قرآنِ مجید اور حدیثِ قدسی میں فرق

محمدیاسین راشد نے 'حدیث - شریعت کا دوسرا اہم ستون' میں ‏جنوری 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدیاسین راشد

    محمدیاسین راشد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 21, 2017
    پیغامات:
    16
    [قرآنِ مجید اور حدیثِ قدسی میں فرق]
    از: محمدیاسین راشد
    -----------------------------------------------------------------------------
    (حدیثِ قدسی کی لغوی و اصطلاحی تعریف)

    لغوی تعریف:
    القدسي: نسبة إلى "القدس" أي الطهر، كما في القاموس( القاموس ج1، ص248)
    أي الحديث المنسوب إلى الذات القدسية، وهو الله سبحانه وتعالى.
    "قدسی نسبت "قدس" کی طرف ہے جس کے معنی پاکیزگی کے ہیں یعنی وہ حدیث جس کی نسبت ذاتِ قدسیہ یعنی اللہ تعالی کی ذاتِ گرامی کی طرف ہو."

    اصطلاحی تعریف:
    هو ما نقل عن النبي صلى الله عليه وسلم، مع إسناده إياه إلى ربه عز وجل.
    ( الرسالة المستطرفة، ص81، وقواعد التحديث، ص65)
    وہ حدیث جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کریں، حدیث قدسی کہلاتی ہے.

    (حدیثِ قدسی نام)
    حدیثِ قدسی کے علاوہ اس اور بھی نام
    مثلا "حدیث الالٰھی"جیسا کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاوی میں فرماتے ہیں:
    في اول ھذاالحدیث الالٰھي.......)
    اور "حدیث ربانی" بھی کہتے ہیں جیساکہ مولانا عبیداللہ مبارکپوریرحمہ اللہ "مرعاة المفاتيح393/1 میں فرماتے ہیں:
    "الاحادیث الربانیة القدسية".....)

    (تعداد)
    احادیثِ قدسیہ کی تعداد احادیث نبویہ کی طرح نہیں بلکہ ان کی تعداد دو سو سے متجاوز ہے.

    (اس فن پر لکھی گئی تالیفات)
    اس پر علماء نے الگ سے کتابیں تالیف کی ہیں جن میں
    (1)"اتحاف السنیة بالاحادیث القدسیة" جو کہ امام مناوی رحمہ اللہ کی کتاب ہے اس میں احادیث قدسیہ کی تعداد 272 ہے.
    (2)"الاحادیث القدسیة الاربعینیة" لملا علي قاري رحمہ اللہ
    (3)مشکاة الانوار لابن عربي

    (قرآن مجید اور حدیثِ قدسی میں فرق)

    (1) قرآنِ کریم لفظی اور معنوی اعتبار سے اللہ تعالی کی طرف سے ہے جبکہ حدیثِ قدسی معنوی اعتبار سے اللہ تعالی اور لفظی اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے.

    (2) قرآن مجید کی بالمعنی روایت جائز نہیں جبکہ حدیثِ قدسی کی بالمعنی روایت جائز ہے.

    (3) قرآن مجید مکمل تواتر کے ساتھ منقول ہے جبکہ حدیثِ قدسی میں تواتر کے ساتھ احاد ،صحیح، حسن، اور ضعیف بھی ہیں.

    (4) قرآن کریم کی تلاوت پر اجر وثواب کا حصول جبکہ حدیثِ قدسی کی تلاوت پر اجر نہیں ہے.

    (5) قرآن مجید کی تقسیم سورتوں آیات اور احزاب کے لحاظ سے جبکہ حدیثِ قدسی کی تقسیم ایسی نہیں ہے .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,282
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں