کے خلاف ایکشن لیا تو الٹا گورنمنٹ کے گلے ہی پڑ جانا ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    علامہ رضوی کتوں کا اس قدر خیال کرتے ہیں کہ ان سے گفتگو بھی فرما لیتے ہیں۔۔۔

    کاش دھرنے سے عاجز سڑکیں ہی بول پڑیں تو ان کی بات سن لیں۔ انسانوں کی تکلیف تو ان کو نظر نہیں آرہی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,131
    یہ بات بالکل درست ہے۔ ختم نبوت اور توہین مقدسات کے حساس مسئلے کو انتہائی غیر سنجیدہ لوگوں نے اپنی ملکیت بنا لیا ہے، کسی کی معقول تجویز پر کان نہیں دھر رہے اور نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ لوگ سارے مذہبی طبقے کو غیر سنجیدہ سمجھنے لگتے ہیں۔
    یہ سب معاملات عدالت اور پارلیمنٹ میں بھی حل ہو سکتے تھے جیسے دوسری مذہبی جماعتیں کر رہی ہیں، اس کو سڑک پر لانا، کراچی، اسلام آباد اور روالپنڈی کی ٹریفک جام کرنا ضروری نہیں تھا۔ نہ ہی گردنیں کٹانے اور خون بہانے کی دھمکیاں دینے کی ضرورت تھی۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں