جنازہ کے اہم مسائل و احکام

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جنوری 4, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    جنازہ کے چالیس اہم مسائل

    مقبول احمد سلفی

    (1) بیماری اور اسلام :
    بیماری اللہ تعالی کی طرف سے مومن کے لئے آزمائش ہے ،اس پر صبر کرنے والا اجر کا مستحق ہوتاہے،یہ درجات کی بلندی اور گناہوں کی تلافی کا سبب ہے۔ جائز طریقے سے علاج کرنا توحید وتوکل کے منافی نہیں ہے تاہم دوا کو بذات خود نافع نہ سمجھے بلکہ شفا اللہ کی طرف سے ہے اس پر ایمان رکھے ۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ وہ مریض کی عیادت کرے ، اسے بھروسہ دلائے اور صبر وثبات کی تلقین کرے ۔ابن ماجہ میں ہے کہ نبی ﷺ کو بیماری لاحق ہوئی اور آپ اسی بیماری میں وفات پاگئے۔
    لمَّا مرضَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ مرضَهُ الَّذي ماتَ فيهِ( صحيح ابن ماجه:1027)
    بیماری میں وفات پانا خاتمہ بالخیر کی علامت ہے اور ایسے شخص کے لئے نبی ﷺ کی بشارت ہے :
    إذا أرادَ اللَّهُ بعبدِه الخيرَ عجَّلَ لَه العقوبةَ في الدُّنيا ، وإذَا أرادَ اللَّهُ بعبدِه الشَّرَّ أمسَك عنهُ بذنبِه حتَّى يوافيَ بِه يومَ القيامة(صحيح الترمذي:2396)
    ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اسے دنیا ہی میں جلدسزادے دیتا ہے ، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتاہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتاہے۔یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزاد یتاہے۔

    (2) موت کی تمنا کرنا:
    انسان کے لئے زندگی میں کبھی ایسا موڑ آتا ہے کہ شدید مصیبت یا سخت فتنہ کی تاب نہ لاکر موت کی تمنا کرنے لگتا ہے یا بعض لوگ خودکشی کرلیتے ہیں ۔ اسلام نے ہمیں عموماموت کی تمنا کرنےاورخصوصا ہلاکت کا راستہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ ایسے حالات کو تقدیر کا حصہ سمجھنا، کثرت سے توبہ واستغفار کرنااور صبر کا دامن تھامنا مومن کا شیوہ ہونا چاہئے ۔ فتنہ اگر شدید ترین ہویا مصیبت کی شدت حد سے بڑھ جائے تو اللہ سے موت کی دعا کرسکتے ہیں مگرخود سے ہلاکت کا کوئی راستہ اختیار نہیں کرسکتے ۔ فتنےکی شدت کے وقت کی یہ دعا پڑھیں :
    وإذا أردتَ فتنةً في قومٍ فتوفَّني غيرَ مفتونٍ(صحيح الترمذي:3235)
    ترجمہ : اے اللہ اگر تو قوم کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر آزمائے ہوئے وفات دیدے۔
    یایہ دعا کریں: اللَّهمَّ أحيني ما كانتِ الحياةُ خيرًا لي ، وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةُ خيرًا لي(صحيح البخاري:6351 )
    ترجمہ:اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھیو اور جب میرے لئے موت بہتر ہوتو مجھے اٹھالیجیو۔

    (3) وفات سے پہلے وصیت :
    اگر کسی کو لگے کہ اس کی موت کا وقت قریب ہے تو دو گواہوں کی موجودگی میں وصیت لکھ دے اور کسی امانتدار کے پاس رکھ دے۔اللہ کا فرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ (المائدة:106)
    ترجمہ: اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا گواہ ہونا مناسب ہے جبکہ تم میں سے کسی کوموت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو ،وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواہ تم میں سے ہوں یا غیرلوگوں میں سے ۔
    ایک طرف حقوق وواجبات اور مال وجائیداد کی وصیت لکھ دے تو دوسری طرف اولاد اور اعزاء واقارب کو رب کی بندگی کرنے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے، شرک وبدعت سے پرہیز کرنے اور کتاب وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کی وصیت کرے ۔ اگر یہ یقین ہے کہ وفات کے بعد اس کی اولاد یا اہل خانہ اس کے حق میں شرکیہ اعمال انجام دیں گے تو لازما اس شرک سے بچنے اور سنت کے مطابق تجہیزوتکفین کرنےکی وصیت کرے ۔ اسی طرح اگر میت کے پاس زیادہ مال ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں صدقہ کرنے کی وصیت کرسکتا ہے ۔ وصیت میں کسی کو عاق کرنا ، کسی پر ظلم کرنا ، تہائی مال سے زیادہ وصیت کرنا اور کسی وارث کے لئے مال کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے ۔

    (4) قریب المرگ کے احکام :
    جب کسی مسلمان کی وفات کا وقت قریب ہو اور سکرات الموت طاری ہو تو ہمیں چاہئے کہ اس کے قریب بیٹھ کر نرمی سے لاالہ الا اللہ کی تقلین کریں تاکہ اس کا خاتمہ بالخیر ہواور اس کا چہرہ قبلہ رخ کردیا جائے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    لقنوا موتاکم لا الہ الا اللہ.(صحیح مسلم: 916)
    ترجمہ: اپنے قریب الموت کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کرو۔
    لاالہ الااللہ کی تلقین کی وجہ یہ ہے کہ اسی کلمے پہ آخرت میں نجات کا دارومدار ہے ۔
    سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    من كانَ آخرُ كلامِهِ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ دَخلَ الجنَّةَ(صحیح ابوداؤد: 3116)
    ترجمہ : جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الااللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
    بعض لوگ قریب المرگ کے پاس سورہ یسین پڑھتے ہیں مگر اس بابت وارد حدیث ضعیف ہے تاہم بغیر تخصیص کے قرآن کی تلاوت کرنا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے ممکن ہے آیات قرآنیہ سے ایمانی طور پر مستفید ہو۔ وفات کے بعد قرآن کی تلاوت نہیں کی جائے گی ۔

    (5) روح نکلنے کے بعد کے احکام:
    ٭وفات کے فورا بعد میت کی آنکھیں بند کردینا چاہئے اور وہاں صرف خیر کی باتیں کرنی چاہئے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا حضرتُمْ موتاكُم فأغمِضوا البصرَ فإنَّ البصرَ يتبعُ الرُّوحَ وقولوا خيرًا فإنَّ الملائِكَةَ تؤمِّنُ علَى ما قالَ أهْلُ البيتِ(صحيح ابن ماجه:1199)
    ترجمہ: جب تم فوت ہونے والے کے پاس موجود ہو تو اس کی آنکھیں بند کردوکیونکہ نظر روح کے پیچھے ہوتی ہے اور تم (میت کے پاس) خیروبھلائی کی بات کرو کیونکہ فرشتےاہل خانہ کی بات پر آمین کہتے ہیں ۔
    ٭اسی طرح کسی چادر سے اسے ڈھک بھی دینا چاہئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے :
    سُجِيَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ حين مات بثوبٍ حبرةٍ(صحيح مسلم:942)
    ترجمہ: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ کو ایک یمنی چادر سے ڈھک دیا گیا۔
    ٭ اس کے دونوں جبڑوں کو اوپر سے باندھ دیا جائےاورجوڑوں کو آہستہ آہستہ نرم کیا جائے اور پیٹ پر وزنی کوئی چیز رکھ دی جائے ۔
    ٭ میت کے قرض کی ادائیگی کریں کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    نَفسُ المؤمنِ معلَّقةٌ بدَينِه حتَّى يُقضَى عنهُ( صحيح الترمذي:1097)
    ترجمہ: مومن کی جان اس کے قرض کی وجہ سے اٹکی رہتی ہے جب تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہوجائے۔
    ٭ جنازہ کی تجہیزوتکفین میں عجلت کریں ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : أَسْرِعُواْ بالجنازةِ ، فإن تَكُ صالحةً فخيرٌ تُقَدِّمُونَهَا ، وإن يَكُ سِوَى ذلكَ ، فشَرٌّ تضعونَهُ عن رقابكم .(صحيح البخاري:1315)
    ترجمہ:جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔

    (6) رشتہ داروں کوموت کی خبر دنیا:
    اخبارات، نوٹس بورڈ اور ٹیلی ویزن کے ذریعہ وفات کی تشہیر کرنا منع ہے لیکن تجہیزوتکفین میں شامل ہونے اور دعائے مغفرت کے لئے اعزاء واقارب اور مسلمانوں کو خبر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، مسلم شریف میں ہے نبی ﷺ نے نجاشی کی وفات کے دن لوگوں کو ان کی وفات کی خبر بھجوائی ۔اکثر دور رہنے والے رشتہ دار کا جنازہ روک کر کافی انتظار کیا جاتا ہے جو صحیح نہیں ہے ۔

    (7) وفات کی خبر سننے پر :
    جب کسی مسلمان کی وفات کی خبر سنیں تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھیں ۔اللہ کا فرمان ہے :
    الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة:156)
    ترجمہ: وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
    اسی طرح یہ دعا بھی پڑھ سکتے ہیں : إنا لله وإنا إليه راجعون . اللهمَّ ! أْجُرْني في مصيبتي وأَخلِفْ لي خيرًا منها(صحيح مسلم:918)
    ترجمہ:یقینا ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں،اے اللہ!مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے(اس کا) اس سے بہتر بدل عطا فرما۔

    (8) میت پہ رونے کی بجائے صبر کرنا چاہئے:
    موت برحق ہے وہ کسی وقت آسکتی ہے ، موت پہ جزع فزع کرنا ،چیخنا چلانا اور نوحہ خوانی کرنا اس کے عذاب کا سبب ہے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : إِنَّ المَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ(صحيح البخاري:1286)
    ترجمہ:میت کو اس کے گھروالوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے ۔
    اور نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    الميتُ يعذَّبُ في قبرِه بما نيحَ عليه(صحيح البخاري:1292)
    ترجمہ:نوحہ کی وجہ سے میت کو قبر میں عذاب ہوتاہے ۔
    غمگین ہونا اور آنکھوں سے آنسو بہ جانا فطری چیز ہے،اس پہ گرفت مشکل ہے۔ جب ابراہیم کی وفات پر نبی ﷺ کی آنکھوں سے آنسو آئے تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ بھی بے صبرےہورہے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایایہ بے صبری نہیں رحمت ہے:
    إنَّ العينَ تدمَعُ والقلبَ يحزَنُ ، ولا نقولُ إلَّا ما يُرْضِي ربَّنا ، وإنَّا بفِرَاقِكَ يا إبراهيمُ لمحزنونَ .(صحيح البخاري:1303)
    ترجمہ:آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
    میت پہ رونے کی بجائے صبر کرنا اجر کا باعث ہے۔ جس کے دو یا تین بچے فوت ہوجائیں اور صبر کرے تو اس کا بدلہ جنت ہے ۔ حضرت ابوھریرة رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے:
    أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ قال لنسوةٍ من الأنصارِ " لا يموت لإحداكنَّ ثلاثةٌ من الولدِ فتحتسِبه ، إلا دخلت الجنةَ " . فقالت امرأةٌ منهن : أو اثنَين ؟ يا رسولَ اللهِ ! قال " أو اثنَين " (صحيح مسلم:2632)
    ترجمہ: رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: تم میں سے جس کے تین بچے فوت ہوجائیں اور وہ اﷲ کی رضا کیلئے صبر کرے تو جنت میں جائے گی ایک عورت نے عرض کیا:یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! اگر دوبچے مریں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟'آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر دو مریں تب بھی یہی ثواب ہے۔
    یہاں تک کہ کسی بھی عزیز کی وفات پہ صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    يقولُ اللهُ تعالَى : ما لعبدي المؤمنِ عندي جزاءٌ ، إذا قبضتُ صفِيَّه من أهلِ الدُّنيا ثمَّ احتسبه ، إلَّا الجنَّةَ(صحيح البخاري:6424)
    ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے اس مومن بندے کا جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھا لوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کرلے ، تواس کا بدلہ میرے یہاں جنت کے سوا اور کچھ نہیں۔

    (9) عورت ومرد کا میت کو دیکھنا :
    احادیث کی روشنی میں میت کا چہرہ دیکھنے کے چند مسائل مندرجہ ذیل ہیں۔
    ٭ میت کا چہر ہ دیکھ سکتے ہیں خواہ غسل کے بعد، کفن کے بعد ، نماز جنازہ کے بعد اور کوئی ان اوقات میں نہ دیکھ سکا ہوتو دفن سے پہلے پہلے کسی وقت دیکھ سکتا ہے ۔
    ٭ کہیں کہیں پر یہ رواج بناہواہے کہ وہی اشخاص بار بار میت کو دیکھتے ہیں جوکہ صحیح نہیں ہے ۔
    ٭ میت کا کوئی رشتہ دار دور سے آنے کی وجہ سے تکفین میں تاخیر سے شریک ہوا اس حال میں کہ میت کو قبرستان لے چلا گیا ہے اور وہ میت کا چہرہ دیکھناچاہتا ہے تو وہاں س کے لئے میت کا چہرہ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں جیساکہ امام بخاری ؒ نے کفنانے کے بعد میت کے پاس جانے پر باب باندھا ہے ۔
    ٭بعض لوگ قبر میں میت کواتارکر اس کا آخری دیدار کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے ۔
    ٭ بعض کے یہاں گھنٹوں میت کے چہرہ کو کھلاچھوڑ دیتے ہیں تاکہ آنے والے دیکھتے رہیں حالانکہ مسنون یہ ہے کہ میت کو چہرہ سمیت ڈھانپ کر رکھا جائے جیساکہ نبی ﷺ کو چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔ ہاں اگر تجہیزوتکفین میں جلدی مقصود ہو اور کچھ دیر کے لئے میت کا چہرہ کھلا چھوڑ دے تاکہ میت کو دیکھنے سے لوگ فرصت پاجائیں اور باربار چہرہ کھولنے کی حاجت نہ پڑے تو اس کی گنجائش ہے ۔
    ٭ یہاں یہ بات بھی واضح رہےکہ میت کا صرف چہرہ ہی دیکھا جائے اور بدن کے بقیہ حصے پر پردہ ہو۔
    ٭ عورت ،عورت(میت ) کا چہرہ دیکھ سکتی ہے اور مردوں میں محارم کا ، اسی طرح مرد ،مرد(میت) کا چہرہ دیکھ سکتا ہے اور عورتوں میں محرمات کا ، لیکن اجنبی میت کا چہرہ دیکھنا منع ہے ۔
    ٭ اگر کوئی بہت بوڑھی عورت ہو تو اس کا چہرہ سبھی لوگ دیکھ سکتے ہیں ۔
    ٭ جس عورت نے میت کا چہرہ نہیں دیکھا اس حال میں کہ میت کو قبرستان لے چلا گیا اس عورت کو وہاں جاکر میت کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہئے ۔

    (10) میت کو بوسہ دینا:
    جہاں میت کا چہرہ دیکھنا جائز ہے وہیں اسے بوسہ لینا بھی جائز ہے جیساکہ ابوبکررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کا بوسہ لیا اور نبی ﷺ نے عثمان رضی اللہ کا بوسہ لیاتھااور بوسہ صرف محرم کے لئے ہے ۔

    (11) وفات سے شوہر کا بیوی کے لئے محرم ہونا:
    عوام الناس میں منتشر ہے کہ شوہر کی وفات سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اس لئے میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوجاتے ہیں لہذا بیوی شوہر کو چھو نہیں سکتی، دیکھ نہیں سکتی، غسل نہیں دے سکتی ۔ یہ ساری باتیں غلط ہیں ۔ شوہر سے نکاح ٹوٹ جانے کی کوئی دلیل نہیں اور نہ ہی زوجین ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں ۔ وفات کے بعد بیوی شوہر کو دیکھ سکتی ہے ، چھو بھی سکتی ہے اور نہلا بھی سکتی ہے اور شوہر کے ترکہ میں وارث بھی ہوگی ۔

    (12) پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت:
    لاش کی بے حرمتی کرنےاور اسے چیرپھاڑ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے مگر کبھی ضرورت کے تحت بعض میت کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے جس میں اس کےجسم کوچیرا جاتا ہے ۔طبی ضرورت مثلا قتل کی وجہ پتہ لگانےیا وبائی مرض کی تحقیق کرنے کی غرض سے جسم کو چیرا جاسکتا ہے ۔ عورت کی لاش کو لیڈی ڈاکٹر چیرپھاڑ کرے ، عورت کی عدم موجودگی میں مرد بھی کرسکتا ہے ۔ تجربہ کی غرض سے مسلم لاش کا پوسٹ مارٹم جائز نہیں ہے لیکن غیر معصوم مرد (ماسوا عورت)مثلا کافر،مرتد ،حربی کی لاش پہ تجربہ کر سکتے ہیں۔

    (13) میت کا عضو نکالنا:
    انسان کے سارے اعضائے بدن قابل احترام و اکرام ہیں اور انہیں فروخت کرنا یا جسم سے کاٹ کر کسی کو عطیہ کرنا احترام کے منافی ہے البتہ میت وفات سے قبل اپنا کوئی عضو کسی محتاج کو عطیہ کرنے کی وصیت کرناچاہے تو بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے جبکہ بعض اہل علم وفات سے قبل یا بعد میں کوئی عضو کے نکالنے سے مطلقا منع کرتے ہیں۔

    (14) میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں:
    شوہر اپنی بیوی کو وفات کے بعد غسل دے سکتا ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:
    رجعَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ منَ البَقيعِ فوجَدَني وأنا أجِدُ صُداعًا في رَأسي وأنا أقولُ وا رَأساهُ فقالَ بل أنا يا عائشَةُ وا رَأساهُ ثمَّ قالَ ما ضرَّكِ لَو مِتِّ قَبلي فقُمتُ علَيكِ فغسَّلتُكِ وَكفَّنتُكِ وصلَّيتُ عليكِ ودفنتُكِ(صحيح ابن ماجه:1206)
    ترجمہ: رسول اللہ ﷺ بقیع سے آئے تو دیکھا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور میں کہہ رہی ہوں: ہائے میرا سر! نبی ﷺ نے فرمایا: بلکہ عائشہ !میں( کہتا ہوں): ہائے میرا سر! پھر فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری وفات مجھ سے پہلے ہوگئی؟ ( اس صورت میں) میں خود تمہارے لیے( کفن دفن کا) اہتمام کروں گا ، تمہیں خود غسل دوں گا ، خود کفن پہناؤں گا، خود تمہارا جنازہ پڑھوں گا اور خود دفن کروں گا۔
    اسی طرح بیوی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے جیساکہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غسل دیاتھا۔

    (15) میت کو غسل دینے کا طریقہ :
    میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ گرم پانی اور اس میں بیری کا پتہ استعمال کرنے کے لئے پہلےسے انتظام کرلیا جائے پھر میت کے جسم کا کپڑا اتارلیا جائے اور ستر ڈھانپ دئے جائیں ، مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے اسے غسل کے دوران ڈھکا رہنا چاہئے ۔
    ٭ ناخن ، بغل اور مونچھ کے بال لمبے ہوں تو اس کی صفائی کرکے اسے میت کے ساتھ کفن میں ہی رکھ دیا جائے ۔
    ٭ غسل دینے والا اب نرمی سے میت کا پیٹ دبائے تاکہ فضلات باہر نکل جائیں اور ہاتھ پہ دستانہ لگاکر اگلے اور پچھلے شرم گاہ کی تیار شدہ بیری والے پانی سے صفائی کرے ۔
    ٭اس کے بعد نماز کی طرح وضو کرائے ، دونوں ہتھیلیاں کلائی تک تین بار، منہ اور ناک صاف کرے ۔تین بار چہرہ، تین بار دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت، سر اور کان کا مسح پھر دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھوئے۔
    ٭ وضو کراکر بیری والا پانی پہلے سر اور داڑھی پر بہائے پھر دائیں اوربائیں پہلو پر بہائے ۔اس کے بعد پورے بدن پر پانی بہائے۔کم ازکم تین بار جسم پر بہائے تاکہ مکمل طہارت حاصل ہویہ افضل ہے تاہم ایک مرتبہ سر سے پیر تک پورےجسم کادھونا بھی کفایت کرجائے گا۔ ضرورت کے تحت تین سے زائد بار بھی پانی بہاسکتے ہیں ۔ آخری بار غسل دیتے ہوئے کافور بھی ملالے تاکہ بدن خوشبودار ہوجائے اور نجاست کی مہک ختم ہوجائے۔
    ٭ عورت کو عورت غسل دے گی ، ایک عورت کامکمل بدن ستر ہے مگر عورت کا عورت کے لئےناف سے گھٹنے تک ستر ہے ۔اوپر جس طرح وضو اور غسل کا طریقہ بتلایا گیا ہے ٹھیک اسی طرح عورت میتہ کو غسل دے گی اور آخر میں بالوں کی تین چوٹیاں بنا دے گی۔

    (16) سڑی گلی یا کٹی پٹی لاش کو غسل دینے کی کیفیت :
    کبھی کبھی بعض حالات میں لاش کی شکل بگڑ جاتی ہے ، اس میں تعفن پیدا ہوجاتا ہے اور سڑگل جاتی ہے ۔ اکسڈنٹ ہونے سے کبھی لاش اس طرح کٹ جاتی ہے کہ جمع کرنا مشکل ہوجاتاہے ، اسی طرح میت کی سرکاری کاروائی کے باعث زیادہ دن رکھنے پہ سڑ گل جاتی ہے ۔ یا پھر لاش انجان جگہ پہ بہت دن بعد ملی ہو تو اس میں بھی تعفن پیدا ہوجاتا ہے ۔ایسے حالات میں لاش کو غسل دینے کی دو صورتیں ہیں ۔
    پہلی صورت : اگر لاش کٹ پٹ گئی ہو تو سارے اعضاء جمع کئے جائیں گے اور انہیں غسل دیا جائے گا۔
    دوسری صورت : اور اگر لاش سڑ گل گئی ہو اور غسل دینے کا امکان نہ ہو تو تیمم کیا جائے گا ۔

    (17) میت کوغسل دینے والا غسل کرے گا؟
    میت کو غسل دینے والا غسل کرے گا یا نہیں اس میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اس پہ مدلل مضمون میرے بلاگ پرپڑھا جاسکتا ہے یہاں خلاصہ کے طور پر چند احکام مندرجہ ذیل ہیں۔
    ٭افضل عمل : غسل دینے والے کے حق میں افضل یہ ہے کہ وہ غسل کرلے تاکہ استحباب پر عمل بھی ہوجائے اور میت کو غسل دینے ، اسے باربار دیکھنے اور حرکت دینے سے ذہن میں جو فتور پیدا ہوگیا ہے وہ زائل ہوجائے اور تازہ ونشیط ہوجائے ۔
    ٭احیتاطی عمل : اگر غسل نہ کرسکے تو کم ازکم وضو کرلےگرچہ انہوں نے پہلے وضو کیا ہو۔ اگر پہلے وضو نہیں کیا تھاتو نماز جنازہ کےلئے وضو تو بہرحال کرنا ہے ۔
    ٭جس نے میت کو غسل دیا ہے اسے اپنا کپڑا اتارنے یا صاف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اسے اپنا بدن دھونا ضروری نہیں تو کپڑا بدرجہ اولی نہیں دھونا ہے ۔
    ٭جنازہ کی نماز کے لئے کئے گئے وضو سے دوسرے وقت کی نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ اس وضو اور دوسری نماز کے وضو میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
    ٭یہ قول " ومن حملَهُ فليتوضَّأ" (جو میت کو اٹھائے وہ وضو کرے ) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو جو میت کو کندھا دے وہ سب وضو کرے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو میت کو حرکت دے ، ادھر سے ادھر اٹھاکر رکھے ، ایک چارپائی سے دوسری چارپائی پر لے جائے ۔ اور اس میں مذکور وضو نماز جنازہ کے لئے وضو کرنا ہے ۔

    (18) عورت ومرد کا کفن :
    عورت کو بھی مردوں کی طرح تین چادروں میں دفن کیا جائے گا ، عورت ومرد کے کفن میں فرق کرنے کی کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ ابوداؤد میں پانچ کپڑوں سے متعلق ایک روایت ہے جسے لیلیٰ بنت قائف ثقفیہ بیان کرتی ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کی بیٹی ام کلثوم کو غسل دیا تھا۔ اس روایت کو شیخ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ ضعیف قرار دیتے ہیں اور شیخ البانی نے بھی ضعیف کہا ہے ۔ دیکھیں : (ضعيف أبي داود:3157)
    اس لئے شیخ البانی نے احکام الجنائز میں عورت ومردکے لئے یکسان کفن بتلایا ہے اور کہا کہ فرق کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ شرح ممتع میں ذکر کرتے ہیں کہ عورت کو مرد کی طرح کفن دیا جائے گا یعنی تین کپڑوں میں ، ایک کو دوسرے پر لپیٹ دیا جائے گا۔

    (19) میت کو کفن دینے کا طریقہ :
    اوپر معلوم ہوا کہ عورت ومرد کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا جائے گا۔ تین سفید لفافے ایک پر ایک رکھ دئے جائیں جو لمبائی میں میت سے بڑے ہوں ، سر کی جانب کا زائد حصہ قدم کی جانب سے زیادہ ہو۔ ان لفافوں پر حنوط (خوشبو )جھڑکے جائیں۔میت کو ان لفافوں پر چپ لٹا دیا جائے اور عطر کا گالا بناکر میت کی رانوں، سرینوں ، سر، آنکھ ، ناک ، کان، منہ، پیشانی، داڑھی، ہاتھ، پیر، گھنٹہ ، بغل اور ناف وغیرہ میں رکھ دئے جائیں ۔پھر میت سے سٹے پہلے لفافے کو لپیٹے اس طرح کہ بائیں جانب کا حصہ اٹھاکر میت کو دائیں پہلو پر کرے اور دائیں جانب کا حصہ اٹھا کر میت کو بائیں پہلو پر کرے۔ پھر دوسرا لفافہ لپٹے اور اسی طرح کا عمل کرے پھر تیسرا لفافہ لپٹے اور اسی طرح کا عمل انجام دے ۔ اس کے بعد پیر کی جانب زائد حصے کو آگے کی طرف اور سر کی جانب زائد حصے کو سینے کی طرف کردے اور سر، درمیان اور پیر کے پاس گانٹھ لگا دے ۔ قبر میں دفن کے وقت ان گانٹھوں کوکھول دیا جائے گا۔

    (20) قبر کی کیفیت:
    قبرکی دو قسمیں ہیں ،ایک لحد (بغلی والی) دوسری شق (شگاف والی) ۔بغلی والی قبر کھودنے کا طریقہ یہ ہے کہ زمین میں میت کے قد برابر مستطیل گڑھا کھودا جائے پھر قبلہ کی جانب نیچے والی دیوار میں میت کے جسم کے مطابق گڑھا کھودا جائے ۔اس میں میت کو قبلہ رخ ڈال کرگڑھا کا منہ کچی اینٹ سے بند کردیا جائے گا ۔شق(شگاف) کا طریقہ یہ ہے کہ زمین میں میت کے برابر لمبا گڑھا کھودا جائے ۔ بغلی والی قبر شگاف والی قبر سے افضل ہے ۔ تدفین کے بعدقبر زمین کے برابر یا اس سے ایک ہاتھ اوپرکوہان نما ہو۔قبروں کو ایک ہاتھ سے زیادہ اونچا کرنا،اسے چونا گاڑھا کرنا، پختہ بنانا، اس پر عمارت تعمیر کرنا ، کتبے ، درخت یا ٹہنی لگانا ، پھول مالا چڑھانا ،اگربتی یا موم بتی جلانا، یا کسی قسم کا چراغاں کرنا ، یا پھر اس پر میلہ ٹھیلہ لگانا جائز نہیں ہے ۔
    ایک قبر میں ایک ہی میت کو دفن کیا جائے بصورت ضرورت ایک سے زائد میت کو دفن کیا جاسکتا ہے ۔ دفن کے بعد ایک قبر سے دوسری قبر میں میت منتقل کرنا بھی جائز نہیں تاہم ضرورت کے تحت جائز ہے۔

    مضمون جاری۔۔۔۔۔۔ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    جنازہ کے چالیس اہم مسائل( دوسری قسط )

    مقبول احمد سلفی

    (21) جنازہ لےجا نے کے احکام:
    جب کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی تدفین میں جلدی کرنا چاہئے۔ تجہیزوتکفین کی ادائیگی کے بعد مسلمان مرد جنازہ کو تابوت میں رکھ کر قبرستان لے جائے ۔ویسے مرد کو کفن میں لپیٹنے کے بعد تابوت پر رکھ کربغیر چادر سے ڈھکے بھی قبرستان لے جا سکتے ہیں اور چادر سے ڈھک کر لے جانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے البتہ عورت کے حق میں بہتر ہے کہ تابوت پر پردہ ڈال کر لے جایا جائے کیونکہ وہ ستر کی چیز ہے ۔
    جنازہ عورت کا ہو تو اسے اجنبی مرد بھی کندھا دے سکتا ہے البتہ عورت جنازہ کو کندھا نہیں دے گی اور نہ ہی جنازہ کے پیچھے چلے گی۔
    عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا(صحیح البخاری: 1278)
    ترجمہ: ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔
    مرد حضرات خواہ پیدل ہوں یا سوار بہتر ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے چلیں کیونکہ جنازہ کی اتباع یعنی پیچھے چلنے کا حکم ہے ، بخاری کے الفاظ ہیں ۔ إِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ(صحیح البخاری: 5651)
    ترجمہ: جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے (جنازے میں) جاؤ۔
    تاہم پیدل کے لئے جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    الرَّاكِبُ يسيرُ خلفَ الجَنازةِ ، والماشي يَمشي خلفَها ، وأمامَها ، وعن يمينِها ، وعن يسارِها قريبًا مِنها (صحيح أبي داود:3180)
    ترجمہ: سوار آدمی جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل لوگ اس کے پیچھے ، آگے ، دائیں اور بائیں اس کے قریب قریب چلیں۔
    جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے خاموشی اختیار کی جائے ، بعض لوگ کلمہ شہادت اور بلند آواز سے ذکر کرتے ہیں جوکہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔ صحابہ کرام جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
    كان أصحابُ النَّبيِّ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ يكرهونَ رفعَ الصَّوتِ عند الجنائزِ .(أحكام الجنائزللالبانی : 92)
    ترجمہ: نبی ﷺ کے اصحاب جنازہ کے پیچھے آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔
    ٭ شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : لا تُتبَعُ الجَنازةُ بصَوتٍ ولا نارٍ(سنن أبي داود:3171)
    ترجمہ: جنازے کے پیچھے آواز اور آگ کے ساتھ نہ آ۔
    شیخ البانی نے کہا کہ اس کی سند میں غیر معروف ہے مگر مرفوع شواہد اور بعض موقوف آثارسے اسے تقویت ملتی ہے ۔ (احکام الجنائز:91)
    اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنازہ کے پیچھے جس طرح آواز لگانا منع ہے اسی طرح آگ لے کر جانا منع ہے کیونکہ اس میں اہل کتاب کی مشابہت ہے ۔ گوکہ جنازہ کے پیچھے سگریٹ پینا اس قبیل سے نہیں ہے مگر نشہ آور چیزیں ہمیشہ منع ہیں ، جنازہ کے پیچھے سگریٹ پینا آخرت سے ہماری غفلت پہ غماز ہے جو ایک مسلمان کو کسی طور زیب نہیں دیتا۔ جنازہ سے تو ہمیں فکر آخرت پیدا کرنا چاہئے ۔
    اسی طرح جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا مستحب ہے اور جب جنازہ قبرستان میں رکھ دیا جائے تو بیٹھا جائے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    إذا رأيتمُ الجنازةَ فقوموا ، فمن تَبِعَهَا فلا يقعدْ حتى تُوضعَ .(صحيح البخاري:1310)
    ترجمہ: جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
    اس حدیث میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا واجبی حکم ہے جبکہ دوسری حدیث میں کھڑے ہونے کی ممانعت بھی آئی ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : اجلِسوا خالِفوهم(صحيح أبي داود:3176)
    ترجمہ: جنازہ دیکھ کربیٹھے رہو اور یہود کی مخالفت کرو ۔
    دونوں احادیث کو سامنے رکھنے سے استحباب کا حکم نکلتا ہے ۔

    (22) نماز جنازہ سے قبل نصیحت:
    موت انسانوں کے لئے بہترین موعظت ہے بشرطیکہ ایمان والا ہواور قبروں کی زیارت کا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا ہے تاکہ آخرت یاد آئے ۔ مومن بندے کی نصیحت کے لئے کسی کا جنازہ اٹھنا ہی کافی ہے اور قبرستان جانا آخرت یاد دلانے کے لئے کافی وافی ہے ، الگ سے موعظت کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بسااوقات نمازجنازہ میں لوگوں کا انتظار ہوتا ہے اور پہلے سے موجود لوگ آنے والوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع سے امام صاحب لوگوں کو کچھ نصیحت کردے تو کوئی حرج نہیں ہے اور یہ نصیحت کا بہترین موقع بھی ہے ، یہاں اذہان وقلوب بھی نصیحت قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ نبی ﷺ سے نماز جنازہ سے قبل لوگوں کو وعظ کرنا ثابت نہیں ہے البتہ عمومی طور پرجنازہ کے وقت تذکیروبیان ملتا ہے جیساکہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
    مَرُّوا بجَنازةٍ فأثنَوا عليها خيرًا، فقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم : وَجَبَتْ . ثم مَرُّوا بأخرَى فأثنَوا عليها شرًّا، فقال : وَجَبَتْ فقال عُمَرُ بنُ الخطابِ رضي الله عنه : ما وَجَبَتْ ؟ قال : هذا أثنَيتُم عليه خيرًا، فوَجَبَتْ له الجنةُ، وهذا أثنَيتُم عليه شرًّا، فوَجَبَتْ له النارُ، أنتم شُهَداءُ اللهِ في الأرضِ .(صحيح البخاري:1367)
    ترجمہ: صحابہ کا گزر ایک جنازہ پر ہوا ‘ لوگ اس کی تعریف کرنے لگے ( کہ کیا اچھا آدمی تھا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
    اس لئے نمازجنازہ سے قبل خطبہ دینا یا وعظ ونصیحت کو لازم پکڑنا جائز نہیں ہے ۔ جنازہ کا تقاضہ ہے کہ بلاتاخیر نمازجنازہ پڑھ کر جلدسے جلد میت کو دفن کردیا جائے ۔ بسااوقات کچھ انتظار ہوتو بغیر خطبے کی شکل کے چند ناصحانہ کلمات کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔
    سمعت جرير بن عبد الله يقول يوم مات المغيرة بن شعبة ، قام فحمد الله وأثنى عليه ، وقال : عليكم بإتقاء الله وحده لا شريك له ، والوقار ، والسكينة ، حتى يأتيكم أمير ، فإنما يأتيكم الآن . ثم قال : استعفوا لأميركم ، فإنه كان يحب العفو . ثم قال : أما بعد فإني أتيت النبي صلى الله عليه وسلم قلت : أبايعك على الإسلام ، فشرط علي : والنصح لكل مسلم . فبايعته على هذا ، ورب هذا المسجد إني لناصح لكم . ثم استغفر ونزل .(صحيح البخاري:58)
    ترجمہ: زیاد بن علاقہ نے کہا میں نے جریر بن عبداللہ سے سنا جس دن مغیرہ بن شعبہ ( حاکم کوفہ ) کا انتقال ہوا تو وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اور خوبی بیان کی اور کہا تم کو اکیلے اللہ کا ڈر رکھنا چاہیے اس کا کوئی شریک نہیں اور تحمل اور اطمینان سے رہنا چاہیے اس وقت تک کہ کوئی دوسرا حاکم تمہارے اوپر آئے اور وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ اپنے مرنے والے حاکم کے لیے دعائے مغفرت کرو کیونکہ وہ ( مغیرہ ) بھی معافی کو پسند کرتا تھا پھر کہا کہ اس کے بعد تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اسلام پر بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کے لیے شرط کی، پس میں نے اس شرط پر آپ سے بیعت کر لی ( پس ) اس مسجد کے رب کی قسم کہ میں تمہارا خیرخواہ ہوں پھر استغفار کیا اور منبر سے اتر آئے۔
    بظاہر اس اثر میں خطبے کی شکل ہے مگر یہ ہمیشگی والا عمل نہیں جس سے دلیل پکڑتے ہوئے ہمیشہ ایسا کرنا چاہئے ، نہ بطور خاص نمازجنازہ کے وقت ہے اورنہ ہی اس طرح کا عمل نبی ﷺ سے ثابت ہے ۔ نبی ﷺ کی وفات پر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کا خطبہ دینا بھی ثابت ہے اس سے بھی عدم دوام پرہی دلیل لی جائے گی جس کا نمازجنازہ کے وقت ہمیشہ وعظ کرنے سے کوئی تعلق نہیں ۔ نیز وہاں ایک خاص پس منظر تھا ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی وفات کا انکار کررہے تھے اس وجہ سے ابوبکررضی اللہ عنہ کو یہ مسئلہ واضح کرنا پڑا ۔
    آج کل بعض مقامات پر دفن کے بعدقبرستان میں خطیب کی طرح لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے اور اسے جنازے کا حصہ سمجھا جاتا ہے جوکہ واضح بدعت کی شکل ہے ، ایسا کرنا رسول اللہ کی سنت سے ثابت نہیں ہے ۔ کبھی کبھار قبرکے پاس بیٹھے نبی ﷺ سے صحابہ کے ساتھ تذکیر کا ثبوت ملتا ہے ۔ چند حضرات قبرستان میں اتفاقیہ بیٹھے ہوں اور آپس میں تذکیر کرے تو کوئی حرج نہیں مگر لوگوں میں ایک واعظ ہو جو بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر سب کو وعظ کرے سنت کی مخالفت ہے ۔ دفن کے وقت جلدی سے تدفین کا کام مکمل کرنا چاہئے اور انفرادی طور پر میت کے لئے استغفار اور ثبات قدمی کی دعاکرنی چاہئے ۔

    (23)نماز جنازہ اور صف بندی کے احکام :
    ٭نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ، گاؤں کے چند لوگ جنازے میں شریک ہوگئے تو سبھی سے فریضہ ساقط ہوگیا اور اگر کوئی جنازہ نہ پڑھے تو پوری بستی والے گنہگار ہوں گے ۔
    ٭میت کے لئے تین صفیں بنانا مستحب ہے لیکن اسے ضروری خیال نہ کیا جائے کیونکہ اس سلسلے میں آثار ملتے ہیں مگر مرفوع روایات ضعیف ہیں ۔ کسی کے جنازہ میں سو آدمی شریک ہو اور وہ میت کے حق میں سفارش کریں تو قبول ہوتی ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ما من ميِّتٍ تُصلِّي عليه أمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائةً . كلُّهم يشفعون له . إلَّا شُفِّعوا فيه(صحيح مسلم:947)
    ترجمہ: کو ئی بھی (مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے ۔
    نبی ﷺ کا ایک دوسرا فرمان ہے :
    ما من رجلٍ مسلمٍ يموتُ فيقوم على جنازتِه أربعون رجلًا ، لا يشركون بالله شيئًا إلا شفَّعهم اللهُ فيه(صحيح مسلم:948)
    ترجمہ: جس مسلمان کے جنازے میں چالیس آدمی ایسے ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ضرور ان کی شفاعت قبول کرتا ہے۔
    حتی کہ اگر کسی میت کی خیروبھلائی پر دو شخص بھی گواہی دے تو وہ اللہ کی رحمت سے جنت کا مستحق ہوگا ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    أيُّما مسلمٍ، شَهِدَ له أربعةٌ بخيرٍ، أدخَله اللهُ الجنةَ . فقُلْنا : وثلاثةٌ، قال : وثلاثةٌ . فقُلْنا : واثنانِ، قال : واثنانِ . ثم لم نسألْه عن الواحدِ .(صحيح البخاري:1368)
    ترجمہ: جس مسلمان کی اچھائی پر چار شخص گواہی دے دیں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ہم نے کہا اور اگر تین گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ تین پر بھی‘ پھر ہم نے پوچھا اور اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ دو پر بھی۔ پھر ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایک مسلمان گواہی دے تو کیا؟

    ٭صفوں کا طاق ہونا ضروری نہیں جفت بھی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

    ٭ میت مرد ہو تو امام سر کے پاس اور عورت ہو تو درمیان میں کھڑا ہو۔

    ٭ اگر میت میں کئی مردوعورت اور بچے ہوں تو عورتوں کو قبلہ کی طرف پھر بچوں کو،اس کے بعد مردوں کو امام کی جانب رکھا جائے ۔

    ٭ اگر عورتیں نماز جنازہ میں شامل ہوں تو ان کی صف مردوں کے پیچھے ہوگی ۔

    ٭ باشعوربچے بڑوں کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں جیساکہ ابن عباس رضی اللہ عنہاجب بچے تھے تو نبی ﷺکے ساتھ بڑوں کی صف میں نماز جنازہ پڑھی اور بچے باشعور نہ ہوں تو انہیں پچھلی صفوں میں رکھا جائے ۔

    ٭ نماز جنازہ مسجد میں بھی ادا کرسکتے ہیں جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے بیضا کے دو بیٹے سہل اور سہیل کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔ (مسلم :973)

    ٭ عموما شہروں میں قبرستان کی بونڈری سے باہر نماز جنازہ کےلئےایک مسجد بنی ہوتی ہے اس میں نماز جنازہ یا دیگر نماز اداکرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ قبرستان میں داخل نہیں ہے تاہم قبرستان کے اندر مسجد بنانا اور اس میں پنچ وقتہ نمازیں ادا کرنا جائز نہیں ہے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    الأرضُ كلَّها مسجدٌ إلَّا المقبرةَ والحمَّامَ(صحيح الترمذي:317)
    ترجمہ: پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اورطہارت وپاکیزہ گی کاذریعہ بنائی گئی ہے سوائے قبرستان اور حمام کے ۔
    حتی کے نماز جنازہ بھی قبرستان میں اور قبروں کے درمیان ادا کرنا منع ہے اس کی وجہ شرک کاسد باب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    نَهَى أنْ يُصَلَّى على الجنائِزِ بينَ القبورِ( صحيح الجامع:6834)
    ترجمہ : نبی نے منع کیا کہ جنازہ کی نماز قبروں کے درمیان پڑھی جائے ۔
    ہاں تدفین کے بعدوہ شخص نماز جنازہ اس میت کی قبر پر ادا کرسکتا ہے جس میت کا جنازہ نہیں پڑھ سکا ۔

    (24) نماز جنازہ کا طریقہ :
    نماز جنازہ کے لئے وضو ، استقبال قبلہ اور نیت شرائط میں سے ہے ۔ صفوں کی ترتیب کے بعد امام صاحب یا جنہیں نماز جنازہ کے لئے میت نے وصیت کی ہو وہ نماز پڑھائے ۔ نماز جنازہ میں نو تکبیرات تک کا ثبوت ملتا ہے مگر چار تکبیرات نبی ﷺ کا آخری عمل ہے اور اس پہ صحابہ کرام کا اجماع ہے اس لئے جنازہ میں چار تکبیرات ہی کہی جائیں گی اس پہ مفصل بحث آگے آرہی ہے۔
    پہلی تکبیر: اعوذ باللہ ، بسم اللہ اور سورہ فاتحہ پڑھیں ۔ سورہ فاتحہ سے قبل دعائے استفتاح اور اس کے بعد کوئی سورت پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہےتاہم سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے ۔
    دوسری تکبیر: نماز میں پڑھا جانے والا درودابراہیمی پڑھیں ۔
    تیسری تکبیر: جنازے کی دعا پڑھیں ۔
    جنازہ کی کئی دعائیں ہیں ،ان میں سے کوئی پڑھ لینا کافی ہے ۔ ایک دعا یہ ہے : اللَّهمَّ اغْفِرْ لحيِّنا وميِّتِنا وشاهدنا وغائِبنا وصَغيرنا وَكبيرنا وذَكرِنا وأُنثانا اللَّهمَّ مَنْ أحييتَه مِنَّا فأحيِه علَى الإسلامِ ومن تَوَفَّيتَه مِنَّا فتَوفَّهُ علَى الإيمانِ اللَّهمَّ لا تحرمنا أجرَه ولا تُضلَّنا بعدَه(صحيح ابن ماجه:1226)
    چوتھی تکبیر: آخری تکبیر پر سلام پھیر دیں ،نماز جنازہ میں ایک سلام کا ذکر ملتا ہے اس وجہ سے اصل نماز جنازہ میں ایک سلام ہی ہے تاہم عام نمازوں میں دو سلام کی دلیل سے نماز جنازہ میں بھی دو سلام پھیرا جاسکتا ہے لہذا ایک سلام اور دو سلام دونوں عمل جائز ہیں۔
    ٭ ہر تکبیر پر رفع یدین کرنا چاہئے ۔
    ٭ نماز جنازہ سرا اور جہرا دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے ۔

    (25)نماز جنازہ عورت بھی ادا کرسکتی ہے :
    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عورت نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتی اور اس خیال سے متعلق ثبوت کے طور پر ایک روایت بیان کی جاتی ہے وہ اس طرح ہے :لَيْسَ للنِّسَاءِ في الجنازَةِ نصيبٌ(مجمع الزوائد:16/3)
    ترجمہ: عورتوں کے لئے جنازہ میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔
    اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ ضعیف ہے ۔ شیخ البانی نے اسے بہت ہی ضعیف کہا ہے ۔(ضعيف الترغيب:2069)
    حقیقت یہ ہے کہ عورتیں بھی میت کا جنازہ پڑھ سکتی ہیں ۔ حضرت ابوسلمی بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ جب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ادخُلوا به المسجدِ حتى أصليَ عليه(صحيح مسلم:973)
    ترجمہ: سعد کا جنازہ مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔
    عورتوں کی افضل نماز تو گھر میں ہی ہے ، اس لحاظ سے عورتیں میت کے غسل اور کفن کے بعد جمع ہوکر جماعت سے میت کی نماز جنازہ گھر ہی میں پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں اور وہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے جیساکہ اوپر والی حدیث عائشہ گزری جس سے مسجد میں عورت کا نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہوتا ہے۔
    اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عورتوں کے لئے جائز ہے کہ گھر کی ساری عورتیں جمع ہوکر گھر ہی میں میت کی نماز جنازہ پڑھ لے؟
    توشیخ رحمہ اللہ نے جواب کہ کوئی حرج نہیں عورتیں نماز جنازہ مردوں کے ساتھ مسجد میں ادا کرے یا جنازہ والے گھر میں ادا کرلے کیونکہ عورتوں کو نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ ("مجموع فتاوى" ابن عثيمين:17/157)

    (26)تکبیرات جنازہ اور صحابہ کرام:
    نماز جنازہ میں چار سے زائد تکبیرات کابھی ثبوت ملتا ہے ، تین تکبیر سے لیکر نو تکبیرات کا ذکر ہے تاہم صحیحین میں پانچ تک کا ذکر ہے ۔
    حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں:
    كان زيدٌ يُكبِّرُ على جنائزِنا أربعًا . وإنه كبَّر على جنازةٍ خمسًا . فسألتُه فقال : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُكبِّرُها .(صحيح مسلم:957)
    ترجمہ: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے جنازوں (کی نماز) میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ ایک جنازہ پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے پوچھا کہ " آپ تو ہمیشہ چار تکبیریں کہا کرتے تھے آج پانچ تکبیریں کیوں کہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔
    یہ حدیث متعدد کتب احادیث میں مروی ہے مثلا ابوداؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ، بیہقی ، مسند طیالسی اور مسند احمد وغیرہ ۔
    امام نووی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے تحت لکھا ہے :
    دل الإجماع على نسخ هذا الحديث لأن ابن عبد البر وغيره نقلوا الإجماع على أنه لا يكبر اليوم إلا أربعا ، وهذا دليل على أنهم أجمعوا بعد زيد بن أرقم ، والأصح أن الإجماع يصح من الخلاف (شرح مسلم)
    ترجمہ: اجما ع اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس لئے کہ ابن عبدالبر وغیرہ نے اس بات پہ اجماع نقل کیا ہے کہ اس وقت صرف چار تکبیرات کہی جائے گی ، یہ اس بات پہ دلیل ہے کہ زید بن ارقم کے بعد اس پہ اجماع کرلیا گیا اور صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف سے اجماع صحیح ہوتا ہے ۔
    گویا امام نووی رحمہ اللہ کے نزدیک پانچ والی روایت منسوخ ہے اور جنازہ کی چار تکبیرات پہ اجماع ہے ۔ جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ چار تکبیرات ہی مشروع ہیں ، ان کی چار وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ اکثر صحابہ سے مروی ہے ، ان کی تعداد پانچ تکبیرات بیان کرنے والے صحابہ سے زیادہ ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ صحیحین کی روایت ہے ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ چار تکبیرات پہ اجماع واقع ہوا ہے ۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کا آخری عمل یہی ہے جیساکہ امام حاکم نے مستدرک میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان لفظوں کے ساتھ روایت ذکر کیا ہے(آخر ما كبر رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجنائز أربع ) کہ نبی ﷺ نے جنازہ پہ سب سے آخری مرتبہ چار تکبیرات کہیں۔ (نیل الاوطار ، باب عددتکبیر صلاۃ الجنائز)
    صاحب عون المعبود کا رحجان چار تکبرات کی طرف لگتا ہے چنانچہ انہوں نے علی بن جعد کے حوالے سے صحابہ کے کچھ آثار پیش کئے جن سے چار تکبیرات پہ اجماع کا علم ہوتا ہے جیسے کہ بیہقی میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا صحابہ کبھی چار تو کبھی پانچ پر عمل کرتے تو ہم نے چار پہ جمع کردیا۔ بیہقی میں ابووائل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی ہے کہ صحابہ نبی ﷺ کے زمانہ میں چار، پانچ ، چھ اور سات تکبیرات کہا کرتے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کرکے اس اختلاف کی خبر دی اور انہیں چار تکبیرات پہ جمع کردیا۔ابراہیم نخعی کے طریق سے یہ روایت بھی ہے کہ صحابہ کرام ابومسعود رضی اللہ عنہ کے گھر جمع ہوئے اور جنازہ کی چار تکبیرات پہ اجماع کرلیا۔ (عون المعبود ، باب التکبیر علی الجنازۃ)
    امام ترمذی نجاشی والی روایت جس میں چار تکبیر کا ذکر ہے اسے بیان کرکے لکھتے ہیں کہ اسی حدیث پر نبی ﷺ کے اکثر اصحاب کا عمل ہے اور دیگر اہل علم کا بھی کہ جنازہ کی تکبیرات چار ہیں ۔ یہ قول سفیان ثوری، مالک بن انس، ابن المبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق وغیرھم کا ہے ۔ (سنن الترمذی، باب ماجاء فی التکبیر علی الجنازۃ)
    شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی میت فضل کے اعتبار سے بڑا ہو تو کیا ان کے جنازہ میں تکبیر ات زائد کہی جاسکتی ہیں ؟ تو شیخ نے جواب دیا کہ افضل یہی ہے کہ چار پہ اکتفا کرے جیساکہ اس وقت عمل کیا جاتا ہے اس لئے کہ یہ نبی ﷺ کا آخری عمل ہے ، نجاشی کی بڑی فضیلت ہے پھر بھی نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ میں چار تکبیرات پہ ہی اکتفا کیا ۔ (مجموع فتاوى و رسائل بن باز – تیرہویں جلد)
    خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نماز جنازہ میں چار تکبیرات نبی ﷺ کا آخری عمل ہے اور اس پہ صحابہ کرام کا اجماع ہے اس لئے جنازہ میں چار تکبیرات ہی کہی جائیں گی ۔

    (27) کئی جنازے کی ایک ساتھ نماز :
    ایک ساتھ متعدد جنازے کے سوال پر شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ سب جنازے کو جمع کیا جائے اور ان پر ایک بار نماز ادا کی جائے کیونکہ نبی ﷺ نے جنازہ کے متعلق جلدی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ احکام الجنائز میں کہتے ہیں کہ جب عورت ومرد کے کئی جنازے جمع ہوجائیں تو ان سب پر ایک مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جائے ، دلیل میں ابن عمر کا اثر پیش کرتے ہیں جس میں ایک ساتھ نو میت کا جنازہ پڑھنے کا ذکرہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اکیلے اکیلے بھی جنازہ پڑھنا جائز ہے اور یہی اصل ہے ، نبی ﷺنے شہداء احد پر ایسا ہی کیا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ میت کے حق میں بہتر یہ ہے کہ ایک ساتھ سب کا جنازہ پڑھا دیا جائے لیکن اگر سب کا الگ الگ جنازہ پڑھا یا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔
    جب ایک مرتبہ میں ایک سے زائد میت کی نماز جنازہ ہوجاتی ہے تو مصلی کو جنازہ کے عدد کے حساب سے ثواب ملے گا یعنی ہرجنازہ کی نماز کے بدلے ایک قیراط ثواب ۔ اللہ کا فضل زیادہ وسیع ہے۔

    (28) :نماز جنازہ کی بعض تکبیر کی قضا کا طریقہ:
    نماز جنازہ کی چاروں تکبیریں رکن اور بحیثیت رکعت کے ہیں ،ان کی ادائیگی کے بغیر نہ تو امام کی نماز درست ہے ، نہ ہی مقتدی کی ۔
    اگر امام بھول کر تین تکبیر پہ سلام پھیردے تو یاد دلائی جائے تاکہ چوتھی کہے ۔ ورنہ نماز نہیں ہوگی ۔ اگر تین ہی سلام پھیردیا اور تنبیہ کرنے پر بھی چوتھی تکبیر نہیں کہی تو مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ خود سے چوتھی تکبیر کہہ کر اپنی نماز جنازہ مکمل کرے ۔
    اگر مقتدی دو تکبیریں ختم ہونے کے بعد نماز جنازہ میں شامل ہوتو وہ اپنی پہلی تکبیر میں فاتحہ پڑھے ، دوسری تکبیر میں درود ۔اور جب امام سلام پھیردے تو وہ تیسری تکبیر خود سے کہے اس میں میت کی دعا پڑھے اور خود سے ہی چوتھی تکبیر کہہ کر سلام پھیردے ۔
    شیخ ابن بازرحمہ اللہ جس سے جنازہ کی بعض تکبیر چھوٹ گئی اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ جس سے جنازہ کی بعض تکبیر یں چھوٹ گئیں وہ ان کی قضا کرے نبی ﷺ کے قول کے عموم کی وجہ سے ۔
    إذا أقيمت الصلاة فامشوا إليها وعليكم السكينة والوقار ، فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فاقضوا(جب نماز کھڑی ہوجائے تو اس کی طرف چل پڑو اور سکینت ووقار لازم پکڑو، جو مل گئی اسے پڑھو اور جوچھوٹ گئی اس کی قضا کرو)
    قضا کا طریقہ یہ ہے: جو مل گئی ہے اسے اول نماز سمجھے اور چھوٹ گئی ہے (جس کی قضا کرنی ہے)اسے آخر نماز سمجھے۔ نبی ﷺ کے فرمان کی وجہ سے: فما أدركتم فصلوا ، وما فاتكم فأتموا(جو مل گئی اسے پڑھو اور چھوٹ گئی اس کی قضا کرو)۔
    اگر مقتدی امام کو تیسری تکبیر میں پائے تو وہ تکبیر کہہ کر فاتحہ پڑھے اور جب امام چوتھی تکبیر کہے تو وہ اس کے پیچھے تکبیر کہے اور نبی ﷺ پر درود پڑھے۔ اور جب امام سلام پھیردے تو وہ (سلام نہ پھیرکر) خود سے تکبیر کہے تو اور میت کے لئے مختصر دعا کرے اور پھر چوتھی تکبیر کہے اور سلام پھیردے ۔ (مجموع الفتاوى :13/149)

    (29)نماز جنازہ غائبانہ کا حکم :
    جس طرح جنازہ سامنے رکھ کر اس کی نماز پڑھنا یا دفن کے بعد قبر پر اس کے لئے نماز جنازہ پڑھنا ثابت ہے اسی طرح یہ مسئلہ بھی ثابت ہے کہ جنازہ کسی شہر میں ہو اور اس کے متعارفین دوسرے شہر میں ہوں وہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کرسکتے ہیں ۔
    صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    قد تُوُفِّيَ اليومَ رجلٌ صالحٌ من الحبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عليه . قال : فصَفَفْنا، فصلَّى النبي صلَّى اللهُ عليه وسلَّم عليه ونحن صُفوفٌ(صحيح البخاري:1320)
    ترجمہ: آج حبش کے ایک مرد صالح ( نجاشی حبش کے بادشاہ ) کا انتقال ہوگیا ہے۔ آؤ ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم صف باندھے کھڑے تھے۔
    اس روایت کوبعض علماء نے نجاشی کے ساتھ خاص مانا ہے جبکہ اسے خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے لہذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نجاشی کی میت بطور معجزہ نبی کے سامنے کردی گئی تھی اس لئے وہ جنازہ غائبانہ نہیں تھا بلکہ حاضرانہ تھا۔ یہ قول مرجوح ہے اس کی طرف التفاف نہیں کیا جائے گا اور جنہوں نے نمازجنازہ غائبانہ کو بدعت یا ناجائز کہا وہ بھی خطا پر ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز جنازہ غائبانہ مشروع و مطلق طور پر عام ہے کیونکہ نبی ﷺ نے خود غائبانہ نمازجنازہ پڑھی اورصحابہ کو پڑھنے کا حکم جوکہ آپ ﷺ کے الفاظ " فصلوا علیہ" (تم سب ان کی نماز کی نماز جنازہ پڑھو) سے صراحت کے ساتھ بالجزم ظاہروباہر ہے۔ نیز کسی صحابی سے غائبانہ نماز جنازہ پر نکیر منقول نہیں ہے ۔
    رئیس الاحرار مولانا محمد رئیس ندوی حفظہ اللہ اپنی کتاب نماز جنازہ اور اس کے مسائل میں واقعہ نجاشی پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
    اس سے صاف طاہر ہے کہ مسلمان میت کی نماز جنازہ علی الاطلاق اور علی العموم مشروع ہے اس کی لاش کا نمازیوں کے سامنے موجود وحاضر ہوناضروری نہیں۔ نجاشی پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھنے کا حکم دیتے وقت رسول اللہ ﷺ نے "صلواعلی اخیکم النجاشی" کے واضح الفاظ کے ذریعہ صراحت کردی تھی کہ جس نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کا حکم میں تمہیں دے رہاہوں وہ تمہارے یعنی مومنوں کے بھائی ہیں ۔ظاہر ہے کہ آپ نے یہ بات اسلام کے اس اصول کے تحت فرمائی تھی کہ انماالمومنون اخوۃ(الحجرات:1) سارے کے سارے اہل ایمان باہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ اس سے یہ بات واضح ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کے لئے میت کا مومن ہونا تو شرط ہے اس کی لاش کا نمازیوں کے سامنے حاضروموجود ہونا شرط نہیں ۔ انتہی

    (30) جنازہ کے مکروہ اوقات :
    تین اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا اور میت کو دفن کرنا منع ہے ۔ عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    ثلاثُ ساعاتٍ كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ينهانا أن نُصلِّيَ فيهنَّ . أو أن نَقبرَ فيهن موتانا : حين تطلعُ الشمسُ بازغةً حتى ترتفعَ . وحين يقومُ قائمُ الظهيرةِ حتى تميلَ الشمسُ . وحين تَضيَّفُ الشمسُ للغروبِ حتى تغربَ .(صحيح مسلم:831)
    ترجمہ: تین اوقات ایسے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺہمیں نمازپڑھنے سے یا اپنے مردوں کودفنانے سے منع فرماتے تھے,جس وقت سورج نکل رہا ہویہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے،جس وقت ٹھیک دوپہرہورہی ہویہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اورجس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔
    اس حدیث میں صلاۃ کا لفظ بھی وارد ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح میت کو ان تین وقتوں میں دفن کرنا منع ہے اسی طرح میت پر نماز جنازہ پڑھنا بھی منع ہے۔ اس طرح فجر کے بعد ، ظہر کے بعداورعصرکے بعد میت پر نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں اور دفن بھی کرسکتے ہیں ۔
    ایک اشکال اور اس کا حل :
    ایک حدیث میں ہے کہ جب جنازہ آجائے تو تاخیر نہ کی جائے ،اس سے بعض علماء نے یہ دلیل پکڑی ہے کہ ہم میت کو کبھی بھی دفن کرسکتے ہیں یہاں تک کہ مکروہ اوقات میں بھی ۔ پہلے وہ حدیث دیکھیں :
    علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
    أنَّ النبيَّ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم - قال له : يا عَلِيُّ ! ثلاثٌ لا تؤخِّرْها : الصلاةُ إذا أَتَتْ ، والجَنازةُ إذا حَضَرَتْ ، والأَيِّمُ إذا وَجَدْتَ لها كُفْؤًا (مشکوۃ , ترمذی، بیہقی)
    ترجمہ: نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا:' علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نمازکو جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ کوجب آجائے، اور بیوہ عورت (کے نکاح کو) جب تمہیں اس کا کوئی کفو (ہمسر)مل جائے۔
    اس حدیث کو شیخ البانی ؒ نے ضعیف کہا ہے مگر اس کا معنی صحیح ہے ۔ (تخریج مشکوۃ المصابیح : 577)
    اس حدیث کی روشنی میں چند باتیں ملحوظ رہے۔
    اولا : تین اوقات میں دفن کی ممانعت واجبی نہیں ہے بلکہ کراہت کے درجے میں ہے کیونکہ وجوب کا قرینہ نہیں پایا جاتا۔
    ثانیا: اگر وقت تنگ ہو اور میت کو دفن کرنےکی ضرورت ہو تومکروہ اوقات میں دفن کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
    ثالثا: جان بوجھ کر مکروہ اوقات میں دفن کرنا منع ہے ہاں تجہیز و تکفین میں تاخیر ہوگئی اور اب مزید تاخیر صحیح نہیں تو پھر ممنوع وقت میں دفن کرسکتے ہیں ۔
    رابعا: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ میت ہونے کے بعد اس کی تدفین میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ جلدی سے دفن کردینا چاہئے ۔ دوسری حدیث سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے ۔
    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    أَسْرِعُواْ بالجنازةِ ، فإن تَكُ صالحةً فخيرٌ تُقَدِّمُونَهَا ، وإن يَكُ سِوَى ذلكَ ، فشَرٌّ تضعونَهُ عن رقابكم .(صحيح البخاري:1315)
    ترجمہ: جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔
    رات میں دفن کرنے کا حکم :
    ایک حدیث میں رات میں دفن کرنے کی ممانعت وارد ہے ۔ وہ روایت مندرجہ ذیل ہے ۔
    مسلم شریف میں ہے :
    فزجر النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أن يُقبرَ الرجلُ بالليلِ حتى يصلى عليهِ . إلا أن يضطرَ إنسانٌ إلى ذلك . وقال النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ " إذا كفَّنَ أحدكم أخاهُ فليُحْسِنْ كفنَه " .(صحيح مسلم:943)
    ترجمہ: پس نبی ﷺ نے ڈانٹا کہ آدمی کو رات میں دفن کیا جائےالا یہ کہ انسان اس کے لئے مجبور ہوجائے ہاں اگر نماز جنازہ پڑھ لی گئی ہو تو چنداں حرج نہیں ہے۔ نیز نبی ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے بھائی کو کفن دو تو اچھے طریقے سے کفناؤ۔
    یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر رات میں نماز جنازہ یا کفن و دفن میں دقت ہو یعنی صحیح سے میت کی تجہیزوتدفین نہ ہونے کا خطرہ ہو تو رات میں دفن نہ کیا جائے لیکن اگر رات میں دفنانے کی سہولت ہو تو رات میں بھی دفن کرسکتے ہیں ۔ اس کی دلیل ملتی ہے۔
    ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :
    مات إنسانٌ ، كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يعودُهُ ، فمات بالليلِ ، فدفنوهُ ليلًا ، فلمَّا أصبحَ أخبروهُ ، فقال : ما منعكم أن تُعَلِّمُوني . قالوا : كان الليلُ فكرهنا ، وكانت ظلمةٌ ، أن نَشُقَّ عليك ، فأتى قبرَهُ فصلَّى عليهِ .(صحيح البخاري:1247)
    ترجمہ: ایک شخص کی وفات ہوگئی, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے, چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے رات ہی میں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا اور جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ جنازہ تیار ہوتے وقت ) مجھے بتانے میں ( کیا ) رکاوٹ تھی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور اندھیرا بھی تھا۔ اس لیے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں آپ کو تکلیف ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔
    اور بہت سے صحابہ وصحابیات کو رات رات میں دفن کیا گیا ہے ۔ ابوبکررضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا رات میں ہی دفن کئے گئے ۔

    جاری رہے گا۔۔۔۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    جنازہ کے چالیس اہم مسائل(تیسری قسط)

    ✒مقبول احمد سلفی

    (31) تدفین کے آداب ومسائل:
    ٭ہرمسلمان کی لاش کو دفن کیا جائے گا حتی کہ کافر کی بھی لاش ملے تو اسے دفن کرنا چاہئے مگر کافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے ۔
    ٭ میت کو قبر میں مرد ہی اتارے گا عورت نہیں ، ہاں عورت کی لاش ہو تو بہتر ہے اسےقبر میں اس کا محرم اتارے اور محرم نہیں تو معمر آدمی اتارے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    شَهِدْنَا بِنْتًا لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ ، قال : ورسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ جالسٌ على القبرِ ، قال : فرأيتُ عيناهُ تدمعانِ ، قال : فقال : هل منكم رجلٌ لم يُقَارِفِ الليلةَ . فقال أبو طلحةَ : أنا ، قال : فانْزِلْ . قال : فنزَلَ في قَبْرِهَا .( صحيح البخاري:1285)
    ترجمہ: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ آپ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔
    ٭ قبر میں اتارنے کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو پیر کی جانب سے اتارے اور اتارتے وقت کہے " بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم"۔
    ٭ قبرمیں اتارکر میت کو دائیں پہلو پر لٹاکر اس کا چہرہ قبلہ رخ کردیا جائے اور بند کھول دئے جائیں مگر چہرہ نہ کھولا جائے ۔
    ٭ اب گڑھا بند کرنے کے لئے پہلے کچی اینٹیں ، لکڑی ، بانس ، تخت وغیرہ کا استعمال کیا جائے تاکہ اس کے اوپر سے جب قبر پرمٹی ڈالی جائے تووہ قبر کے اندر نہ گرے ۔
    ٭ پھر جنازے میں شریک لوگ اپنی لپوں سے دوتین لپیں مٹی قبر پر ڈال دیں اور آخر میں گورکن قبر کو زمین کے برابر یا ایک بالشت کے قریب کوہان نما اونچا کرے اور اس پر پانی جھڑک دے ۔
    ٭مٹی دیتے وقت "مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى" پڑهنا حدیث سے ثابت نہیں ہے، ایک حدیث اس قبیل سے آئی ہے مگر اسے البانی صاحب نے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
    لمَّا وُضِعت أمُّ كلثومٍ بنتُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ في القبرِ قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ : مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى(أحكام الجنائز:194)
    ترجمہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم قبرمیں اتاری گئیں تو آپ نے یہ آیت پڑھی: مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى"(ہم نے اسی مٹی سے تم کو پیدا کیا، اسی میں ہم تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھائیں گے)۔
    ٭ میت کو فائدہ پہنچانے کے لئے قبر میں کچھ رکھنا بدعت ہے خواہ تعویذ، چادر، پیر و مرشد کا کپڑا وغیرہ اسی طرح قبر کے اوپر ثواب کی نیت سے پھول مالا ، ٹہنی رکھنا بھی بدعت ہے۔ نیز قبروں کو ایک ہاتھ سے زیادہ اونچا کرنا، اس پر چراغاں کرنا ، چونا گاڑھا کرنا، پختہ کروانا ، کتبے لگانا جائز نہیں ہے البتہ پتھر سے نشان رد کرسکتے ہیں ۔

    (32)دفن کے بعد قبر پر پانی جھڑکنا:
    میت کی تدفین کے بعد قبر پر پانی ڈالنا مستحب ہے، اس سلسلے میں متعدد احادیث ملتی ہیں ۔ نبی ﷺ نے سعد بن معاذ رضی اللہ کی قبر پر پانی ڈالا، اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر بھی پانی چھڑکا۔ اسی طرح عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہا کی قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم دیا۔ بلال بن رباح نے نبی ﷺ کی قبر پہ پانی چھڑکا تھا۔ اس قسم کی روایات ملتی ہیں ۔ ان ساری روایتوں کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا تھا ،بعد میں ایک صحیح روایت ملی توشیخ نے کہا:
    في رش القبر أحاديث كثيرة ، ولكنها معلولة - كما بينت ذلك في "الإرواء" (3/205 - 206) . ثم وجدت في "أوسط الطبراني" حديثاً بإسناد قوي في رشه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لقبر ابنه إبراهيم ، فخرجته في "الصحيحة" (3045) " انتهى من " سلسلة الأحاديث الضعيفة " (13/994) .
    ترجمہ: قبر پر پانی چھڑکنے سے متعلق بہت احادیث ملتی ہیں مگر کوئی بھی علت سے خالی نہیں جیساکہ میں نے ارواء الغلیل میں بیان کیا ہے ۔ پھر میں نے طبرانی اوسط میں ایک حدیث پائی جو قوی سند سے ہے ،وہ ہے نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا تھا۔ تو میں نے اس حدیث کی تخریج سلسلہ صحیحہ میں کی ۔ (حوالہ : سلسلہ ضعیفہ :13/994)
    طبرانی اوسط کی روایت یہ ہے :
    وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم رش على قبر ابنه إبراهيم‏.‏(رواه الطبراني في الأوسط)
    ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا۔
    اسے طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ہے۔
    اس روایت کے متعلق ہیثمی نے کہا کہ اس کے سارے رجال صحیحین کے ہیں سوائے شیخ طبرانی کے ۔
    اس لئے یہ کہا جائے گا کہ قبر پر پانی چھڑکنا مستحب و مسنون ہے، اس جانب بہت سے اہل علم بھی گئے ہیں ان میں شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ بھی ہیں ۔
    قبر پر پانی چھڑکنے سے متعلق چند باتیں دھیان میں رکھنا ضرروی ہیں ۔
    (ا) قبر پر پانی چھڑکنا دفن کے فوراً بعد ہو تاکہ پانی چھڑکنے کے جو فوائد ہیں وہ حاصل ہوسکیں ۔ پانی چھڑکنے کے چند فوائد یہ ہیں ۔
    ٭ دھول مٹی بیٹھ جائے ۔
    ٭ ہوا کے جھونکھوں سے قبر کی حفاظت ہو۔
    ٭ میت سے آنے والی بدبو کو روک سکے کیونکہ ہوسکتا ہے کسی درندہ کو یہ محسوس ہو اور وہ میت کو چیرپھاڑ کرے۔
    (ب) دفن کے بعد پانی ڈالنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے ، نہ ڈالے تو کوئی حرج نہیں ۔
    (ج) بعض لوگ ہر زیارت کے وقت قبر پہ پانی ڈالتے ہیں یہ بدعت ہے ۔
    (د) بعض لوگ پانی کے ساتھ قبر کی لپائی پوتائی کرتے ہیں ، اس پر پھول چڑھاتے ہیں ، اگربتی جلاتے ہیں ، ٹہنیاں گاڑتے ہیں ، یہ سارے ناجائز اعمال ہیں ۔ ان سے بچیں۔
    (ر) کچھ لوگ پانی کے ساتھ قبر پرپرندوں کے لئے دانہ ڈالتے ہیں ، ممکن ہو اس عمل سے میت کو صدقہ کا ثواب پہنچانے کی نیت ہو یہ بھی مردود عمل ہے ۔
    (ش) بعض لوگ خاص مواقع پر پانی ڈالتے ہیں مثلا عاشوراء،ربیع الاول ، رجب اور پندرہویں شعبان وغیرہ پہ ایسا کرتے ہیں سو یہ بھی بدعت ہے کیونکہ پانی ڈالنے کا کوئی وقت متعین نہیں ہے ۔
    (ص) اگر مٹی دھنس جائے اور لاش نظر آنے یا اس کی اہانت کا اندیشہ ہو تو بعد میں بھی مٹی ڈال کر پانی چھڑکا جاسکتا ہے ۔
    (ط) بدعتیوں میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ قبر پر پانی چھڑکنے سے میت کو فائدہ پہنچتا ہے یا اس کو ٹھنڈک ملتی ہے ۔ یہ سراسر باطل عقیدہ ہے ،اس عقیدہ سے مسلمان توبہ کرے ۔

    (33) جنازہ اور دفن میں شریک ہونے کا اجر:
    جنازہ میں شرکت کا بہت اجر ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے : من صلَّى على جنازةٍ فلَهُ قيراطٌ ومنِ انتظرَ حتَّى يُفرَغَ منْها فلَهُ قيراطانِ قالوا وما القيراطانِ قالَ مِثلُ الجبَلينِ(صحيح ابن ماجه:1259)
    ترجمہ: جس نے جنازے کی نماز پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے اور جس نے انتظار کیا حتی کہ اس (کے دفن )سے فراغت ہو جائے ، اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔صحابہ نے کہا: دو قیراط کیسے ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:دو پہاڑوں‌کے برابر۔
    اس حدیث پر علماء نے بحث کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ قیراط کا ثواب صرف اسی کو ہے جو جنازے کی نماز میں شرکت کرے اور اگر تدفین تک باقی رہتا ہے تو دو قیراط کا ثواب ملے گا۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ فقط جنازہ کے ساتھ چلے تو بھی ثواب کا مستحق ہے ۔
    اگر کوئی آدمی اس وقت قبرستان آیا جب جنازے کی نماز ہوچکی تھی تو وہ تدفین میں شریک ہوسکتا ہے ، اسی طرح کوئی آدمی قبرستان کے راستے سے گذر رہا تھا ، اور وہاں جنازہ دفناتے ہوئے دیکھا تو اسے بھی چاہئے کہ تدفین میں شریک ہوجائے ۔ جہاں تک قیراط کا ثواب ہے تو احادیث کی روشنی میں وہ قیراط کا مستحق نہیں لیکن اپنی نیت کے حساب سے اجر کا مستحق ہے ۔

    (34) میت کے لئے دعاکے مقامات و آداب :
    میت کے حق میں ہمیشہ دعا کرنا مشروع ہے مگر دعا کے لئے اپنی طرف سے کوئی مخصوص وقت یا مخصوص طریقہ متعین کرنا دین میں نئی ایجاد ہے ۔ چند اوقات جن میں میت کے لئے دعا کرنا نبی ﷺ سے ثابت ہیں انہیں یہاں بیان کیا جاتا ہے تاکہ لوگ میت کو دعا دینے کے لئے سنت کو لازم پکڑیں اور بدعت سے باز رہیں ۔
    اولا : جب کسی کی وفات ہوجائے تو اس کے گھر والے میت کے حق میں خیر و بھلائی اور مغفرت کی دعا کریں کیونکہ وہاں موجود فرشتے اہل خانہ کی خیروبھلائی پہ آمین کہتے ہیں ۔
    ثانیا: نماز جنازہ میں میت کے لئے دعاواستغفار کیا جائے اورنبی ﷺ سے اس بابت کئی دعائیں منقول ہیں ۔
    ثالثا: دفن کرنے کے بعد لوگ میت کی قبر پر کھڑے ہوں اور اس کی مغفرت اور ثابت قدمی کے لئے دعا کریں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم ديا ہے۔
    وفات سے لیکر میت کو قبرستان میں دفن کردینے تک تین مقامات پر میت کے لئے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لئے دعائیں کرنا اور اپنی امت کو تعلیم دینا ثابت ہے ۔
    وفات سے لیکر دفن تک ان تین مقامات کے علاوہ بھی میت کے لئے جس قدر چاہیں دعا کرسکتے ہیں مگر وقت متعین کرنا مثلا بعض لوگ نماز جنازہ کے فورا بعد دعا کرتے ہیں یا طریقہ متعین کرنا مثلا بعض لوگ میت کے گھروں میں جمع ہوکر اجتماعی دعا کرتے ہیں یہ سب بدعات کی قبیل سے ہیں ۔
    میت کے لئے دعا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کی عافیت ، بخشش اور بلندی درجات کے لئے قبلہ رخ ہوکر انفرادی طور پراللہ سے دعا کریں، نہ کہ ہم دعاؤں میں میت کا وسیلہ لگائیں اور ان سے حاجات طلب کریں۔
    جیساکہ اوپر بیان کیا گیا کہ میت کے لئے ہمیشہ دعا کرنا مشروع ہے مگر اپنی جانب سے کوئی وقت یا طریقہ مخصوص کرنا جائز نہیں ہے اور میت کو فائدہ پہنچانے کے لئے دعا کرنے کے افصل اوقات وہی ہیں جن میں دعائیں قبول ہوتی ہیں مثلا درمیانی رات ، رات کا آخری حصہ، جمعہ کا دن اور سجدہ میں وغیرہ ۔

    (35) میت کے اقسام و احکام :
    اس عنوان کے تحت میت کی جو قسمیں بنتی ہیں ان کے متعلق مختصر حکم بیان کیا جائے گا تاکہ کم ازکم ایک آدمی کو ان سے متعلق اہم بات معلوم ہوجائے ۔
    مقروض کا جنازہ :میت کے ذمہ قرض ہو تو اس کے مال سے سب سے پہلے قرض اتارا جائے ، اگر قرض کی ادائیگی کے لئے میت کا ترکہ نہیں ہو تو مالداروں میں سے کسی کو قرض کی ادائیگی کا ذمہ لینا چاہئے ۔ اگر کسی میت کا قرض ادا کرنے والا کوئی نہ ہو تو بھی اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا۔

    بے نمازی کا جنازہ:بے نمازی کے حکم میں اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ، اکثر اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ بے نمازی کو نہ غسل دیا جائے ، نہ کفن دیا جائے ، نہ نماز جنازہ پڑھی جائے اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں کہ اگر وہ نماز کی فرضیت کا قائل تھا اور سستی کی وجہ سے اس کی ادائیگی نہیں کرتا تھا تو مسلمان کی طرح اس کو دفن کیا جائے گا لیکن اس کے جنازہ میں صالح افراد شامل نہ ہوں ۔

    خود کشی کرنے والے کا حکم: خود کشی کرنے والا اہل علم کے نزدیک کافر نہیں ہے اس لئے اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی البتہ صاحب علم وتقوی لوگوں کی نصیحت کے لئے اس جنازہ میں شریک نہ ہوں تو بہتر ہے ۔ جب خودکشی کرنے والا کافر نہیں ہے تو اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا اورتعزیت کرنا جائز ہے۔

    فاسق وفاجر کا جنازہ: فاسق وفاجر کو بھی مسلمان کی طرح کفن دفن کیا جائے گا۔

    اہل شرک و بدعت کا جنازہ :اگر کوئی شرک اکبر اور بدعت مکفرہ کا مرتکب ہو تو اس کی نمازجنازہ نہیں ہے اور اگر ایسے لوگوں کا جنازہ اٹھایا جائے تو اس میں ہماری شرکت بھی جائز نہیں ۔

    کافر کا جنازہ: کافر میت پہ انا للہ واناالیہ راجعون اور فی نار جہنم کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اورکافر کی میت پہ اس کی تعزیت(اسلامی احسان و سلوک کے تئیں) یعنی اس کے اقرباء کو دلاسہ دینا ماسوا استغفار کے جائز ہے لیکن اس کے جنازہ میں شرکت کرنا جائز نہیں ہے ۔
    آپ ﷺ ابوطالب کی موت پہ ان کے جنازہ میں شریک نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی تدفین میں جبکہ ابوطالب نے قدم قدم پہ آپ کی مدد کی تھی ۔
    ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اسلام نے کفار سے موالات کو منع فرمایاہے اور کافر کی میت میں شرکت موالات میں سے ہے ، اس میں کافر کا احترام اور اس سے محبت کا اظہار ہے ۔ جنازہ کے پیچھے چلنا، یہ تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پہ حق ہے، اسے کافروں کو کیسے دیا جاسکتاہے ۔

    جنبی، حائضہ اور نفساء کا حکم:وہ ناپاکی (حیض ونفاس) جو اللہ کی طرف سے فرض ہے اس میں وفات پانا حیرت یا گناہ کاباعث نہیں ہے ، مومن معنوی اعتبار سے ہمیشہ پاک ہی رہتا ہے ۔ جنابت سے بھی مومن حقیقی طور پر پاک ہی رہتا ہے ۔ ایسے قسم کے میتوں کو اسی طرح وضو اور غسل دیا جائے گا جیسا کہ ایک عام میت کو غسل دیا جاتا ہے یعنی زائد غسل دینے کی ضرورت نہیں ۔

    خواجہ سرا کا جنازہ : اگر مخنث مسلمان ہے تو اسے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔خواجہ سرا کی تین قسمیں ہیں ۔
    پہلی قسم : جس میں لڑکی کے آثار ہوں اس پہ لڑکی کا حکم لگے گا اور عورت اسے غسل دے گی ۔
    دوسری قسم : جس میں لڑکے کے آثار ہوں اسے مرد غسل دے گا۔
    تیسری قسم : مخنث مشکل کی ہے ، اس کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر اس کے محارم ہوں تو اسے غسل دیدے ورنہ کپڑا سمیت کوئی دوسرا غسل دے سکتا ہے ، بعض نے یہ کہا ہے کہ تیمم کرادے۔ اور دفن کا طریقہ بھی مسلمان مرد و عورت کی طرح ہے ۔
    جو فطری طور پر مخنث ہوں ان پر کوئی گناہ نہیں ، مگر جو ہجڑا بن جاتے ہیں وہ ملعون ہیں انہیں توبہ کرنا چاہئے ۔

    دوران حج فوت ہونے والا: دوران حج وفات پانے والے کو بیری ، پانی اور غیرخوشبو والے صابون سے غسل دیا جائے گااور احرام کے کپڑے میں ہی کفن دیا جائے گا ۔ نہ اس کا بال کاٹاجائے گا، نہ اس کا ناخن کاٹا جائے گا اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے گی ۔ محرم کی طرح اس کا سر بھی کھلارہے گا اور کھلے سر، ایک چادر، ایک ازارمیں نماز جنازہ پڑھ کر دفن کردیا جائے گا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ حاجی ہے ، قیامت میں اسی حالت میں تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ ہاں اگر مرنے والی عورت ہو تو اس کا سر وچہرہ سمیت مکمل بدن ڈھانپا جائے گا ۔(اس پہ مفصل ومدلل احکام جاننے کے لئے میرے بلاگ پر تشریف لائیں) ۔

    شہید کا جنازہ:شیخ صالح فوزان شہید کے جنازہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ شہید کو دوسرے میت کے مقابلے میں خصوصیت حاصل ہے وہ خصوصیت یہ ہے کہ انہیں نہ تو غسل دیا جائے گا ، نہ ہی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور جس کپڑے میں قتل کئے گئے اسی میں دفن کر دئے جائیں گے۔

    بچے کا جنازہ :اس میں سب کا اتفاق ہے کہ زندہ پیدا ہوکر مرنے والے بچے کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ، اسی طرح اس بچے کی بھی نماز ادا کی جائے گی جس نے پیدائش کے وقت آواز نکالی ہو۔اختلاف اس میں ہے کہ جو بچہ مرا ہوا پیدا ہوا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں ؟
    اگر بچہ روح پھونکنے کے بعد یعنی چار ماہ کے بعد پیدا ہو تواسے غسل دیا جائے گا، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے قبر میں دفن بھی کیا جائے گا چاہے مرا ہوا پیدا ہو لیکن جوحمل ( بچہ ) چار ماہ سے پہلے گر جائے تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ ہی اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی بلکہ اسے کسی کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردیا جائے گا کیونکہ اس میں روح ہی نہیں ۔

    سمندر میں مرنے والا:اگر سمندر ی جہاز میں کسی کی موت ہوجائے تو اس کے رقفاء کوشش کریں ساحل تک پہنچنے کی تاکہ زمین میں دفن کرسکے ، اگر یہ ممکن نہ ہوتو کسی جزیرہ کی تلاش کرے جہاں دفن کرسکے ۔ اگر کوئی جزیرہ بھی نہ ملے اور ساحل سمندر بہت دور ہو میت میں تعفن پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس میت کو غسل دے ، اس کو کفن پہنائے اور پھر جہاز میں سوار لوگ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور کسی بھاری پتھر سے میت کو باندھ دیں اور سمندر میں ڈال دیں اسی میں میت کی حفاظت ہے ۔ویسے آج کل بحری جہاز میں برف اور فرج کا انتظام ہوتا ہے اس صورت میں بہتر ہے کہ میت کو برف میں محفوظ کرکے ساحل تک پہنچاجائے اور قبر کھود کر اس میں دفن کیا جائے ۔

    قصاص میں قتل ہونے والا: قصاصا قتل ہونے والا آدمی مسلم ہے اور اس پر جاری ہونے والی حد اس کے گناہ کا کفارہ ہے اس لئے جسے خواہ زنا یا قتل کے بدلے قتل کیا جائے ایسے مقتول کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی البتہ اگرمقتول مرتد، جادوگر ، کاہن، یہودیہ،نصرانیہ اورشاتم رسول وغیرہ ہو تو اسے کپڑا میں لپیٹ کر کسی گڑھا میں دفن کردیا جائے گا جس طرح کافر میت کا حکم ہے ۔

    حاملہ میت کا حکم :پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ حالت حمل(حلال حمل) میں عورت کی وفات درجہ شہادت کے بلند مقام میں ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر عورت مرجائے اور اس کے پیٹ میں غیر متحرک یعنی مردہ بچہ ہو تو بلااختلاف عورت کو مردہ بچہ سمیت دفن کیا جائے گا لیکن تیسری بات میں اختلاف ہے کہ اگر بچہ زندہ ہو یعنی پیٹ میں حرکت کر رہاہوتو کیا بچے کو ماں سمیت دفن کردیا جائے گا یا بچہ باہر نکالاجائے گا؟
    اس سلسلے میں میرے نزدیک راحج بات ابن حزم کا قول ہے کہ اگر حاملہ عورت مر جائے اور بچہ پیٹ میں حرکت کر رہاہو اور حمل چھ مہینے کا ہوگیا ہو تو لمبائی میں ماں کا پیٹ چاک کیا جائے گا اور بچے کو نکالا جائے گا۔

    نامعلوم لاش کا حکم: آج کے ترقی یافتہ دور میں بڑی سہولت ہوگئی ہے ، اگر کسی انجان جگہ پر لاوارث لاش ملے اور ظاہری آثار و علامات سے مسلم وغیر مسلم ہونے کا پتہ نہ چلے تو ترقی یافتہ دور کی طبی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ آج لاشوں کی تحقیق وپوسٹ مارٹم کی جدید ترین ایجادات مثلا ڈی این اے ٹسٹ، فنگر پرنٹس، باڈی اسکین، بلڈ گروپ ٹسٹ وغیرہ سے بآسانی معاملہ حل کرسکتے ہیں ۔

    کٹی ہوئی لاش کا حکم :سڑی گلی، کٹی پٹی اور جلی ہوئی لاشوں میں اہم مسئلہ غسل کا ہے جسے میت کے غسل کے احکام کی جگہ بیان کر دیا گیا ہے۔

    (جاری۔۔۔۔۔۔۔)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ،
    جزاک اللہ خیرا شیخ، درج ذیل دو صورتوں میں سے صحیح کونسی ہے اس کی وضاحت فرما دیں کہ شہید کا جنازہ پڑھا جانا چاہئے یا نہیں::

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    چونکہ شہیدوں کا جنازہ پڑھا بھی گیا ہے اورنہیں بھی پڑھا گیا ہے اس لئے شہید کا جنازہ پڑھا جاسکتا ہے لیکن انہیں حاصل ہونے والی خصوصیت کی وجہ سے ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے تو بھی صحیح ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    جزاک اللہ خیرا شیخ! شہیدوں کا جنازہ نہ پڑھنے والی کوئی روایت بھی بطور حوالہ عنایت فرما دیں تو مہربانی ہوگی۔
     
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    اس سلسلے میں بہت ساری روایات ہیں بطور دلیل ایک روایت کا لنک جو بخاری شریف میں ہے دے رہاہوں ۔ اس میں شہداء احد کا ذکر ہے جنہیں نبی ﷺ نے نہ تو غسل دیا اور نہ ہی ان پر نماز جنازہ پڑھی ۔
    لنک
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    کچھ سمجھ نہیں آیا گویا شہدائے احد کا جنازہ ہی دلیل ہے ایک سے زائد جنازے الگ الگ پڑھنے کے لئے اور یہی شہداء دلیل ہیں جن کا جنازہ نہیں پڑھا گیا۔
     
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    شہدائے احد پر آٹھ سال بعد نماز غائبانہ پڑھا گیا۔

    Sahih Bukhari Hadees # 4042
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ،‏‏‏‏ عَنْ حَيْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ""صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ بَعْدَ ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ،‏‏‏‏ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:‏‏‏‏ ""إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ،‏‏‏‏ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ،‏‏‏‏ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ مِنْ مَقَامِي هَذَا،‏‏‏‏ وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوهَا""،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ آخِرَ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہداء پر نماز جنازہ ادا کی۔ جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ”میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے ( قیامت کے دن ) تمہاری ملاقات حوض ( کوثر ) پر ہو گی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض ( کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔“ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری دیدار تھا جو مجھ کو نصیب ہوا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  10. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    613
    جنازہ کے چالیس اہم مسائل (چوتھی قسط)

    مقبول احمدسلفی

    (36)شہداء کا مقام اور ان کے اقسام :
    اسلام میں جہاد، شہادت اور شہید کا بلند مقام ہے ، شہداء کو انبیاء اور صدیقین کے بعد تیسرے درجہ پر رکھا گیا ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
    وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا (النساء:69)
    ترجمہ: اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیاہے ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں ۔
    قرآن وحدیث میں شہداء کے بے شمار فضائل ومناقب ،بڑے اجروثواب اور بلند درجات کا ذکر کیا گیا ہے جن کا یہاں احاطہ ممکن نہیں ہے ۔ ویسے سارے مرنے والوں کو برزخ کی زندگی ملتی ہے مگر اللہ نے خصوصی طورپر شہداء کی برزخی زندگی کا ذکر کیا ہے ، ان سے گناہوں کی مغفرت کا وعدہ کیا گیا،قرض کے علاوہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، انہیں جنت کی بشارت دی گئی، ان کی روحیں قندیل میں عرش الہی سے آویزاں ہیں اور سبزپرندوں کے جوف میں سواری کرتی ہیں اور جنت میں سیروتفریح کرتی ہیں ۔شہید کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ انہیں ان کے کپڑوں میں خون سمیت بغیر غسل وجنازہ کے دفن کیا جاتا ہے تاکہ قیامت میں انہیں کپڑوں میں اٹھائے جائیں ۔شہداء جب اپنا یہ مقام دیکھتے ہیں تو پھر سے دنیا میں لوٹنے اور شہید ہونے کی تمنا کرتے ہیں ۔ یہ وہ شہداء ہیں جو اسلام وکفر کی کسی لڑائی میں شہید ہوئے ہوں ۔ شہداء کااتنا بڑا مقام ہونے کے باوجود ان سے ہم استغاثہ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ وہ دنیا سے وفات پاچکے ہیں جو زندگی انہیں نصیب ہوئی ہے وہ برزخ کی زندگی ہے ۔ جب شہداء کو حاجت روائی کے لئے نہیں پکار سکتے تو صالحین واولیاء کو بھی بدرجہ اولی نہیں پکار سکتے بلکہ اللہ کے علاوہ کسی کو بھی مدد کے واسطے پکارنا منع ہے ، اللہ نے حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی کو ہی پکاریں اور وفات پانے والےتو ہماری پکار بھی نہیں سن سکتے مدد کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔
    شہداء کی ایک دوسری قسم بھی ہے جو کچھ مخصوص اعمال اور مخصوص حالات کی وجہ سے شہید کا مقام پاتے ہیں ، ان کی تعداد بھی کئی ہیں ۔ سات قسم کے شہداء کا اکٹھے ایک حدیث میں بیان ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    الشَّهادةُ سبعٌ سوى القتلِ في سبيلِ اللَّهِ المطعونُ شهيدٌ والغرِقُ شهيدٌ وصاحبُ ذاتِ الجنبِ شهيدٌ والمبطونُ شهيدٌ وصاحبُ الحريقِ شهيدٌ والَّذي يموتُ تحتَ الهدمِ شهيدٌ والمرأةُ تموتُ بِجُمعٍ شهيدةٌ(صحيح أبي داود:3111)
    ترجمہ: اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں (1) مطعون شہید ہے(2) اور ڈوبنے والا شہید ہے(3)ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور (4)اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور(5) جل کر مرنے والا شہید ہے، اور (6)ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور (7)اور وہ عورت جو ولادت کی تکلیف ( درد زہ ) میں وفات پا جائے شہید ہے ۔
    یہ فطری طور پر ملنے والی شہادتیں ہیں ، کچھ شہادتیں مبارک اعمال کی انجام دہی کی وجہ سےہمیں نصیب سکتی ہیں جن کا ہمیں خصوصی اہتمام کرنا چاہئے ۔ان میں سے ہے شہادت کی تمنا کرنا، والدین کی خدمت کرنا،بیوہ اور مسکین کی خدمت کرنا، اول وقت پر نماز پڑھنا، عشرہ ذی الحجہ میں اعمال صالحہ انجام دینا، عورتوں کا حج کرنا، اپنی نفسانی خواہشات سے جہاد کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اپنے مال، عزت اور دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونا، فتنے کے زمانے میں دین حق پر عمل کرنا، نماز کے بعد تسبیح فاطمی پڑھنا، اللہ کا ذکر کرنا، سو بار اللہ اکبر، سوبار الحمد للہ اور سوبار سبحان اللہ کہنا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرناوغیرہ ۔ انہیں تفصیل سے جاننے کے لئے میرے بلاگ پر مضمون " کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے؟" مطالعہ فرمائیں ۔

    (37)حسن خاتمہ کی علامت واسباب :
    موت سے قبل اچھی حالت میں وفات پانا یا زبان پر کلمہ کا جاری ہونا حسن خاتمہ کی علامت ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : الأعمالُ بالخَوَاتِيمِ ( صحيح البخاري:6607) یعنی عمل کا دارومدار خاتمہ پر ہے ۔ اور یہ بھی فرمان نبوی ہے : من كانَ آخرُ كلامِهِ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ دَخلَ الجنَّةَ(صحيح أبي داود:3116)ترجمہ: جس کی زبان سے آخری کلمہ لاالہ الااللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
    اس لئے مسلمان کو بری موت سے اللہ کی پناہ اور حسن خاتمہ کی اللہ سے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہئے اور عمل ترک کرکے صرف دعا سے موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوگا بلکہ ہمیں کلمے کا تقاضہ پورا کرنا ہوگا یعنی اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ حسن خاتمہ کی کچھ علامتیں ہیں جنہیں نیچے ذکر کیا جاتا ہے ۔
    شہادت کی موت تو سب سے اچھا خاتمہ ہے جس کا ذکر اقسام کے ساتھ اوپر ہواہے وہ ساری قسمیں اچھی موت ہیں، ان کے علاوہ مرتے وقت زبان سے کلمہ ادا ہونا، پیشانی سے پیسہ نکلنا، مومن کی اچانک موت ہونا ،جمعہ کی رات یا دن میں وفات پانااور کسی بھی قسم کا نیک کام کرتے ہوئے وفات پانا مثلا نمازپڑھتے ہوئے ، روزہ رکھتے ہوئے ، تلاوت کرتے ہوئے ، ذکر کرتے ہوئے ، دعا کرتے ہوئے اور توبہ واستغفار کرتے ہوئے وغیرہ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : إذا أرادَ اللهُ بعبدٍ خيرًا استعملَه ، فقيل : كيف يستعملُه يا رسولَ اللهِ ؟ قال : يوفِّقُه لعمَلٍ صالحٍ قبلَ الموتِ(صحيح الترمذي:2142)
    ترجمہ: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کام پر لگاتا ہے،عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے کام پر لگاتا ہے؟ آپ نے فرمایا:موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے۔
    اس لئے ہم اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بنیں تاکہ موت کے وقت وہ ہمیں عمل صالح کی توفیق دے ۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ موت کے وقت نیک لوگوں کے چہرے پہ تبسم و نورانیت بھی حسن خاتمہ کی علامت ہے۔ یاد رہے وفات کے بعد یا دفن کے بعد میت کی طرف جھوٹے کشف وکرامات منسوب کرنا اور ان کی تشہیر کرکے اپنی تجارتی دوکان سجانا سخت عذاب کا باعث ہے ۔

    (38)موت کے وقت ظاہر ہونے والی بری علامات:
    ایک مسلمان کو بری موت سے بکثرت پناہ مانگنی چاہئے ،مرتے وقت جس کا خاتمہ شر پر ہو واقعی اس کے لئے افسوس در افسوس ہے ۔ بری موت کی وجہ دین سے دوری، اعمال صالحہ سے نفرت ، برائی سے محبت اوراس پر اصرار ، ذکر الہی سے غفلت اور منکرات وفواحش کی انجام دہی، عقائد باطلہ ، شرک وبدعات پر عمل اور ان کی نشر واشاعت، آخرت سے بے فکری اور دنیا سے بیحد محبت وغیرہ ہے۔ ایسی صفات کے لوگوں کو مرتےوقت کبھی کلمہ نصیب نہیں ہوتابلکہ برائی کرتے ہوئے ان کی موت واقع ہوتی ہے مثلا فلم دیکھتے ہوئے، زنا کرتے ہوئے، شراب پیتے ہوئے ، جوا کھیلتے ہوئے، خودکشی کرکے،شرک وبدعت کرتے ہوئے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : مَنْ ماتَ على شيءٍ بَعثَهُ اللهُ عليْهِ(صحيح الجامع:6543)
    ترجمہ: جس حالت میں آدمی فوت ہوگا،اسی پر اسے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔
    آپ ذرا تصور کریں جس کی موت زنا کرتے ہوئے ہواور قیامت میں وہ زناکرتے ہوئے اٹھایا جائے وہ شخص رب کو کیا منہ دکھائے گا اور اس کا حساب وکتاب کیسا ہوگا؟
    بسا اوقات اچھے لوگوں کی موت پر ہمیں کچھ ایسی علامات نظر آتی ہیں جنہیں ہم ناپسند کرتے ہیں مثلا چہرہ یا بدن کا سیاہ ہوجانا تو اس قسم کی کوئی علامت کے ظہور پرپردہ کرنا چاہئے بطور خاص میت کو غسل دینے والے اگراس میں کوئی بری علامت دیکھے تو لوگوں سے اسے بیان نہ کرے ۔ حقیقت حال کا اللہ کو علم ہے ہمیں کسی مسلمان میت کی برائی کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
    ذُكرَ عندَ النَّبيِّ صلى الله عليه وسلم هالِكٌ بسوءٍ فقالَ : لاَ تذْكروا هلْكاكم إلاَّ بخيرٍ(صحيح النسائي:1934)
    ترجمہ: نبی کریم ﷺ کے سامنے کسی مرنے والے کا ذکر برائی کے ساتھ کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اپنے فوت شدگان کا ذکر بھلائی کے سوا(برائی کے ساتھ ) نہ کرو۔

    (39)سوگ اور عدت کے مسائل:
    سوگ اور عدت یہ دونوں عورتوں سے متعلق ہیں ، مردوں کے لئے سوگ نہیں ہے ۔ جب کسی عورت کا کوئی رشتہ دار وفات پاجائے تو تین دن سوگ منانا جائز ہے اور شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن سوگ منانا واجب ہے۔ نبی ﷺکا فرمان ہے : لا يحلُّ لامرأةٍ تؤمنُ باللهِ واليومِ الآخرِ أنْ تحدَّ على ميِّتٍ فوقَ ثلاثِ ليالٍ ، إلَّا على زوجٍ أربعةَ أشهُرٍ وعشرًا (صحيح البخاري:5334)
    ترجمہ: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ جائز نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، صرف شوہر کے لیے چار مہینے دس دن کا سوگ ہے ۔
    سوگ منانے کا اسلامی طریقہ کیا ہے ؟ سوگ میں زینت اور بناؤسنگار کی چیزیں استعمال کرنا منع ہیں۔ خوشبو اور سرمہ سے بھی پرہیزکرنا ہے۔بیوہ عدت کے دوران رنگین وچمکدار کپڑے،ریشمی اور زعفرانی لباس،زینت کی چیزیں مثلا کان کی بالی، نان کا نگ، ،پازیب، کنگن، ہار،انگوٹھی، چوڑیاں، کریم ، پاؤڈر، خوشبودارتیل ، عطر، سرمہ ، مہندی وغیرہ استعمال نہیں کرے گی ۔حیض سے پاکی پر معمولی مقدار میں بخور وغیرہ استعمال کرسکتی ہےاور دوا کے طور پرسرمہ بھی استعمال کرسکتی ہے مگر صرف رات میں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ سوگ میں عورت پر غم کے آثار ظاہر ہوں اس وجہ سے زینت کی چیزیں استعمال کرنا منع ہے۔ سفید کپڑا ہی بیوہ کی علامت نہیں ہے کوئی بھی عام سادہ کپڑا جو خوبصورت نہ ہو پہن سکتی ہے اور ضرورت کی چیزیں انجام دینے مثلا کھانا پکانا، پانی بھرنے، جھاڑو دینے، غسل کرنے، کپڑا صاف کرنے ، بات چیت کرنے اور گھریلو امور انجام دینے میں کوئی حرج نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کوئی ملازمت ہواور چھٹی کی کوئی گنجائش نہ ہو توبناؤسنگار سے بچتے ہوئے ملازمت بھی کرسکتی ہےکیونکہ یہ ضرورت میں داخل ہے۔ بلاضرورت بات چیت، ہنسی مذاق، گھر سے نکل کر کام کرنا (الایہ کہ اشد ضرورت ہو)، ٹیلی ویزن ،ریڈیو ، اخبار اور موبائل کا بلاضرورت استعمال کرنا یعنی وقت گزاری کے لئے منع ہے ۔ خالی وقت میں قرآن کی تلاوت، ذکرواذکار، دعاواستغفاراورکتب احادیث وسیر کا مطالعہ بہتر ہے ۔
    وفات پر یا نزول بلا پر آنکھوں سے آنسو بہ جائے ، بے اختیار رونا آجائے اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر قصدا پھوٹ پھوٹ کر دیر تک روتے رہنے ،آہ وبکا کرتے رہنے، جزع فزع کرنے ، زبان سے برے کلمے نکالنے اور نامناسب کام کرنا سوگ کے منافی ہے اور اس سے صبر کا اجر ضائع ہوجائے گا۔میت کی بیوہ یا ا س کے کسی رشتہ دار کو میت کے پاس جزع فزع کرنے کی ممانعت ہے ، وہاں چیخنے چلانے کی بجائے میت کے حق میں دعائے خیر کرنا چاہئے ۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ان کے گھر والے چیخنے چلانے لگے تو آپ ﷺنے فرمایا:
    لا تَدعوا علَى أنفسِكُم إلَّا بِخيرٍ ، فإنَّ الملائِكَةَ يؤمِّنونَ على ما تَقولون ثمَّ قالَ : اللَّهمَّ اغفِر لأبي سلَمةَ وارفع درجتَهُ في المَهْديِّينَ ، واخلُفهُ في عقبِهِ في الغابِرينَ ، واغفِر لَنا ولَهُ ربَّ العالمينَ ، اللَّهمَّ افسِح لَهُ في قبرِهِ ، ونوِّر لَهُ فيهِ(صحيح أبي داود:3118)
    ترجمہ: اپنے لیے بد دعائیں مت کرو بلکہ اچھے بول بولو کیونکہ جو تم کہتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بطور دعا ) فرمایا: اے اللہ ! ابوسلمہ کی بخشش فرما، ہدایت یافتہ لوگوں کے ساتھ اس کے درجات بلند کر اور اس کے پیچھے رہ جانے والوں میں تو ہی اس کا خلیفہ بن ۔ اور اے رب العلمین ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما، اے اللہ ! اس کی قبر کو فراخ اور روشن کر دے ۔
    مزید چند مسائل مندرجہ ذیل ہیں ۔
    بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے جوسوگ کے دن ہیں ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے، عدت کی شروعا ت اس دن سے ہوگی جب شوہر کی وفات ہوئی ہےگرچہ بیوہ کو خبر بعد میں ہوئی ہو، عدت شوہرکے گھر میں گزارے گی، عدت کے دوران بلاضرورت سفر کرنا منع ہے، دوران عدت سوگ کے مذکورہ احکام اپنانے ہیں ،اس میں نکاح کرنا یا نکاح کا پیغام دینا منع ہے بلکہ عدت کے گزرنے کے بعد ہی دوسرے مرد سے شادی کرسکتی ہے ۔ بیوہ کے احکام ومسائل سے متعلق مفصل ومدلل مضمون میرے بلاگ پر دیکھیں ۔

    (40)تعزیت کے آداب :
    جو اہل شرک اور کافر ہیں انہیں صرف دلاسہ دے سکتے ہیں ،ان کےمیت کے لئے استفغار نہیں کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کی تعزیت کرنا مسنون اوربڑے اجر کا کام ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    ما من مؤمنٍ يعزِّي أخاهُ بِمُصيبةٍ إلَّا كساهُ اللَّهُ سبحانَهُ من حُلَلِ الكرامةِ يومَ القيامَةِ(صحيح ابن ماجه:1311)
    ترجمہ: جو مومن اپنے بھائی کی مصیبت کے وقت اس کی تعزیت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت وشرف کا لباس پہنائیں گے۔
    میت کے رشتہ داروں کا غم ہلکا کرنے کے لئے انہیں تسلی دینا، صبر دلانا، اظہارہمدردی کرنا ، تعاون کی ضرورت ہوتو ان کا تعاون کرنااور میت کے لئے دعاءواستغفار کرنا تعزیت کہلاتی ہے۔ تعزیت کے طور پریہ دعا رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:إنَّ لله ما أخذَ وله ما أعطى . وكلُّ شيء ٍعنده بأجلٍ مسمى(صحيح مسلم:923)
    ترجمہ: لی ہوئی چیز بھی اسی کی ہے اور دی ہوئی چیز بھی اسی کی تھی اور ہر چیز اس ذات کے پاس وقت مقررہ کے مطابق لکھی ہوئی ہے۔
    سوگ کے دن متعین ہیں جیساکہ اوپر معلوم ہوا مگر تعزیت کے واسطے زیارت کرنے کادن مدت متعین نہیں ہے جب کسی کے یہاں وفات کی خبر ملے اس کی تعزیت کرسکتا ہے خواہ تین دن بعد ہی ہو مگر تعزیت کے لئے خیمہ نصب کرنا، کسی جگہ لوگوں کا جمع ہونا، رسمین انجام دینا ،اجتماعی شکل میں دعوت کا اہتمام کرنا ، اجتماعی دعائیں، دعا میں ہاتھ اٹھانا، باربار تعزیت کے لئے جانا یہ سب امور ثابت نہیں ہیں لہذا ان سے بچا جائے ۔ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
    ترجمہ: ہم اہل میت کیلئے اکٹھا ہونا ، اور دفن کرنے کے بعد کھانا بنانا نوحہ گری میں شمار کرتے تھے۔

    نوٹ : جنازہ کے مسائل کی کثرت کی وجہ سے نکات کا مزید اضافہ کیا جائے گا ، اس لئے اس مضمون کی اگلی سرخیوں کا انتظار کریں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں