افغانستان – داعش کا بچوں کی تنظيم پر حملہ

Fawad نے 'خبریں' میں ‏جنوری 25, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    https://www.urduvoa.com/a/ngo-office-attacked-in-jalalabad-24jan2018/4221582.html

    ايک بار پھر دہشت گردوں کی جانب سے معاشرے کے غير محفوظ طبقے کو دانستہ نشانہ بنايا گيا۔

    داعش کی جانب سے بچوں کی بہبود کے ليے کوشاں "سيو دا چلڈرن" جيسی معروف عالمی تنظيم پر ظالمانہ حملے نے ان کے اس لغو دعوے کی حقيقت بے نقاب کر دی ہے کہ وہ معاشرے کے پسے ہوۓ طبقے کی حفاظت کے ليے اپنی نام نہاد خلافت کی راہ ہموار کر رہے ہيں۔

    اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے۔ بچوں اور ان افراد پر حملہ جو بے يارومددگار بچوں کی مدد کے ليے کوشاں ہیں، کوئ مقدس لڑائ يا آزادی کی جدوجہد نہيں بلکہ بزدلی اور بدترين دہشت گردی کے زمرے ميں آتا ہے۔

    "سيو دا چلڈرن" ايک ايسی تنظيم ہے جس نے کافی عرصے سے انتہائ شفاف انداز ميں دنيا بھر ميں مقامی حکومتوں اور متعلقہ عہديداروں کے ساتھ مکمل تعاون سے فرائض سرانجام ديے ہيں۔

    يہ بے سروپا دليل اور توجيہہ کہ اس قسم کے حملے کسی بھی طور جائز قرار ديے جا سکتے ہيں کيونکہ يہ امريکی يا مغربی مفادات کو نقصان پہنچانے کے ليے ہيں – بالکل لغو ہيں۔ حقيقت يہ ہے کہ سيو دا چلڈرن نامی يہ تنظيم سال 1976 سے افغانستان ميں سرگرم عمل ہے جس دوران صحت، تعليم اور غذائ تحفظ سے متعلق منصوبوں پر عمل کيا گيا اور اس کے مثبت اثرات لاکھوں بچوں اور ان کے خاندانوں تک پہنچے۔

    يہ تصور کہ چند گنے چنے غيرملکی کارکن اور رضاکار جو مقامی افغان اہلکاروں اور ملازمين کے مکمل تعاون، حمايت اور افغان حکومت کی اجازت اور علم کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہيں، ان پر حملوں سے داعش کے يہ دہشت گرد "مقدس جنگجو" کا درجہ حاصل کر ليں گے صرف ايک مضحکہ خيال کہانی ہی تصور کيا جا سکتا ہے۔

    "سيو دا چلڈرن" نے 120 سے زائد ممالک ميں اپنی خدمات سرانجام ديں اور اس دوران امريکہ اور ديگر ممالک ميں لاکھوں بچوں کی مدد کی گئ۔


    انسانی بنيادوں پر اس تنظيم کی عالمی کاوشوں سے متعلق رپورٹ کا لنک پيش ہے۔


    https://campaigns.savethechildren.net/report


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    https://af.usembassy.gov/secretary-tillersons-statement-attack-kabul-intercontinental-hotel/


    افغانستان – عام شہری ايک بار پھر نشانہ – دہشت گردوں کی بزدلی عياں

    افغانستان کے شہر کابل ميں نہتے شہريوں پر ايک اور دانستہ حملہ جس کا واحد مقصد زيادہ سے زيادہ بے گناہوں کو ہلاک کرنا تھا۔ حملے ميں 22 شہری ہلاک ہوۓ۔ دہشت گردوں نے چودہ گھنٹے تک شہريوں کو يرغمال بناۓ رکھا جس دوران درجنوں شہری شديد زخمی بھی ہوۓ۔

    قريب 150 شہريوں کو محفوظ مقام تک پہنچايا گيا جن ميں 41 غير ملکی شہری بھی شامل تھے۔

    ہلاک ہونے والوں ميں امريکی شہريوں کے علاوہ، يوکرائن کے چھ شہری، وينزيليا کے دو کپتان، کازگستان کا ايک شہری اور ايک شہری جرمنی کا بھی شامل تھا۔

    سال 2011 ميں بھی اسی ہوٹل کو دہشت گردی کا نشانہ بنايا گيا جس کے نتيجے ميں 21 شہری ہلاک ہوۓ تھے۔

    طالبان نے انتہائ ڈھٹائ کے ساتھ اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، باوجود اس کے کہ ان کی جانب سے بارہا يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ وہ نہتے شہريوں پر حملے نہيں کرتے ہيں۔



    بچوں سميت مقامی افغان شہريوں کی تصاوير ديکھنے کے باوجود کوئ بھی اس دليل پر کيسے قائل ہو سکتا ہے کہ طالبان کے حملے ميں شہريوں کو نشانہ نہيں بنايا گیا تھا۔

    طالبان کی جانب سے يہ لغو دعوی کہ وہ صرف عسکری عمارات کو نشانہ بناتے ہيں اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ اس حملے کے بعد درجنوں عام شہری ہلاک ہوۓ اور سينکڑوں زخمی ہوۓ۔

    حملے کی سنگينی اور بے شمار ہلاکتوں سے واضح ہے کہ حملے کا مقصد کسی مخصوص عسکری مقام يا چند افراد کو ٹارگٹ کرنا نہيں بلکہ دانستہ زيادہ سے زيادہ عام شہريوں کو ہلاک کرنا تھا تا کہ دہشت اور بربريت پر مبنی اپنی مہم کو وسعت دی جا سکے۔

    مسلح طالبان تواتر کے ساتھ يہ دعوی کرتے ہيں کہ وہ کسی بھی طور عام افغان شہريوں کو محفوظ کرنے کی سعی کر رہے ہيں۔ يہ دليل اس ليے بھی ناقابل فہم ہے کيونکہ ايک عشرے سے زائد عرصے پر محيط ان کے مظالم اور طريقہ کار سے واضح ہے کہ ان کی تمام تر توجہ اسی بات پر رہی ہے کہ خودکش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور عوامی مقامات، عمارات اور اہم شہری اثاثوں کی بربادی جيسی کاروائيوں کو بطور جنگی حکمت عملی کے استعمال کيا جاۓ۔

    يہ بات حيران کن ہے کہ بعض راۓ دہندگان ابھی تک سرحد کے دونوں جانب طالبان اور دہشت گردوں کی کاروائيوں اور ان کے مجموعی رويے کے حوالے سے تذبذب اور ابہام کا شکار ہيں اور اس پر بحث کرتے رہتے ہيں۔ بدقسمتی سے يہ دہشت گرد اپنے طرزعمل کے ضمن ميں ايسے کسی مخمصے کا شکار نہيں ہيں۔ يہ اپنی مخصوص سوچ اور نظريے پر کامل اور پختہ يقین رکھتے ہیں۔ يہ اپنے آپريشنز کی تکميل ميں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہيں کرتے اور بے گناہ انسانوں کے خلاف جاری دہشت گردی کی مہم کو جاری رکھنے ميں انھيں کوئ پيشمانی نہيں ہے۔

    جو راۓ دہندگان دہشت گرد کے ہر واقعے کے بعد بال کی کھال اتارنے لگتے ہيں اور محض بحث در بحث کو بنياد بنا کر دہشت گردوں کی کاروائيوں کے حوالے سے شکوک اور شبہے کا اظہار کرتے ہیں انھيں چاہيے کہ وہ مجموعی صورت حال اور زمين پر موجود حقائق کا جائزہ لیں اور اس حقیقت کا ادراک کريں کہ بے گناہ شہريوں، عورتوں اور بچوں کی حفاظت ان کے لائحہ عمل کا حصہ نہيں ہے۔ اس کے برعکس وہ انسانی جانوں کے ضياع کے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہيں تا کہ ان تصاوير کے ذريعے اپنی خونی سوچ کا پرچار کريں اور اپنی صفوں ميں مزيد افراد کو شامل کريں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جی اور افغان حکومت نے حسب سابق اپنی بیان بازی کا رخ پاکستان کی جانب کر دیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو پاکستان کی حکومت اور نہ ہی عوام کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    @Fawad افغانستان کے تعلق سے نئی اطلاع صرف اسی تھریڈ میں دی جائیں..نیا تھریڈ شروع نا کیا جائے.شکریہ
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,438
    حسب سابق نہیں بلکہ یہ ہونا تھا.. ہم نے موصل والے تھریڈ میں فؤاد سے معصومانہ سوال کیا تھا کہ داعش ختم ہو گئی. مگر اس کا خلیفہ، لیڈر کہاں گیا؟ جواب نہیں آیا.
    http://www.urdumajlis.net/threads/38171/page-4#post-503882
    ان دنوں ایک خبر مغربی اخباروں کی شہ سرخی بنی کہ داعشی بھاگنے والے بچے القاعدہ میں شامل ہو رہے ہیں. پھر حمزہ بن لادن کی ایران میں موجودگی کی خبر آئی. اور یہ بھی کہ وہ اب غائب ہے. شاید افغانستان میں ہو. اور اب داعش کی افغانستان میں کاروائیاں شروع ہو گئی. بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ اگلا ہدف پاکستان ہے. جس کی تیاری ہو رہی ہے.. اللہ خیر کرے
     
    • متفق متفق x 1
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    962
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    دہشتگردوں اور شدت پسندوں کا اپنے سیاسی ايجنڈے کے حصول کی خاطر انسانيت کے خلاف بربريت کا سلسلہ بدستور جاری


    https://www.reuters.com/article/us-...r-in-kabul-after-ambulance-bomb-idUSKBN1FG086




    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں