جنازہ کے اہم مسائل و احکام

مقبول احمد سلفی نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جنوری 4, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,241
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام ( پانچویں قسط)

    مقبول احمد سلفی

    (41)وصیت کا نفاذ اور ترکہ کی تقسیم :
    میت کی تدفین کے بعد انہوں نے حقوق العباد یا دین وخدمت سے متعلق جو وصیت کی ہو اس کا نفاذ عمل میں لایا جائے ۔ قرض سے متعلق وصیت کا نفاذ تو میت کی تدفین سے قبل ہی ہونا ہے بقیہ وصیتیں تدفین کے بعد جس قدر جلدی ہو سکے نافذ کردینا چاہئے الا یہ کہ اس میں تاخیر کی وجہ اورمعقول گنجائش ہو۔ کسی وارث کے لئے جائز نہیں ہے کہ میت کی مالی وصیت ترک کرکے اپنے لئے مال جمع کرے اور نہ ہی بلاوجہ تاخیر کرے ۔ وصیت کے علاوہ بچنے والے مال کو میت کے وارثین میں منصفانہ تقسیم کرے ۔وراثت کی تقسیم سے قبل وارثوں کا حصہ جاننے کے لئے علم الفرائض کے عالم سے رجوع کرے اور یہ بات دھیان میں رکھے کہ تاخیر سے وراثت کی تقسیم وارثوں میں اختلاف اور تنازع کا سبب بن سکتی ہے ۔ بسااوقات زوروقوت والا وارث ضعیف وارثوں کا حق مارلیتا ہے یہ بڑا ظلم ہے اللہ کے یہاں اس کا سخت محاسبہ ہوگا۔ وراثت میں بیٹیوں کا حصہ نہیں نکالاجاتا ہے جوان کے حق میں ظلم کے ساتھ وراثت کے باب میں اس زمانے کا بہت بڑا المیہ ہے ۔ مسلمانوں کو بطور خاص علماء وغیرشادی شدہ نوجوانوں کو سماج سے جہیز کی رسم مٹانے اور بیٹیوں کو وراثت میں حق دینے کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل منظور کرنا چاہئے تاکہ نکاح اور وراثت میں شرع کی بالادستی قائم ہوسکے۔

    (42) میت اور احوال قبر:
    میت کی تدفین کے بعد اس کے حالات دنیاوی حالات سے مختلف ہوجاتے ہیں ۔ موت سے قبل اسے دنیاوی زندگی حاصل تھی اب وفات کے بعد برزخ کی زندگی مل رہی ہے۔برزخ موت کے بعد سے لیکرقیامت تک کے درمیانی وقفے کو بولتے ہیں اور برزخ کے معاملہ کو کسی بھی طرح دنیا وی معاملات پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ ویسے بھی عالم برزخ اور قبر کے حالات غیبی امور میں سے ہیں ان میں اٹکل لگانا، بلادلیل کوئی بات کہنا یا رائے وقیاس کرنا بالکل ممنوع ہے۔ میت کی بزرخی زندگی سے متعلق کتاب وسنت میں جتنی دلیل وارد ہے بس اتنی ہی ذکر کی جائے گی ۔ مثلا قبر میں میت کی تدفین کے بعد سوال کے لئے منکرنکیر آتے ہیں ، مومنوں کو سوال کے وقت ثابت قدمی اور کافروں کو رسوئی نصیب ہوتی ہے ۔ مومنوں کو قبرمیں انواع واقسام کی نعمت اور کافروں کو مختلف قسم کاعذاب ملتا ہے، مسلمانوں میں سے گنہگاروں کو بھی عذاب ملتا ہے ۔ میت کے بولنے ، سننے اور جواب دینے کی دلیل ملتی ہے مگر یہ بولنا، سننا اور جواب دینا خاص مواقع سے متعلق ہے اور یہ برزخ کا معاملہ ہے قبر میں بولنے ،سننے اور جواب دینے کو دنیا میں بولنے ،سننے اور جواب دینے پر قیاس نہیں کرسکتے ۔اس لئے ہم مردے کو اپنی بات نہیں سناسکتے اور نہ وہ ہماری پکار کو سنتے اور جواب دیتے ہیں ۔
    اس کو ایک مثال سے اس طرح سمجھ لیں کہ جس میت کو دفن نہیں کیا جاتا کئی دنوں یا مہینوں تک اسٹور کرکے رکھا جاتا ہے آخر اس سے بھی منکر نکیر سوال کرتے ہیں اور میت جواب دیتا ہے ۔ کیا کسی نے ایسے بے گوروکفن میت کو بولتے دیکھا ہے ؟۔ قرآن آل فرعون پر صبح وشام آگ کا عذاب پیش کئے جانے کا ذکر ہے ، فرعون کی لاش لوگوں کے سامنے ہے کسی نے آگ نہیں دیکھی اور نہ ہی فرعون کو درد والم سے روتے ہوئے دیکھا ہے۔نیند میں لوگ باتیں کرتے ہیں جبکہ بغل میں جاگنے والا اس آدمی کی آواز نہیں سنتا ۔ اس مثال سے مقصود یہ ہے کہ بزرخ کے معاملہ کو دنیا پر ہرگز ہرگز قیاس نہیں کیا جائے گا۔ اور عذاب جسم وروح دونوں کو ہوتا ہے ۔
    جب ہمیں یہ معلوم ہوگیا کہ قبر کا معاملہ غیبی ہے اس کے متعلق ہم اتنا ہی جانتے ہیں جتنا قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہے اور مردے ہماری پکار نہیں سنتے ،نہ ہی انہیں ہمارے حال کی کوئی خبر ہوتی ہے ۔ لہذا مردوں کو پکارنا جہالت، ان سے مدد مانگنا شرک اور ان کے لئے غیرشرعی امور انجام دینا بدعت وخرافات ہے۔ ہمیں میت کے حق میں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہئے اور ان کی طرف سے ایصال ثواب کے طور پر صدقہ وخیرات بھی کرسکتے ہیں ۔

    (43) میت کا خواب میں آنا:
    یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی جانے پہچانے میت کو خواب میں دیکھے ، اپنے رشتہ داروں کو بھی خواب میں دیکھ سکتا ہے ، کوئی عالم یا بزرگ بھی خواب میں آسکتے ہیں حتی کہ نبی ﷺ کو بھی خواب میں دیکھا جاسکتا ہے ۔ خواب کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے ، کبھی خواب سچا ہوسکتا ہے یعنی میت کی کیفیت واحوال معلوم ہوسکتے ہیں تو کبھی شیطان ڈرانے کی غرض سے میت کى شکل اختیار کرکے خواب میں آسکتا ہے ۔ ڈراؤنی خواب سے اللہ کی پناہ طلب کی جائے اور عمدہ خواب ہوتو اس کے ماہر سے تعبیر معلوم کیا جائے۔
    خواب کے نام پر بدعتیوں میں گورکھ دھندے کئے جاتے ہیں ، خوابوں کو اپنے من سے تراش کر لوگوں میں بیان کئے جاتے ہیں کہ میں نے فلاں کو خواب میں دیکھا ، فلاں برزگ خواب میں مجھے یہ پیغام دے رہےتھے ، مدینہ کے شیخ نے خواب میں ایسا دیکھا، فلاں ولی نے مجھے نور کا تاج پہنایا۔ وغیرہ اس وقت تو حد ہوجاتی ہے جب بدعتی اپنی شہرت کے لئےمصنوعی خوابوں کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کردیتا ہے ۔الیاس قادری کےیہاں ایسے بے شمار خواب ہیں ۔
    قادری صاحب کے یہاں باقاعدہ خواب اور کشف وکرامات کا ایک مستقل شعبہ ہے جہاں لوگ اپنی مرضی سے جب چاہیں اور جیسے چاہیں خواب دیکھتے ہیں شرط یہ ہے کہ خواب قادری صاحب کے حق میں دیکھے جائیں ورنہ سخت عتاب ہے۔ مفتی ابوداؤد قادری نے الیاس قادری کے نام ایک مکتوب میں ان کی پول کھول دی ہے اور مخالفات بریلویہ پہ زبردست سرزنش کی ہے ۔اس مکتوب میں خواب سے متعلق لکھتے ہیں کہ امیر دعوت اسلامی کی تشہیر ونمائش کے لئے خوابوں اور کشف وکرامات کا بھی باقاعدہ شعبہ ہے جہاں سے بکثرت اور مسلسل اس قسم کی نمائشی چیزوں کی اشاعت ہوتی رہی ہے ۔دعوت اسلامی کے ایک مبلغ نے خواب دیکھا کہ حضور ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا: الیاس قادری کو مجھ رحمۃ للعالمین کا سلام فرمانا اور ان سے کہنا کہ تم خود ابراہیم قادری کو گلے لگالو،جب الیاس قادری سے یہ خواب بیان کیا تو کہا اسے لوگوں میں بیان مت کرو ورنہ امت میں فساد پھیلے گاجب دعوت اسلامی کے اراکین میں یہ بات آئی تو کہا معاذاللہ کیا سرکارﷺ امت میں فساد ڈالنے کے لئے پیغام بھیج رہے ہیں؟
    الیاس قادری کی بہن نے خواب دیکھا کہ ایک بار اس کے والدنوارانی چہرے والے ایک بزرگ کے ساتھ تشریف لائے ، میرا ہاتھ پکڑکر کہا بیٹی ! تم ان کو پہنچانتی ہو؟ یہ ہمارے میٹھے میٹھے مدنی آقا ﷺ ہیں ۔ پھر شہنشاہ رسالت مجھ پر شفقت کرنے لگے اور کہا تم نصیب دار ہو۔
    اسی بہن نے ایک اور خواب سنا یاکہ بڑے بھائی جان نے مجھے خواب میں اپنی قبر کے حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا جب مجھے قبر میں رکھا گیا اور میری طرف عذاب بڑھا تو بھائی الیاس کا ایصال میرے عذاب کے درمیان حائل ہوگیا۔
    ایک بارخود الیاس قادری نے خواب دیکھا ایک مجلس سجی ہوئی ہے ، جس میں صحابہ کرام حاضر خدمت ہیں، اعلی حضرت بھی حاضر خدمت ہیں ،آپ یعنی الیاس کے سر پر عمامہ ہے ۔حضور نے اعلی حضرت کے سرسے عمامہ اتارکر الیاس قادری کے سر پر رکھ دیا۔ نعوذباللہ من ذلک
    الیاس قادری کی کتاب فیضان سنت میں مذکور ہے ایک شخص نے خواب دیکھا کہ حضور ﷺ الیاس عطار کے والد سے اس کا تعارف کرارہے ہیں ، الیاس عطار کے والد نے اس شخص سے کہا الیاس عطار کو کہنا اس کی امی نے بھی سلام بھیجا ہے ۔ اس واقعہ پر مفتی ابوداؤد قادری نے لکھا ہے کہ خواب دیکھنے والا فخر سے کہہ رہاہے کہ میں نے الیاس عطار کے والد سے مصافحہ کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ فخر تو اسے حضور ﷺ سے مصافحہ کرکے کرنا چاہئے تھا۔ حضور ﷺ کو اس نے اہمیت نہیں دی ۔ مزید آگے لکھتے ہیں : کیا الیاس عطار کی امی کا سلام بھیجنا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ الیاس عطار منگھڑت خوابوں کے ذریعہ اپنے سارے خاندان کے تعلقات حضور ﷺ سے دکھانا چاہتے ہیں؟

    (44) قبر ستان میں نماز پڑھنے کا حکم:
    نہایت افسوس ناک امر ہے کہ جس کام سے نبی ﷺ نے اپنی امت کو وفات کے وقت منع کیا تھا لوگ اس کام سے بھی باز نہیں آئے ۔ذرا حدیث رسول ﷺ پڑھیں اور امت مسلمہ کی حالت زار پر غور فرمائیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
    قال رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم -في مَرَضِه الذي لم يَقُمْ منه : لعنّ اللهُ اليهودَ والنَّصارى ؛ اتخذُوا قبورَ أنبيائِهم مساجدَ . لولا ذلك أبرزَ قبرَه ، غيرَ أنه خَشِيَ ، أو خُشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مسجدًا .(صحيح البخاري: 1390)
    ترجمہ: رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جس مرض سے صحت یاب نہ ہو سکے اسمیں فرمایا :اللہ تعالی کی لعنت ہو یہود ونصاری پر کہ ان لوگوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجد گاہ(عبادت کی جگہ )بنالیا ،حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ کی قبر باہر بنائی جاتی مگر یہ خوف لاحق تھا لوگ آپ کی قبر کو مسجد بنالیں گے۔
    نبی ﷺ کی بیماری کے وقت کے اس فرمان سے قبروں کو سجدہ گاہ بنانےکی شدت کا پتہ چلتا ہے لیکن افسوس در افسوس مسلمانوں نے نبی ﷺ کے اس فرمان کی بھی قدر نہیں کی اور لوگوں کی قبروں پہ عبادت گاہ تعمیر کرلئے ۔
    قبرستان وہ جگہ ہے جہاں مردوں کو دفن کیا جاتا ہے ، وہ نماز پڑھنے کی جگہ نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    اجعلوا في بيوتِكم من صلاتِكم، ولا تتَّخِذوها قبورًا (صحيح البخاري:1187)
    ترجمہ: اپنے گھروں میں نماز پڑھو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان وہ جگہ ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جائے گی بلکہ بصراحت رسول اللہ ﷺ نے قبرستان میں نماز پڑھنے سے بھی منع کیا چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :
    الأرضُ كلَّها مسجدٌ إلَّا المقبرةَ والحمَّامَ(صحيح الترمذي:317)
    ترجمہ: ساری زمین مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ ہے) سوائے قبرستان اور غسل خانہ کے ۔
    مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا کہ قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی نماز پڑھنے کے لئے وہاں مسجد بنائی جائے گی نیز اگر کسی مسجد میں قبر ہو تو وہاں بھی نماز کا یہی حکم ہے ۔جو قبرستان میں یا قبروں پہ نماز پڑھتے ہیں وہ سب سے برے لوگ ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
    واعلَمُوا أنَّ شَرَّ الناسِ الذين اتَّخذُوا قُبورَ أنْبيائِهمْ مَساجِدَ(صحيح الجامع:233)
    ترجمہ: اور جان لو !بدتر ین لوگ وہ ہیں جنہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیں۔
    اسی طرح قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا یا قبر کے پاس نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ، اگر نماز قبر والے کے لئے ہوتو شرک اکبر ہے ۔ قبرکے پاس نماز پڑھنے یا قبرکی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی ممانعت والی دلیل "قبروں کو سجدہ گاہ نہ بناؤ" بھی ہے کیونکہ اس حدیث کا معنی ہے قبرکی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا یا قبر کے پاس نماز پڑھنا منع ہے ۔ دوسری حدیث میں صراحت کے ساتھ قبر کی طرف نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    لا تجلِسوا على القبورِ ولا تصلُّوا إليها(صحيح مسلم:972)
    ترجمہ: قبروں پرنہ بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف نماز پڑھو۔
    لہذا قبرستان میں یا اس کی حدود میں بنی مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ، نہ ہی اس مسجد میں نماز جائز ہے جس میں قبر ہو ۔ اگر کسی کی نماز جنازہ چھوٹ گئی ہوتو وہ قبر کے پاس قبلہ رخ ہوکر نماز جنازہ ادا کرسکتا ہے بس ،باقی نوافل یا پنچ وقتہ نمازیں قبرپہ یا قبرستان میں یا قبرستان کی مسجد میں جائز نہیں ہے ۔ بعض قبرستان کے بغل میں یا کونے پر یعنی قبرستان کی باؤڈری سے الگ مسجد بنی ہوتی ہے اس مسجد کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ قبرستان میں داخل نہیں ہے۔

    (45)قبروں کی زیارت کے اقسام :
    قبروں کی زیارت کے متعلق عوام میں بڑی غلط فہمیاں ہیں ، قبورومزارات کی زیارت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کیا جاتا ہے جوکہ ناجائزوممنوع ہے۔آج کل تو قبروں کے نام سے گرانقدر تجارت کی جاتی ہے ، وہاں عجیب وغریب کرشمے دکھاکر لوگوں کو اپنے فریب کا شکار بنایا جاتا ہے ۔ قبروں کا طواف، عرس ومیلے، غیراللہ کے لئے نذرونیاز،قبروں کو سجدہ ، مردوں سے استغاثہ ، مجاروں کے شیطانی کرشمے ، عورتوں کی عفت وعصمت سے کھلواڑ جیسے بڑے بڑے گناہ کئے جاتے ہیں ۔ یہ بات صحیح ہے کہ قبروں کی زیارت مسنون ہے مگر قبر اور مردوں کے نام پر تجارت کرنا سراسر ایمان کے منافی ہے ۔ حیرت ہے ان لوگوں پر جو قبروں کی مسنون زیارت کی بجائے یہاں اپنا ایمان ضائع کرتے اور کرواتے ہیں ۔ نیچے میں قبروں کی زیارت کے اقسام بیان کرتا ہوں تاکہ ہمیں زیارت قبور کے سلسلے میں صحیح رہنمائی مل سکے ۔ قبروں کی زیارت کے تین اقسام ہیں ۔
    (1)پہلی قسم : یہ مردوں کے ساتھ خاص اور عورتوں کے حق میں کبھی کبھار مشروع ہے۔ وہ یہ ہے کہ قبروں کی زیارت اہل قبور کے لئے دعا اور آخرت کی یاد دہانی کے لئے ہونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
    زوروا القبورَ فإنَّها تذَكِّرُكمُ الآخرةَ(صحيح ابن ماجه:1285)
    ترجمہ : تم قبروں کی زیارت کرو، اس سے آخرت یاد آئے گی۔
    ایک دوسری حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں ۔
    كنتُ نهيتُكم عن زيارَةِ القبورِ ألا فزورُوها ، فإِنَّها تُرِقُّ القلْبَ ، و تُدْمِعُ العينَ ، وتُذَكِّرُ الآخرةَ ، ولا تقولوا هُجْرًا(صحيح الجامع:4584)
    ترجمہ:میں نے تمہیں زیارت قبور سے روکا تھا لیکن اب تم ان کی زیارت کیا کرو کہ اس سے رقت قلب پیدا ہوتی ہے، آنکھیں پرنم ہوتی ہیں اور آخرت کی یاد آتی ہے اور بری بات نہ کہو۔
    اس حدیث میں زیارت قبر کا جو مقصد بیان کیا گیا اس کا محتاج عورت بھی ہے اور یہاں زیارت قبر میں مردوں کی طرح عورت بھی شامل ہے،آپ ﷺ نے لعنت صرف ان عورتوں پر بھیجی ہے جو بکثرت قبروں کی زیارت کرتی ہے اور جو کبھی کبھار زیارت کرے اس پر لعنت نہیں ہے۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان دیکھیں :
    لعنَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ زوَّاراتِ القبورِ(صحيح ابن ماجه:1290)
    ترجمہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
    عورت کا قبروں کی زیارت کرنے سے متعلق کئی دلائل ملتے ہیں جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنے بھائی عبداللہ عبدالرحمن کی قبر کی زیارت کرنا ، آپ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ ﷺ سے زیارت قبر کی دعا پوچھنا اور قبرکے پاس بیٹھی رونے والی عورت کو نبی ﷺ کا دلاسہ دینا وغیرہ ۔ اس لئے دلائل کی رو سے عورتوں کا کبھی کبھار قبروں کی زیارت کرنا قوی معلوم ہوتا ہے۔

    (2) دوسری قسم : یہ کہ قبر کے پاس قرات کرنے کے لئے،یا وہاں نماز پڑهنے کے لئے ، یا وہاں ذبح کرنے کے لئے جایا جائے تو یہ بدعت ہے اور شرک کے وسائل میں سے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
    ترجمہ : جس نے کوئی ایسا کام کیا جو دین میں سے نہیں تو وہ باطل و مردود ہے۔

    (3) تیسری قسم : یہ ہے کہ قبر کی زیارت میت کے لئے ذبیحہ پیش کرنے اور اس سے ان کا تقرب حاصل کرنے یا اللہ کے علاوہ میت کو پکارنے کی غرض سے یا ان سے مدد مانگنے کی نیت سے ہو تو یہ شرک اکبر ہے،گرچہ میت نبی یا صالح یا ان کے علاوہ ہی کیوں نہ ہو۔
    اللہ تعالی کا فرمان ہے:
    إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ (المائدة:72)
    ترجمہ : جو اللہ کے ساته شرک کرتا ہے اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا اور جہنم اس کا ٹهکانہ ہے۔

    نوٹ : جنازہ کے مسائل کی کثرت کی وجہ سے عنوان میں معمولی تبدیلی کردی گئی ہے نیز یہ مضمون ابھی جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,291
    جزاک اللہ خیرا، تھریڈ کا عنوان تبدیل کر دیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام ( چھٹی قسط)
    مقبول احمد سلفی

    (46) میت کے لئےایصال ثواب کے ناجائز طریقے:

    جنازہ کے نام پر امت میں بے شمار بدعات وخرافات درآئی ہیں جو گنتی سے باہر ہیں ۔ وفات سے لیکر دفن کرنے تک اور تدفین سے لیکر ایصال ثواب کے نام پر رسم ورواج، بدعات وخرافات، شرک وکفر اور تجارت ومعیشت کا ناجائز کھیل کھیلا جاتا ہے۔ مزارات کی تعمیر کرکےمیت سے کمانے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ۔ ایسے ہی حالات کی علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں عکاسی کی ہے ۔

    بجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہو
    بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

    ہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
    کیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے​

    جو آدمی کل تک خود کھانے پینے، چلنے پھرنے، کام کاج کرنے، سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے ، دواوعلاج کرنے، بیماری وشفا، اولاد واطفال، راحت وسکون ، فضل وکرم کے لئے پل پل اللہ کا محتاج تھا آج جسم سے روح نکلنے اور دنیا سے کوچ کرکے قبر میں داخل ہوکریکایک صفات الہیہ سے متصف ہوجاتا ہے۔وہ بارش بھی برساتا ہے، اولاد بھی دینے لگتا ہے، بیماری دور کرنے لگ جاتا ہے،لوگوں کی حاجت پوری کرنے لگتاہے، مشکلیں دور کرنے لگتا ہے، قسمت بنانے اورسنوارنے لگتا ہے۔ اس کے لئے سجدہ اور عبادت روا ہوجاتا ہے۔ اللہ کی پناہ ایسے گمراہ عقائد سے ۔

    یہا ں ہم ان مسائل کا ذکر نہیں کریں گے ورنہ مضمون طویل ہوجائے گا،یہاں میرا مقصد ایسے بعض غیر مشروع اعمال ذکر کرنا ہے جن کے ذریعہ میت کے لئے ایصال ثواب کیا جاتا ہے ۔

    میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھیجنا:

    آج کل ایسا ہوتا ہے کہ لوگ میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھجواتے ہیں، مجلس قائم کرتے ہیں ، اور اسی طرح اہل میت دوسروں کے لئے اپنے گھر کھانا پکاتے ہیں وفات کے دن بھی اورتیرہویں ، چالیسویں پہ بھی سو شریعت سے اس عمل کا حکم جان لینا چاہئے۔

    کسی کے گھر میت ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہئے کہ اہل میت کے لئے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجے ، یہ عمل مسنون ہے ۔ جب جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
    اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا ، فإنَّهُ قد أتاهُم أمرٌ شغلَهُم(صحيح أبي داود:3132)
    ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تيار کرو کیونکہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔

    اسی طرح صحیحین میں یہ روایت موجود ہے ۔
    عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ المَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ المَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔(صحيح البخاري:5417)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کیوجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ۔ صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں ۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ۔ پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔

    تلبینہ :یہ ایک غذا ہے جو سوپ کی طرح ہوتا ہے، جو آٹے اور چھان سے بنایا جاتا ہے، بسا اوقات اس میں شہد ملایا جاتا ہے، اسے تلبینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسکا رنگ دودھ جیسا سفید اور دودھ ہی کی طرح پتلا ہوتا ہے۔بعض لوگ اسے جو کی کھیر بھی کہہ سکتے ہیں۔

    ان دونوں احادیث سے اہل میت کے لئے کھانا پکانا ثابت ہوتا ہے مگر اہل میت کو کھانا کھلانے کے لئے چالیس دن متعین کرنا رسم ورواج میں سے ہےاور اگرچالیس دن کو ثواب سمجھ لیا جائے تو پھر بدعت ٹھہرے گی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
    ترجمہ:جس نے ہمارے دین میں کسی چیز کو ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ چیز مردود ہے۔

    اسی طرح اہل میت کے یہاں جمع ہونا اور پھر ان لوگوں کے لئے اہل میت کا کھانا پکانا نہ صرف زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہے بلکہ یہ نوحہ میں شمار ہے ۔
    كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
    ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔

    امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل میت کا کھانا بنانا، دوسروں کا ان کے یہاں جمع ہونا اس سلسلے میں کوئی چیز منقول نہیں ہے اس لئے یہ کام بدعت اور غیرمستحب ہے ۔ (روضة الطالبين:2/145).
    اس لئے اہل میت کا میت کی وفات پہ تیجا، دسواں، تیرہواں ، چالیسواں یا کوئی اوراس طرح کا دن منانا بدعت ہے البتہ گھر آئے مہمان کی ضیافت کرنا اس سے مستثنی ہے ۔اہل میت کو چاہئے کہ میت کی طرف سے فقراء ومساکین میں بغیر دن کی تعیین کے صدقہ کرے ۔

    قرآن خوانی اور ایصال ثواب :

    قریب المرگ شخص کے پاس بیٹھ کر یا قبر پر کھڑے ہوکر ،بیٹھ کر یا گھروں میں اجتماعی شکل میں بیٹھ کر قرآن خوانی کرنا کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ قرآن کی تلاوت کرکے میت کو اس کا ثواب ہدیہ کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ قرآن تو زندوں کے لئے نازل کیا گیا ہے ،جب تک زندگی ملی قرآن پڑھا، سمجھا اوراس پر عمل کیا یا کسی کو ان باتوں کی توفیق نہ ملی ۔ جب قبر میں چلا گیا تو اس کتاب سے منکرنکیر نے امتحان لیا ، پاس ہوگیا تو خیروعافیت ،فیل ہوگیا تو ذلت ورسوائی ۔ قرآن زندوں کے لئے ہے اس لئے زندہ لوگ اسے پڑھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بنائیں۔ مردوں کے لئے قرآن پڑھناچھوڑدیں اور جان لیں اس کا ثواب کسی دوسرے کو ہدیہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جن احادیث میں میت کے لئے قرآن پڑھنے کا ذکر ہے وہ ضعیف ہیں اور اسکے جوازکے سلسلے میں علماء کے جو اقوال ہیں وہ بلادلیل ہیں ۔

    فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب :

    سورہ فاتحہ ایک عظیم سورت کا نام ہے اور یہ نماز کا رکن ہے ، تعجب ہے لوگوں پر نماز کے فاتحہ کا انکار کرتے ہیں اور اسی نام سے مردوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں جس کا دین میں کہیں اتہ پتہ نہیں ۔ فاتحہ خوانی دین میں ایک نئی ایجاد بدعت ہے ۔ میت کے نام پر گھروں میں جمع ہوکریا کھانا سامنے رکھ کر یا میت کی تدفین کے بعد ایصال ثواب کی نیت سے فاتحہ خوانی کی رسم انجام دی جاتی ہے ۔ نام خوبصورت کام بدعت وگمراہی والا ہے۔ بھلا فاتحہ یا قل یا بلا قل والی دوسری سورتوں سے میت کی بخشش کا کیا تعلق ؟ یا سورہ فاتحہ کے نام سے قل والی سورتوں کے پڑھنے کا کیا مطلب ؟ یا سورہ اخلاص کو اتنی بار اور دوسری سورتوں کو اتنی بار پڑھنے کی کیا دلیل ہے ؟

    کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی تعزیت کریں یعنی اہل میت کو دلاسہ دیں اور میت کی مغفرت کے لئے دعا کریں اور میت کے رشتہ دار میت کے لئے جب چاہیں دعائے مغفرت کریں ، رسم ورواج اور غیرمشروع کاموں سے میت کو فائدہ نہیں پہنچتا۔

    نذرونیاز اور ایصال ثواب :

    میت کے لئے نذرونیاز کرنا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے جانور ذبح کرنا عبادت کے قبیل سے جو کہ سراسر شرک ہے کیونکہ عبادت صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے : اللہ فرمان ہے :

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56)
    ترجمہ: میں نے انسانوں اور جناتوں کی تخلیق صرف اپنی عبادت کے لئے کی ہے ۔

    ایک دوسری آیت میں ہے:
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام:162)
    ترجمہ: اے نبی کہہ دیجیے کہ بلا شبہ میری نماز میری عبادت میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔

    جو لوگ غیراللہ کے نام سے نیاز کرتے ہیں ، غیراللہ کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں ، غیراللہ کے کھانے پکاکر پیش کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ کا یہ فرمان جان لینا چاہئے ۔

    إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرۃ:173)
    ترجمہ: بیشک اللہ نے تم پر مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام پُکارا جائے حرام کردیا ہے لیکن جو مجبور ہو جائے بشرطیکہ بغاوت کرنے والا اور نافرمانی کرنے والا نہ ہو تو اس پر گناہ نہیں، بے شک الله بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

    اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
    لعَنَ اللهُ مَن ذَبِحَ لغيرِ اللهِ (صحيح النسائي:4434)
    ترجمہ: جو شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی (تعظیم اور نذرونیاز) کے لئے جانور ذبح کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔

    ان چندآیات وحدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ عبادت کا سارا کام اللہ کے لئے انجام دینا چاہئے اور غیراللہ کے لئے پیش کئے گئےگیارہویں شریف، ربیع الاول کی شیرنیاں، رجب کا کونڈا، محرم کی سبیلیں، شعبان کے حلوےمٹھائیاں اور عرس و مزارات کے لنگر ، کھچڑے، دیگیں ، پوریاں ، بتاشے ، کھیراور ہر قسم کے نذرونیاز حرام ہیں ۔

    بدنی عبادات اور ایصال ثواب :

    کوئی زندہ آدمی کسی میت کی طرف سے نفلی نماز یا نفلی روزہ رکھ کر اس کا ثواب میت کو پہنچائے ایسی کوئی دلیل شریعت میں وارد نہیں ہے جبکہ بہت سے مسلمان میت کی طرف سے نمازیں ادا کرتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور ان کا ثواب مردوں کو بخشتے ہیں ۔ یہ عمل رسول اللہ ﷺ یا اصحاب رسول سے ثابت نہ ہونے کے سبب جائز نہیں ہے اور اس طرح کرنےسے مردوں کو فائدہ بھی نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح ہزاروں لاکھوں بار کوئی وظیفہ پڑھ کر ، اذکار کرکے، تسبیح پڑھ کر، درود شریف پڑھ کر، تلاوت کرکے، طواف کرکے میت کو ایصال ثواب کرنا غیرمشروع ہے ۔

    ہاں میت کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے لیکن نمازوں کی کوئی قضا نہیں ہے۔ میت کی طرف سے چھوٹے روزوں کی قضا کے سلسلے میں میری مفصل تحریر بلاگ پرپڑھیں۔

    قبروں پرچراغاں کرنا اور پھول چڑھانا:

    کچھ لوگ قبروں پر چراغاں کرنے اور اس پر پھول مالا، چادر چڑھانے کو باعث اجر اور میت کے حق میں مفید تصور کرتے ہیں جبکہ قبروں پر پھول مالا چڑھانا سنت سے ثابت نہیں ہے اور قبروں پہ دیئے جلانے والا شریعت کی نگاہ میں لعنت کا مستحق ہے ایک حدیث میں ہے:'' قبروں پر چراغ جلانے والے پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔''

    اس حدیث کی تشریح میں صاحب المرعاۃ فرماتے ہیں:
    «وفيه رد صريح علي القبورين الذين يبنون القباب علي القبور ويسجدون اليها ويسرجون عليها ويضعون الزهور والرياحين عليها تكريما وتعظيما لاصحابها» (المرعاۃ:١/٤٨٦)
    ترجمہ: اس حدیث میں واضح تردید ہےان قبوریوں کی جو جو قبروں پر قبے بناتے ان کی طرف سجدے کرتے ان پر چراغ جلاتے اور ان پر تعظیم واحترام کی خاطر پھول اور خوشبو رکھتے ہیں۔

    ملا علی قاری قبروں پر چراغاں کی ممانعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    النہی عن اتخاذ السرج اما لما فیہ من تضییع المال لانہ لا نفع لاحد من السراج ولانھا من اٰثار جہنم واما للاحتراز عن تعظیم القبور کالنہی عن اتخاذ القبور ومساجد۔(مرقات: ج1 ص470)
    ترجمہ: قبروں پر چراغاں کرنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے اور اس چراغ سے کوئی فائدہ نہیں اور یہ جہنم کے آثار میں سے ہے اور اس لیے کہ قبروں کی ایسی تعظیم سے بچا جائے جیسا کہ قبروں کو مسجد بنائے جانے سے منع کیا گیا ہے۔

    جہا ں تک رسول اللہ ﷺ کا کھجور کی شاخ کوقبر پررکھناہے تو یہ عمل آپ کے ساتھ ہی خاص تھا اس سے کوئی دوسرا اپنے لئے دلیل نہیں پکڑ سکتا ہے۔

    میت کی طرف سے عقیقہ:

    میت کی طرف سے عقیقہ کا ثبوت نہیں ملتا ہے ، عقیقہ زندوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اس وجہ سے کوئی میت کو ایصال ثواب کی غرض سے اس کا عقیقہ نہ کرے ۔

    میت کی طرف سے قربانی:

    میت کی طرف سے قربانی دینے کے لئے وہی ثبوت پیش کئے جاتے ہیں جو نبی ﷺ کی طرف سے قربانی دینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں اور نبی ﷺ کی طرف سے قربانی دینے کا حکم ثابت نہیں ہے ۔ ہاں کوئی اپنی قربانی میں میت کو شریک کرلے تو اس صورت کو علماء نے جائز کہا ہے ۔ اس سلسلے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو لوگ میت کی طرف سے قربانی دینا چاہتے ہیں وہ قربانی کا پیسہ میت کی طرف سے صدقہ کردیں ، یہ ایسی صورت ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور اس کی دلیل موجود ہے ۔ میت نے اگر قربانی کرنے کی وصیت کی ہو تو پھراس کا نفاذ ضروری ہے ۔

    صدقات وخیرات میں غیرشرعی طریقہ :

    بدعتی مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بعض مواقع سے روحیں صدقات وخیرات کا محتاج ہوتی ہیں اس وجہ سے ان موقعوں پر یہ لوگ ارواح کی جانب سے لوگوں میں خیرات تقسیم کرتے ہیں اس عمل کا کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔

    جاری ان شاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  6. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام ( چھٹی قسط)
    مقبول احمد سلفی


    (46) میت کے لئےایصال ثواب کے ناجائز طریقے:
    جنازہ کے نام پر امت میں بے شمار بدعات وخرافات درآئی ہیں جو گنتی سے باہر ہیں ۔ وفات سے لیکر دفن کرنے تک اور تدفین سے لیکر ایصال ثواب کے نام پر رسم ورواج، بدعات وخرافات، شرک وکفر اور تجارت ومعیشت کا ناجائز کھیل کھیلا جاتا ہے۔ مزارات کی تعمیر کرکےمیت سے کمانے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے ۔ ایسے ہی حالات کی علامہ اقبال نے جواب شکوہ میں عکاسی کی ہے ۔

    بجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہو
    بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو

    ہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
    کیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے​

    جو آدمی کل تک خود کھانے پینے، چلنے پھرنے، کام کاج کرنے، سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے ، دواوعلاج کرنے، بیماری وشفا، اولاد واطفال، راحت وسکون ، فضل وکرم کے لئے پل پل اللہ کا محتاج تھا آج جسم سے روح نکلنے اور دنیا سے کوچ کرکے قبر میں داخل ہوکریکایک صفات الہیہ سے متصف ہوجاتا ہے۔وہ بارش بھی برساتا ہے، اولاد بھی دینے لگتا ہے، بیماری دور کرنے لگ جاتا ہے،لوگوں کی حاجت پوری کرنے لگتاہے، مشکلیں دور کرنے لگتا ہے، قسمت بنانے اورسنوارنے لگتا ہے۔ اس کے لئے سجدہ اور عبادت روا ہوجاتا ہے۔ اللہ کی پناہ ایسے گمراہ عقائد سے ۔

    یہا ں ہم ان مسائل کا ذکر نہیں کریں گے ورنہ مضمون طویل ہوجائے گا،یہاں میرا مقصد ایسے بعض غیر مشروع اعمال ذکر کرنا ہے جن کے ذریعہ میت کے لئے ایصال ثواب کیا جاتا ہے ۔

    میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھیجنا:

    آج کل ایسا ہوتا ہے کہ لوگ میت کے گھر چالیس دن تک کھانا بھجواتے ہیں، مجلس قائم کرتے ہیں ، اور اسی طرح اہل میت دوسروں کے لئے اپنے گھر کھانا پکاتے ہیں وفات کے دن بھی اورتیرہویں ، چالیسویں پہ بھی سو شریعت سے اس عمل کا حکم جان لینا چاہئے۔
    کسی کے گھر میت ہوجائے تو اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہئے کہ اہل میت کے لئے کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھیجے ، یہ عمل مسنون ہے ۔ جب جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کى شہادت کی خبر پہنچی تو رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
    اصنَعوا لآلِ جعفرٍ طعامًا ، فإنَّهُ قد أتاهُم أمرٌ شغلَهُم(صحيح أبي داود:3132)
    ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تيار کرو کیونکہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔

    اسی طرح صحیحین میں یہ روایت موجود ہے ۔
    عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ المَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا، فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: كُلْنَ مِنْهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ المَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الحُزْنِ۔(صحيح البخاري:5417)
    ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کیوجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ۔ صرف گھروالے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں ۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ۔ پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔

    تلبینہ :یہ ایک غذا ہے جو سوپ کی طرح ہوتا ہے، جو آٹے اور چھان سے بنایا جاتا ہے، بسا اوقات اس میں شہد ملایا جاتا ہے، اسے تلبینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اسکا رنگ دودھ جیسا سفید اور دودھ ہی کی طرح پتلا ہوتا ہے۔بعض لوگ اسے جو کی کھیر بھی کہہ سکتے ہیں۔

    ان دونوں احادیث سے اہل میت کے لئے کھانا پکانا ثابت ہوتا ہے مگر اہل میت کو کھانا کھلانے کے لئے چالیس دن متعین کرنا رسم ورواج میں سے ہےاور اگرچالیس دن کو ثواب سمجھ لیا جائے تو پھر بدعت ٹھہرے گی۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    من عملَ عملا ليسَ عليهِ أمرُنا فهو ردٌّ(صحيح مسلم:1718)
    ترجمہ:جس نے ہمارے دین میں کسی چیز کو ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ چیز مردود ہے۔

    اسی طرح اہل میت کے یہاں جمع ہونا اور پھر ان لوگوں کے لئے اہل میت کا کھانا پکانا نہ صرف زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہے بلکہ یہ نوحہ میں شمار ہے ۔
    كنَّا نرى الاجتماعَ إلى أَهلِ الميِّتِ وصنعةَ الطَّعامِ منَ النِّياحة(صحيح ابن ماجه:1318)
    ترجمہ: ہم گروہِ صحابہ اہل میّت کے یہاں جمع ہونے اور ان کے کھانا تیار کرانے کو مردے کی نیاحت سے شمار کرتے تھے۔

    امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اہل میت کا کھانا بنانا، دوسروں کا ان کے یہاں جمع ہونا اس سلسلے میں کوئی چیز منقول نہیں ہے اس لئے یہ کام بدعت اور غیرمستحب ہے ۔ (روضة الطالبين:2/145).

    اس لئے اہل میت کا میت کی وفات پہ تیجا، دسواں، تیرہواں ، چالیسواں یا کوئی اوراس طرح کا دن منانا بدعت ہے البتہ گھر آئے مہمان کی ضیافت کرنا اس سے مستثنی ہے ۔اہل میت کو چاہئے کہ میت کی طرف سے فقراء ومساکین میں بغیر دن کی تعیین کے صدقہ کرے ۔

    قرآن خوانی اور ایصال ثواب :

    قریب المرگ شخص کے پاس بیٹھ کر یا قبر پر کھڑے ہوکر ،بیٹھ کر یا گھروں میں اجتماعی شکل میں بیٹھ کر قرآن خوانی کرنا کتاب وسنت سے ثابت نہیں ہے ۔ قرآن کی تلاوت کرکے میت کو اس کا ثواب ہدیہ کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ قرآن تو زندوں کے لئے نازل کیا گیا ہے ،جب تک زندگی ملی قرآن پڑھا، سمجھا اوراس پر عمل کیا یا کسی کو ان باتوں کی توفیق نہ ملی ۔ جب قبر میں چلا گیا تو اس کتاب سے منکرنکیر نے امتحان لیا ، پاس ہوگیا تو خیروعافیت ،فیل ہوگیا تو ذلت ورسوائی ۔ قرآن زندوں کے لئے ہے اس لئے زندہ لوگ اسے پڑھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بنائیں۔ مردوں کے لئے قرآن پڑھناچھوڑدیں اور جان لیں اس کا ثواب کسی دوسرے کو ہدیہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جن احادیث میں میت کے لئے قرآن پڑھنے کا ذکر ہے وہ ضعیف ہیں اور اسکے جوازکے سلسلے میں علماء کے جو اقوال ہیں وہ بلادلیل ہیں ۔

    فاتحہ خوانی اور ایصال ثواب :

    سورہ فاتحہ ایک عظیم سورت کا نام ہے اور یہ نماز کا رکن ہے ، تعجب ہے لوگوں پر نماز کے فاتحہ کا انکار کرتے ہیں اور اسی نام سے مردوں کو ایصال ثواب کرتے ہیں جس کا دین میں کہیں اتہ پتہ نہیں ۔ فاتحہ خوانی دین میں ایک نئی ایجاد بدعت ہے ۔ میت کے نام پر گھروں میں جمع ہوکریا کھانا سامنے رکھ کر یا میت کی تدفین کے بعد ایصال ثواب کی نیت سے فاتحہ خوانی کی رسم انجام دی جاتی ہے ۔ نام خوبصورت کام بدعت وگمراہی والا ہے۔ بھلا فاتحہ یا قل یا بلا قل والی دوسری سورتوں سے میت کی بخشش کا کیا تعلق ؟ یا سورہ فاتحہ کے نام سے قل والی سورتوں کے پڑھنے کا کیا مطلب ؟ یا سورہ اخلاص کو اتنی بار اور دوسری سورتوں کو اتنی بار پڑھنے کی کیا دلیل ہے ؟
    کسی کی وفات ہوجائے تو اس کی تعزیت کریں یعنی اہل میت کو دلاسہ دیں اور میت کی مغفرت کے لئے دعا کریں اور میت کے رشتہ دار میت کے لئے جب چاہیں دعائے مغفرت کریں ، رسم ورواج اور غیرمشروع کاموں سے میت کو فائدہ نہیں پہنچتا۔

    نذرونیاز اور ایصال ثواب :

    میت کے لئے نذرونیاز کرنا اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے جانور ذبح کرنا عبادت کے قبیل سے جو کہ سراسر شرک ہے کیونکہ عبادت صرف اور صرف اللہ کے لئے ہے : اللہ فرمان ہے :
    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56)
    ترجمہ: میں نے انسانوں اور جناتوں کی تخلیق صرف اپنی عبادت کے لئے کی ہے ۔
    ایک دوسری آیت میں ہے:
    قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام:162)
    ترجمہ: اے نبی کہہ دیجیے کہ بلا شبہ میری نماز میری عبادت میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
    جو لوگ غیراللہ کے نام سے نیاز کرتے ہیں ، غیراللہ کے لئے جانور ذبح کرتے ہیں ، غیراللہ کے کھانے پکاکر پیش کرتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ کا یہ فرمان جان لینا چاہئے ۔
    إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖفَمَنِاضْطُرَّغَيْرَبَاغٍوَلَاعَادٍفَلَاإِثْمَعَلَيْهِۚإِنَّاللَّهَغَفُورٌرَّحِيمٌ (البقرۃ:173)
    ترجمہ: بیشک اللہ نے تم پر مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام پُکارا جائے حرام کردیا ہے لیکن جو مجبور ہو جائے بشرطیکہ بغاوت کرنے والا اور نافرمانی کرنے والا نہ ہو تو اس پر گناہ نہیں، بے شک الله بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
    اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
    لعَنَ اللهُ مَن ذَبِحَ لغيرِ اللهِ (صحيح النسائي:4434)
    ترجمہ: جو شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی (تعظیم اور نذرونیاز) کے لئے جانور ذبح کرتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
    ان چندآیات وحدیث سے ہمیں معلوم ہوا کہ عبادت کا سارا کام اللہ کے لئے انجام دینا چاہئے اور غیراللہ کے لئے پیش کئے گئےگیارہویں شریف، ربیع الاول کی شیرنیاں، رجب کا کونڈا، محرم کی سبیلیں، شعبان کے حلوےمٹھائیاں اور عرس و مزارات کے لنگر ، کھچڑے، دیگیں ، پوریاں ، بتاشے ، کھیراور ہر قسم کے نذرونیاز حرام ہیں ۔

    بدنی عبادات اور ایصال ثواب :

    کوئی زندہ آدمی کسی میت کی طرف سے نفلی نماز یا نفلی روزہ رکھ کر اس کا ثواب میت کو پہنچائے ایسی کوئی دلیل شریعت میں وارد نہیں ہے جبکہ بہت سے مسلمان میت کی طرف سے نمازیں ادا کرتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں اور ان کا ثواب مردوں کو بخشتے ہیں ۔ یہ عمل رسول اللہ ﷺ یا اصحاب رسول سے ثابت نہ ہونے کے سبب جائز نہیں ہے اور اس طرح کرنےسے مردوں کو فائدہ بھی نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح ہزاروں لاکھوں بار کوئی وظیفہ پڑھ کر ، اذکار کرکے، تسبیح پڑھ کر، درود شریف پڑھ کر، تلاوت کرکے، طواف کرکے میت کو ایصال ثواب کرنا غیرمشروع ہے ۔
    ہاں میت کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا ہے لیکن نمازوں کی کوئی قضا نہیں ہے۔ میت کی طرف سے چھوٹے روزوں کی قضا کے سلسلے میں میری مفصل تحریر بلاگ پرپڑھیں۔

    قبروں پرچراغاں کرنا اور پھول چڑھانا:
    کچھ لوگ قبروں پر چراغاں کرنے اور اس پر پھول مالا، چادر چڑھانے کو باعث اجر اور میت کے حق میں مفید تصور کرتے ہیں جبکہ قبروں پر پھول مالا چڑھانا سنت سے ثابت نہیں ہے اور قبروں پہ دیئے جلانے والا شریعت کی نگاہ میں لعنت کا مستحق ہے ایک حدیث میں ہے:'' قبروں پر چراغ جلانے والے پر ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے۔''
    اس حدیث کی تشریح میں صاحب المرعاۃ فرماتے ہیں:
    «وفيه رد صريح علي القبورين الذين يبنون القباب علي القبور ويسجدون اليها ويسرجون عليها ويضعون الزهور والرياحين عليها تكريما وتعظيما لاصحابها» (المرعاۃ:١/٤٨٦)
    ترجمہ: اس حدیث میں واضح تردید ہےان قبوریوں کی جو جو قبروں پر قبے بناتے ان کی طرف سجدے کرتے ان پر چراغ جلاتے اور ان پر تعظیم واحترام کی خاطر پھول اور خوشبو رکھتے ہیں۔
    ملا علی قاری قبروں پر چراغاں کی ممانعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    النہی عن اتخاذ السرج اما لما فیہ من تضییع المال لانہ لا نفع لاحد من السراج ولانھا من اٰثار جہنم واما للاحتراز عن تعظیم القبور کالنہی عن اتخاذ القبور ومساجد۔(مرقات: ج1 ص470)
    ترجمہ: قبروں پر چراغاں کرنے کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے اور اس چراغ سے کوئی فائدہ نہیں اور یہ جہنم کے آثار میں سے ہے اور اس لیے کہ قبروں کی ایسی تعظیم سے بچا جائے جیسا کہ قبروں کو مسجد بنائے جانے سے منع کیا گیا ہے۔
    جہا ں تک رسول اللہ ﷺ کا کھجور کی شاخ کوقبر پررکھناہے تو یہ عمل آپ کے ساتھ ہی خاص تھا اس سے کوئی دوسرا اپنے لئے دلیل نہیں پکڑ سکتا ہے۔

    میت کی طرف سے عقیقہ:
    میت کی طرف سے عقیقہ کا ثبوت نہیں ملتا ہے ، عقیقہ زندوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اس وجہ سے کوئی میت کو ایصال ثواب کی غرض سے اس کا عقیقہ نہ کرے ۔

    میت کی طرف سے قربانی:
    میت کی طرف سے قربانی دینے کے لئے وہی ثبوت پیش کئے جاتے ہیں جو نبی ﷺ کی طرف سے قربانی دینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں اور نبی ﷺ کی طرف سے قربانی دینے کا حکم ثابت نہیں ہے ۔ ہاں کوئی اپنی قربانی میں میت کو شریک کرلے تو اس صورت کو علماء نے جائز کہا ہے ۔ اس سلسلے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جو لوگ میت کی طرف سے قربانی دینا چاہتے ہیں وہ قربانی کا پیسہ میت کی طرف سے صدقہ کردیں ، یہ ایسی صورت ہے جس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے اور اس کی دلیل موجود ہے ۔ میت نے اگر قربانی کرنے کی وصیت کی ہو تو پھراس کا نفاذ ضروری ہے ۔

    صدقات وخیرات میں غیرشرعی طریقہ :

    بدعتی مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ بعض مواقع سے روحیں صدقات وخیرات کا محتاج ہوتی ہیں اس وجہ سے ان موقعوں پر یہ لوگ ارواح کی جانب سے لوگوں میں خیرات تقسیم کرتے ہیں اس عمل کا کتاب وسنت میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔

    جاری ان شاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  7. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام
    (ساتویں قسط)​
    مقبول احمد سلفی

    میت کے لئے ایصال ثواب کے جائز طریقے:
    انسان کی دنیاوی زندگی محدود ہے ،ہرکوئی اپنی حد زندگی تک پہنچ کر دم توڑ دیتا ہے ۔ انسان کی انتہاء موت ہے ۔ موت کے بعد انسان دنیا سے لاتعلق ہوجاتا ہے ، وہ اب کوئی دنیاوی عمل انجام دینے سے قاضر ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی حس وحرکت نظام الہی کے تحت بند ہوجاتی ہے ۔ موت کے سبب اعمال کے منقطع ہونے کی دلیل آگے آرہی ہے ۔ یہ مشاہدہ بھی ہے کہ میت کے تمام اعمال بند ہوجاتے ہیں اسی لئے اس کے رشتہ دار اسے نہلاتے ہیں ، کفن دیتے ہیں ،اپنے کندھوں پراٹھاکر قبرستان لے جاتے ہیں وہاں قبر کھود کر دفن کردیتے ہیں ۔ یہ مشاہدہ بھی بتلاتا ہے اگر میت میں عمل کرنے کی صلاحیت ہوتی تو ان کاموں کے لئے وہ دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا اور اسے مٹی کے نیچے دفن نہیں کرتے جہاں سانس بھی نہیں لے سکتے ۔ یہ تو وہ جگہ جہاں زندوں کو دفن کیا جائے دم گھٹ جائے گا۔ آپ نے دورجاہلیت میں زندہ درگور ہونے والی لڑکیوں کے واقعات پڑھے ہوں گے ، درگور ہونے والی لڑکیا ں قبروں سے واپس نہیں لوٹتیں کیونکہ قبر میں دفن کرنے سے جان نکل جاتی تھی ۔

    اس عنوان کے تحت اتنی تمہید باندھنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں میت کے ایصال ثواب کے تعلق سے بہت سارے خرافات پائے جاتے ہیں ۔ وفات کے بعد تیجا، فاتحہ،قرآن خوانی، نذرونیاز،ساتواں ، دسواں، تیسرہواں، چالیسواں ، برسی اور عرس وغیرہ بدعتی کام کئے جاتے ہیں یہ سب میت کے نام سے، اس کی محبت و عقیدت میں اور اس کو فائدہ پہنچانے کے واسطے انجام دئے جاتے ہیں جبکہ دین محمدی میں ان کاموں کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

    اللہ تعالی نے دنیا میں آنے والے کو جو مہلت دی وہی اس کے لئے عمل کرنے کا محدود وقت تھا جس کی بنیاد پر قیامت میں اللہ تعالی فیصلہ کرے گا۔ جب انسان کی دنیاوی مہلت ختم ہوگئی ، اس کی موت واقع ہوگئی اب نہ وہ کوئی کام کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا کے کسی بندے کا عمل اسے فائدہ پہنچائے گا۔ اللہ تعالی نے قرآن میں اور نبی کریم ﷺ نے اپنے فرامین میں اس بات کو کئی پیرائے میں بیان کیا ہے ۔

    اس سلسلے میں چند دلائل کا مطالعہ کرتے ہیں اور میت کے ایصال ثواب کے واسطے پہلے اسلام کے چند بنیادی اصول دیکھتے ہیں پھر ان بعض مشروع طریقوں کو بیان کیا جائےگا جن کے ذریعہ میت کے لئے ایصال ثواب کرسکتے ہیں ۔

    (1) میت کوئی عمل نہیں کر سکتا ہے: اس کی دلیل آگےآرہی مسلم شریف کی حدیث ہے کہ جب آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ۔

    (2) میت بول بھی نہیں سکتاہے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
    أَنَّ رجلًا قال للنبيِّ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ أمِّي افْتُلِتَتْ نفسُها ، وأظنُّها لو تكلمَتْ تَصدَّقَتْ ، فهل لها أجرٌ إِنْ تَصدَّقَتْ عنها ؟ قال : نعم .(صحيح البخاري:1388)
    ترجمہ: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔

    (3) کوئی میت کو اس کی قبر میں سنا بھی نہیں سکتا ہے : اللہ کا فرمان ہے : إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ (النمل:80)
    ترجمہ: بے شک آپ نہ مردوں کو سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے جبکہ وہ پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں ۔

    (4)آخرت میں کوئی بیٹا بھی اپنے باپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتاہےچہ جائیکہ غیر ہو: اللہ کا فرمان ہے :
    يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ (لقمان :33)
    ترجمہ: لوگو !اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس دن باپ اپنے بیٹے کو کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا اور نہ بیٹا اپنے باپ کا ذرا سا بھی نفع کرنے والا ہوگا ( یاد رکھو ) اللہ کا وعدہ سچا ہے ( دیکھو ) تمہیں دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز ( شیطان ) تمہیں دھوکے میں ڈال دے ۔

    (5) ہرکوئی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے: اللہ کا کلام ہے: وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ(فاطر:18)
    ترجمہ: کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

    (6) جتنا جس کے پاس عمل ہوگا اتنا ہی بدلہ پائے گا۔ اللہ کا فرمان ہے : وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ (النجم:39)
    ترجمہ: انسان کو صرف اپنی محنت کا صلہ ملتا ہے ۔

    (7) جس کے پاس عمل کی کمی ہوگی اور مجرم قرار پائے گا ، آخرت میں کوئی مددگار نہ پائے گا تو اللہ سے دوبارہ عمل کرنے کے لئے دنیا میں آنے کی درخواست کرے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:
    وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ (السجدۃ:12)
    ترجمہ: کاش کہ آپ دیکھتے جبکہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے ، کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ۔

    (8) آخر کار قیامت میں انسان کو خود انہی کا عمل فائدہ پہنچائے گا، نہ مال کام آئے گا ،نہ اولاد کام آئے گی۔ اللہ کا فرمان ہے :
    يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (الشعراء :88)
    ترجمہ: جس دن کہ مال اور اولاد کچھ کام نہ آئے گی ۔

    مضمون جاری ہے،،،،
     
    Last edited: ‏جولائی 19, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  8. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام (آٹھویں قسط)
    مقبول احمد سلفی

    (47) میت کے لئے ایصال ثواب کے جائز طریقے :
    ابھی ابھی آپ نے ایصال ثواب کے چند اصول پڑھے اوراس سے پہلے یہ بتلایا گیا ہے کہ میت کو غیرمشروع طریقوں سے ایصال ثواب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور ان غیرمشروع طریقوں کا بھی ذکر کیا گیا جو لوگوں میں رائج ہے ، اب یہاں میت کے لئے ایصال ثواب کے مشروع طریقے ذکر کئے جاتے ہیں جن سے میت کو ثواب پہنچتا ہے۔

    اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ بعض کام ایسے ہیں دنیا میں جن کی انجام دہی سے خود بخود کو میت کو اس کی قبر میں ان کاموں کا ثواب دیا جاتا ہے ۔ ان کاموں کا ذکر صحیح مسلم کی مندرجہ ذیل روایت میں ہے ۔
    حضرت ابوہریرہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا:
    إذا مات الإنسانُ انقطع عنه عملُه إلا من ثلاثةٍ : إلا من صدقةٍ جاريةٍ . أو علمٍ ينتفعُ به . أو ولدٍ صالحٍ يدعو له(صحيح مسلم:1631)
    ترجمہ: جب انسان وفات پاجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین عمل ایسے ہیں جن کا اجروثواب اسے مرنے کے بعدبھی ملتا رہتا ہے ۔ صدقہ جاریہ،علم جس سے فائدہ اٹھایاجاتا ہو،صالح اولاد جو مرنے والے کے لیے دعا کرے ۔
    اس حدیث میں تین کاموں کا ذکر ہے جن کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے وہ تین کام صدقہ جاریہ، نفع بخش علم اور صالح اولاد کی دعا ہیں۔

    صدقہ جاریہ سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنی حیات میں سماج کے فائدہ کے لئے کوئی بھی ایسا کام کیا ہو جو اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہے مثلا لوگوں کی بھلائی کے لئے سڑک ، کنواں ،پل، ہسپتال، نل،مسافرخانہ، یتیم خانہ، تعلیم گاہ اور سجدہ گاہ بنایا ہو تو ان کاموں کا اجر قبر میں میت کو اس وقت تک ملتا رہے گا جب تک ان کاموں سےلوگوں کا بھلا ہوتا رہے گا۔ وہ لوگ بھی اس اجر میں شامل ہوں گے جنہوں نے میت کو ان کاموں پر ابھاراہوگا يا ان کاموں میں مدد کیا ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رہے کہ اگر انسان دنیا میں ایسی کوئی بری چیز قائم کرکے جاتا ہے جس سے سماج میں برائی پھیلتی ہے، فتنہ وفساد اور فسق وفجور کا سبب ہے تو میت کے عذاب میں اضافہ ہوگا مثلا کوئی فلم ہال ، جواگھر، نائٹ کلب، بیربار، ڈانس باروغیرہ بناکے مر جائے ۔ اللہ کی پناہ ایسی موت سے ۔

    نفع بخش علم سے مراد انسان کا زندگی میں لوگوں کو قرآ ن وحدیث کی تعلیم دینا، دینی کتابیں لکھنا، لکھوانا اور ان کی نشرواشاعت کرنا، تقریر وتحریر کے ذریعہ لوگوں کی علمی رہنمائی کرنا، حصول علم کے لئے کسی قسم کی راہ ہموار کرنا مثلا معلم کی تنخواہ دینا، مدرسہ کی تعمیروترقی میں حصہ لینا، کتابوں کی اشاعت اور طلبہ کے اخراجات برداشت کرناوغیرہ ۔ ان کاموں کا اجر ان سب کو بھی ملے گا جنہوں میت کو ان کاموں کی طرف رہنمائی کی ہو یا ان کاموں پر کسی طرح کا تعاون کیاہو۔ ساتھ ہی یہاں یہ بات بھی معلوم رہے کہ اگر کوئی شخص زندگی میں لوگوں کو ایسی تعلیم دیتا ہے جس سے گمراہی پھیلتی ہے ، ایسی کتاب یا مضمون لکھتا ہے جس سے علم نہیں جہالت کو شہ ملتی ہے یا ایسی تقریر اور خطبہ دیتا ہے جس سے امت میں اختلاف وانتشار، فرقہ پرستی ، کتاب وسنت سے دوری اور اعمال صالحہ سے تنفرد پیدا ہوتا ہے تووفات کے بعد ایسے میت کے عذاب میں اضافہ کیا جائے گا۔دنیا میں ایسے علماء سوء کی آج کل بڑی تعداد ہے۔اللہ کی پناہ ایسی موت سے ۔

    صالح لڑکا کی دعا سے مراد میت اپنے پیچھے نیک اولاد (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ ، نواسی وغیرہ) چھوڑے اور یہ میت کے لئے دعائے خیرکرےتو میت کو اس کا ثواب ملتا ہے ۔ جس طرح والدین کی تربیت یافتہ اولاد کے نیک اعمال کا فیض والدین کو پہنچتا ہے اسی طرح استاد /رہنما اپنی علمی رہنمائی کی وجہ سے رہنمائی پانے والوں کی نیکی سے اجر پاتے ہیں ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم رہے کہ اگر ہم نے اولاد کی تربیت نہیں کی جس کی وجہ سے وہ غلط راستے پر چل پڑا تو ہمیں اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    اس لئے ہم میں سے ہرمسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی میں یہ تینوں نیک کام کرکے جائے یا ان کاموں پر جس طرح کا ممکنہ تعاون کرسکتا ہےاس طرح کا تعاون کرکے جائے تاکہ ان کا اجر قبر میں بھی ملتا رہے اورایسا کوئی کام کرکے نہ مرے جس سے عذاب میں دوگنااضافہ ہوتا ہے بلکہ برے کاموں پر ذرہ برابر بھی تعاون نہ کرے ، اللہ تعالی نے ہمیں شر کے کاموں پر تعاون کرنے سے منع کیا ہے۔ ممکن ہے ہم میں سے کسی سے ایسی خطا سرزد ہوگئی ہوجس کی بدولت قبر میں عذاب بڑھ سکتا ہے تو مرنے سے پہلے توبہ کرلے، کسی نے کمائی کے واسطے مزار بنالیا تھا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا وہ اللہ سے توبہ کرے اور اس مزار کو ڈھادے تاکہ شرک وکفر کا دروازہ بند ہوجائے پھر کوئی وہاں غیراللہ سے فریاد نہ کرے، نہ کسی قبروں کو سجدہ کرے ۔کسی نے اپنی تقریر وتحریر کے ذریعہ امت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی وہ اس سے رجوع کرلے ، کسی نے ناج گانے ، شراب وکباب اور فسق وفجور کے کاموں پربرے لوگوں کا تعاون کیا تھا وہ سچے دل سے توبہ کرلے اللہ تعالی بڑا ہی بخشنے والا ہے۔

    مضمون جاری ۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جولائی 19, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 11, 2015
    پیغامات:
    668
    جنازہ کے اہم مسائل واحکام
    (نویں قسط )​

    مقبول احمد سلفی

    میت کے لئے ایصال ثواب کے مشروع طریقے :
    قاعدہ یہی ہے کہ ہے میت کو اصلا اپنے ہی عمل کا ثواب ملتا ہے جیساکہ چند بنیادی اصول کے تحت ہم نے دلائل سے اندازہ لگایا ہے اور پھر مسلم شریف کی حدیث سے معلوم ہوا کہ میت نے خود اپنی زندگی میں صدقہ جاریہ ، نفع بخش علمی کام کیا ہو یا صالح اولاد چھوڑی ہو جو دعا کرے تو میت کو ان تین کاموں کا اجر قبر میں ملتا ہے ۔ یہ تینوں کام خود میت نے کئے ہیں تو ان کا اجر باقی رہتا ہے ۔

    شریعت میں ایسے بھی بعض کام ہیں جن کو میت نے خود نہیں کیا ہے ، کوئی دوسرا میت کی جانب سے انجام دے گا اور ان کا اجر میت کو قبر میں پہنچے گا ۔ وہ چند کام ہیں جنہیں ہم ایصال ثواب کے مشروع طریقے کہہ کہتے ہیں ۔

    ٭ میت کے قرض کی ادائیگی :
    قرض کا معاملہ بہت ہی سنگین ہے ،اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے جس کے ذمہ قرض باقی رہ گیا قیامت میں اس کی نیکی بقدربدلہ قرض خواہ کو دیدی جائے گی ۔بخاری میں ہےجب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایسے شخص کا جنازہ لایا جاتا جس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے پوچھتے کہ کیا یہ شخص اپنا قرض ادا کرنے کے لئے کچھ مال چھوڑ کر مرا ہے؟ اگر یہ بتایا جاتا کہ یہ شخص اتنا مال چھوڑ کر مرا ہے جس سے اس کا قرض ادا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جناہ پڑھ لیتے اور اگر یہ معلوم ہوتا کہ کچھ بھی چھوڑ کر نہیں مرا ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ خود نہ پڑھتے بلکہ مسلمانوں سے فرماتے : ( صلُّوا على صاحبكم) تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔(صحيح البخاري:2298)
    نبی ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے: نفسُ المؤمنِ معلَّقةٌ بِدَينِه حتَّى يُقضَى عنهُ(صحيح الترمذي:1078)
    ترجمہ: مؤمن کی روح اپنے قرض کی وجہ سے اس وقت تک معلق رہتی ہے جب تک کہ اس کا قرض ادا نہ ہو جائے ۔
    اس لئے وفات کے بعد ممکن ہوتو دفن سے پہلے ہی ورنہ تدفین کے فورا بعد میت کے ترکہ میں سے اس کے قرض کی ادائیگی کرے ۔ اگر میت نے ترکہ نہیں چھوڑا ہے تو کوئی دوسرا بھی میت کا قرض ادا کرسکتا ہے ۔ اس سے میت کا قرض ادا ہوجائے گا ۔ اس کی دلیل مستدرک حاکم(2346) میں جابر بن عبداللہ سے مروی روایت ہے ایک شخص کے ذمہ دو دینار تھااس کا انتقال ہوگیا ، اس نے ترکہ بھی نہیں چھوڑا ،یہ بات آپ کو معلوم ہوئی تو آپ نے کہا اپنے بھائی کا جنازہ پڑھ لوپھر ابوقتادہ نے اس کی ذمہ داری لی تو آپ نے جنازہ پڑھا یا، آپ نے فرمایا: (هما عليكَ، وفي مالِكَ، والميِّتُ منهُما برئ)وہ دونوں تمہارے ذمہ اور تمہارے مال میں ہیں اور میت ان سے بری ہے؟۔ اگلے دن آپ نے اس صحابی سے پوچھا دو دینار کا کیا ہواکہا کہ ادا کردیاتو آپ نے فرمایا: (الآنَ حينَ برَّدتَ علَيهِ جلدَهُ)اب اسے سکون ملا۔

    ٭ موحد مسلمان کی جنازے میں شرکت اور سفارش کرنا :
    نبی ﷺ کا فرمان ہے : ما من رجلٍ مسلمٍ يموتُ فيقوم على جنازتِه أربعون رجلًا ، لا يشركون بالله شيئًا إلا شفَّعهم اللهُ فيه(صحيح مسلم:948)
    ترجمہ:جو بھی مسلمان فوت ہو جا تا ہے اور اس کے جنا زے پر (ایسے )چالیس آدمی (نماز ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہو جا تے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہر اتے تو اللہ تعا لیٰ اس کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول فر لیتا ہے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :ما من ميِّتٍ تُصلِّي عليه أمَّةٌ من المسلمين يبلغون مائةً . كلُّهم يشفعون له . إلَّا شُفِّعوا فيه(صحيح مسلم:947)
    ترجمہ:کو ئی بھی (مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے ۔
    ان دونوں حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس میت کے جنازہ میں کثیر تعداد شامل ہو اور وہ سب موحد ہوں یعنی شرک کرنے والے مسلمان نہ ہوں اور وہ موحد مسلمان میت کے لئے سفارش کریں تو اللہ ان موحدین کی سفارش قبول کرتا ہے ۔

    ٭ میت کے لئے دعاواستغفار:
    میت کے لئے ہمہ وقت دعا کرنا مشروع ہے ، نبی ﷺ نے وفات ہونے پر گھروالوں کو، میت کی خبر پانے پر ،نماز جنازہ میں ،دفن کرنے کے بعد ، قبرستان کی زیارت کرتے وقت صرف دعا کی تعلیم دی ہے ۔ میت کے حق میں دعا مفید اور اجر کے باعث ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ(الحشر: ١٠)
    ترجمہ: ور جو لوگ ان کے بعد آئے وہ دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی مغفرت فرما جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے:إذا صلَّيتُم على الميِّتِ فأخلِصوا لَه الدُّعاءَ(صحيح أبي داود:3199)
    ترجمہ: جب تم میت کی نماز( جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔
    تدفین کے فورا بعد نبی ﷺ کا فرمان ہے:استغفِروا لأخيكُم ، وسَلوا لَهُ التَّثبيتَ ، فإنَّهُ الآنَ يُسأَلُ(صحيح أبي داود:3221)
    ترجمہ:تم لوگ اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعا کرو اور اس کے لئے ثبات قدمی مانگو کیونکہ اس وقت اس سے سوال کیا جارہا ہے۔
    نبی ﷺ کا عمومی فرمان ہے : دعوةُ المسلمِ لأخيه ، بظهرِ الغيبِ ، مُستجابةٌ . عند رأسِه ملَكٌ مُوكَّلٌ . كلما دعا لأخيه بخيرٍ ، قال الملَكُ الموكلُ به : آمين . ولكَ بمِثل " .(صحيح مسلم:2733)
    ترجمہ: مسلمان کی اس کے بھائی کے لئے اس کے پیٹھ پیچھے کی دعا قبول کی جاتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے جو جب جب یہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعا کرتا ہے تو کہتا ہے آمین اور تیرے لئے بھی اسی کے مثل ہو ۔
    ان کے علاوہ بے شمار دلائل ہیں جن سے پتہ چلتا ہے میت کو دعاواستغفار کا فائدہ ہوتا ہے ، سلف وخلف نے اس پر بلاتردد کثرت سے عمل کیا ہے اس لئے ہمیں کثرت کے ساتھ میت کے حق میں دعائے استغفار کرنا چاہئے ۔

    ٭میت کی جانب سے صدقہ وخیرات :
    میت کی جانب سے مالی صدقہ کرنا اجر کا باعث ہے ۔ میت کے مال سے ہو یا اپنے مال سے ، صدقہ اولاد کرے یا کوئی اور میت کو صدقہ کا ثواب پہنچتا ہے اس بات پر متعدد علماء نے اجماع اور اتفاق نقل کیا ہے۔ احادیث سے یہ بات ثابت ہے۔ سعد بن عبادہ سے روایت ہے وہ پوچھتے ہیں:
    يا رسولَ اللهِ ! إنَّ أمي ماتت ، أفأتصدقُ عنها ؟ قال : نعم . قلتُ : فأيُّ الصدقةِ أفضلُ ؟ قال : سقْيُ الماءِ(صحيح النسائي؛3666)
    ترجمہ: یا رسول اللہ! میری والدہ وفات پاگئیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو وہ انہيں فائدہ دے گا؟ فرمایا: ہاں، میں نے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے تو آپ نے فرمایاپانی پلانا۔
    حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے:
    أنَّ رجلًا قال : يا رسولَ اللهِ ! إنَّ أُمَّهُ تُوفيت ، أفينفعُها إن تصدقتُ عنها ؟ قال : نعم ، قال : فإنَّ لي مخرفًا ، فأُشهدُك أني قد تصدقتُ به عنها(صحيح النسائي:3657)
    ترجمہ: ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول!میری والدہ فوت ہو گئی ہے - اگر میں اس کی جانب سے صدقہ کردوں تو کیا اسے فائدہ ہو گا؟ آپ نے فرمایا:ہاں-اس آدمی نے کہا :میرے پاس ایک باغ ہے -میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس کی طرف سے صدقہ کر دیا ہے۔
    میت کی طرف سے مالی طور پر کوئی بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے مثلا مسکینوں کو کھانا کھلانا، قرآن خرید کر ہدیہ کرنا، دینی کاموں میں صدقہ دینا، مساجد ومدارس کی تعمیر کرنا، مسافرخانہ، نہر، کنواں ، سڑک وغیرہ بنانا ۔
    میت کی جانب سے سب سے افضل صدقہ پانی پلانا ہے اس بابت اوپر حدیث گزری ہے ۔

    ٭ میت کے نام سے حج وعمرہ:
    مشروع ایصال ثواب میں میت کی جانب سے حج وعمرہ کرنا بھی شامل ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
    أنَّ امرأةً من جُهينةَ، جاءت إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ فقالت : إن أمي نذرت أن تحجَّ، فلم تحج حتى ماتت، أفأحجُّ عنها ؟ قال : نعم، حجي عنها، أرأيتِ لو كان على أمكِ دينٌ أكنتِ قاضيتِة ؟ . اقضوا اللهَ، فاللهُ أحقُّ بالوفاءِ .(صحيح البخاري:1852)
    ترجمہ: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میری ماں نے حج کرنے کی نذر مانی تھی۔ مگر اسے حج کیے بغیر موت آگئی ہے۔ آیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟آپ نے فرمایا::ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ مجھے بتاؤ اگر تمھاری ماں کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟اللہ کا حق بھی ادا کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ لائق ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔
    میت کی طرف سے حج کی طرح عمرہ بھی کرسکتے ہیں اور میت کے اوپر حج فرض تھا، وہ بغیر حج کئےوفات پاگیا اور اس نے مال بھی چھوڑا تب تو اس کے وارث پر واجب ہے کہ اس کی جانب سے حج کرے خواہ وصیت کی ہو یا نہ کی ہولیکن اگر مال نہیں چھوڑا تو واجب نہیں ہے تاہم وارث کے لئے اپنے مال سے حج بدل کرنے کا استحباب باقی رہتا ہے۔اسی طرح غیرمستطیع (مرجائے)میت کی جانب سے بھی حج وعمر کرنا جائزہے۔حج وعمرہ بدل کرنے والے کے لئے شرط ہے کہ پہلے وہ اپنا حج وعمرہ کر چکا ہو۔ ایک ساتھ اپنی اور میت کی نیت نہیں کرسکتا ۔ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے حج وعمرہ بدل کرسکتے ہیں۔

    ٭ نذر،کفارات اورچھوٹے روزے کی قضا:
    میت کے ذمہ رمضان کے چھوٹے روزے ، کفارات کے روزے اور نذر کے روزے باقی ہوں تو اس کے وارثین کے ذمہ ہے کہ وہ ان کی قضا کرے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : من مات وعليه صيامٌ, صام عنه وليُّه.( صحيح البخاري:1952، صحيح مسلم:1147)
    ترجمہ: جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ اس کے ذمہ روزے تھے تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزے رکھے گا۔
    میت کی طرف سے چھوٹے ہوئے روزوں کے متعلق تفاصیل ہیں جنہیں میں نے الگ مضمون میں ذکر کیا اس کا مطالعہ کرنے کے لئے میرے بلاگ کی زیارت کریں ۔

    ٭ وصیت کئے گئے نیکی کے کاموں کا نفاذ:
    وصیت دوچیزوں سے متعلق ہوتی ہے ، ایک مال سے متعلق اور دوسری اعمال سے متعلق ۔
    مال سے متعلق ایک وصیت تو یہ ہے کہ آدمی کے اوپر لوگوں کے حقوق ہوں اس کی وصیت کرے مثلاقرض ، امانت وغیرہ ۔مال سے متعلق دوسری وصیت عام ہے وہ کسی غیر وارث کو دینے کے لئےتہائی مال یا اس سے کم کی وصیت کرنا ہےمثلا بیٹے کی موجودگی میں بھائی کوکچھ مال کی وصیت کرنا۔
    اعمال سے متعلق ایک وصیت مال کے ساتھ معلق ہے یعنی وصیت کرنے والا اپنی وفات کے بعد اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی وصیت کرجائے مثلا مسجد بنانے، یتیم خانہ تعمیر کرنے ، جہاد میں پیسہ لگانے ، غیر متعین مسکین وفقراء میں متعین مال تقسیم کرنے کی وصیت کرنا۔ اعمال سے متعلق ایک دوسری وصیت بغیر مال کے ہے ، وہ اس طرح کہ وصیت کرنے والا اپنی اولاد،اعزاء واقرباء کو نمازکی وصیت، تقوی کی وصیت، شرک سے بچنے کی وصیت اور دیگر اعمال صالحہ کی وصیت کرے اور یہ عظیم وصیت ہے۔
    لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
    وَإِذْ قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (لقمان:13)
    ترجمہ: اور جب کہ لقمان نے وعظ کرتے ہوئے اپنے لڑکے سے فرمایا کہ میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بےشک شرک بھاری ظلم ہے۔
    میت کے وارثین کو چاہئے کہ میت نے جن چیزوں کی وصیت کی ہے اگر ان میں کوئی شرعی مخالفت نہیں ہے تو اسے نافذ کرے ۔
    حضرت ثرید بن سوید ثقفی ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:
    أتيتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليْهِ وسلَّمَ ، فقلتُ : إنَّ أمي أوصتْ أن تُعتقَ عنها رقبةٌ ، وإنَّ عندي جاريةً نوبيَّةً ، أفيُجزئُ عني أن أعْتِقَها عنها ؟ قال : ائْتِني بها . فأتيتُه بها ، فقال لها النبيُّ : من ربك . قالت : اللهُ ! قال : من أنا . قالت : أنت رسولُ اللهِ ! قال : فأعتِقْها فإنها مؤمنةٌ(صحيح النسائي3655)
    ترجمہ: میں رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میںحاضر ہوا اور عرض کیا کہ میری والدہ نے (وفات کے وقت) وصیت کی تھی کہ میری طرف سے ایک غلام آزاد کیا جائے۔ میرے پاس ایک حبشی لونڈی ہے۔ اگر میں اسے آزاد کرادوں تو کیا میری ذمہ داری ادا ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آ۔‘‘ میں لے کر آیا نبیﷺ نے اسے فرمایا: تیرا رب کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ۔ آپ نے فرمایا:میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے آزاد کردے۔ یہ مومن ہے۔

    ایصال ثواب کے ان مشروع طریقوں کے علاوہ میت کی طرف سے اور کوئی عمل انجام نہیں دینا چاہئے ۔ سب سے بہتر ہے کثرت سےاس کے حق میں دعا کرے اور جس قدر صدقہ کرسکتا ہے صدقہ کرے ۔ میت کی جانب سے قربانی اور عقیقہ کا بھی ثبوت نہیں ہے اس لئے ان دو کاموں اور پہلے بیان کردہ ایصال ثواب کے ناجائز طریقے سے بچے ۔ دین میں نئی ایجاد بدعت کہلاتی ہے اور ہر بدعت گمراہی کا نام ہے اور ہرگمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں