تبلیغی جماعت کی نا ہضم ہونے والی باتیں

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جنوری 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    بے شک یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہے ،گزشتہ جمعہ کی بات ہے گھر کے سامنے مسجد ہے جہاں پر تبلیغی جماعت والے شب جمعہ گزارتے ہیں تو عشاء کی جماعت سے فارغ ہوکر اپنے دوست مولانا کے ساتھ بیٹھا تھا اور اندر بیان ہورہا تھا اور ہم اپنی کچھ ذاتی باتوں میں مصروف تھے ،پھر وہ مجھے بولے کہ یہ یعقوب بھائی بہت اچھی بات کرتے ہیں ،میں اکثر عام لوگوں کے بیان میں نہیں بیٹھتا لیکن ان کے کہنے پر اندر جاکر بیٹھ گیا اور پھر کچھ باتیں مجھے ہضم نہیں ہوئیں ،

    1- قبر میں حور آئے گی اور ایمان والے کا دل بہلائے گی اور پھر وہ واپس جانا چاہے گی تو یہ اسے کہے گا مزید رک جا اور وہ نہ کرے گی اسی کش مکش میں اس کا ہاتھ سے کے گلے میں پڑے ہار پر جاپڑے گا اور وہ ہار ٹوٹے گا اور موتی بکھر جائیں گے اور یہ دونوں موتی اکٹھے کرنا شروع ہونگے اور اتنے میں قیامت آجائے گی

    2- اللہ کی نہ مانوں گے تو جہنم کے 500 فرشتے آئیں گے قبر میں

    3- جانور بھی وفا کرتے ہیں اگر اللہ کے راستے میں ہو تو دیکھو "جرار " رضی اللہ عنہ (ضرار بن ازور کو تلفظ کی غلط کی وجہ سے جرار کہہ رہے تھے) نے ایک معرکہ میں اپنے گھوڑے کو آدھا دن گزرنے کے بعد کان میں کہا اے گھوڑے دیکھنا بے وفائی نہ کرنا مجھے خبر ہے کہ تو تھک چکا ہے اور میں دشمنوں کے نرغے میں ہوں تو گھوڑے کے آنسوں نکل پڑے

    4- اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ جیسی محنت کرو گے تو آپ کو بھی منبر پر سے 50 میل دور کا لشکر دیکھائی دے گا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی قربانی دے کر ان جیسے بن سکتے ہو

    اور بھی باتیں تھیں ،اس بیان میں 6 عالم بیٹھے ہوئے تھے ،میں اٹھکر گھر آگیا ،دوسرے دن مولانا سے ملاقات ہوئی تو میں نے انسے یہ سب باتیں کی لیکن وہ خاموشی اختیار کرگئے اور دوسرا انکو کہیں جانا تھا تو اس لیۓ جلدی میں تھے ،انکے بعد انکے بڑے بھائی جو کہ امام و خطیب ہیں اسی مسجد میں تو انسے بات ہوئی اور میں نے کہا آپ برا نہ مانیے گا میں اصلاحی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات کر رہا ہوں ، جب سب انکے گوش گزار کیا تو بولے میں تو بیان میں سو رہا تھا اور فون آنے پر میں اٹھ کر نکل گیا تھا اور واقعی میں وہ مجھ سے پہلے چلے گئے تھے، بولے بہت اچھا کیا آپ نے بتایا میں ضرور ان سے بات کروں گا

    جو میں نے انکو اپنی طرف سے کہا

    1-2 کے بابت : یہ کس نے کہا اور کہاں سے انہوں نے پڑھا ہے ؟ اسکی دلیل کیا ہے ؟

    3- کے بابت :یہ کس نے کہا اور کہاں سے انہوں نے پڑھا ہے ؟ اسکی دلیل کیا ہے ؟ یہ کہ گھوڑا رونے لگا ،یہ سب تو شیعہ کی من گھڑت کربلا سے منسوب ہے اور انہوں نے ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے جوڑ دیں ؟

    4- کے بابت :یہ کونسا منطق بیان کر رہے ہیں ؟ کوئی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اجر کو پا سکتا ہے ان جیسا ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان خود تفریق فرما دی فتح مکہ سے پہلے اور بعد والوں کے درمیان اور یہ ابھی کے لوگوں کو انکے برابر کرنے منطق بیان کر رہے ہیں

    اور یہ منطق تو مرزا قادیانی لعین کے بارے میں اسکے پیروکار کہتے ہیں کہ وہ محنت کرتے ہوئے نبی کے درجہ کو جا پہنچا اور میں بذات خود کہتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی لعین اپنی ہی غلاظت میں منہ مارتے ہوئے جہنم کی طرف پہنچا،

    میں نے مولانا کو یاد دلایا کے آپکے سامنے شیخ الحدیث نے کیا فرمایا تھا ؟

    اب یہ بات سامنے آئی تو آپ سب کے سامنے یہ واقعہ بھی بیان کردوں ،ہوا کچھ یوں کہ ایک مولانا انڈیا سے تشریف لائے اور یہ بات 2016 کے رمضان کی ہے اور یہ مولانا میرے سسر صاحب کے شاگرد بھی تھے انگلش کلاس کے

    اب انہوں نے بیان کیا اسی مسجد میں اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ بیان کیا اور پھر دو واقعات بیان کیے

    1- ایک رات رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی کے صحن میں لیٹے ہوئے تھے اور آسمان پر چوھدویں کا چاند چمک رہا تھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا کبھی چاند کو دیکھتیں کبھی آپ ﷺ کو بالاخر اس نتیجے پر پہنچیں کہ آسمان سے زیادہ مدینے کا خوبصورت ہے

    2- جب آذان ہوتی تو رسول اللہ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور کسی کو نہ پہچانتے، ایک مرتبہ آذان ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے آکر کندھے پر ہاتھ رکھا تو آپ نے ہاتھ جھٹک دیا

    تو انہوں نے عرض کیا " انا عائشہ "

    رسول اللہ ﷺ : من عائشہ ؟

    عائشہ رضی اللہ عنہا : عائشہ بنت ابا بکر

    رسول اللہ ﷺ : من ابا بکر ؟

    عائشہ رضی اللہ عنہا : ابا بکر ابن ابی قحافہ

    ساتھ ترجمہ بھی عوام الناس کو بتایا جارہا تھا اور یہ مجھے ہضم نہ ہوا تو بیان کے بعد میں نے اپنے سسر صاحب سے کہا کہ انسے حوالہ مانگيں تو وہ مجھے کہنے لگے آپ خود مانگ لو ،میں نے کہا کہ مجھے ابھی جانا نہ ہوتا تو میں ان سے پوچھے بغیر نہ رہتا ، بحرحال میں وہاں سے ضروری کام کیلئے چلا گیا اور وہ مولانا یہاں سے دوسرے شہر جاچکے تھے ،میں نے دو دن بعد جو عالم آئے انسے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں آپ کو دیکھ کر بتاؤں گا لیکن میں نے انسے بالکل ذکر نہ کیا کہ یہ کس نے بیان کیں ہیں ،10 دن کے بعد مجھے بتایا کہ مجھے نہیں ملیں

    جنہوں نے بیان کیا وہ انڈیا جاچکے تھے ،جیسے تیسے کر کے انکا نمبر ملا اور میں نے انکو فون کیا اور وہ ریکاڈنگ ابھی تک میرے پاس ہے جو انکے اور میرے درمیان بات ہوئی ،کال ملنے اور سلام و دعاکے بعد

    ابو حسن : حضرت آپ نے دو واقعات بیان کیے تھے یعنی حدیثیں ،کینیڈا میں فلاں مسجد میں

    مولانا : جی جی

    ابو حسن : مجھے انکے حوالے چاہیے اگر آپ بتا سکیں

    مولانا : پہلا تو مسیح اللہ خان صاحب کے رسالہ میں ہے اور دوسرا فضائل اعمال کے باب صلاۃ میں ہے

    ابو حسن : حضرت یہ جابر بن سمرۃ کندی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے

    مولانا : انکا بھی ہے اور جو میں نے سنایا وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول سے

    ابو حسن : حضرت مسیح اللہ خان صاحب نے کسی حدیث کی کتاب سے یہ لیا ہوگا ؟ تو مجھے اس کتاب کا نام بتائیں

    مولانا : مجھے اسکا علم نہیں

    میں نے فضائل نماز کو 2 سے 3 بار دیکھ لیا لیکن مجھے وہ واقعہ کہیں دکھائی نہ دیا ،دو دن بعد میں نے پھر سے فون کیا اور بتایا کہ اس طرح کا واقعہ تو اس میں نہیں ہے پر وہ مجھے یہی کہتے رہے اس میں ہے،

    اس دوران کچھ شیخ الحدیث بھی اس مسجد میں آئے اور انسے بھی پوچھتا رہا لیکن ہر کسی کا جواب یہی ہوتا
    "مجھے نہیں خبر ،کس سے سنا آپ نے ؟ اور میں نے کسی کو بھی نام نہيں بتایا ، 2 ماہ قبل ایک شیخ الحدیث تشریف لائے تو میں انکے انسے ملنے گیا اور میرےساتھ ہماری مسجد کے امام کے بہنوئی بھی تھے جو کہ عالم ہیں تو مجھے کہنے لگے کہ آپ انسے ایک حدیث کی شرح بھی پوچھ لینا ،

    ابو حسن : پہلے واقعہ کی بابت سوال

    شیخ الحدیث: یہ تو جابر بن سمرۃ کندی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے

    ابو حسن :جی وہ تو میں نے بھی پڑھی ہوئی ہے لیکن جنہوں نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے

    شیخ الحدیث:نام میں غلطی ہوجاتی ہے بیان کرتے وقت

    ابو حسن :جنہوں نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی منقول ہے اور یہ بیان کے بعد فون کرکے میں نے پوچھا تھا

    ابو حسن :دوسرے واقعہ کی بابت سوال اور اسی طرح عربی میں بتایا جو بیان کیا گیا تھا تو شیخ چونک گئے اور مجھے بغور دیکھنے لگے

    شیخ الحدیث: یہ کس نے بیان کیا ؟

    ابو حسن : جی وہ ایک عالم آئے تھے انڈیا سے (میں نام نہیں بتانا چاہتا تھا) اور ساتھ جو عالم تھے انہوں نے جلدی سے نام بتا دیا

    شیخ الحدیث: آپ نےان سےجب پوچھا تو کیا کہا ؟

    ابو حسن : پہلا تو مسیح اللہ خان صاحب کے رسالہ میں ہے اور دوسرا فضائل اعمال کے باب صلاۃ میں ہے

    شیخ الحدیث: مسیح اللہ خان صاحب نے کسی حدیث کی کتاب سے یہ لیا ہوگا ؟ اس کتاب کا نام بھی تو ہوگا ؟ یہ بات عام لوگوں کیلئے ہے کہ مسیح اللہ خان اور علم والوں کیلئے اصل حوالہ ہوتا ہے

    ابو حسن :جی میں نے انسے استسفار کیا تھا پر انکا یہی جواب تھا

    شیخ الحدیث: یہ لوگ جھوٹی حدیثیں بیان کرتے ہیں

    ابو حسن :میں نے فضائل اعمال کے باب صلاۃ کو بھی پڑھ لیا لیکن مجھے ایسا واقعہ نہیں ملا اور کیا یہ حدیث ان لوگو یاد نہیں رہتی "لا تكذبوا علي فإنه من يكذب علي يلج النار "

    شیخ الحدیث: مجھے نہیں علم یہ لوگ کیوں ایسا کرتےہیں

    کچھ دن بعد یہ اسی مسجد میں آئے تو سلام و دعا ہوئی تو یہ ہمارے امام صاحب کے گھر جارہے تھے تو مجھے بھی کہا آپ آجائیں ،اور امام صاحب کو مخاطب کرکے میرے متعلق کہتے ہیں " یہ اچھے سوال کرتے ہیں " پھر ان گھر ان سے کہا کہ آپ ایسے لوگوں کو کیوں بلاتے ہو جو جھوٹی حدیثیں بیان کرتے ہیں ؟

    یہ تھا وہ واقع جو میں نے امام صاحب کو یاد دلایا اور میں نے کہا کہ یہ تو عالم کی بات تھی یہاں تو پھر عام آدمی ہے جو سنی سنائی بیان کر رہا ہے

    آخر میں آپ سب سے معذرت طوالت کی وجہ سے ،


    اللہ تعالی ہم سب کو شرک و بدعت سے بچنے اور اس دین حق پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے جس دین کو نبی کریم ﷺ لے کر آۓ اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوۓ اپنی زندگیوں کو گزارہ اور " رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ" ایسی سند لیتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوۓ،آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • مفید مفید x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    جزاک اللہ خیرا۔ نہیں بھائ معذرت والی کوئ بات نہیں ہے۔ یہ تمام عام باتیں عام آدمی کے علم میں لانا ضروری ہیں۔
    ابھی پچھلے سال کی بات ہے کہ بندے کے ایک کزن حادثے کا شکار ہوگۓ۔ اور ان کی ٹانگ میں فریکچر ہوگيا۔ ایک مولانا ان کی تعزیت کو آۓ۔ فرمانے لگے کہ ہر آدمی کو اس کی بیماری کا اجر ملتا ہے۔ اور یہ کہ مولانا الیاس نے ایک جگہ فرمایا ہے اللہ تعالی نے اس آدمی کے لیے ایک خاص اجر رکھا ہے جس کی ہڈی ٹوٹ جاۓ۔ میں نے فورا ہی پوچھا کہ مولانا کیا ایسا کسی صحیح حدیث میں آیا ہے؟ فرمانے لگے کہ مولانا الیاس نے فرمایا ہے تو صحیح ہی ہوگا۔ اب میں نے کہا کہ مولانا الیاس نے یہ کس جگہ لکھا ہے؟ جواب ملا کہ یہ بتانے کی ذمہ داری میری ہے ۔ اور میں جلد ہی آپ کو بتا دوں گا۔ میں نے کہا کہ میرے کزن کو بتا دیجیے گا۔
    ایک سال ہوگيا اور انہوں نے ابھی تک اس کا حوالہ نہیں دیا۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ مولانا الیاس نے ایسا کہیں نہیں کہا۔ یہ ان مولانا کی اپنی اختراع تھی۔ جیسے من گھڑت قصے فضائل اعمال میں لکھے ہوۓ ہیں اسی طرح کے قصے بعد میں آنے والے تبلیغی علماء ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ تاکہ تسلسل قائم رہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353

    وایاکم بابر بھائی

    بارک اللہ فیک حوصلہ افزائی کیلئے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ سچ کو لکھنے اور جھوٹ سے اجتناب برتنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,165
    یہ حقیقت ہے.
    اللہ ان کو ہدایت دے. . تبلیغی جماعت کے تعلق سے نئے عنوان کے ساتھ نیا موضوع شروع کیا گیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    ایک بھائی پہلی مرتبہ تبلیغی جماعت کے ساتھ نکلے 10 دن کیلئے اور تیسرے دن امیر صاحب نے ایک پرانے کو انہيں 6 نمبر یاد کروانے کیلئے لگا دیا اور نئے کو کہا تم نے فجر کے بعد 6 نمبر بیان کرنے ہیں

    6 نمبر مخصوص نام ہے
    کلمہ ،نماز ، علم و ذکر ،اکرام مسلم، اخلاص نیت، دعوت و تبلیغ

    اب یہ بھائی رٹہ لگا رہے ہیں ،فجر کے بعد انہوں نے بیان شروع کیا

    دیکھو میرے دوستو بزرگو ! یہ سب اللہ کا فضل ہے کہ اسنے ہمیں مسلمان گھرانے میں پیدا کیا ،اللہ بہت بڑا ہے ،وہ ہر چیز پر قادر ہے اور ہمیں آخری نبی کی امت میں پیدا فرمایا یہ ہم سب کیلئے بہت بڑی بات ہے اور صحابہ کرام کا کیا بتاؤں وہ کیسے افضل اور اللہ کو محبوب تھے " حضرت بلال نے آذان نہ دی 10، ساڑھے 10 بج گئے سورج نہ نکلا "

    جس نے رات کو اسکو بیان یاد کروایا تھا اسنے اسکی قمیض کو کھینچا اور کہا

    بیٹھ جا نیچے " تو اس وقت گھڑی لے کر بیٹھا ہوا تھا ؟ 10، ساڑھے 10 بج گئے سورج نہ نکلا "
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  6. انا

    انا ناظمہ خاص انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    بہت عمدہ معلومات۔ جب مولانا طارق جمیل جھوٹے واقعات سناتے ہوئے نہیں جھجھکتے یا بیان کرنے سے پہلے ان کی حقیقت معلوم نہیں کرتے تو عام تبلیغی بغرض اصلاح جھوٹ بولنے سے کیسے کترائیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    تبلیغی جماعت میں کچھ خاص نام یا جملوں کا استعمال ہوتا ہے

    مثلا ،
    خصوصی گشت
    عمومی گشت
    درمیانی بات
    رہبر
    متکلم
    سہ روزہ
    عشرہ
    چلہ
    نقد
    ارادہ
    تشکیل
    خواص کی جماعت
    مستورات کی جماعت


    اب ایک جماعت مانسہرہ کے علاقہ میں آئی اور وہاں قیام کیا ،
    مغرب کے بعد بیان تھا اور بیان کے بعد جماعت میں جانے کیلئے نام لکھوانے کا اعلان کیا گیا

    ایک خان صاحب کھڑے ہوئے نام بتایا

    لکھنے والا : ماشاء اللہ ،اللہ قبول فرمائے ، جی بھائی کس میں لکھوں ؟

    خان صاحب : 4 ماہ

    لکھنے والا : ماشاء اللہ ،اللہ قبول فرمائے ، جی بھائی کب نکل رہے ہیں ؟

    خان صاحب : ابھی نہی

    لکھنے والا : جی بھائی تو پھر کس میں لکھوں ؟

    خان صاحب : پشتو انداز میں " مَڑا اس میں لکھ دو وہ، وہ، وہ جونام لکھاتے ہیں پر جاتے نہيں " ( انکو" ارادہ لفظ " یاد نہيں آرہا تھا تو اسکی اچھے انداز میں تشریح فرمادی) یہ سنتے ہی قہقہے لگنا شروع ہوگئے:LOL:

    یہ واقعہ اس دوست نے سعودیہ میں سنایا جو اس وقت اس مسجد میں موجود تھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  9. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,251
    ایسے ہی ایک صاحب داڑھی رکھنے کی فضیلت سن کر گھر آئے، اور آ کر بیوی کو بولا کہ داڑھی رکھے، وہ بیچاری کیسے مانتی اس کو مارنا شروع کر دیا، لوگوں نے آ کر بیچ بچائو کرایا، تفصیل معلوم ہونے پر اسے کہا کہ تمھیں پتہ نہیں کہ عورتوں کی داڑھی نہیں آتی، تو بولا پتہ ہے لیکن ارادہ تو کرے، ارادے کا اپنا ثواب ہے۔
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,133
    اگر عقلمند ہوتی ہو کہتی کہ آپ پردہ کریں۔ وہ یہی کہتا کہ پردے کا حکم تو عورتوں کو ہے۔ تو پھر جواب وہی ملتا "ارادہ تو کرے، ارادے کا اپنا ثواب ہے" ابتسامہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں