ڈارک ویب کیا ھے؟

کنعان نے 'متفرقات' میں ‏جنوری 22, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,807
    السلام علیکم

    حالیہ قصور واقعہ پر کچھ انکشافات ہوئے ہیں جس پر سب کو علم ہونا ضروری ہیں اس لئے اس پر ایک معلوماتی پوسٹ سیفٹی کے لئے شیئر کر رہا ہوں جس کا سب کو علم ہونا ضروری ہے تاکہ آپ خود اور اپنی فیملی کو محفوظ بنا سکیں، اگر انتظامیہ کو کوئی اعتراض ہو تو بغیر نوٹیفکیشن کے پوسٹ کو ڈیلیت کر سکتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    2009ء میں بھارتی شہر ممبئی کے ایک اپارٹمنٹ سے رادھا نامی چھ سالہ بچی کی تشدد زدہ لاش ملی تھی جسے جنسی درندگی کے دوران شدید جنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئی تھی، زبان نوچی گئی تھی۔ ممبئی پولیس نے اس کیس کی تحقیقات قاتل کے نفسیاتی ہونے کے زاویے پر کیں اور قاتل ک وسیریل کلر کا نام دے کر فائل کو بند کر دیا تھا، لیکن اصل میں معاملہ یہ نہیں تھا۔ ٹھیک دوسال بعد ممبئی ہی میں بیٹھے ہوئے ایک ہیکر نے ڈارک ویب کی کچھ جنسی ویب سائیٹس کو ہیک کیا تو وہاں اسے رادھا کی ویڈیو ملی۔ ویڈیو پر دو سال قبل کیے جانے والے لائیو براڈ کاسٹ (Live Broadcast) کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔ ہیکر نے ممبئی پولیس کو آگاہ کیا تو تفتیش کو پ انڈسٹری سے جوڑ کر تحقیقات کی گئیں۔

    ان تحقیقات کے بعد ہولناک اور انتہائی چشم کشا انکشافات سامنے آئے۔ رادھا کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ اور کلائیاں کاٹنے کے ٹاسک ملے تو ہاتھ اور کلائیاں کاٹی گئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چھریاں مارنے کا ٹاسک ملا تو بے دردی سے چُھریاں ماری گئیں۔۔ اور اس براڈکاسٹ کے لیے کئی لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔۔ تحقیقات کا دائرہ اور بڑھایا گیا تو بڑے بڑے بزنس مینوں سے لے کر سیاست دانوں تک لوگ اس قتل کی واردات سے جڑے ہوئے پائے گئے۔ پولیس والوں کے پرَ جلنے لگے تو فائل بند کر دی گئی اور آج تک قاتل کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی زینب قتل کیس میں بھی ہوا ہے۔

    قصور میں جنسی درندگی کے بعد تشدد اور پھر قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ زینب قصور شہر میں قتل کی جانے والی بارہویں بچی ہے۔۔ پولیس کہتی ہے قاتل سیریل کلر ہے لیکن اس تک پہنچ نہیں پاتی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم کی شکل واضح ہونے کے باوجود غلط خاکہ تیار کیا جاتا ہے۔۔ پولیس کی یہی حرکتیں ہیں جس کے باعث ان بارہ بچیوں میں سے ایک بھی مقتولہ بچی کا کیس آج تک حل نہیں ہو سکا۔ کیا پولیس واقعی اتنی نااہل ہے یا کیس اتنا ہی سادہ ہے؟۔۔ اصل میں معاملہ یہ نہیں بلکہ معاملہ مبینہ طور پر مقامی ایم این اے، ایم پی اے اور اس دھندے میں ملوث پولیس کے اعلیٰ عہدیداران کو بچانے کا ہے۔ اس دھندے سے وابستہ بزنس میں بڑے بڑے نام ملوث ہیں۔
    (جمیل فاروقی)

    ڈارک ویب کیا ھے؟
    آپ جو انٹرنیٹ دن رات چلاتے ہیں، اس کے متعلق کتنی معلومات ہیں آپ کو؟؟؟
    کیا آپ جانتے ہیں کہ جتنا انٹرنیٹ آپ روز استمعال کرتے ہیں وہ کل انٹرنیٹ کا صرف چار فیصد ھے—؟
    جی ہاں ! اور اسے Surface web یا lightweb کہتے ہیں —!

    اس کے بعد نمبر آتا ھے deeb web کا، جو کل انٹرنیٹ کا باقی 96% ھے—-! اور یہ آپکے استعمال میں موجود Surface web سے 5000 ہزار گنا بڑا اور وسیع ھے، اس میں Surface web استعمال کرنے والے ہر شخض، ہر ادارے اور ہر حکومت کی ہر قسم کی معلومات جمع ہیں —!

    لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی! کیونکہ Deep web کا ایک حصہ ھے جو تمام انٹرنیٹ کا تھل ھے، وہ Dark web یا Black net کہلاتا ہے—! کوئی نہیں جانتا کہ یہ کتنا حجم رکھتا ھے مگر، یہاں دنیا کا ہر غیر قانونی و غیر انسانی کام ہوتا ھے—-! منشیات، اسلحہ اور عورت کی خرید و فروخت سے لے کر ایک انسان کو ذبح کر کے گوشت کھانے تک Deep web عام براؤذرکے ذریعہ باآسابی کھل سکتی ہے۔ مگر اسے کوئی سرچ نہیں کر سکتا۔ اسکے کھلنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ جس نے ڈیپ ویب کی وہ سائٹ بنائی ہے اسکا لنک جو چند الٹے سیدھے کوڈ نما الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے اسے کسی بھی برائوذر میں میں ڈال کر انٹر کر دیا جائے تو سائٹ کھل جاتی ہے۔ جب کہ dark web کسی بھی عام برائوذر سے کبھی بھی نہیں کھلتی ماسوائے ٹور پراجیکٹ نامی برائوذر کے جسکی سائٹس کی ایکسٹینشنز onion ہوتی ہیں جو صرف ٹور برائوزر پر ہی کھلتی ہے. اسکا بھی سائٹ لنک عجیب الٹے سیدھے کوڈ نما نمبرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اسکا سائٹ کوڈ معلوم ہو تب ہی کھلتی ہے. مگر tor کے کچھ اپنے سرچ انجن ہیں جن پر مطلوبہ سائٹ یا مطلوبہ ویڈیوز یا مطلوبہ مواد کو گوگل کی طرح سرچ کر کے باآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

    اسی میں مزید ایک قدم آگے red rooms ہے۔ جہاں بند کمروں میں دنیا کا بدترین تشدد دکھایا جاتا ہے۔جیسے زندہ انسانوں کی کھال اتارنا۔ آنکھیں نکالنا۔ناک کان آلئہ ؟؟؟؟ وغیرہ کاٹنا اسمیں سلاخیں گھسانا وغیرہ وغیرہ۔

    اس سب کے بعد اس سب کا باپ Marianas web ہے۔ جسے نہ کوئی جان سکا نہ جانتا ہے اور نہ اس تک پہنچنا آسان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں دنیا کی چند بڑی طاقتوں کے قیمتی راز دفن ہیں جیسے اسرائیل امریکہ وغیرہ نیز اسکے ٹاپ آپریٹرز iluminaties ہیں جہاں دنیا بھر کے الومناٹیز کا ڈیٹا بیس موجود ہے۔

    ڈارک ورلٖڈ میں ایک خاص قسم کی ویب سائٹس کو ریڈ رومز کہا جاتا ہے وہاں تک رسائی تقریبا ناممکن ہے ۔۔۔ ڈارک ویب ورلڈ میں یہ سب سے خفیہ رومز ہیں۔ ۔۔وہاں تک رسائی بنا پیسوں کے نہیں ہوتی ۔۔۔ ان سائٹس پر جانور یہ انسانوں پر لائیو تشدد کیا جاتا ہے اور بولیاں لگائی جاتی ہیں ۔۔۔ آپ بٹ کوئن کی شکل میں پیسے ادا کر کے فرمائش کر سکتے ہو کہ اس جانور یا انسان کا فلاں اعضا نکال دو ۔۔۔ حقیقی زندگی میں اگر آپ اعتراف کرتے ہیں کہ آپ ریڈ رومز تک گئے ہو ۔۔۔ آپ کو صرف وہاں جانے کے اعتراف پر بھی جیل جانا پڑے گا۔۔
    ۔ ایسی ایک ویب سائٹ بھی موجود ہے جہاں پر یورپ بھر میں کسی کے بھی قتل کی سپاری دے سکتے ہیں ۔۔۔ عام شخص کا قتل بیس ہزار یورو ۔۔۔۔ صحافی کا قتل ستر ہزار یورو اور سلیبرٹی کے قتل کا ریٹ ایک لاکھ یورو سے شروع ہوتا ہے۔ ایک ویب سائٹ کا کلیم ہے کہ وہ مردہ بچوں کی روحیں فروخت کرتے ہیں۔


    پنک متھ ایک ویب سائٹ ہوتی تھی جو کہ 2014 میں ٹریس کر کے بین کر دی گئی ۔۔۔ وہاں لوگ اپنی سابقہ گرل فرینڈز، بیوی سے انتقام کی خاطر ان کی عریاں تصاویر بیچتے تھے اور ویب سائٹس ان لڑکیوں کے نام، ہوم ایڈریس اور فون نمبر کے ساتھ یہ تصاویر شیئر کرتی تھی ۔۔۔ اس ویب سائٹ کی وجہ سے چار سے زیادہ لڑکیاں خود کشی کر چکی تھیں۔ لیکن یہ ویب سائٹ باز نہیں آئی ۔۔۔ ایف بی آئی نے دو ہزار چودہ میں اس کے خلاف تحقیات شروع کیں اور اس کا سرور ٹریس کر کے بند کر دیا۔۔ مالکان آج تک فرار ہیں۔۔۔ (ویب سائٹ چونکہ اب آپریٹ نہیں کرتی اسلیے نام بتا دیا)۔

    ڈارک ورلڈ یا ڈیپ ورلڈ میں کچھ ایسی گیمز بھی پائی جاتی ہیں جو عام دنیا میں شاید بین کر دی جائیں۔ ایسی ہی ایک خوفناک گیم کا نام ” سیڈستان (شیطان ) ” ہے ۔۔۔ اس گیم کے گرافکس اس قدر خوفناک ہیں کہ عام دنیا میں کوئی بھی گیم اسٹور اس گیم کی اجازت نہیں دے گا۔ انسانی اسمگلنگ کا سب سے بڑا گڑھ ڈارک ویب ورلڈ کو کہا جاتا ہے ۔۔۔ یہاں خواتین کو بیچنے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔۔ جوزف کاکس جو کہ ایک ریسرچر ہیں وہ 2015 میں ڈیپ ویب ورلڈ پر ریسرچ کر رہے تھے ۔۔۔ ایسے میں اسی ورلڈ میں انھیں گروپ ٹکرایا جس کا نام "بلیک ڈیتھ ” تھا اور انھوں نے جوزف کو ایک عورت بیچنے کی آفر کی جس کا نام نکول بتایا اور وہ گروپ اس عورت کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالرز مانگ رہا تھا۔۔

    کینی بال یعنی آدم خوروں کا ایک فورم ہے جہاں کے اراکین ایک دوسرے کو اپنے جسم کے کسی حصے کا گوشت فروخت کرتے ہیں ۔۔۔ جیسا پچھلے دنوں وہاں ایک پوسٹ لگی جس کے الفاظ یہ تھے
    ” کیا کوئی میری ران کا آدھا پاونڈ گوشت کھانا چاہے گا؟ صرف پانچ ہزار ڈالرز میں ۔۔۔ اسے خود کاٹنے کی اجازت ہو گی۔۔۔”


    جہاز تباہ ہونے کے بعد بلیک باکس (جہاز کا ایک آلہ) تلاش کیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ایسے میٹریل سے بنا ہوتا ہے جو تباہ نہیں ہوتا ۔۔۔ اس بلیک باکس میں پائلٹ اور کو پائلٹ کی آخری ریکاڈنگز ہوتی ہے ۔۔۔ اس سے پتا چل جاتا ہے کہ تباہ ہونے سے پہلے کیا ہوا تھا ۔۔۔ ایک ویب سائٹ پر تباہ شدہ جہازوں کی آخری ریکاڈنگز موجود ہیں ۔۔۔ وہاں نائن الیون کے جہاز کی آڈیو فائل بھی موجود ہے ۔۔۔

    ایک ویب سائٹ جوتے، پرس، بیلٹ وغیرہ بیچتی ہے اور ان کا یہ دعوی ہے کہ یہ انسانی کھالوں سے بنے ہیں۔۔۔

    لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔۔۔ آپ اس بارے بزنس انسائیڈر، ریڈٹ، یا مختلف فورمز پر آرٹیکلز بھی پڑھ سکتے ہیں لیکن ڈارک ویب ورلڈ ایسی گھناونی دنیا ہے جس کے بارے بس اتنا سا ہی جاننا ضروری ہے۔۔۔

    دنیا میں تین قسم کے ویب ہیں۔

    ۱ سرفیس ویب
    ۲ ڈیپ ویپ
    ۳ مریانہ ویب یا ڈارک ویب

    ۱ سرفیس ویب
    سرفیس ویب وہ ویب ہے جو ہم میں سے ہر کوئی استعمال کرتا ہے جس میں روز مرہ کے کام یعنی گوگل فیس بک ویکیپیڈیا یوٹیوب وغیرہ تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ وہ ویب سائٹس ہوتیں جو انڈیکسڈ ہوئیں ہوتیں ہیں۔ جن کے لنکس کو گوگل کے اندر ایڈ کیا جاتا ہے۔ جنھیں ہم سرچ کرتے ہیں تو اُن کے تک رسائی ممکن ہے۔


    ۲ ڈیپ ویب
    یہ وہ ویب سائٹس ہوتیں ہیں جو انڈیکسڈ نہیں ہوئی ہوتیں۔
    یہ بنک ریکارڈز، میڈیکل ریکارڈز، سائنٹیفک رپورٹز، اکیڈیمک انفارمیشن، یعنی تمام ایسی سائٹز ہیں۔ جن تک رسائی تب ہی حاصل کی جا سکتی ہے جب اُن کا ایڈریس ہمارے پاس ہو۔ یعنی اُن کے ایمپلائی یا کسٹمر یا سٹوڈنٹس ہی رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جن کے پاس پاسورڈ اور یوزر آئی۔ ڈی ہو مریانہ ویب یا ڈارک ویب اسے مریانہ ٹرنچ کی نسبت سے مریانہ ویب کا نام دیا گیا ہے جو سمندر کا سب سے گہرا حصہ ہوتا جہاں پہنچنا مُشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ ان ویب سائٹس تک پہنچنے کے لیے مخصوص براوزر یوزر آئی۔ ڈی اور پاسورڈ کی ضرورت ہوتی۔


    یہ وہ وہ جگہ ہے جہاں ایک عجیب ہی دنیا شیطانیت میں ڈوبی ہوتی ہے۔ یہ وہ ویب ہے جہاں تک پہنچا نہیں جا سکتا اور پہنچنا چاہیں تو غیر قانونی ہونے کے ساتھ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ یہاں جو لوگ کام کرتے ہیں اُن کے سرورز بھی پرائیویٹ ہوتے ہیں۔ یہاں پر کسی بھی ریگولر براوزر سے رسائی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ایک مخصوص براوزر ہے ٹی۔ او۔ آر۔ یعنی TOR اسی کے ذریعے ہم یہاں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ویب تک رسائی حاصل کرنے سے ہماری انفارمیشن اِن تک جا سکتی ہے جس کو یہ اپنے کسی بھی گندے مقصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور ہمیں پھنسا سکتے ہیں۔ یہاں پیسوں کی ادائیگی کے لیے بِٹ کوئین کرنسی متعارف کروائی گئی ہے جو ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے۔

    یہ ویب خفیہ ادارے، مافیا، ہٹ مین، سیکرٹ سوسائٹیز استعمال کرتیں ہیں۔ یہاں پر کاروبار ہوتا ہے۔ ڈرگز کا، ویپنز کا، کنٹریکٹ کلنگز کا، چائیلڈز پورنو گرافی کا، پرائیویٹ لائیو فائٹس کا، ملکوں کے راز چُرانے اور بیچنے کا، انسانی اعضاء بیچنے اور خریدنے کا، لوگوں کے بنک اکاونٹس ہیک کرنے کا۔ یعنی ہر دو نمبر کام یہاں پر ہوتا ہے۔ ان کو پکڑنا بہت ہی مُشکل ہے ایک طرح سے ناممکن ہے۔

    ہمارا اصل مُدعا یہ نہیں اصل مُدعا ہے پاکستان میں ہونے والے لگاتار بچوں کے اغوا اُن کے ساتھ جنسی تشدد اور اُن کو مار دینا۔ بچوں کا قتل پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن پاکستان میں سچ کو ہمیشہ مسخ کیا جاتا رہا۔ اور پاکستان میں ہی کیوں دنیا کے بیشتر ممالک میں یہی سب ہو رہا ہے۔آج سے بائیس برس پہلے کا ایک کیس کچھ دوستوں کو یاد ہو گا جاوید اقبال مغل سو بچوں کو قتل کرنے والا درندہ جو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُن کو قتل کرتا تھا اور اُن کی لاشوں کو تیزاب میں جلا دیتا تھا۔ جاوید اقبال مغل جسے جسٹس اللہ بخش رانجھا نے سو دفعہ پھانسی پر چڑھانے کا حُکم دیا تھا۔ اُسے ایک نفسیاتی مریض کہا گیا تھا۔ روزنامہ ڈان کی 2001 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطاق جاوید اقبال مغل نے ایک ویڈیو گیم سینٹر بنایا ہوا تھا جہاں وہ بچوں کو ٹریپ کرتا تھا اُن کے ساتھ جنسی تشدد کرتا تھا اُنھیں پیسے دیتا تھا اور ڈرا دھمکا کر چپ کروا دیتا تھا۔

    قتل کرنے کے لیے وہ گھر سے بھاگے بچوں اور فُٹ پاتھ پر رہنے والے غریب بچوں کا انتخاب کرتا تھا۔ 3 دسمبر 1999 کو ایک اردو اخبار کے دفتر پہنچ کر اُس نے اعتراف کیا تھا۔ کہ میں جاوید اقبال ہوں سو بچوں کا قاتل میں نے سو بچوں کا قتل کیا ہے اور مجھے نفرت ہے اس دنیا سے مجھے بچوں کو قتل کرنے پر کوئی ندامت نہیں ہے۔ جاوید اقبال مغل اور اُس کی اعانت کرنے والوں کو موت کی سزا سنائی گئی اور بعد میں جاوید اقبال اور اُسکے ساتھی نے جیل میں زہر کھا کر خود کشی کر لی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کسی خفیہ ہاتھ نے اُن کو ختم کروا دیا تھا اور یہ کیس تھا ہیومین آرگنز کی اسمگلنگ کا۔ یعنی بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیوز اور بعد میں اُن کو قتل کرکے اُن کے جسمانی اعضاء بیچے گئے تھے اور جاوید اقبال مغل کو خاموش کروا دیا گیا۔ خفیہ ہاتھوں کے لیے کئی جاوید اقبال کام کرتے ہیں۔

    2015 کا ایک بڑا اسکینڈل جس میں 2006 سے لیکر 2015 تک تین سو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کر کے اُن کی ویڈیوز بنائی گئیں اور اُس سارے معاملے میں پولیس اور ایم۔ پی۔ اے ملک احمد سعید کو ملوث بتایا گیا۔ ہم جس طرح سے ہر کیس کو جہالت اور نفسیاتی پیچیدگیوں کو وجہ بنا کر چُپ ہو جاتے ہیں ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک ملٹی ٹریلین انڈسٹری ہے۔ ابھی حال ہی میں قصور میں زینب بھی اسی جنسی تشدد کا شکار ہوئی اور بعد میں اُس کی لاش کچرے میں پائی گئی۔ اور پورے پاکستان میں ہی یہ ہو رہا مذہبی کمیونٹی لبرلز کو اسکی وجہ مانتے ہیں اور لبرلز اس کو مولویوں پر تھوپ رہے بھائی لوگ یہ اتنا سادہ کام نہیں ہے یہ کسی محرومی کی وجہ سے یا نفسیاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے نہیں ہو رہا یہ کاروبار ہے۔ بہت بڑا کاروبار ہے مثال کے طور دنیا کے کچھ امیر لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ڈارک ویب پر جاتے جہاں وہ کسی مخصوص ویب سائیٹ کے ممبر ہوتے وہاں باقاعدہ لائیو دیکھایا جاتا یہ سب وہ باقاعدہ اپنی ڈیمانڈ پر بچے کے ساتھ یا عورت کے ساتھ جنسی تشدد کرواتے اور بولی لگاتے کہ اس کے ساتھ یہ کرو تو اتنے پیسے لے لو اور وہ کرو تو اتنے پیسے۔

    پرائیویٹ فائٹس میں کسی ایک فائٹر کے مرنے تک یہ لوگ بولیاں لگاتے رہے ہم لوگ ایک ایسی شیطانی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کی شیطانیت پوری طرح سے انسانیت پر غالب آچُکی ہے جس کی وجہ ہے اچھے لوگوں کی خاموشی۔ نکلو جاگو اُٹھو ورنہ دنیا سے اُٹھ جاو گے۔ یہاں کچھ بُرے لوگ اپنے تھوڑے سے فائدے کے لیے انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی کیا حالت ہے۔ کرپشن، بے ایمانی، رشوت خوری ہمارا شیوہ بن چکا ہے۔ ہم چُپ ہیں یوں جیسے مر چُکے ہیں۔ میری مُلک کے اہم اداروں سے درخواست ہے کہ قصور میں بھارتی دخل اندازی کو بھی چیک کیا جائے۔ مجھے پورا یقین ہے ان آرگنائزڈ کرائم کے پیچھے سرحد پار سے بھی کچھ سرکاری اور غیر سرکاری لوگ ضرور شامل ہوں گے۔ ہمیں اُٹھنا پڑیگا ورنہ ایک عام انسان کی پہلے سے جہنم زندگی اور بھی جہنم بن جائے گی.

    تحریر: رستم علی خان

    22/01/2018
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,169
    پڑھتے ہی رونگٹے کھڑے ہوگۓ۔ دنیا میں اس طرح کے لوگ بھی پاۓ جاتے ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,268
    کچھ بعید نہیں شیطانیت اپنے عروج پر ہے اور انسانیت سسک رہی ہے۔
     
    Last edited: ‏مارچ 16, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ماجد افضل

    ماجد افضل نوآموز

    شمولیت:
    ‏مارچ 14, 2018
    پیغامات:
    11
    توبہ اللّه معاف کرے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں