اسلام نے عورت کو کن کن بلند مقام سے نوازا ؟

ابو حسن نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏جنوری 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    445
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ، عورت ،

    ماں، بہن، خالہ ، نانی ، پھوپھو ، دادی ، بیوی ، بیٹی ،نواسی ، پوتی ، رضائی ماں ، رضائی بہن ،بہو


    الحمد للہ

    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مجھے حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جھوٹ سے حفاظت فرمائے اور ریا و دکھلاوے سے محفوظ رکھے اور ہر لگ جانی والی نظر سے حفاظت فرمائے ،آمین یا رب العالمین

    بہت سے لوگوں کے ذہن میں عورت کے بارے میں وہی ہندوانہ اور بعثت نبوی ﷺ سے پہلے کی سوچ آج بھی موجود ہے مسلمان ہونے کے باجود اور اس میں کچھ قصور ہمارا اپنا ہے قرآن و سنت ﷺ سے دور ہونے اور سیرت ﷺ کو نہ جاننے کی وجہ سے اور کچھ قصور ان نام نہاد علماء کا ہے جنہوں نے عوام الناس کی منفی پہلو کی طرف ذہن سازی کی

    اسی طرح کچھ مبلغ سورۃ یوسف آیت " إِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيمٌ" کو دلیل بنا کر کہتے کہ عورتوں کا مکر وفریب بہت بڑا ہے ،

    بھائی کن عورتوں کا ؟
    اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے دنیا کی عورتوں تمہارے مکر وفریب بہت بڑے ہیں

    اللہ تعالی تو عزیز مصر کا قصہ بیان کر رہے ہیں جو کہ کافر تھا اور وہ بات بھی کافر عورتوں کے متعلق کہہ رہا ہے

    اور کافر سےدینی احکامات اور شرعی حکم نہیں لیے جاسکتے اور نہ ہی مسلمان عورتوں کے حقوق پر ظلم کرو اور نہ ہی انکی شان کو گرانے کی کوشش کرو جو قران و سنت نے انکو عطا کی ہے

    بلکہ سورۃ یوسف میں ہی یعقوب علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالی نے مردوں کے بارے یہ آیت

    " قَالَ يَا بُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُؤْيَاكَ عَلَىٰ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا لَكَ كَيْدًا"
    انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے

    تو کیا اس سے سب مرد مراد لے لیے جائیں گے ؟ ہرگز نہیں


    تو آئیے اب تحریر کا مطالعہ کریں



    ماں :

    اسلام نے عورت کو بہت بلند مقام عطا کیا ہے، عورت کی بطور ماں شان بلند کرتے ہوئے یہ واجب قرار دیا ہےکہ ماں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے طریقے سے پیش آنا ہے ، اس کی اطاعت کرنی ہے، بلکہ اس کی رضا مندی کو اللہ تعالی کی رضا مندی قرار دیاہے، اسی طرح یہ بھی بتلایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، یعنی مطلب یہ ہے کہ جنت کا قریب ترین راستہ ماں کی خدمت سے ملے گا، اس کی نافرمانی کو حرام قرار دیا، بلکہ محض اف کہنے کو بھی حرام قرار دیا، نیز والدہ کے حقوق والد کے حقوق سے بھی بڑے قرار دئیے، ایسے ہی بڑھاپے اور کمزوری کی عمر میں والدہ کا خیال رکھنے پر زور دیا، اس بارے میں متعدد قرآن و سنت کی نصوص موجود ہیں۔

    مثال کے طور پر:
    وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا
    ترجمہ: اور ہم نے انسان کو تاکیدی نصیحت کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے۔الأحقاف:15


    اسی طرح فرمایا
    وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاهُمَا فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلا كَرِيمًا - وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
    ترجمہ: آپ کے پروردگار نے فیصلہ کر دیا ہے کہ : تم اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ ہی انہیں جھڑکو اور ان سے بات کرو تو ادب سے کرو۔ [23] اور ان پر رحم کرتے ہوئے انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ : پروردگار ! ان پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپنے میں مجھے (محبت و شفقت) سے پالا تھا۔ [الإسراء:23، 24]

    اسی طرح سنن ابن ماجہ میں ہے کہ:
    معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "
    تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

    میں نے کہا: " جی ہاں "

    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس جاؤ اور ان کی خدمت کرو

    اس پر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری جانب سے آیا اورعرض کیا: "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "

    تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

    میں نے کہا "اللہ کے رسول ! جی ہاں زندہ ہے"

    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے پاس واپس جاؤ اور ان کی خدمت کرو

    اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور عرض کیا "اللہ کے رسول! میں رضائے الہی اور آخرت کی غرض سےآپ کے ساتھ جہاد میں شرکت کرنا چاہتا ہوں "

    تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا بھلا ہو! تمہاری والدہ زندہ ہیں؟

    میں نے کہا "اللہ کے رسول! جی ہاں زندہ ہے"

    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھلا ہو! اپنی والدہ کے قدموں میں پڑے رہو وہیں پر جنت ہے

    اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابن ماجہ میں صحیح کہا ہے، یہی حدیث سنن نسائی میں (3104) بھی ہے، سنن نسائی کے الفاظ یہ ہیں اپنی والدہ کی خدمت شعار بنا لو؛ کیونکہ جنت ان کے قدموں تلے ہے

    اسی طرح بخاری (5971) اور مسلم (2548) میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے پاس آیا اور عرض کیا اللہ کے رسول! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری والدہ ،
    سائل نے کہا پھر کون؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ،
    سائل نے کہا پھر کون؟ آپ نے فرمایا: تمہاری والدہ،
    سائل نے کہا ان کے بعد؟ تو آپ نے فرمایا: تمہارا والد)

    اس کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات اور احادیث ہیں جن کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

    جب تک اولاد صاحب استطاعت و ثروت ہو تو والدہ کے اخراجات کی ذمہ داری اسلام نے اولاد پر عائد کی ہے کہ والدہ کی تمام تر ضروریات انہوں نے پوری کرنی ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے کوئی ایک ایسا واقعہ نظر نہیں آتا جس میں عورت کو اولڈ ایج ہوم میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہو، یا بیٹے نے ماں کو گھر سے نکال دیا ہو، یا بیٹے ماں کے اخراجات برداشت کرنے سے انکاری ہو گئے ہوں، یا بیٹوں کی موجودگی میں ماں کو اپنا پیٹ پالنے کیلئے کام کاج کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔

    بیٹی :

    اسلام عورت کو بطوربیٹی بھی بہت مقام دیتاہے، جگر کے ٹکڑے کا خطاب ملا زبان رسول سے ،چنانچہ اسلام نے بچیوں کی تعلیم و تربیت کی خوب ترغیب دی ہے، اور بچیوں کی اچھی تربیت پر اجر عظیم مقرر کیاہے،

    جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو شخص بلوغت تک دو بچیوں کی پرورش کرے تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ایسے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملا کر دکھائیں- مسلم: 2631


    سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹی ہیں اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم انکا اکرام کس انداز میں کرتے ہیں ؟ جب وہ اپنے بابا سے ملنے کیلئے تشریف لاتیں تو انکے ماتھے پر بوسہ دے کر اور اپنے پاس بٹھاتے اور بیٹی کیلئے فرمایا یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ، أو كما قال

    اسی طرح سنن ابن ماجہ : (3669) میں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر بھی کرے ، انہیں کھلے دل کے ساتھ کھلائے پلائے، اور پہنائے تو وہ اس کیلیے روزِ قیامت آگ سے پردہ ہوں گی
    اس حدیث کو البانی نے صحیح ابن ماجہ میں صحیح قرار دیا ہے۔

    کیا خیال ہے ؟ اتنا بڑی کامیابی اس ہولناکیوں کے دن جب ہر نفس اپنی جان بچانے کے لئے سب کچھ لٹانے کیلئے تیار ہوگا اور اسی عورت جو کہ بیٹی شکل میں اللہ تعالی نے عطا کی جہنم کی آگ سےپردہ ہونگی ، اللہ اکبر

    اگر اللہ تعالی نے آپکو بیٹی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے تو جتنا اس رب العزت کا شکر ادا کریں اتنا ہی کم ہے کیونکہ اس نے صرف بیٹی نہیں بلکہ آپ کیلئے جہنم کی آگ سے آڑ پیدا کردی اور آپ کی بخشش کا ایک ذریعہ پیدا کردیا اور دوعطا کردیں تو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کا ساتھ اب اس سے بڑی اور کیا سعادت والی بات ہوگی ؟ اور جسکو قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نصیب ہوگیا پھر تو جنت الفردوس ہی اسکا ٹھکانا ہوگا ان شاءاللہ ،

    اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اس بیٹی کی تعلیم و تربیت آپ کیسی کرتے ہیں


    بیوی :

    اسلام نے عورت کی بطورِ بیوی بھی خوب عزت بخشی ہے، چنانچہ خاوندوں کو بیویوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا، بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم دیا، اور یہ بھی بتلایا کہ بیوی کے بھی خاوند کے برابر حقوق ہیں، البتہ خاوند کو بیوی پر حاکمیت حاصل ہے؛ کیونکہ خاوند تمام تر اخراجات کا ذمہ دار اور گھر کا سربراہ ہے، یہ بھی واضح کیا کہ مسلمانوں میں سے بہترین وہی ہے جو اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھے انداز سے رہتا ہے، بیوی کی رضا مندی کے بغیر بیوی کی دولت ہتھیانا حرام قرار دیا، قرآن مجید میں بیویوں کے حقوق کیلیے وارد آیات میں سے کچھ یہ ہیں:

    وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ

    ترجمہ: اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو [النساء:19]

    اسی طرح فرمایا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

    ترجمہ: اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے حق ہیں اچھے انداز کے ساتھ۔ البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اور اللہ تعالی بڑا غالب، خوب حکمت والا ہے [البقرة:228]


    آپ 28 پارہ کی پہلی ہی سورت کو پڑھ لیں ،یہ بھی ایک مسلمان بیوی اپنے شوہر کی غلطی کو لیکر رسول اللہ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میرے خاوند نے مجھ سے "ظہار " کردیا ہے اور چونکہ یہ غلطی سے ہوگیا ہے آپ کچھ کریں ( تفصیل کی بجائے مختصر لکھ رہا ہوں )، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خولہ تو اس پر حرام ہوگئی ،عرض کیا میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ،جوانی بھی ڈھل چکی ،خاوند بھی بوڑھا ہے آپ کچھ کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی شریعت کے مطابق پھر فرمایا خولہ تو اس پر حرام ہوگئی ،وہ پھر یہی دھراتیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دوسری طرف کرلیا ، وہ رونے لگیں ،سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اسکے رونے پر میں بھی رونے لگ گئی اتنے میں وحی کے آثار نمودار ہونے لگے اور میں نے خولہ کو چپ کروانا چاہا کہ دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی نازل ہورہی ہے خاموشی اختیار کرو تو وہ اور زور زور سے رونے لگیں اور اللہ رب العزت سے التجا کرنے لگیں ،اے اللہ میرے حق میں فیصلہ اتار ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسینہ پونچھا اور فرمایا "مبارک ہو " اللہ نے تیرے حق میں فیصلہ نازل کیا اور پہلے سے چلی آتی شریعت کو ہی بدل دیا ، أو كما قال

    گھر کی معاشرت اور عورتوں کے مخصوص مسائل ہمیں امہات المؤمنین سے ہی ملے

    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
    خواتین کے ساتھ بھلائی کی وصیت مجھ سے لے لو بخاری: (3331) مسلم: 1468


    ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کیلیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہل خانہ کیلئے تم سب سے زیادہ بہتر (خیال رکھنے والا) ہوں
    ترمذی: (3895) ابن ماجہ: (1977) اسے البانی نے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔


    نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دين والى عورت سے نكاح كرنے كى ترغيب دلاتے ہوئے فرمايا

    عورت كے ساتھ چار اسباب كى بنا پر نكاح كيا جاتا ہے،
    اس كے مال و دولت كى وجہ سے،
    اور اس كے حسب و نسب كى بنا پر،
    اور اس كى خوبصورتى و جمال كى وجہ سے،
    اور اس كے دين كى بنا پر،
    چنانچہ تم دين والى كو اختيار كرو تيرا ہاتھ خاك ميں ملے ،
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 5090 ) صحيح مسلم حديث نمبر 1466


    اگر آپ کو دین دار نہیں ملی تو اسکے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے دین سیکھانے کی کوشش کریں اور اپنی بیٹی کہ ایسی سعادت والی بننے کیلئے کوشش کریں

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے

    دنيا كا بہترين مال و متاع مومن عورت ہے، اگر تم اسے ديكھو تو تجھے اچھى لگى اور خوش كر دے، اور اگر تم اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اگر تم اس كے پاس نہ ہو تو وہ اپنے نفس و عزت كى اور آپ كے مال كى حفاظت كرے "

    زوجات الرسول ﷺ ایک سے بڑھ کر ایک فضیلت والیں اور ہر ایک کو الگ شان اور مرتبہ حاصل ہے انکے نام یہ ہیں
    خديجة بنت خويلد،
    سودة بنت زمعه،
    عائشة بنت أبي بكر الصديق،
    حفصة بنت عمر،
    زينب بنت خزيمة ،
    أم سلمة هند،
    زينب بنت جحش ،
    جويرية بنت الحارث،
    أم حبيبة رملة بنت أبي سفيان،
    صفية بنت حيي بن أخطب،
    ميمونة بنت الحارث رضی اللہ عنھن

    اس کے علاوہ اور بھی بہت احادیث اور واقعات ہیں جن کے ذکر کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔

    ،
    اسلام نے عورت کو بطور بہن، پھوپھی اور خالہ بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے، اسلام نے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاوراس کی خوب ترغیب دلائی ہے، متعدد نصوص میں ان سے قطع تعلقی کو حرام قرار دیاہے،

    جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

    لوگو! سلام عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو رات کے وقت نماز پڑھو تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے
    اسے ابن ماجہ : (3251)نے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح ابن ماجہ میں اسے صحیح کہا ہے۔

    نواسی :

    اسلام نے عورت کو بطور نواسی بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے ،سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو گود میں اٹھا کر عصر کی نماز کی امامت کروائی اور یہ سنت ہمیں انہی سے ملی ،پھر ایک بار کہیں سے ایک ہار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہار میں اسکو دونگا جس سے میں سب سے زیادہ پیار کرتا ہوں اور امہات المؤمنین کا تجسس بھی بڑھ گیا حتی کہ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں مجھے لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہار مجھے عنائیت فرمائیں گے لیکن سب نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہار سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما کے گلے میں پہنایا ، أو كما قال ، اللہ اکبر



    خالہ :

    اسلام نے عورت کو بطور خالہ بھی عزت اور اکرام سے نوازا ہے، اسلام نے ان کے ساتھ صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاوراس کی خوب ترغیب دلائی ہے، متعدد نصوص میں ان سے قطع تعلقی کو حرام قرار دیاہے ،
    كما روى أبو داود (2278) عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنّه قَالَ
    الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وصححه الألباني في "صحيح أبي داود" .

    حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا خالہ ماں کی جگہ ہے " ، اسے البانی نے صحیح ابوداود میں صحیح قرار دیا ہے۔

    اسی طرح ایک اور مقام پر ایک صحابی سے کبیرہ گناہ سر زد ہوگیا اور وہ حاضر خدمت ہوکر اس کا حل پوچھ رہا ہے

    حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک شخص بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے کیا میرے لئے توبہ ہے؟
    فرمایا کہ تمہاری والدہ ہے؟
    عرض کیا نہیں

    آپ نے فرمایا خالہ؟

    عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا پھر اس کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔ جامع ترمذی ۔ حدیث 1987



    عورت كو شرم و حياء كے زيور سے مزين ہونا چاہيے، جسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايمان كا ايك حصہ اور شاخ قرار ديا ہے، اور پھر شرعى اور عرفى طور پر بھى شرم حياء كا حكم ہے، كہ عورت كو باپرد اور عفت و عصمت كے ساتھ رہنے چاہيے، اور اسے ايسا اخلاق اپنانا چاہيے جو اسے فتنہ و خرابياں اور شك كے مقام سے دور ركھے.



    قرآن مجيد كا ظاہر اس پر دلالت كرتا ہے كہ عورت كسى دوسرى عورت كے سامنے وہى كچھ ظاہر كر سكتى ہے جو وہ اپنے كسى محرم مرد كے سامنے ظاہر كر سكتى ہے، جس كى عام طور پر گھر ميں كام كاج كرتے ہوئےظاہر كرنے كى عادت بن چكى ہے، جيسا كہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:



    ﴿ اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ ﴾النور 31

    اور جب نص قرآنى يہ ہے تو سنت نبوى بھى اس پر دلالت كرتى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ و سلم كى ازواج مطہرات، اور صحابہ كرام كى بيويوں كا بھى عمل اسى پر رہا ہے، اور ان كے بعد امت كى عورتوں كا عمل بھى ہمارے اس دور تك يہى رہا ہے، اور آيت ميں مذكورين كے سامنے جو ظاہركرنے كے متعلق آيا ہے يہ وہى اعضاء ہيں جو عادتا عورت گھر ميں كام كاج كے وقت ظاہر كرتى ہے، اور اس كے ليے اس سے اجتناب كرنا مشكل ہوتا ہے، مثلا: سر اور دونوں ہاتھوں، اور گردن، اور دونوں قدم.

    ليكن اس كے علاوہ اور عضاء بھى ننگے كرنے ميں وسعت اختيار كرنا ايسى چيز ہے جس كے جواز پر كتاب و سنت سے كوئى دليل نہيں ملتى، اور پھر يہ عورت كے ليے بھى فتنہ اور خرابى كى راہ ہے، اور يہ ان عورتوں كے مابين موجود ہے، اور اس ميں دوسرى عورتوں كے ليے برا نمونہ بھى ہے.

    اور صحيح مسلم ميں ہى ايک اور حديث ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    “جہنميوں كى دو قسميں ہيں جنہيں ميں نے نہيں ديكھا، ايک وہ قوم جن كے ہاتھوں ميں گائے كى دموں جيسے كوڑے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارينگے، اور وہ لباس پہننے والى ننگى عورتيں جو خود مائل ہونے والى اور دوسروں كو مائل كرنے والى، ان كے سر بختى اونٹوں كى مائل كوہانوں كى طرح ہونگے، وہ نہ تو جنت ميں داخل ہونگى اور نہ ہى جنت كى خوشبو ہى پائينگى، حالانكہ جنت كى خوشبو اتنى اتنى مسافت سے پائى جاتى ہے "صحيح مسلم حديث نمبر 2128



    اور " كاسيات عاريات " كا معنى يہ ہے كہ: عورت ايسا لباس پہنے جو اسے چھپائے ہى نہ تو اس نے لباس تو پہن ركھا ہے، ليكن حقيقت ميں وہ ننگى ہے مثلا: جس عورت نے اتنا باريك لباس پہن ركھا ہو جو نيچے سے اس كى جلد كى رنگت بھى واضح كر رہا ہو، يا پھر وہ لباس جو عورت كے جسم كے اعضاء اور جوڑ اور انگ انگ كو واضح كر رہا ہو، يا پھر وہ چھوٹا لباس جس سے جسم كے بعض اعضاء ننگے ہو رہے ہوں.اس ليے مسلمان عورتوں پر يہ متعين ہو جاتا ہے كہ وہ اس طريقہ كو اختيار كريں جس پر امہات المومنين اور صحابہ كرام كى عورتيں تھيں، اور اس امت ميں سے ا نكى بہتر طريقہ پر پيروى كرنے والوں كى عورتوں كى راہ كو اختيار كريں.اور ستر پوشى اور عزت و حشمت اور عفت و پاكدامنى كى حرص ركھيں، كيونكہ يہ فتنہ كے اسباب سے بہت دور ہے، اور پھر خواہشات اور فحش كاموں كے اسباب كو ابھارنے والى اشياء سے نفس كو پاك صاف ركھتا ہے.


    اسى طرح مسلمان عورتوں كو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى اطاعت و فرمانبردارى كرتے، اور اللہ كى جانب سے اجر و ثواب كى اميد، اور اللہ تعالى كے عقاب و سزا كا خوف ركھتے ہوئے اللہ تعالى اور اس كے رسول كے حرام كردہ لباس جس ميں كفار، اور فاحشہ عورتوں كى مشابہت ہوتى ہو سے اجتناب كرنا چاہيے.اسى طرح ہر مسلمان پر واجب ہے كہ وہ اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتے ہوئے اپنے ماتحت عورتوں كے متعلق اللہ سے ڈرے، اور انہيں اللہ تعالى اور رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى جانب سے حرام كردہ فحش اور ننگا اور پرقتن لباس نہ پہننے دے، اور اسے يہ معلوم ہونا چاہيے كہ وہ ايك ذمہ دار ہے ا ور اس نے اپنى رعايا كے متعلق روز قيامت جواب دينا ہے

    پھر کبھی موقعہ ملا تو " إن شاءالله " مزید اس پر لکھوں گا( راقم الحروف :ابوحسن )

    اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے، اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.آمین
     
    Last edited: ‏اپریل 10, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • متفق متفق x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ، بارک اللہ فیک!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    445
    وایاکم ،اللہ یبارک

    کچھ تحریں لکھ کر محفوظ کی ہوئی ہیں انہی کو یہاں شئیر کر رہا ہوں اور کچھ فوری لکھ کر شیئر کر رہا ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    ماشاء اللہ،
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    510
    جزاک اللہ خیرا
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں