کیا دینی کام کرنے کے لیے علم کا ہونا کافی ہے یا ڈگریاں اور تزکیات کا ہونا ضروری ہے؟

عبدالمنّان نے 'مَجلِسُ طُلابِ العِلمِ' میں ‏دسمبر 17, 2017 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالمنّان

    عبدالمنّان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏فروری 12, 2016
    پیغامات:
    13
    http://www.manhaj.com/manhaj/assets/audio/knowl-tazkiyah-fawzan-cert.mp3

    سؤل فضيلة الشيخ صالح الفوزان حفظه الله: هل يكفي لمن أراد تعليم الناس أمور دينهم أن يحمل شهادة جامعية أم لا بد له من تزكيات العلماء ؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    العلامة صالح الفوزان حفظه الله :
    لا بد من العلم ...ما كل من حمل شهادة يصير عالم ،، لا بد من العلم والفقه في دين الله ..والشهادة ما تدل على العلم !!
    قد يحملها وهو أجهل الناس !
    وقد لا يكون عنده شهادة وهو من أعلم الناس ... هل الشيخ ابن باز معه شهادة ؟؟!!
    هل الشيخ ابن إبراهيم ؟؟!!
    هل الشيخ ابن حميد ؟؟!!
    هل هم معهم شهادات ؟؟!!
    ومع هذا هم أئمة هذا الوقت
    فالكلام على وجود العلم في الإنسان والفقه في الإنسان، لا على شهاداته ولا على تزكياته ما يعتبر هذا !! ...
    والواقع يكشف الشخص :
    إذا جاءت قضية أو حدثت ملمة تبين العالم من المتعالم والجاهل . نعم .

    فضیلت الشیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ " کیا لوگوں کو تعلیم دینے والے کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری /ڈگریاں ہونا کافی ہے یا پھر اس شخص کے پاس علماء کا تزکیہ بھی ہونا ضروری ہے؟

    شیخ فوزان حفظہ اللّٰہ نے جواب دیا : علم کا ہونا ضروری ہے، ہر وہ شخص جس کے پاس ڈگری ہو وہ عالم نہیں بن جاتا، لوگوں کو تعلیم دینے والے کے پاس علم اور دین کی سمجھ کا ہونا ضروری ہے، ڈگریوں سے علم کا پتہ نہیں لگتا، بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کے پاس ڈگریاں ہو اور وہ لوگوں میں سب سے بڑا جاہل ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی کے پاس ڈگری نہ ہو اور وہ لوگوں میں سب سے بڑا عالم ہو ۔
    کیا شیخ بن باز رحمہ اللّٰہ کے پاس، شیخ ابراہیم، شیخ حمید رحہم اللّٰہ کے پاس کوئی ڈگری تھی (نہیں)، پھر بھی وہ لوگ اس وقت کے آئمہ ہیں۔

    پس معلوم ہوا کہ اصل چیز آدمی میں علم کا ہونا ہے، ڈگریوں کا ہونا نہیں اور نہ تزکیات کا ہونا، ان چیزوں کا کوئی اعتبار نہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی آدمی کی اصلیت اس وقت کھل جاتی ہے جب کوئی مسئلہ آتا ہے یا کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو ایک عالم، جاہل اور طالب علم سے ممتاز ہو جاتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    438
  3. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,802
    السلام علیکم

    مختصر، دینی مدارس میں بھی اسناد دی جاتی ہیں، دین پر تبلیغ انٹرنٹ پر نہیں کرنی کہ جس کے لئے سرٹیفکیٹ کا ہونا ضروری نہیں، اس دور میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پریکٹیکل لائف میں قدم رکھنے کے لئے ان کا ہونا بہت ضروری ہے باقی رہی بات علم کی تو آپکی ڈگری بتائے گی کہ کونسی پوزیشن ہے اور پھر جب انٹرویو کے لئے کسی کے سامنے ہونگے گے تو اس کا علم بھی ہو جائے گا۔

    شیخ بن باز کی تاریخ میلاد 1910 ہے اس وقت شائد ان کی ضرورت نہ پڑتی ہو مگر اب سعودی نیشنل کے لئے بھی ڈگری کی بہت اہمیت ہے۔

    تعليمه
    نشأ ابن باز في بيئة علم شرعي، إذ كانت الرياض في ذلك الوقت بلدة علم، يسكن فيها عدد كبير من كبار العلماء وأئمة الدين، فبدأ بدراسة وحفظ القران الكريم كما هي عادة علماء السلف، فحفظ القران قبل أن يتم مرحلة البلوغ، ثم بدأ بعدها بطلب العلم الشرعي على يد علماء بلدته الرياض، يقول ابن باز:«وقد بدأت الدراسة من الصغر، فحفظت القران الكريم قبل البلوغ على يد الشيخ عبد الله بن مفيرج، ثم بدأت في تلقي العلوم الشرعية والعربية على أيدي كثير من علماء الرياض، ومن أعلامهم: الشيخ محمد بن عبد اللطيف آل الشيخ، والشيخ صالح بن عبد العزيز بن عبد الرحمن، والشيخ سعد بن حمد بن عتيق قاضي الرياض، الشيخ حمد بن فارس وكيل بيت المال بالرياض، الشيخ سعد وقاص البخاري، أخذت منه علم التجويد عام 1355، الشيخ محمد بن إبراهيم بن عبد اللطيف، وقد لزمت حلقاته صباحًا ومساءً، وحضرت كل ما يقرأ عليه، ثم قرأت عليه جميع المواد التي درستها في الحديث والعقيدة، والفقه والنحو والفرائض، وقرأت عليه شيئًا كثيرًا من التفسير والتاريخ والسيرة النبوية، نحوًا من عشر سنوات، وتلقيت عنه جميع العلوم الشرعية ابتداءً من سنة 1347 هـ حتى سنة 1357 هـ، حيث رشحت للقضاء من قبل سماحته».[9]

    والسلام
     
    • متفق متفق x 1
  4. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    438
    شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ تو فتوی اپنے زمانے کے اعتبار سے دے رہے ہیں
     
  5. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    106
    میں سوچتا ہوں!! !!!


    برطانیہ انڈیا پاکستان اور باقی کچھ ممالک میں نوجوان سلفی احباب، خاص کر شیخ صالح الفوزان اور شیخ ربیع کے نام پر اردو انگلش اور باقی زبانوں میں جو فتوی جات اور باتیں پھیلاتے رہتے ہیں ان باتوں کے متعلق انہیں (شیوخ) کچھ علم بھی ہیں کے نہیں.

    کیوں کے جوڑ سے زیادہ تھوڑ ان ترجمہ جات میں دیکھی جاتی ہے.

    اور ان تراجم میں اکثر دفعہ کسی کو نصیحت سے زیادہ ان کو جھاڑ تے ہوئے یا رد کر کے نشاندہ کردہ اس کی غلطیاں بتانے کے لئے بیان کیا جاتا یے.

    یہ میری ناقص سوچ ہے. کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

    شکریہ
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    شیخ کو علم ہے یا نہیں. اللہ بہتر جانتا ہے. مگر یہ حقیقت ہے کہ نوجوان سلفی حضرات کچھ باتیں سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کرتے ہیں. اور کچھ درست ہوتی ہیں.
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,094
    چلیں سب مل کر راسخ العلم بزرگ علما کے کام کو ان کے حوالے سمیت انٹرنیٹ پر پیش کرنے کا کام کریں۔ کوئی جھگڑا باقی نہیں رہے گا۔
     
    • متفق متفق x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں