بیت المقدس کو ہم کیسے لوٹائیں ، محمدبن صالح العثیمین

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏دسمبر 17, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,108
    بیت المقدس کو ہم کیسے لوٹائیں ، محمدبن صالح العثیمین

    یہ ممکن ہی نہیں کہ بیت المقدس کو لوگ واپس لٹائیں الا یہ کہ اسے اسلام کے نام پر لوٹائیں ۔ اور یہ وہ اسلام ہے جس پر نبیﷺ اور آپ کے صحابہ تھے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے ۔
    إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّـهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
    یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وه مالک بنا دے اور اخیر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں (128سورة الأعراف)
    عرب جتنی کوشش کر لیں ،اوردنیا بھر کے اقوال ہی کیوں نا لے آئیں اور جتنے بھی احتجاجات کرلیں ۔ اس سے وہ کامیاب نہ ہوں گے ۔ یہاں تک کہ دین اسلام کے نام پر وہاں سے یہودیوں کو نکالنے کی آواز بلند نہ کریں ۔ اور اس کے بعد انہوں نے اسلام کو اپنے اوپر نافذ کیاہو ۔ تو جب وہ ایسا کریں گے تو وہ بات ان پر سچ ثابت ہوگی ۔ جس کی نبی ﷺنے خبردی ہے ۔
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:
    «لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا اليَهُودَ، حَتَّى يَقُولَ الحَجَرُ وَرَاءَهُ اليَهُودِيُّ: يَا مُسْلِمُ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ»!

    "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی ۔ جب تک مسلمان یہودیوں سے قتال نہ کریں گے ۔ تو مسلمان انہیں قتل کریں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا ۔ تو پتھر یا درخت کہے گا ۔ ائے مسلمان ۔ ائے اللہ کے بندے یہ ہے یہودی میرے پیچھے ۔ تو آ اور اسے قتل کر" ۔ (مسلم ۔ 2922)
    تو پتھر اور درخت مسلمانوں کو یہودیوں کے بارے میں بتائے گا اور وہ کہے گا ۔ یا عبداللہ ( ائے اللہ کے بندے) ،اللہ کے نام سے پکارے گا اور کہے گا یا مسلم ( ائے مسلمان) ۔ اسلام کے نام سے پکارے گا ۔ اور رسولﷺ نے فرمایا ۔ مسلمان یہودیوں سے قتال کریں گے ۔ یہ نہیں کہا کہ عرب!
    اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہم ہرگز یہودیوں کو عربیت کے نام سے ختم نہیں کرسکتے ۔ ہم انہیں صرف اسلام کے نام سے ختم کرسکتے ہیں ۔ اور جو چاہے ۔ اللہ کے اس فرمان کو پڑھ لے ۔
    وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
    "ہم زبور میں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے (105-سورة الأنبياء) "
    تو اللہ نے وراثت اپنے نیک صالح بندوں کے لئے رکھی ہے ۔ اور جو چیز بھی کسی وصف سے معلق کردجاتی ہے تو وہ اس وصف کے موجودگی میں ہی پائی جاتی ہے اور اس کی غیرموجودگی میں اس کا نہ ہونا پایاجاتا ہے ۔ تو اگر ہم اللہ کے صالح نیک بندے بن جائیں تو ہم آسانی و سہولت سے اس کےوارث ہونگے ۔ بغیران مشقت ،تکلیف و پریشانی و مشکلات کہ ۔ اور بغیر اتنی لمبی لمبی باتوں کے جو کبھی ختم نہ ہوں گی ۔
    ہم اسے اللہ کی مدد سے آباد کریں گے ۔ اور جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دیا ہے ۔ اور یہ اللہ کے لئے کتنا آسان ہے ۔
    اور ہم یہ جانتے ہیں کہ فلسطین کو مسلمانوں نے اسلام کے روشن دور میں صرف اسلام سے ہی حاصل کیا ۔ انہوں نے مدائن جو فارسیوں کی دارلحکومت تھی ۔ اور رومیوں و قطبیوں کی دارالحکومت کو صرف اسلام سے ہی حاصل کیا ۔ اس لئے کاش کہ ہمارے نوجوان اس بات کو صحیح طور پرسمجھ لیتے ۔ کہ بغیر صحیح اسلام کے ان کی مطلق مدد کامیابی ممکن نہیں ۔ شناختی کارڈ والا اسلام نہیں ۔
    میں کہتا ہوں اور تمام علم تو اللہ کے پاس ہے ۔
    یہ ممکن ہی نہیں کہ تم شام کو واپس لوٹا لو اور خاص کر فلسطین کو ۔ سوائے اس طریقہ سے جس طریقے سے امت کے پہلے لوگوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لوٹایا تھا ۔ ان لوگوں کے ذریعے جو عمر کی لشکر کے لوگ جیسے ہوں ۔ جو قتال صرف اس لئے کرتےہوں تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ۔ تو جب مسلمانوں میں ایسا ہو گا تو وہ یہودیوں سے لڑیں گے ۔ یہاں تک کہ یہودی درخت کے پیچھے چھپ جائے گا ۔ تووہ درخت اس مسلمان کو پکارے گا ۔ اور کہے گا ائے مسلمان ، ائے اللہ کے بندے ۔ یہ ہے یہودی ۔ میرے پیچھے ، تو آ اور اسے قتل کر ۔
    لیکن جب لوگ ،ہماری اور یہودیوں کے بیچ دشمنی کوصرف قومی عصبیت کی وجہ سے دشمنی سمجھتے رہیں گے ۔ تو ہم کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ کیونکہ اللہ صرف اس کی مدد کرتا ہے ۔ جو اس کی مدد کرتے ہیں ۔ جیساکہ اللہ کا فرمان ہے
    وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ
    " جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا،بڑ ے غلبہ والا ہے ۔ (40) یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے (41،سورة الحج)
    جب ہم اس امت کے پہلے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں پاتے ہیں توحید کی بنیاد پر ا،للہ کے لئے اخلاص اور رسولﷺ کی اتباع پر ،انہوں نے نصرت مدد اور کامیابی حاصل کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ فضول چیزوں ۔ برے اخلاق ، فحاشی ،منکر اوردشمنوں کی تقلید اور ان کے طور و طریقے سے دوری اختیار کرتے تھے "
    مشکل تو یہ ہے کہ بہت سارے لوگ آج کفار کی تقلید میں عزت اور شرف محسوس کرتے ہیں ۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ جس چیز پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ تھے ۔ یعنی کتاب اللہ و سنت رسولﷺ ۔ اس طرف پلٹنا ۔ پیچھے رہ جانا ہے ۔ اور اسے پہلے لوگوں کی بات کی تطبیق کرتے تھے ۔
    وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ
    اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے یقیناً یہ لوگ گمراه (بے راه) ہیں (32سورة المطففين)
    تو ہمارے لئے ضروری ہے ائے بھائیو!
    کہ ہم لوٹیں ۔ ہم پڑھیں اور غور کریں جو گزر اس امت کے پہلے لوگوں میں ۔ تاکہ ہم اس چیز کو لیں جس پر وہ تھے ۔ سنت رسولﷺ سے چمٹ جائیں اور اللہ کی توحید (بندگی) میں ۔ اس وقت ہمارے لئے مدد لکھ دی جائے گی ۔
    میں کہتا ہوں اور دہراتا ہوں ۔ ہمارے لئے واجب ہے کہ ہم اپنے نفس کے شر سے آگاہ رہیں اور کفار ،منافقین اور ان کے متبعین کے شر سے آگاہ رہیں ۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے اور تمہارے لئے اپنے دین کی مدد کرنا لکھ دے ۔ اور ہمیں اس کے ذریعے مدد پہنچائے ۔ اور ہمارے ذریعے اس کی مدد کرے ۔ اور ہمیں اپنے اولیاء ، اپنے لشکر میں شامل کرلے ۔ وہ جواد اور کریم ہے ۔

    مصدر ۔کتب و رسال الشیخ محمد بن صالح العثیمین ج 8ص 117
    {تفسيرسورةالبقرةلابن عثيمين ( ١ / ١٦٩–١٧٠)

    اردو ترجمہ ۔ ابومریم اعجاز احمد
    پروف ریڈنگ۔ ابوعکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • مفید مفید x 1
  2. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,792
    السلام علیکم

    اس کا مطلب گریٹر اسرائیل بنے گا اور بعد میں گریویارڈ اسرائیل، اس کے بعد ہی یہ سب کچھ ہو گا جیسا کہ ۔۔۔۔۔

    والسلام
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,108
    گریٹر إسرائيل کی کوئی قوی دلیل نہیں .ورنہ الشيخ ابن العثيمين رحمه اللہ جیسے فقیہ ضرور ذکر کرتے. یہ ایک مفروضہ ہے.کہ ایسا ہو سکتا ہے.الملحمة الكبرى کا لفظ روم کے خلاف دجال کے خروج سے قبل آخری جنگ کے ضمن میں آیا ہے.اس کی کچھ علامتیں، واقعات ہیں.اس میں اسرائیل کا کہیں نام و نشان نہیں.اسرائیل تو استعمال ہورہا ہے. لگام کسی اور کے ہاتھوں میں ہے.
    مزید تفصیل یہاں دیکھی جا سکتی ہے
    http://www.dd-sunnah.net/forum/showthread.php?t=4031
    http://fatwa.islamweb.net/fatwa/index.php?page=showfatwa&Option=FatwaId&Id=321898

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں