مرزا قادیانی کا تفصیلی تعارف اور کرتوت

ابو حسن نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏جنوری 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    مرزا قادیانی کا نام و نسب:

    مرزا قادیانی خود اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے۔

    اب میرے سوانح اس طرح پر ہیں نام غلام احمد،میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ ، دادا کا نام عطا محمد تھا۔ (خزائن ج ۲۲ ص ۱۳۷)

    اپنی قوم کے بارے میں لکھتا ہے کہ ہماری قوم مغل برلاس ہے

    اپنی تاریخ پیدائش کے بارے میں لکھتا ہے کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ یا ۱۸۴۰ میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں ۱۸۵۷ میں سولہ یا سترہ برس کا تھا (خزائن ج ۱۳ ص ۱۷۷)

    پیدائش کی کیفیت:

    مرزا قادیانی نے اپنی پیدائش کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے جہاں اپنی غیرت کی دھجیاں بکھیری ہیں وہاں اپنی ماں کی عصمت کی چادر کو بھی تار تار کیا ہے ملاحظہ فرمائیں میں اور میری بہن رحمت جڑواں پیدا ہوئے پہلے لڑکی پیٹ سے نکلی اور اسکے بعد میں نکلا تھا اور میرا سر اُس کے پاؤں میں پھنسا ہوا تھا۔ (خزائن ج ۱۵ ص ۴۷۹)

    قارئین کرام آپ کو دنیا میں ایسا بے حیا نہ ملے گا جو نکلی ، نکلا جیسے الفاظ کے ذریعے اپنی ولادت کو بیان کرے پھر طرفہ یہ کہ بہن کی ٹانگوں میں ہو۔ اور مرزا کا یہ کہنا کہ پیٹ سے نکلی اس بات کی وضاحت کی کیا ضرورت تھی کیا پیٹ کے علاوہ بھی کسی حصے میں بچہ ہوتا ہے اور ہمارا مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنی پیدائش کی کیفیت کا علم کیسے ہوا ؟



    انگریز کا وفادار خاندان:

    مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ تھا اور اس کا خاندان انگریز کا پٹھو تھا۔ مرزا قادیانی اپنے خاندان کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتا ہے:

    ’’میرے والد صاحب میرا خاندان ابتداء سے سرکارِ انگریز کے بدل و جان، ہوا خواہ اور وفادار ہے اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیرخواہ سرکارِ انگریزی ہے۔ (مجموعہ اشتہارات ج۹، ۱۰)

    مرزا قادیانی کا بچپن:

    انبیاء کرام علیھم السلام کی جیسے جوانی پاک وصاف اور قابل اتباع ہوتی ہے ایسے ہی بچپن بھی عام بچوں سے جدا نہایت پر وقار اور ہر قسم کے لہو و لعب سے پاک ہوتا ہے لیکن قادیان کے اس بناوٹی نبی کے بچپن کے حالات گلی محلے کے عام آوارہ بچوں سے بھی گئے گزرے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

    بچپن کا نام:

    مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد ایم اے مرزا قادیانی کے بچپن کا نام ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: مرزا قادیانی کا ابتدائی نام دسوندی تھا لیکن سندھی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۳۶)

    چڑی مار:

    مرزا قادیانی کو بچپن میں شکار کا بھی شوق تھا لیکن شوق پورا کرنے کا انداز کیا تھا۔مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد ایم اے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

    والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ ہوشیار پور میں حضرت صاحب بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص 36)

    چھپڑ کا تیراک:

    مرزا قادیانی بچپن میں تیرنے کا بھی دلدادہ تھا برسات میں جب قادیان کی ساری غلاظت بارشوں میں بہہ کر قادیان کے اردگرد جمع ہوجاتی تو مرزا قادیانی اس گندے پانی میں دیر تک تیرتا رہتا چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا لکھتا ہے :

    حضرت صاحب (مرزا قادیانی ) نے فرمایا کہ میں بچپن میں اتنا تیرتا تھا کہ ایک وقت میں ساری قادیان کے اردگرد تیر جاتا تھا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ برسات کے موسم میں قادیان کے اردگرد اتنا پانی جمع ہوتا ہے کہ قادیان ایک جزیرہ بن جاتا ہے۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۷۶)

    نمک اور چینی:

    مرزا قادیانی کی طبیعت میں شروع ہی سے چوری کا مادہ تھا اس لئے بچگانہ قسم کی چوری کی عادت بچپن میں بھی تھی مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد لکھتا ہے :

    حضرت صاحب فرماتے کہ ایک دفعہ بعض بچوں نے مجھے کہا کہ جاؤ گھر سے میٹھا لاؤ میں گھر آیا اور بغیر کسی کے پوچھنے کے ایک برتن میں سے سفید بورا اپنی جیبوں میں بھر کر باہر لے گیا اور راستہ میں ایک مٹھی بھر کر منہ میں ڈال لی بس کیا تھا، میرا دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ وہ بورا میٹھا نہ تھا بلکہ پسا ہوا نمک تھا۔

    روٹی اور راکھ:

    مرزا قادیانی کے مزاج میں عام بچوں کی طرح ضد اور ہٹ دھرمی بھی تھی چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا لکھتا ہے۔

    ایک دفعہ بچپن میں حضرت صاحب نے اپنی والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا انہوں نے کوئی چیز شاید گڑ دیا کہ یہ لے لو ۔حضرت نے کہا یہ میں نہیں لیتا انہوں نے کوئی اورچیز بتائی تو حضرت نے پھر انکار کیا انہوں نے چڑ کر سختی سے کہا کہ جاؤ پھر راکھ سے کھا لو۔ حضرت صاحب روٹی پرراکھ ڈال کر بیٹھ گئے۔

    (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۴۵)

    قارئین کرام! عقل اور فرمانبرداری دیکھئے جب والدہ نے اپنی پسند کی چیز رضا سے دی تو ضد اور انکار لیکن ناراضگی سے راکھ بھی لے لی۔

    مرزا قادیانی کے بچپن کے چند گوشے آپ کے سامنے رکھے ہیں اس کے برعکس اولیاء ﷲ کے بچپن کو دیکھ لیں ان کا بچپن بھی علم و حکمت، تقویٰ و طہارت اور خدا خوفی سے بھرا ہوتا ہے اور ان کا بچپن ان کے روشن پاکیزہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے لیکن یہاں معاملہ برعکس ہے۔

    مرزا قادیانی کی جوانی:

    مشہور ہے کہ جوانی دیوانی ہوتی ہے اور جوش جوانی میں اکثر لوگ بے اعتدالیاں کر گزرتے ہیں لیکن جن لوگوں کے حق میں خدا کا مامور بننا مقدر ہو اُن کی جوانی اطاعت و فرمانبرداری، عبادت و ریاضیت، اخلاق و اوصاف، امانت و دیانت ، عقل و دانش غرض جملہ اخلاقی، علمی اور عملی محاسن کا مجموعہ ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی کی جوانی لہو و لعب، فسق و فجور اور بددیانتی سے پر تھی چنانچہ مرزا قادیانی کا جوانی میں ملازمت اختیار کرنے کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے اور بہت سے اندرونی معاملات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    مرزا قادیانی کا لڑکا لکھتا ہے :” بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانے میں حضرت صاحب (مرزا قادیانی) تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام دین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو بہلا پھسلا کر اور دھوکہ دے کربجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر اُدھر پھراتا رہا جب آپ نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کرد یا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا اور حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہوجائیں اس لیے آپ سیالکوٹ شہر میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔( )

    جب کہ مرزا قادیانی کا دوسرا لڑکا مرزا محمود سیالکوٹ ملازمت کاپس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

    ’’ اور ایسا ہوا کہ ان دنوں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے قادیان سے باہر چلے گئے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارے کے لیے ضلع کچہری میں ملازمت بھی کرلی۔

    محترم قارئین ! مرزا قادیانی کی بیوی کے بیان کے مطابق مرزا امام دین نے مرزا قادیانی کو بہلایا پھسلایا اور پھر دھوکہ دے کر پنشن کی ساری رقم اُڑوا بھی دی انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ اس وقت جب کہ مرزا قادیانی کی جوانی پورے شباب پر تھی اور مرزا قادیانی کا دعویٰ بھی ہے کہ مجھے ماں کے پیٹ میں نبوت ملی ہے تو ایسی حالت میں امام دین جیسے ایک دیہاتی کا بہلانا پھسلانا اور دھوکہ دینا کیا معنی رکھتا ہے۔

    اور پھر مرزا قادیانی کاامام دین کے ساتھ ادھر ادھر پھرتے رہنا اور سارا مال بھی ادھر ادھر کے کاموں میں اڑا کر ضائع کر دینا پھر اسی شرمندگی کی وجہ سے گھر بھی نہ آنا‘‘ یہ تمام باتیں مرزا قادیانی کی عفت و پاک دامنی اور امانت و دیانت کو خوب واضح کرتی ہیں۔ بھلا جو شخص امانت کی رقم کو ادھر ادھر کے کاموں میں اڑا دے اور جسے آوارگی کی وجہ سے والدین طعنے دیتے ہوں اس سے اس تقویٰ اور نیک بختی کی امید کی جاسکتی ہے اور کیا ایسا شخص شریف آدمی کہلانے کے قابل ہے۔

    دوران ملازمت مذہبی چھیڑ چھاڑ:

    مرزا قادیانی کی سیالکوٹ ملازمت کا زمانہ وہ ہے جب برصغیر پاک و ہند میں انگریزی حکومت قائم تھی جو مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی جس کے نتیجے میں جگہ جگہ عیسائی پادری عیسائیت کے پرچار میں مصروف تھے اسی وجہ سے وقتاً فوقتاً بحث مباحثے ہوتے رہتے۔ مرزا قادیانی کی بھی سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران جب کچھ جان پہچان ہو گئی تو اس نے بھی مختلف مذاہب کے لوگوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے:

    سیالکوٹ ملازمت کے دوران کبھی کبھی نصر اﷲ نامی مشن سکول کے عیسائی ہیڈ ماسٹر سے مرزا صاحب کی مذہبی بحث ہو جاتی تھی۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص 256)

    لیکن مرزا قادیانی کو اکثر اس طرح کی گفتگو میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور یہی وہ زمانہ ہے جب مرزا قادیانی کی بعض یورپین مشنریوں اور عیسائی افسروں سے ملاقات ہوئی انہوں نے مرزا قادیانی کی دجالی صفات کو دیکھتے ہوئے اسے حکومت برطانیہ کا منظور نظر بننے کی پیش کش کی۔ سیرت مسیح موعود کے صفحہ 15پر برطانوی انٹیلی جنس سیالکوٹ مشن کے انچارج مسٹر ریوزنڈ مابٹلر سے مرزا کی ملاقات کا تذکرہ موجود ہے ۔۔۔


    مرزا قادیانی کا کردار:

    اسلامی تعلیمات مقدسہ میں نہ صرف زنا بلکہ اسباب زنا’’ جیسے غیر محرم کو چھونا ، خلوت کرنا اور ’’بد نظری کرنا وغیرہ کو بھی حرام قرار دیا گیاہے لیکن متنبی قادیان نے ان تمام اسلامی حدود کو توڑتے ہوئے اپنی خدمت کے لئے مختلف عورتوں کو مقرر کیا ہوا تھا چند عورتیں جو رات میں مرزا قادیانی کی خدمت پر مامور تھیں مندرجہ ذیل ہیں۔



    اہلیہ محمد دین و بابو شاہ دین:

    ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود کی رات کی خدمت میں، میں (رسول بی بی) منشیانی اہلیہ محمد دین اور اہلیہ بابوشاہ دین ہوتی تھیں (سیرت المہدی جلد سوم ص ۲۱۳ طبع اول)

    مائی بھانو:

    ایک رات خوب سردی پڑتی تھی مائی بھانو لحاف کے اوپر سے حضرت صاحب کودباتی تھیں اسے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ ٹانگیں نہیں بلکہ پلنگ کی پٹی دبا رہی ہے۔ (ملخصًا سیرت المہدی جلد سوم ص ۲۱۰ طبع اول )

    زینت:

    ڈاکٹر عبدالستار صاحب نے بیان کیا کہ میری لڑکی زینت تین ماہ کے قریب حضرت صاحب (مرزاقادیانی) کی خدمت میں رہی بسا اوقات ایساہوتا کہ نصف رات یا اس سے زیادہ اسے پنکھا ہلاتے گزر جاتی تھی آپ کئی دفعہ اپنا تبرک بھی اسے دیتے تھے ( بہت خوب جب فائدہ لینا ہے تو بدلہ تو دیناہی ہے ناقل) ( ملخصًا سیرت المہدی جلد سوم ۲۷۲۔۲۷۲)

    ڈاکٹرنی:

    ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری کی ایک بیوی ڈاکٹرنی کے نام سے مشہور تھی وہ مدتوں قادیان آ کر حضور کے مکان میں رہتی اور حضور کی خدمت کرتی تھی اس کے مرنے کے بعد مرزا صاحب نے اس کا دوپٹہ اپنے کمرے کی کھڑکی کی سلاخ سے بند ھوا دیا۔ (ملخصاً سیرت المہدی جلد سوم ص۱۲۶)

    مرزا قادیانی کی انہی حرکات کو دیکھتے ہوئے قادیان کے مفتی سے کسی نے سوال کیاکہ:۔

    حضرت اقدس (مرزا قادیانی) غیر عورتوں سے ہاتھ پاؤں کیوں دبواتے ہیں ؟ توقادیان کے مفتی حکیم فضل دین قادیانی نے جواباً لکھا کہ

    وہ بنی معصوم ہیں ان سے مس کرنا اور اختلاط منع نہیں بلکہ موجب رحمت و برکات ہے (یعنی تم بھی برکت کے حصول کے لئے اپنی عورتیں بھیجو……ناقل) (اخبار الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ اپریل ۱۹۰۷)

    قارئین کرام ایک لمحہ کے لئے اگر قادیان کے مرزائی مفتی کی اس بات کو تسلیم بھی کر لیں تو بھی ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا قادیانی ذریت میں خدمت کے لئے مرد موجود نہ تھے جو مرزا قادیانی کی خدمت کر سکتے یہ عورتوں سے خدمت کروانا اور پھر خدمت بھی جسمانی طرفہ یہ کہ رات کی خلوت میں چہ معنی دارد۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کسی غیر محرم سے مس کرنا تو درکنار خلوت کرنا بھی منع ہے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:

    الا لا رجل عند امراۃ طیب الا ان یکون ناکحٍ او ذا محرم (مسلم ج ۲ ص ۲۱۵)

    ’’خبردار کوئی مرد بھی کسی عورت کے ساتھ خلوت نہ کرے مگر یہ کہ وہ نکاح کرنے والا ہو یا محرم‘‘


    جبکہ مرزا قادیانی سے یہ عورتیں اس قدر بے تکلف تھیں کہ اس کے سامنے برہنہ ہونے میں بھی کوئی شرم محسوس نہ کرتی تھیں چنانچہ مرزا قادیانی کے مرید خاص مفتی صادق نے لکھا ہے کہ:

    حضرت مرزا صاحب کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی عورت تھی ایک مرتبہ وہ کپڑے اتار کر مرزا قادیانی کے کمرے میں نہانے لگی حالانکہ مرزا صاحب کمرے میں موجود تھے۔ (ذکر حبیب ص ۳۸)

    مرزا قادیانی کاایک اور مرید خاص سراج الحق ایک واقعہ نقل کرتا ہے کہ۔

    ایک عورت مرزا صاحب کے کمرے میں ننگی نہائی پھر اٹھ کر کبڑی کبڑی ٹیڑھی ٹیڑھی جا کر مرزا قادیانی کے پاس سے کپڑے اٹھا لائی۔ (تذکرہ المہدی ص ۳۵۵)

    اس کے علاوہ بھی مرزا قادیانی کی زندگی میں وہ تمام رنگینیاں اور عیب موجود تھے جو کسی آوارہ، بازاری اور بد کردارشخص میں پائے جاتے ہیں چند عادات ملاحظہ فرمائیں:



    شرابی:

    مرزا قادیانی شراب بھی پیا کرتا تھا اپنے مرید حکیم محمد حسین قادیانی کو ایک خط میں لکھتا ہے:

    محبی اخویم محمد حسین السلام علیکم ورحمتہ اﷲ و برکاتہ

    اس وقت میاں یار محمد بھیجا جاتا ہے آپ اشیائے خریدنی خود خریدیں اور ایک بوتل ٹانک وائن کی پلومر کی دکان سے خریدیں مگر ٹانک وائن چاہئے اس کا لحاظ رہے باقی خیریت ہے۔ (خطوط امام بنام غلام ص ۵)

    قارئین کرام! ٹانک وائن ایک قسم کی طاقتور اور نشہ دینے والی شراب ہے جو ولائیت سے سربند بوتلوں میں آتی تھی اور اس زمانے میں اس کی قیمت ساڑھے پانچ روپے تھی۔ (سودائے مرزا ص 39 حاشیہ)

    مرزا قادیانی جس تاکید سے حکیم حسین کو ٹانک وائن کے خریدنے کا پابند کر رہا ہے کیا یہ مرزا قادیانی کے عادی شرابی اور تجربہ کار ہونے پر دلیل نہیں؟


    افیمی:

    مرزا قادیانی کو افیون کے استعمال کی بھی عادت تھی چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا مرزا محمود لکھتا ہے:

    حضرت مسیح موعود نے تریاق الٰہی دوا خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق بنائی اور اس کا ایک بڑا جز افیون تھا اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول حکیم نور الدین کو مسیح موعود چھ ماہ سے زائد عرصہ تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔

    (اخبار الفضل 19جولائی 1929)

    تماش بین:

    مرزا قادیانی کو تھیٹر دیکھنے کا شوق بھی تھا جس کو مختلف حیلے بہانوں سے پورا کرتا تھا۔ مرزا قادیانی کا نام نہاد صحابی مفتی محمد صادق اپنا واقعہ بیان کرتا ہے کہ:

    ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشا ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا، صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت مسیح موعود کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات کو تھیٹر چلے گئے تھے، حضرت مسیح موعود نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔ (ذکر حبیب ص 18)

    اس دین کے کیا کہنے جس کا نبی بھی تھیٹر میں اور صحابی بھی۔

    گندہ شاعر:

    مرزا قادیانی پر شاعری کا بھوت بھی سوار تھا لیکن اس کی طبیعت کے عین مطابق اس کی شاعری بھی حیا سوز اور فحاشی کا مرکز تھی۔ مرزا قادیانی کے عارفانہ کلام میں سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

    چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا حصول بھاری ہے

    نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے

    بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس آہ و زاری ہے

    دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن پاک دامن ابھی بے چاری ہے

    زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے

    مرزائی امت کو چاہیئے کہ صبح سویرے نہار منہ گھر کی مستورات کو جمع کر کے اپنے نبی کا یہ عارفانہ کلام پڑھ کر سنایا کریں۔

    لٹیرا:

    مرزا قادیانی کی ساری جدوجہد حصول مال و زر کے لئے تھی جس کے لئے مختلف دینی خدمات کے بہانے لوگوں سے مال بٹورنا مرزا قادیانی کا خاص مشغلہ تھا۔ حتی کہ دعا کروانے کے عوض بھی بھاری بھاری رقوم کا مطالبہ کرتا تھا۔ مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد ایم اے ایسا ہی ایک واقعہ نقل کرتا ہے۔

    پٹیالہ کے ایک رئیس کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا مرزا صاحب کے خواص سے دعا کی سفارش کروائی گئی ان کو جواب دیا کہ محض رسمی طور پر ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی دو باتیں ضروری ہیں گہرا تعلق ہو یا دینی خدمت، رئیس سے کہو ایک لاکھ روپیہ دے تو پھر ہم دعا کریں گے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اﷲ تعالیٰ اس کو ضرور لڑکا دے گا۔ (سیرت المہدی ج اول ص 257)

    قارئین کرام! دوا فروش تو آپ نے بہت دیکھے ہوں گے لیکن یہ دعا فروش پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہوں گے۔

    قارئین کرام! مرزا قادیانی کی عفت و پاکدامنی پر چند واقعات نقل کئے ہیں جن سے مرزا قادیانی کے تقدس کاخوب اندازہ ہوسکتا ہے مزید تفصیلات جاننے کے لئے ’’دجال قادیان یا ابلیس قادیان‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں۔



    مرزا قادیانی کے فرشتے:

    ابوالبشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے سیدا لبشر سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ تک سبھی انبیاء کرام علیھم السلام پر وحی لانے کا فریضہ انجام دینے والے ’’فرشتے‘‘ ہیں اسی لئے نبوت کے جتنے جھوٹے دعویدار ہوئے ہیں ان سب نے بھی یہی دعوی کیا ہے کہ ہماری طرف بھی فرشتے ہی وحی لاتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے بھی یہی دعویٰ کیا کہ مجھ پر فرشتوں کے ذریعے وحی آتی ہے لیکن متنبی قادیان پر وحی لانے والے فرشتے سب سے جدا ہیں مرزا قادیانی پروحی لانے والے سب سے جدا ہیں مرزا قادیانی پر وحی لانے والے فرشتوں میں سے چند کی فہرست مندرجہ ذیل ہے پڑھئے اور سر دھنئے۔

    جب کسی سادہ لوح مسلمان کے ایمان کو لوٹنا مقصود ہوتا ہے تو قادیانی مرزا کے فرشتوں کو چھپاتے ہیں کہ کہیں وہ اس بات کو نہ سمجھ لے کہ مرزا نے نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ مرزا کی کتابوں کی کئی جگہ اس کے ماڈرن فرشتوں کا احوال ملتا ہے آئیے ہم مرزا کے ماڈرن فرشتوں سے کچھ تعارف حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔

    قادیان کے انگریزی نبی پر فرشتے بھی انگریزی اسٹائل کے اترتے تھے، کمبخت اگر آج کے زمانے میں پیدا ہوا ہوتا تو شاید اسکے فرشتے فیشل وغیرہ کروا کے بھی آتے


    ٹیچی ٹیچی فرشتہ:

    ۵ مارچ ۱۹۰۵ کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام ٹیچی ٹیچی بتایا (خزائن جلد 22 ص 346)

    درشنی فرشتہ:

    ایک فرشتہ میں نے بیس برس کے نوجوان کی شکل میں دیکھا صورت اس کی مثل انگریزوں کی تھی اورمیز کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا میں نے اس سے کہا آپ بہت ہی خوب صورت ہیں اس نے کہا ہاں میں درشنی ہوں۔ (ملفوظات ج 4ص 69 )

    خیراتی فرشتہ:

    تین فرشتے آسمان سے آئے ایک کا نام خیراتی تھا (تذکرہ ص 23 طبع چہارم)

    مٹھن لال فرشتہ:

    ایک شخص خواب میں مٹھن لال نامی دیکھا گیا ہے مٹھن لال سے مراد ایک فرشتہ ہے۔ (تذکرہ ص 474 طبع چہارم)



    شیر علی فرشتہ:

    میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔ (تذکرہ ص 24طبع چہارم)

    حفیظ فرشتہ:

    ایک فرشتہ مجھے خواب میں ملا جو چھوٹے لڑکے کی شکل میں تھا میں نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا میرا نام حفیظ ہے ۔ (تذکرہ ص 643طبع چہارم)

    کسی نے صحیح کہا ہے جیسی روح ویسے فرشتے یعنی جیسا نبی ویسے فرشتے۔

    مرزا قادیانی کے کشوف و الہامات:

    انبیائے کرام علیہم السلام کا کلام فصاحت و بلاغت کامرقع ہوتا ہے جس سے حکمت و دانائی اور معرفت الہی کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسی طرح حضرات انبیاء کرام علیہم السلام جس قوم میں تشریف لاتے ہیں اُن پر اسی قوم کی زبان میں وحی نازل ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لبین لھم‘‘ ترجمہ: ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وحی اُن کے لیے خوب واضح ہوسکے۔ مرزا قادیانی بھی یہی بات لکھتا ہے کہ:۔یہ بالکل غیر معقول اور بے ہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی اور ہواور الہام کسی اور زبان میں ہو۔ (خزائن ج ۲۳ ص۲۱۸) لیکن اس کے برعکس مرزا قادیانی کو کئی زبانوں میں وحی ہوتی تھی اور پھر اس انگلستانی نبی کے الہامات و کشوف ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر کبھی متلی آنے لگتی ہے اور کبھی اس کی فاتر العقلی و بے ہودگی پر ہنسی ! یوں تو مرزا قادیانی کے الہامات کو بیان کرنے کے لیے کئی دفتر درکار ہیں۔ بطور نمونہ چند مختلف زبانوں کے الہامات پیش خدمت ہیں

    عربی:

    فحان ان تعان و تعرف بین الناس (تذکرہ ص ۵۴۸ طبع چہارم)

    عبرانی:

    ایلی ایلی لما سبقتنی ایلی اوس (البشری جلد اول ص ۲۶)

    پنجابی:

    الہام ہوا۔ پٹی پُٹیگئی (تذکرہ ص ۶۸۱ طبع چہارم) واﷲ واﷲ! سیدھا ہویا اولَّا (تذکرہ ص 631 طبع چہارم)

    فارسی:

    الہام ہوا سلامت بر تو اے مرد سلامت (تذکرہ ص ۶۳۸ طبع چہارم)

    ہندی:

    الہام ہوا ہے کرشن جی رودزگوپال (اخبار البدر۲۹اکتوبر ۱۹۰۳)

    انگریزی:

    الہام ہوا I Love you, I am with you (تذکرہ ص ۹۲ طبع چہارم)

    عربی، انگلش اردو ملا جلا الہام:۔

    فتا برک من علم وتعلم خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔(خزائن ج ۲۲ ص ۹۹)

    بے معنی الہامات:

    اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو بے معنی الہامات بھی ہوئے جن کی سمجھ مرزا قادیانی کو بھی نہ ہو سکی چند نمونے ملاحظہ کیجئے۔

    الہام میں شیشی دکھائی گئی اس پرلکھا تھا ’’ خاکسار پیپر منٹ‘‘ (الحکم قادیان ۲۴ فروری ۱۹۰۵)

    الہام ہوا ھو شعنا نعسا (تذکرہ ص91 طبع چہارم)

    پریشن عمر پرا طوس پلا طوس (تذکرہ ص 91 طبع چہارم)

    غثم غُثم غُثم (تذکرہ ص طبع چہارم)

    ایک دانہ کس کس نے کھانا (البشری ج 2ص 107)

    خواب میں دکھائے گئے (ا)تین استرے (۲) عطر کی شیشی (تذکرہ ص 774طبع سوم)

    پیٹ پھٹ گیا (دن کے وقت کا الہام ہے) (تذکرہ ص 568 طبع چہارم)

    ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے (تذکرہ ص ۶۱۴ طبع چہارم)

    ایلی اوس (تذکرہ ص ۷۱ طبع چہارم)

    الہام ہوا ’’خطرناک‘‘ (تذکرہ ص ۷۶۲ طبع چہارم)


    مرزا قادیانی کی عبادات:

    حضرت انبیاء کرام علیھم السلام جہاں لوگوں کو اﷲ کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف بلاتے ہیں وہاں خود بھی کثرت سے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرتے ہیں اور انبیاء کرام علیھم السلام کا کیا کہنا کئی اولیاء ایسے گزرے ہیں جو ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھتے تھے ساری ساری رات عبادت میں گزارتے ۔ جبکہ مرزا قادیانی کی عبادت و ریاضت کا حال ایک عام مسلمان سے بھی پتلا ہے، مرزا قادیانی کی عملی حالت کو دیکھیئے اور فیصلہ کیجئے کہ کیاایسا شخص روحانیت کے کسی ادنیٰ درجے پر بھی فائز ہوسکتا ہے چہ جائیکہ نبوت و رسالت جیسے اعلیٰ منصب پر……؟

    مسنون وضع پر نماز:

    قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہوکر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے اور قرأت میں شاید قل ھو اﷲ بامشکل پڑھ سکوں۔ (مکتوبات احمدیہ جلد ۵ ص ۸۸)

    حفظ قرآن:

    حضرت مسیح موعود کو قرآن مجید کے بڑے بڑے مسلسل حصے یا بڑی بڑی سورتیں یاد نہ تھیں۔ (سیرت المہدی جلد سوم ص ۴۴)



    بیٹے کی خاطر نماز جمعہ چھوڑ دی:

    ایک جمعہ کے دن حضرت مسیح موعود نماز جمعہ کے لیے جانے لگے تو مرزا مبارک احمد نے روک لیا اور جمعہ کے لیے نہیں جانے دیا اس پر مرزا صاحب نے نماز جمعہ چھوڑ دی۔ (ذکر حبیب ص 172)

    روزے:

    جب حضرت مسیح موعود کو دورے پڑنے شروع ہوئے تو آپ نے اس سال سارے رمضان کے روزے نہیں رکھے۔ دوسرے سال آٹھ نو روزے رکھے باقی چھوڑ دئیے۔ تیسرے سال دس گیارہ روزے رکھے باقی چھوڑ دئیے۔ پھر اس کے بعد جتنے سال زندہ رہے کبھی روزے نہیں رکھے۔ (سیرت المہدی جلد دوم ص ۶۵)

    حج، اعتکاف، زکوۃ:

    حضرت مسیح موعود نے حج نہیں کیا، زکوۃ نہیں دی، تسبیح نہیں رکھی۔ (سیرت المہدی ج سوم ص ۱۱۹)

    قارئین کرام ! مرزا قادیانی کی عملی زندگی کے چند گوشے آپ کے سامنے رکھے گئے ہیں جن سے مرزا قادیانی کی عملی حالت واضح ہے یقینا بڑے سے بڑا دعویٰ کرنے میں دو تولہ زبان کی حرکت ہے لیکن عمل سے دعوے کی صداقت ثابت کرنا صرف سچوں کا ہی کام ہے اور پھر مرزا قادیانی کی عبادت و ریاضت سے کنارہ کشی اس کے مریدین پر بھی واضح تھی اسی لیے وہ مرزا قادیانی سے اس متعلق سوال بھی کر لیا کرتے تھے چنانچہ مرزا قادیانی کا لڑکا بشیر احمد ایم اے لکھتا ہے کہ:۔ ایک دفعہ مرزا صاحب میاں رحیم بخش کے ساتھ سیر کر رہے تھے تو اس نے پوچھا کہ حضرت آپ سیر کرتے ہیں ولی لوگ تو سنا ہے شب و روز عبادت الہی کرتے ہیں آپ(مرزا قادیانی) نے جواباً فرمایا ولی اﷲ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک مجاہدہ کش جیسے، حضرت باوا فریدشکرگنج دوسرے محدث جیسے ابوالحسن خرقانی، مجدد الف ثانی وغیرہ دوسرے قسم کے ولی بڑے مرتبہ کے ہوتے ہیں اﷲ تعالیٰ ان سے بہ کثرت کلام کرتا ہے میں ان میں سے ہوں (کیا یہ حضرات عابد و ذاہد نہ تھے ؟ اور پھر مرزا کو کس نے محدث کہا؟ اور کیا عمل کی بجائے صرف دعوے کرنے سے انسان متقی کہلا سکتا ہے؟)


    مرزا قادیانی کی علم دانی:

    مرزا قادیانی کوئی علمی شخص نہ تھا دین اسلام کی وہ بنیادی معلومات جن سے معمولی دینی مطالعہ رکھنے والا شخص بھی واقفیت رکھتا ہے ۔ مرزا قادیانی اُن سے بھی کورا تھا جبکہ دعویٰ امام الزمان، مہدی، مسیح اور نجانے کیا کیا تھا حالانکہ امام الزمان کی علمی قوت کے بارے میں لکھتا ہے: امام الزمان کو مخالفوں اور عام سائلوں کے مقابل پر اس قدر الہام کی ضرورت نہیں جس قدر علمی قوت کی ضرورت ہے۔ (خزائن ج ۱۳ ص ۴۸۰)

    لیکن مرزا قادیانی کی علمی قوت اور معلومات کی وسعت کس قدر تھی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ تاریخ کو دیکھو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہی ایک یتیم لڑکا تھا جس کا باپ پیدائش سے چند دن بعد ہی فوت ہوگیا تھا (خزائن ج ۲۳ ص ۴۶۵)

    قارئین کرام ! مرزا قادیانی کی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق معلومات دیکھئے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ وہ آپ کی ولادت سے چھ ماہ قبل ہی انتقال فرما گئے تھے لیکن مرزا قادیانی سیرت کی اس ابتدائی بات سے بھی جاہل ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’یتیم لڑکا تھا‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے مرزا قادیانی کا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب کرنا بھی ظاہر ہے۔ تاریخ دان لوگ جاتنے ہیں کہ آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کے گھر گیارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے اور سب کے سب فوت ہوگئے۔ (خزائن ج ۲۳ ص ۲۹۹)

    یہاں بھی مرزا قادیانی کی سیرت سے جہالت ظاہر ہے کیونکہ کتب سیرت میں واضح لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تین لڑکے ’’عبداﷲ، طیب، قاسم‘‘ پیدا ہوئے جن کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا۔ ۱۔ بخاری شریف جو حدیث کی بڑی معتبر مشہور کتاب ہے مرزا قادیانی کو اس کے مصنف کانام تک معلوم نہ تھا۔ چنانچہ لکھتا ہے: ٭ امام محمد اسماعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت صرف اسی قدر حدیث بیان کرکے چپ کرگئے کہ ’’اما مکم منکم‘‘ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دراصل حضرت اسماعیل بخاری صاحب کایہ مذہب تھا۔ (خزائن ج ۳ ص ۱۵۳)

    قارئین کرام ! بخاری شریف کی شہرت اور مقام سے کون سا مسلمان ناواقف ہوگا لیکن مرزا قادیانی امام بخاری کے نام تک سے واقف نہ تھا اسی لئے اپنی کتابوں میں امام بخاری کا نام ’’محمد اسماعیل بخاری‘‘ لکھتا ہے۔ حالانکہ اسماعیل تو ان کے والد کا نام تھا امام بخاری کا نام تو ’’محمد‘‘ تھا یہ ہے مرزا قادیانی کی علم حدیث سے جہالت کا بعین ثبوت اور یہ اس شخص کی حالت ہے جو کہتا ہے کہ میں حَکَم بن کر آیا ہوں اس لئے میں جس حدیث کو غلط کہہ دوں وہ مردود ہے چاہے وہ محدثین کی شہادت اس کی صحت پر ہو (نعوذ باﷲ) اور جو یہ کہتا ہے کہ میری وحی کے مقابل حدیث کو ردی کی طرح پھینک دو (نعوذ باﷲ)۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مشہور عالم حافظ ابن حجرمکی شافعی المذہب تھے لیکن مرزا قادیانی نے اپنی وحی کے ذریعے اُن کا حنفی ہونا لکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں۔ فتاوٰی ابن حجر جو حنفیوں کی ایک نہایت معتبر کتا ب ہے (خزائن ج۱۴ص ۳۱۵)

    یہاں مرزا قادیانی نے شوافع کی معتبر کتاب ’’فتاویٰ ابن حجر‘‘ کو حنفیوں کی معتبر کتاب کہہ کر فقہ سے جہالت کا ثبوت دیا ہے، بھلا جو شخص فقہ کی کتابوں کے سرسری تعارف سے ناواقف ہو وہ اصول فقہ اور فقہ کے باریک مسائل کو کیا جانتا ہوگا؟ اور کیا ایسا جاہل شخص اجتہاد کا اہل ہو سکتا ہے؟

    قارئین کرام! مرزا قادیانی کی عجیب الخلقت شخصیت کے مختلف گوشوں سے چند نمونے آپ کے سامنے رکھے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ بدخصلت اس فرش خاکی پر جنم لینے والا بدترین انسان تھا جس کے رگ و ریشے پر شیطان کی حکمرانی تھی جس کی زبان گالیوں اور گستاخیوں کی مشین گن تھی۔ شراب اور افیون جیسے نشے کا عادی اور زنا اور حرام کاری جیسے فعل شنیع میں مبتلا تھا، پرلے درجے کا جاہل مطلق اور مخبوط الحواس تھا، جھوٹ و افتراء کا پلندہ تھا۔


    مرزا قادیانی کے امراض:

    یہ بات مسلَّم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے روحانی اور جسمانی قویٰ بالکل بے عیب اور عام لوگوں کے قویٰ سے مضبوط ممتاز اور برتر ہوتے ہیں ہاں انہیں بتقاضہ بشریت عارضی طور پر بعض بیماریاں مثلا بخار، سر درد وغیرہ لاحق ہوسکتیں ہیں لیکن ایسا نہ ہوگا کہ انبیاء کرام علیھم السلام ایسے موذی امراض میں مبتلا ہوں جو انہیں قبر تک پہنچا دیں اس کے برعکس مرزا قادیانی بیسیوں بیماریوں کا مجموعہ تھا حالانکہ دعویٰ بھی تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے تندرستی کی بشارت دی ہوئی ہے لکھتا ہے۔

    خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی کہ ہر ایک خبیث عارضہ سے تجھے محفوظ رکھوں گا (خزائن ج17،ص 419)

    دوسری جگہ اپنے الہام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ اے مرزا ہم نے تیری صحت کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ (تذکرہ ص 806) لیکن حفاظت کے اس خدائی وعدے اور ٹھیکے کے باوجود مرزا قادیانی مجموعہ امراض تھا اور اس کی بیماریوں کو گننا بھی آسان کام نہیں چند بیماریاں مندرجہ ذیل ہیں:

    مراق اور کثرت پیشاب:

    مجھے دو بیماریاں لاحق ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت پیشاب۔ (ملفوظات ج ۴ ص ۴۴۵۔ خزائن ج 17 ص 470)

    ہسٹریا اور مراق:

    آپ فرماتے تھے مجھے ہسٹریا ہے بعض اوقات مراق بھی فرمایا کرتے تھے (سیرت المہدی ج ۱ ص۱۷)

    حافظے کی تباہی:

    میرا حافظہ خراب ہے اگرکئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں…… حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کرسکتا۔ ( مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ص ۳۱)

    مائی اوپیا:

    حضرت مرزا صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا اس وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔ (سیرت المہدی حصہ سوم ص ۱۱۹)

    نامردی:

    جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں (پھر شادی کس کے بھروسے اور سہارے کی اور شادی کے بعد اولاد جلدی کیسے ہوگئی؟ناقل) (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم ص ۲۱ نمبر ۲)

    عصبی کمزوری :

    حضرت مرزا صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشججدل، بد ہضمی، اسہال ، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھا۔ (رسالہ ریویو قادیان بابت مئی ۱۹۳۷ء)

    مرزا قادیانی کے دعوے :

    تاریخ میں بہت سے جھوٹے مدعی نوبت گزرے ہیں لیکن اُن میں سے بہت کم مدعی ایسے ہیں جن کے دعووں کی تعداد دو یا تین سے متجاور ہو ہاں البتہ مرزا قادیانی اس میدان میں بھی سب سے جدا ہے مرزا قادیانی نے اس کثرت سے دعوے کیے ہیں کہ اُن کا شمار ایک عام آدمی کے لیے بالکل محال ہے اور پھر دعوے بھی اتنے مضحکہ خیز ثناقض اور متضاد ہیں کہ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مرزا قادیانی جاندار ہے یا بے جان، انسان ہے چھلاوہ مرد ہے یا عورت، مسلمان ہے یا ہندو، مہدی ہے یا حارث، ولی ہے یانبی۔ چند دعاوی جات آپ بھی ملاحظہ فرمائیں شاید کہ فیصلہ کر سکیں:۔

    بشر کی جائے نفرت:

    کرم خاکی ہو میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اورانسانوں کی عار (خزائن ج ۲۱ ص۱۲۷) اس شعر میں مرزا قادیانی نے خود کو انسان کی شرم اور عار کی جگہ کہا ہے تعین مرزائیوں کے ذمے ہے۔

    میں سور مار ہوں:

    حدیث شریف میں میرا نام’’ سور مار‘‘ رکھا گیا ہے کیونکہ مسیح کی تعریف میں ہے ’’ یقتل الخنزیر‘‘ (ذکر حبیب ص ۱۶۲)

    امین الملک جے سنگھ بہادر ہونے کا دعویٰ:۔

    بقول مرزا قادیانی اسے الہام ہوا ’’امین الملک جے سنگھ بہادر‘‘ (تذکرہ ص ۵۶۸ طبع چہارم)



    میں کرشن ہوں:

    خدا نے مجھے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے مسیح موعود بناکر بھیجا ہے ایسا ہی میں ہندوؤں کے لیے بطور اوتار کے ہوں۔ (روحانی خزائن ج۲۰ ص ۲۲۸)

    میں آریوں کا بادشاہ ہوں:

    خدا تعالیٰ نے بار بار میر ے پر ظاہرکیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہرہونے والا تھا وہ تو ہی ہے ’’آریوں کابادشاہ‘‘ (روحانی خزائن ج ۲۲ ص ۵۲۲ ۔۵۲۱)

    گورنمنٹ برطانیہ کا تعویذ:

    میں اس گورنمنٹ کے لیے بطور ایک تعویذ کے ہوں اوربطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے۔ (روحانی خزائن ج ۸ ص ۴۵)

    میں خاتم الاولیاء ہوں:

    بقول مرزا قادیانی اسے الہام ہوا ’’وانا خاتم الاولیا‘ ‘میں خاتم الاولیاء ہوں۔ (روحانی خزائن ج ۱۶ ص ۷۰)

    میں مجدد، مہدی، مسیح ہوں:

    میں وہ مجدد ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں وہ مہدی ہوں جس کاآنا مقرر ہو چکا اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ (روحانی خزائن ج ۱۶ ص ۵۱


    میں حجر اسود ہوں:

    ایک شخص نے میرے پاؤں کو چوما اور میں نے (اسے) کہا کہ حجر اسود میں ہوں (واقعی دل کی سختی کے اعتبار سے حجر اور رنگت کے اعتبار سے اسود تھا، ناقل) (تذکرہ ص ۲۹ طبع چہارم)

    میں بیت اﷲ ہوں:

    خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اﷲ رکھا ہے (تذکرہ ص ۲۸ طبع چہارم)

    میں قرآن ہوں:

    بقول مرزا قادیانی اسے الہام ہوا : میں تو بس قرآن ہی کیطرح ہوں(تذکرہ ص ۵۷۰ طبع چہارم)

    میں مریم ہوں:

    اس(اﷲ) نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کے چند دعوؤں کی سرسری فہرست کیا کوئی انسان بقائمی ہوش و حواس اور بشرط عقل خرد مرزا قادیانی کو مجدد ، مسیح ،ولی، یا نبی تو درکنار اسے صحیح الدماغ انسان متصور کرسکتا ہے ؟ اور اسکی پیروی کو باعث نجات تصور کرسکتا ہے۔

    نوٹ:

    ان دعووں کے علاوہ مرزا قادیانی نے خدا، خدا کا بیٹا، خدا کا بیوی، رسالت و نبوت، انبیاء کا مظہر، انبیاء پر فضیلت، اور ایسے بہت سے تعلی آمیز دعوے کیے ہیں تفصیل دیکھنے کے لیے ’’ ابلیس قادیان یا قادیانی کافر کیوں‘‘ کتاب کا مطالعہ کریں:۔


    مرزا کے جھوٹ:

    جھوٹ ایک ایسی بُری خصلت ہے جسے نہ صرف اسلام بلکہ ہرمذہب سے تعلق رکھنے والا بُرا جانتا ہے۔ اس کے علاوہ جھوٹ بولنا ایک معاشرتی اور اخلاقی عیب بھی ہے اس لیے انبیاء علیہم السلام کی ذوات قدسیہ جھوٹ سے مکمل بری ہوتے ہیں اسی لئے مرزا قادیانی جیسے کذاب نے بھی اپنی کتابوں میں کئی جگہ جھوٹ کی برائی بیان کی ہے۔ نیز جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے بھی بار بار بیان کرنے چاہیےں ۔

    جھوٹ کے متعلق مرزا صاحب کے اپنے فتوے:

    1. ’’ جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں ‘‘ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص۲۰، روحانی خزائن ص ۵۶ ج ۱۷)

    2. ’’ جھوٹ بولنے سے بد تر دنیا میں اور کوئی براکام نہیں ‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی ص ۲۶، روحانی خزائن ص۴۵۹ ج ۲۲)

    3. ’’ تکلّف سے جھوٹ بولنا گوہ(پاخانہ) کھانے کے مترادف ہے ‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۵۹ ، روحانی خزائن ص۳۴۳ج۱۱ ، حقیقت الوحی ص۲۰۶ج ۲۲ص ۲۱۵)

    4. ’’ جھوٹ کے مردار کو کسی طرح نہ چھوڑنا یہ کتو ں کا طریق ہے نہ انسانوں کا ۔‘‘ (انجام آتھم مطبع قادیان ص ۴۰، روحانی خزائن ص ۴۳ج ۱۱)

    5. ’’ ایسا آدمی جو ہر روز خدا پر جھوٹ بولتا ہے اور آپ ہی ایک بات تراشتا اور پھر کہتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے وحی ہے جو مجھ پر ہوئی ہے ایسا بد ذات انسان تو کتوں اور سوؤروں اور بندروں سے بد تر ہے ۔‘‘ (براہین احمدیہ ج۵ ص ۱۲۶،۱۲۷۔ روحانی خزائن ج۲۱ ص۲۹۲)

    6. ’’ وہ کنجر جو ولد الزنا کہلاتے ہیں وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں ۔ ‘‘ (شحنہ حق ص۶۰، روحانی خزائن ج۲ ص ۳۸۶)

    7. ’’جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجا ئے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا ۔‘‘ (چشمہ معرفت ص۲۲۲،روحانی خزائن ص۲۳۱ ج۲۳)

    مرزا کے جھوٹ:

    اب ہم مرزا کے چند ایک جھوٹ پیش کرتے ہیں اس کے کذبات کا کما حقہ احاطہ کرنا کارے دارد ہے ۔ ہم نمونے کے طور پر چند اکاذیب مرزا بیان کریں گے۔

    جھوٹ نمبر 1:


    ’’ اولیاو گزشتہ کے کشوف نے اس بات پر قطعی مہر لگادی ہے کہ وہ )مسیح موعود۔ناقل) چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا اور نیزیہ کہ پنجاب میں ہوگا۔‘‘ (اربعین نمبر ۲ص۲۳ طبع چناب نگر)ربوہ) ، روحانی خزائن ج۱۷ ص۳۷۱)

    ﴿مطبع قادیان میں انبیاء کا لفظ ہے بعد کے ایک ایڈیشن میں یہ وضاحت کی گئی کہ یہ لفظ غلطی سے لکھا گیا اور اب نئے ایڈیشن میں یہ وضاحت بھی حذف کردی گئی ہے ﴾ اولیا ء جمع کثرت ہے او رجمع کثرت دس سے اوپر ہوتی ہے اس لئے کم از کم دس معتمد اولیاء کے نام پیش کرو جنہوں نے بذریعہ کشف مہرلگائی ہو اور ولی ایسا ہو جس کو دونوں فریق صحیح ولی مانیں ۔ ہم کہتے ہیں کہ مرزا کا یہ سفید جھوٹ ہے کسی مسلمہ ولی نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ مہدی چودہویں صدی میں ہوگا اور نیزیہ کہ پنجاب میں ہوگا ۔ یہ تمام اولیاء کرام پر جھوٹ ہے ۔


    جھوٹ نمبر 2:


    ’’ اے عزیزو تم نے وہ وقت پا یا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا جس کے دیکھنے کیلئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی ۔‘‘ (اربعین نمبر ۴ ص ۱۳،روحانی خزائن ص۴۴۲ ج۱۷) یہ بھی بالکل صاف جھوٹ ہے کسی ایک پیغمبر سے یہ خواہش کرنا ثابت نہیں ہے ۔

    جھوٹ نمبر 3:


    ’’ یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توراۃ کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پڑے گی بلکہ مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے ۔‘‘ (کشتی نوح ص ۵، روحانی خزائن ص۵ ج۱۹) اسی عبارت کے متعلق اسی صفحہ پر حاشیہ لکھا ’’ مسیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائبل کی ذیل کی کتابوں میں موجود ہے :زکریا باب ۱۴ آیت ۱۲بائبل ۸۹۱، انجیل متی باب ۲۴ آیت ۸، مکاشفات باب ۲۲ آیت ۸،عہد نامہ جدید ص۲۵۹۔‘‘ اس عبارت میں ایک جھوٹ نہیں بلکہ خدا تعالی کی چار آسمانی کتابوں پر چار عدد جھوٹ ہیں ۔ مذکورہ کتب کے مذکورہ صفحات پر ہر گز مسیح موعود کے وقت طاعون کے پڑنے کا ذکر نہیں ہے ۔

    جھوٹ نمبر 4:


    ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور نبیوں کیطرح ظاہری علم کسی استاد سے نہیں پڑھا مگر عیسی علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی استاد سے تمام توراۃ پڑھی تھی ……۔ سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن و حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہو گا سو میں یہ حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی حال ہے کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن وحدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہویا کسی مفسر یا محدث کی شاگردی اختیا ر کی ہو۔‘‘ (ایام صلح ص۱۴۷، روحانی خزائن ص۳۹۴ ج ۱۴)

    یہ صریح جھوٹ ہے ۔ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہماالسلام نے کون سے مکتبوں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ؟ یہ ان انبیا ء پر صریح الزام ہے ، قرآن و احادیث صحیحہ سے ثابت کرو کہ حضرت عیسیٰ نے کون سے یہودی عالم سے توراۃ پڑھی تھی ۔ حالانکہ قرآن پاک میں ہے ’’ ویعلمہم الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ یعنی میں خود ان کو تعلیم دوں گا اسی طرح قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے ’’ واذاعلمتک الکتاب والحکمۃ والتوراۃ والانجیل ‘‘ اور جب میں نے کتاب اور حکمت توراۃ وانجیل سکھائی۔ )پ۷ سورۃ المائدۃ آیت ۱۱۰ رکوع ۱۰) اس میں بھی تعلیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے آگے جو اپنے بارے میں لکھا ہے کہ میرا یہی حال ہے ……الخ ۔یہ بھی صاف جھوٹ ہے ہم ثابت کرتے ہیں کہ مرزا کے متعدد اساتذہ تھے۔کتاب البریۃ ص۱۶۱ تا ۱۶۳،روحانی خزائن ص۱۸۰ ۔ ۱۸۱ ج۱۳ کے حاشیہ پر اس کے اپنے ہاتھوں سے اس کی تعلیم کا حال موجود ہے جیسا کہ شروع میں گذر چکا ہے۔

    جھوٹ نمبر 5:


    ’’ احادیث صحیحہ میں آیاتھا کہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۱۸۸،روحانی خزائن ج۲۱ ص ۳۵۹) جبکہ کتاب البریہ ص ۱۸۷۔۱۸۸ بر حاشیہ روحانی خزائن ج۱۳ ص۲۰۵۔۲۰۶ کی عبارت یہ ہے:

    ’’ بہت سے اہل کشف نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر خبر دی تھی کہ وہ مسیح موعود چودہویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا اور یہ پیش گوئی اگرچہ قرآن شریف میں صرف اجمالی طورپر پائی جاتی ہے مگر احادیث کی رو سے اس قدر تواتر تک پہنچی ہے کہ جس کا کذب عندالعقل ممتنع ہے ۔‘‘
    احادیث جمع کثر ت ہے اس لئے کم ازکم دس احادیث صحیحہ متواترہ دکھاؤ جن میں مسیح موعود کے چودھویں صدی کے سر پر آنے کے الفاظ وغیرہ موجود ہوں مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ مرزائی امت تا قیامت کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں دکھا سکتی ۔ یہ حضور ﷺ پر صریح افتراء اور بہتان ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا :

    ’’ من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعد ہ من النار ‘‘ ’’ یعنی جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا پس وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے ‘‘ لہذا یہ جھوٹ بول کر بھی مرزا جہنمی ہوا۔


    جھوٹ نمبر 6:


    ’’ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کیلئے آواز آئے گی کہ: ’’ ھذا خلیفۃ اﷲ المہدی‘‘ اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے ۔‘‘ (شہادۃ القرآ ن ص ۴۱،روحانی خزائن ص۳۳۷ج۶)

    جھوٹ بالکل جھوٹ ! بخاری شریف میں اس قسم کی کوئی حدیث نہیں ۔ ھاتوا برہانکم ان کنتم صادقین ۔

    جھوٹ نمبر 7:


    ’’ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے ۔ مکہ ، مدینہ اور قادیان ۔‘‘ (ازالہ اوہام بر حاشیہ ص۳۴، روحانی خزائن ص ۱۴۰ ج۳)

    جھوٹ نمبر 8:


    ’’ وقد سبونی بکل سب فمارددت علیہم جوابہم ‘‘

    ترجمہ:مجھ کو گالی دی گئی میں نے جواب نہیں دیا (مواہب الرحمن ص۱۸ طبع اول ص۲۰ طبع دوم۔ روحانی خزائن ص۲۳۶ ج۱۹)

    یہ بالکل جھوٹ ہے کہ میں نے لوگوں کی گالیوں کا جواب نہیں دیا بلکہ خود مرزا صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ میرے سخت الفاظ جوابی طور پر ہیں ابتدا سختی کی مخالفوں کی طرف سے ہے ۔ (کتاب البریۃ دیباچہ ص۱۰، روحانی خزائن ص ۱۱ ج۱۳)

    جھوٹ نمبر9 :


    تفسیر ثنائی میں لکھا ہے کہ ابوہریرہ فہم قرآن میں ناقص تھا۔ )خزائن ج۲۱ ص ۴۱۰) یہ مرزا قادیانی کا تفسیر ثنائی پر خالص افتراء ہے۔ تفسیر ثنائی میں کہیں یہ بات نہیں لکھی گئی، مرزا قادیانی کو تفسیر ثنائی پر جھوٹ اس لئے بولنا پڑا کہ اس بدبخت نے خود اپنی کتابوں میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی توہین کرتے ہوئے انہیں ناقص الفہم لکھا ہے اس لیے اعتراض سے بچنے کیلئے اس توہین کی نسبت تفسیر ثنائی کی طرف کر دی۔ ہمارا مرزائیوں کو چیلنج ہے کہ تفسیر ثنائی میں یہ الفاظ دکھائیں تاکہ مرزے کے ماتھے سے جھوٹ کی اس لعنت کا داغ دھو سکیں۔

    جھوٹ نمبر10:


    حدیثوں میں صاف لکھا ہے کہ مسیح موعود کی تکفیرہوگی اور علمائے وقت اس کو کافر ٹھہرا ئیں گے اور کہیں گے کہ یہ سچ ہے اس نے تو ہمارے دین کی بیخ کنی کردی ہے۔ (خزائن ج ۱۷ ص ۲۱۳) یہ خالص افتراء ہے کسی ایک حدیث میں بھی ایسی بات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی کے تعلی آمیز دعووں اور توہین آمیز عبارات کو دیکھتے ہوئے علماء کرام نے اس کے کفر کا اعلان کیا تو مرزا قادیانی نے محض اپنے کفر کے خلاف اس تحریک کو کمزور کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھ دیا۔

    قارئین کرام! مرزا قادیانی کے چند جھوٹ آپ کے سامنے نقل کیے ہیں آپ مرزا قادیانی کے فتووں کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا مرزا قادیانی شرک نہیں کر رہا؟ کیا مرزا قادیانی کتوں کے طریق پر نہیں چل رہا؟ کیا مرزا قادیانی جھوٹ بول کرگوہ نہیں کھا رہا؟ اور کیا مرزا قادیانی وہ کام نہیں کر رہا جس کے کرنے میں ولد الزنا کنجر بھی شرماتے ہوں۔






    مغلظات مرزا:

    حضرات انبیاء کرام علیھم السلام کی خصوصیات میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ مقدس وجود تہذیب و اخلاق اور صبر و تحمل کے پہاڑ ہوتے اور کسی کی سخت کلامی پربھی اخلاق کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے اور اپنی برگشتہ قوم کو اپنی شریں زبانی اور نرم خوئی کے ذریعے راہ راست پرلانے کی کوشش کرتے لیکن اس کے برعکس انبیاء علیھم السلام کا مظہر اتم ہونے کا دعوے دار مرزا قادیانی سراسر اخلاقی کمزوریوں، نکتہ چینیوں، بد گوئیوں اور بدکلامیوں سے لبریز تھا مرزا قادیانی اپنے مخالفین کو گالیاں تک دینے سے بھی گریز نہ کرتا تھا۔ مرزا قادیانی نے مختلف مذاہب کے لوگوں کو جو گالیاں دیں ہیں ان کی لمبی فہرست ہے چند حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔

    مسلمانوں کو گالیاں:

    جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو والد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ (خزائن ج ۹ ص ۳۱)

    ہر شخص میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اُسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔ ( خزائن ج ۵ ص ۵۴۸۔۵۴۷)

    دشمن ہمارے بیابانوں کی خنزیر ہوگئے اور اُن کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں (خزائن ج ۱۴۔ص ۵۳)

    علماء کرام اور اولیاء اﷲ کو گالیاں:

    یہ مولوی دنیا میں سب جانداروں سے زیادہ پلید اور کراہت کے لائق خنزیر ہیں مگر خنزیر سے زیادہ پلید لو گ وہ ہیں۔ (خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۵)

    اے مردار خور مولویو اور گندی رو حو تم پر افسوس، اے اندھیرے کے کیڑو ( خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۵)

    بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ (خزائن ج ۱۱ ص ۳۰۲)

    عیسائیوں کو گالیاں یہ مردہ پرست لوگ(عیسائی) کیسے جاہل اور خبیث طینت ہیں (خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۲)

    اس مردار فرقہ عیسائیت جو مردہ پرست ہے (خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۳)

    آریوں کو گالیاں:

    قادیان کے احمق اورجاہل اور کمینہ طبع بعض آریہ (خزائن ج ۱۸ ص ۳۸۷)

    اے نادان آریو کسی کنوئیں میں پڑ کر ڈوب مرو (خزائن ج ۱۰ ص ۶۴)

    (نوٹ)

    قادیانی کتب میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو دی گئی گالیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن کو حروف تہجی کی ترتیب سے حضرت مولانا نور محمد سہارنپوری نے اپنی کتاب ’’مغلظات مرزا‘‘ میں جمع کر دیا ہے۔


    مرزا قادیانی ایک مخبوط الحواس شخصیت:

    اثر مراق:

    قادیانی امراض کے تحت قادیانی تحریرات سے مرزا قادیانی کامراقی ہونا لکھا گیا ہے۔ لیکن اس اقرار کے علاوہ مرزا قادیانی کا مراقی ہونا اسکی حرکات و سکنات، عادات و اطوار سے واضح ہوتا ہے مرزے کے مراقی ہونے پر چنددل آویز نمونے پیش خدمت ہیں۔



    چھڑی کا قصہ:

    مرزا قادیانی کا لڑکا لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صاحب نے اپنی چھڑی میاں محمد علی لاہوری کو پکڑائی جب کچھ دیر بعد محمد علی لاہوری نے وہ چھڑی مرزا صاحب کو دی تو انہوں نے چھڑی کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا کس کی ہے تو بتایا گیا آپ ہی کی ہے اس پر مرزا قادیانی نے کہا اچھا ہم سمجھے تھے کہ آپ کی ہے۔ (سیرت المہدی جلد اول ص ۲۲۷)

    کتا اور جوتا:

    کھانا اور کتا: ایک مرتبہ مرزا صاحب لکھنے میں مصروف تھے کہ خادمہ نے کھانا لا کر سامنے رکھ دیا اور بتا کر خود چلی گئی آپ دوبارہ لکھنے میں مصروف ہوگئے ایک کتا آیا اور بڑے اطمینان سے کھانا کھا کر چلا گیا لیکن مرزا صاحب کو پتہ نہ چل سکا۔ (معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی کے پاس کتوں کا آنا جانا اس کثرت سے کیوں تھا شاید کہ جیسی روح ویسے ہی فرشتے والی بات ہو، ناقل) (ملخصاً سیرت مسیح موعود ص ۳۰)

    الٹا پاؤں سیدھے جوتے میں اور سیدھا الٹے میں:

    مرزا قادیانی ایسا مخبوط الحواس تھا کہ وہ کام جو معمولی سمجھ رکھنے والا شخص بھی باآسانی کر لیتا ہے مرزا وہ بھی نہ کرپاتا تھا۔ چند دل آویز نمونے پیش خدمت ہیں۔ مرزا قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے کہ: مرزا صاحب جوتے پہننے میں الٹے سیدھے کی پہچان نہ سکتے تھے بسا اوقات الٹی جوتی پہن لیتے تھے والدہ صاحبہ (مرزا کی بیوی) نے الٹے سیدھے کاپاؤں کی شناخت کے لیے نشان بھی لگا دیئے مگر باوجود اس کے الٹا پہن لیتے تھے (ذکاوت ہو توایسی ہو) (ملخصاً سیرت المہدی ج اول ص ۵۳) الٹی سیدھی جرابیں: بعض دفعہ جب جراب پہنتے تو اس کی ایڑی نیچے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہوجاتی۔ (سیرت المہدی ج ۲ ص ۵۸)

    اوپر نیچے بٹن:

    مرزا قادیانی کا بیٹا لکھتا ہے: بار ہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا۔ (سیرۃ المہدی ج ۲ ص ۵۸) اسی طرح صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگے ہوتے تھے۔ (سیرۃ المہدی ص ۱۲۶ ج ۲)

    مت ماری گئی:

    مرزا صاحب کھانا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیا پکا تھا اورہم نے کیا کھایا ہے۔ (ہاں قوت باہ بڑھانی والی ادویات کا خوب علم تھا ناقل) (سیرت المہدی ج ۲ ص ۱۳۱) بعض اوقات کسی خادم کاذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کرتے حالانکہ وہ ساتھ ہوتا تھا۔ (سیرت المہدی ج ۲ ص ۷۷) بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ایک شخص مثلاً بھیرہ جانے والا ہوتا تھا تو اس شخص سے بھی وہی باتیں دریافت کرتے جو پہلے دریافت کر چکے ہوتے۔ (الفصل قادیان ۳ جنوری ۱۹۳۱ ص ۶)

    قارئین کرام! یہ ہے مرزا قادیانی کی دماغی حالت، کیا ایسا فاتر العقل شخص صحیح الدماغ انسانوں میں رہنے کے قابل ہو سکتا ہے اور کیا ایسا مخبوط الحواس شخص کسی انسانی غول کا ھادی، رہبر بن سکتا ہے، اور ایسا مسلوب الحواس اور ماؤف الدماغ شخص وحی الہی اور الہام شیطانی میں فرق کر سکتا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    اللہ کی لعنت ہو اس جھوٹے پر!

    بہت عمدہ معلومات ہیں، شیئر کرنے کا شکریہ، جزاک اللہ خیرا۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں