نیچے سے ہلاک

اجمل نے 'اسلام اور معاصر دنیا' میں ‏جنوری 3, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    نیچے سے ہلاک

    حکمرانوں کی تاریخ عبرتوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن جب ایک عام انسان عبرت نہیں پکڑتا تو طاقت کے نشے میں دھت مغرور و متکبر حکمران کب عبرت پکڑنے والے ہیں؟۔

    تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر حکمران اپنے ماتحتوں کی سازش یا بغاوت کے ذریعے ہی معزول ہوئے ‘ قید ہوئے‘ حکمرانی سے سبکدوش ہوئے یا ہلاک ہوئے۔ بادشاہت میں کسی بادشاہ کے بیٹے ‘ داماد‘ بھائی یا کوئی وزیر جو اس کے ماتحت تھا اس کی تباہی اور ہلاکت کا باعث بنا۔

    آج کل جمہوریت ہے اور اگرچہ جمہوریت میں حکمرانی صرف پانچ سال کی ہوتی ہے لیکن اس پانچ سال میں بھی صدر یا وزیر اعظم اپنے ماتحت بیوروکریٹس‘ فوج یا پھر عدلیہ کے ذریعے ہی اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف صاحب کی حکمرانی ان کی ماتحت عدالت کے ذریعے ختم ہوئی۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بٹھو صاحب اپنے ماتحت فوجی افسر کے ذریعے پہلے معزول پھر ہلاک ہوئے۔ ۔ اندرا گاندھی اور سلمان تاثیر اپنے ماتحت اور محافظ کے ذریعے قتل ہوئے۔وغیرہ وغیرہ

    اسی طرح ہم ملازمت پیشہ لوگ یہ خوب جانتے ہیں کہ ہمارے خلاف ہمارے نیچے کام کرنے والے ‘ ہمارے ماتحت ہی ہمیں ہٹانے کی سازش کرتے ہیں۔

    تاجروں کو نقصان پہچانے والے ان ماتحت ملازم ہی ہوتے ہیں۔
    خانگی زندگی میں بھی انسان اپنی بیوی‘ بیٹا یا بیٹی سے زک اٹھاتا ہے۔
    یعنی انسان زیادہ تر اپنے نیچے سے ہی نقصان اٹھاتا ہے اور ہلاکت میں پڑتا ہے۔

    تو قربان جائیے پیارے نبی ﷺ پر جنکی بصیرت نے اس بات کو سمجھا اور اپنی امت کو نیچے سے ہلاک و برباد ہونے سے بچنے کیلئے اللہ سے پناہ مانگنا سکھایا۔

    یہ دعا صبح شام کی مسنون دعاؤں میں شامل ہے لیکن افسوس کہ آج ہم عام مسلمانوں کا اس پر عمل نہیں رہا تو بڑے بڑے حکمرانوں کا کیا عمل ہوگا ؟ لیکن جو نیچے کی ہلاکت سے بچنا چاہتے ہیں وہ صبح شام کی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

    نیچے سے ہلاک ہونے سے بچنے کی دعا یہ ہے:

    اَللّٰهُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیْ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِیْنِیْ وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ ، وَاَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ اَنْ اُغْتَالَا مِنْ تَحْتِیْ.أبوداود، حسن صححه ابن حبان, وحسنه ابن حجر
    ’’ ائے اللہ ! تو میری حفاظت فرما ، میرے سامنے سے ، میرے پیچھے سے ، میری دائیں طرف سے ، میری بائیں طرف سے اور میرے اوپر سے ۔ اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں‌کہ ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں ‘‘۔

    اللہ تعالٰی ہمیں‘ ہمارے اہل و عیال اور تمام مسلمانوں کو دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

    تحریر: محمد اجمل خان
    ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.


    کیا اس حدیث میں بعض اطراف اور جہتوں کا یہ مطلب نہیں ہیں کہ انہیں جہتوں کی بابت ہی معنی لئے جائیں؟

    تحتي کا مطلب میں "ماتحت کے اشخاص" کا ترجمہ کرنا اور سمجھنا درست ہے کیا؟


    شکریہ
     
    • متفق متفق x 1
  3. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    عام طور تو معنی جہات ہی لیا جاتاہے لیکن جہات سے کیا مراد لیا جائے ؟ کیا ان جہات سے انسان پر حملہ ہوتا ہے یا انسان کو کوئی تباہ و برباد کرنے کیلئے دوڑتا ہے؟
    ان جہات سے تو ایک طرف ان جہات میں پھیلے ان دیکھی قوتوں کا حملہ مراد لیا جا سکتا ہے اور دوسری طرف میں ان جہات میں جو لوگ ہمارے درمیان ہیں وہ مراد ہیں۔
    لیکن حوادثِ دنیا پر غور کریں تو ماتحت ہی زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔
    اس دعا میں سامنے سے ، پیچھے سے ، دائیں سے ، بائیں سے اور اوپر سے ‘‘ کا ایک ساتھ ذکر ہے اور ان پانچ جہات سے ( احْفَظْنِیْ )حفاظت فرمانے کا سوال کیا گیا۔
    اور پھر الگ سے اللہ سبحانہ و تعالٰی کو عظمت کا دوہائی دیکر کہا گیا : ’’اور میں تیری عظمت کے ساتھ اس بات سے (اعوذ) پناہ مانگتا ہوں‌کہ ناگہاں اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں‘‘
    تو نیچے سے ہلاک ہونے والا کوئی خاص معاملہ ہے جب ہی تو اس پر الگ سے زور دیا گیا اور یہاں لفظ ’ اعوذ‘ پناہ مانگا گیا جبکہ باقی پانچوں جہات پر لفظ ’ احفطننی ‘ حفاظت فرمانے کا سوال کیا گیا۔

    ’اعوذ‘ ۔۔۔ جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنی ماں کے ساتھ چمٹ کر ماں کی پناہ میں آتا ہے اس معنی میں استعمال ہوتا ہے
    جبکہ ’ ا حفظ ‘ ۔۔۔ نگرانی و نگہداشت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو دور سے رہ کر بھی کیا جا سکتا ہے۔
    اب اگر حوادثِ دنیا پر ن پر غور کریں تو ’’سامنے سے ، پیچھے سے ، دائیں سے ، بائیں سے اور اوپر سے ‘‘ حملہ تو انسان کو نظر آ بھی جاتا ہے اور ان سے حفاطت کی تدبیر وہ خود بھی کرتا رہتا ہے لیکن نیچے والوں کی طرف انسان کا دھیان نہیں جاتا اور یہ اتنا گمبھیر معاملہ ہے کہ انسان کو اس سے بچنے کیلئے اللہ سے بالکل چمٹ جانے کی ضرورت ہے یعنی نیچے والوں کی نگہبانی بھی کرے ‘ ان کے حقوق بھی ادا کرے اور ان کے شر سے اللہ کی پناہ بھی مانگے۔

    اور اگر اس دعا سے صرف ’ جہات ‘ ہی مراد لیا جائے تو وہ تو صرف ان دیکھی قوتوں کا حملہ ہی مراد ہو سکتا ہے کیونکہ روز مرہ کی زندگی میں کسی عام آدمی پر کوئی ان جہات سے حملہ کرنے تو نہیں آتا سوائے ان دیکھی قوتوں کے اور اس کے لئے پانچ کے ساتھ چھٹھے جہت کو بھی شامل کر دیا جاتا اور سارے چھہ جہات ایک ساتھ حفاظت کرنے یا پناہ مانگنے کا سوال کر دیا جاتا‘ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔تو نیچے سے مراد ماتحت ہی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
     
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    "دینی سیاست" میں لغت اور فہم نصوص کی ایسی تیسی ہوتی رہتی ہے۔ عظیم مقاصد کے لیے چھوٹی موٹی تباہی میں کیا حرج ہے۔
     
  5. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    اس میں سیاست کہاں سے نظر آگئی؟
     
    Last edited: ‏جنوری 4, 2018
    • مفید مفید x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    حدیث میں لفظ اغتال استعمال ہوا ہے۔
    اغتیال کا مطلب ہے حالت غفلت میں قتل۔اس کے معنوں میں کہیں بھی حکمران کی اقتدار سے معزولی شامل نہیں۔ یہ ہر انسان کے لیے عام دعا ہے جو سب کو مانگنی چاہیے۔ علمائے کرام کے مطابق اس کا مطلب خسف (دھنسنے) والی موت ہو سکتی ہے۔ اس کو کھینچ تان کر جمہوری حکمران کی معزولی تک لے جانا سیاست نہیں تو کیا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    اول تو میں نہ ہی سیاسی آدمی ہوں اور نہ ہی سیاست میں دلچسپی رکھتا ہوں اور نہ ہی آج تک سیاست پر کچھ لکھا ہے۔
    شاید آپ نے مضمون سے صرف موجودہ واقعات کے جو امثال دیئے گئے ہیں ان کو پکڑ لیا جبکہ اسی تحریر میں ملازمت پیشہ‘ تاجر اور عام آدمی کی بات بھی کی گئی ہے اور میں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ دعا صبح شام کی مسنون دعاؤں میں شامل ہے لیکن افسوس کہ آج ہم عام مسلمانوں کا اس پر عمل نہیں رہا تو۔۔۔‘‘
    لہذا میں نے بھی یہی کہا ہے کہ ’’یہ ہر انسان کے لیے عام دعا ہے‘‘۔
    لیکن ہم مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ ہم ایک طرف تو یہ کہتے اور مانتے ہیں اللہ تعالٰی نے غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے اور جب کوئی غور و فکر کرکے اپنی بات کو سامنے لاتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ یہ دین سے متعصادم ہے بھی یا نہیں اس پر نقطہ چینی کرنے لگتے ہیں۔
    اب جب آپ نے سیاست کی بات کر ہی دی ہے تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ’’ اغتال ‘‘ اور ’’ اغتیال‘‘ پوری عرب دنیا میں ’’ سیاسی قتل ‘‘ کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے۔
    تعريف و معنى اغتيال في معجم المعاني الجامع - معجم عربي عربي
    اغتيال۔: (اسم )
    o اِغتيال : مصدر إِغتالَ
    o اِغتالَ ۔: (فعل)
    o اغتال الشَّخصَ قتَله على غفلة منه ، ويكثر استعماله في القتل لأسباب سياسيّة‘ اغتال خصومَه بالقتل ،


    ’’ الاغتيال مصطلح يستعمل لوصف عملية قتل منظمة ومتعمدة تستهدف شخصية مهمة ذات تأثير فكري أو سياسي أو عسكري أو قيادي ويكون مرتكز عملية الاغتيال عادة أسباب عقائدية أو سياسية أو اقتصادية أو انتقامية تستهدف شخصاً معيناً يعتبره منظموا عملية الاغتيال عائقاً لهم في طريق انتشار أوسع لأفكارهم أو أهدافهم.‘‘

    اسی طرح مفردات القرآن میں جو اردو معنی دیا ہوا ہے وہ ہے ’’ کسی کو اسطرح ہلاک کر دینا کہ اس کا پتہ بھی نہ چل سکے‘‘۔
    (یعنی سازش وغیرہ سے۔ یہ میری رائے ہے)

    آپ نے کہا:
    ’’علمائے کرام کے مطابق اس کا مطلب خسف (دھنسنے) والی موت ہو سکتی ہے‘‘ ، اسے میں بھی جانتا ہوں۔
    اور یہ قرآن میں قارون اور اس کے محل کو زمین کے اندر دھنسا دینے والی آیت کے حوالے سے کیا جاتا ہے

    فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ ۔۔۔ سورة القصص ۔۔ آیت81

    میں علمائے کرام کو چیلنج نہیں کرتا ‘ ان کی جو سمجھ ہے اس کے مطابق انہوں نے معنی اخذ کئے ہیں لیکن یہ تو صرف ایک وجہ ہے اور ہلاکت کی صرف ایک وجہ نہیں ہوتی۔ اگر صرف دھنسنے والی موت سے بچنا ہی مراد ہوتا تو دعا میں ’ اغتال ‘ کی بجائے ’ خسف ‘ استعمال کر لیا جاتا‘ جیسا کہ قارون کے دھنسنے کی بعد والی آیت میں اس لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

    لَوْلَا أَن مَّنَّ اللَّـهُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا ۖ ۔۔۔ سورة القصص ۔۔ آیت82

    ’زمین میں دھنسنے‘ کے علاوہ ’خسف ‘ ذلت و رسوائی کے معنی میں بھی آتا ہے۔

    ’ اغتال‘ اور ’ اغتیال‘ یعنی ’ ہلاکت‘ کا لفظ بہت وسیع معنی رکھتا ہے اور اس سے صرف ’ خسف ‘ دھنسنے والی موت مراد لینا زیادتی ہوگی کیونکہ ’ دھنسنے والی موت ‘ ہلاکت کی صرف ایک قسم ہے جبکہ ہلاکت کے اور بھی بے شمار اقسام ہیں۔ لیکن اگر اس کے ساتھ ساتھ ’ خسف ‘ کی دوسری معنی ’ ذلت و رسوائی‘ بھی لیا جائے تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ ذلت و رسوائی بھی وسیع معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

    ہمیں عملی طور پر حالات و واقعات کو بھی دیکھنا چاہئے اور اس تناظر میں اگر قرآن و سنت کی کوئی بات فٹ آتی ہو تو اسے ضرور کرنا چاہئے۔
    زمین میں دھنسنے کا واقعہ تو ساز و نادر ہی ہوا کرتا ہے جبکہ انسان اپنے ماتحتوں کی سازشوں سے روزانہ دوچار ہوتا ہے‘ ذلیل و خوار اور ذلت و رسوائی میں پڑ کر ہلاکت میں پڑتا ہے ‘ اب یہ ماتحت بیوی بچے ہوں‘ ملازم ہوں ‘ ماتحت کام کرنے والے ہوں یا پھر وزیر مشیر ہوں یا کوئی اور ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم
     
    Last edited: ‏جنوری 4, 2018
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    قتل کے لیے نہ کہ حکمران کی اقتدار سے معزولی کے لیے! یہی نکتہ اختلاف کا سبب ہے۔
    اگر کچھ غوروفکر کر لیا جاتا تو واضح ہو جاتا کہ علمایا میں نے کہیں نہیں لکھا کہ اس سے "صرف دھنسنا" مراد ہے۔ بے شک علمائے کرام جب کسی معنی کو اختیار کرتے ہیں تو اس کی حکمت سب کو سمجھ نہیں آتی۔ یہ ان کو سمجھ آئے گی جنہیں علم دیا گیا ہے کہ علامات قیامت میں خسف کی کیا اہمیت ہے۔ جس طرح ہیرے کی قدر جوہری جانتا ہے شارحین حدیث کی خدمات کی قدر وہی کر سکتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے اور جو اس میدان کے علمی قواعد جانتے ہیں۔ بہتر ہوتا ہے کہ تفسیر قرآن میں تفاسیر اور شرح حدیث میں شروح حدیث کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے۔ پھر جو لکھا جائے گا وہ امت کے لیے نفع بخش ہو گا۔
     
  9. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    یہی علم کا گهمنڈ نے لوگوں کو لے ڈوبا اور فرقے بنتے گئے.
     
    • متفق متفق x 1
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    جی ہاں علم پہ گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے۔ میڈیکل ڈاکٹرز سے گاڑی کا تیل پانی چیک کروانا چاہیے اور سبزی فروش سے بخار کی دوا لینی چاہیے۔ ہم سب برابر ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  11. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    معزولی بهی ہلاکت، تباہی، بربادی، ذلت اور رسوائی ہی ہے
     
  12. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    السلام علیکم اجمل صاحب.


    دفتروں میں کام کرنے والے ماتحتوں کے بارے لکھا تو اچانک سے میرے ذہن میں بعض دفاتر میں کام کرنے والے چپڑاسیوں اور خاکروبوں کی طرف چلا گیا، پہر ذہن میں یہ بات کھٹک نے لگا کہ اگر ماتحت ہیں تو ان دفاتر میں سب سے نچلے درجہ میں تو وہ ہوں گے، تو وہ لوگ اپنے ما تحت کے کن لوگوں سے پناہ مانگیں. تو سوچا کہ اس پر استفسار کرلوں.

    اور یہ بات بھی ذہن میں آیا تھا کہ شائد یہ آپ کا اپنا سوچ ہوں. باقی کے علماء شائد کچھ اور کہتے ہوں، یہ سوچ کر سوال کیا تھا.


    اور ایک اوفیس میں کام کرنے والے ماتحت افراد کے متعلق معنی لیا جاتا تو یہ دو گروہ اس تأویل کے رو سے باہر ہوجاتے ہیں.


    امید ہے کہ میرے کمزور اردو سے قطع نظر میری بات کی سمجھ آپ کو آچکی ہوگی.شکریہ

    والسلام علیکم
     
    • متفق متفق x 1
  13. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    أغتال من تحتی کا خودساختہ مفہوم لے کر دعا کی افادیت ہی ختم کردی. خسف کے معنی تو علماء نے لکھے ہیں. انہیں لینے میں کیا تردد ہے.
    اللهم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي قال جبير وهو الخسف قال عبادة فلا أدري قول النبي صلى الله عليه وسلم أو قول جبير .
    تحقيق الألباني :
    صحيح ، ابن ماجة ( 3871
    )
    islamport.com/d/1/alb/1/57/588.html
     
    • متفق متفق x 1
  14. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    اس کے ما تحت اس کی بیوی بچے ہوئے..
    اب یہ نہ پوچه لیجئے گا کہ اس کے گهر میں جو نومولود بچہ ہے اس کا ماتحت کون ہے ؟
     
    Last edited: ‏جنوری 6, 2018
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    یہ مضمون "نیچے سے ہلاک" ہو چکا ہے۔ اب اس کی لاش گھسیٹی جا رہی ہے۔
     
  16. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    سبحان اللہ لغت کے قواعد ایک طرف یہاں خسف بھی معمولی ہو چکا ہے۔
     
  17. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    دنیا میں کتنے خسف کے واقعات ہوئے ہیں؟
     
    Last edited: ‏جنوری 7, 2018
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    دجال روز نہیں نکلتا لیکن ہم ہر نماز میں اس کے فتنے سے پناہی مانگتے ہیں کیوں کہ وہ قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ خسف بھی انہی دس ہولناک نشانیوں میں سے ہے۔ اسی لیے اس سے پناہ کی دعا سکھائی گئی ہے۔
    دنیا میں اب تک چھوٹے بڑے بہت سے خسف ہو چکے ہیں جن کے مقابلے سے انسان بے بس ہے۔ کچھ کا ذکر یہاں

     
  19. اجمل

    اجمل محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 10, 2014
    پیغامات:
    480
    شکریہ
    اچها یہ بتائیے یہ جو آگے سے پیچهے سے دائیں سے بائیں سے اور اوپر سے محفوظ رکهنے کی دعا کی گئی. وہ کیا ہیں؟
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں