سعودیہ میں گزرے ایام میں سعودیوں سے وابستہ یادیں

ابو حسن نے 'دیس پردیس' میں ‏جنوری 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    ایک مرتبہ حرم مکہ سے حرم مدینہ کی طرف سفر کر رہا تھا ،ٹویوٹا گاڑی میں سوار ہوا سعودی لڑکا ڈرائیور تھا عمر تقریباً 21 سال ہوگی ، اگلی سیٹ پر اسکے ساتھ بیٹھ گیا ،راستہ میں جب گپ شپ ہوئی تو مجھے کہتا ہے

    سعودی : "عندی شھادۃ " میرے پاس سند ہے

    ابو حسن : تعجب سے " أي شهادة عندك ؟ " کونسی سند ہے تمہارے پاس ؟

    سعودی : " تفتح شنطة قفازات " دستانوں والا دراز کھولو

    میں نے کھولا تو اس میں چالان تھا دیکھا تو سپیڈ 290 تھی، مجھے کہتا ہے

    سعودی : " شوفت عداد السرعۃ " سپیڈ کا میٹر دیکھو ،وہ 280 کا تھا ،
    بولا "واللہ مررور مجنون ،عداد حد 280 و ھو اعطینی مخالفۃ 290 سرعۃ "
    قسم سے ٹریفک پولیس والا پاگل تھا ،میری گاڑی کا سپیڈو میٹر 280 کا ہے اور اس نے مجھے 290 کی سپیڈ کا چالان دیا ،


    ابو حسن : پھر تم نے اس سے بات کی ؟

    سعودی : میں نے اس کہا دیکھو میرا میٹر 280 کا ہے ،میں کیسے 290 پر چلا سکتا ہوں ؟

    پولیس والا : میرا ریڈار 290 سنس کر رہا تھا اور اسی کا میں نے چالان کیا ہے

    سعودی : میرا میٹر 280 کا ہے ،میں کیسے 290 پر چلا سکتا ہوں ؟ مجھے نہیں سمجھ آرہی

    پولیس والا : میرے سنسر نے جو سنس کیا وہ میں نے لکھ دیا

    اب آپ غور فرمائیں اس روڈ کی سپیڈ حد 120 ہے اور یہ دونوں 280 اور 290 پر بحث کر رہے ہیں

    -------------------------------------------------

    ایک مرتبہ جدہ ہوائی اڈہ سے مکہ کے دیہات " جموم " کی طرف جارہا تھا ایک نوجوان سعودی سے کرایہ طے کیا اور بیٹھ گیا گاڑی میں اور تعارف کا تبادلہ ہوا اور گپ شپ شروع ہوگئی، راستہ میں چیک پوسٹ سے پہلے وہ مجھے بولا

    سعودی : " عندك اقامة يا ابو حسن ؟ " ابو حسن تمہارے پاس اقامہ ہے ؟


    اب میری رگ ظرافت پھڑکی ،حالانکہ وہ مجھے ہوائی اڈہ سے لے کر آرہا تھا اور بغیر اقامہ کے داخلی سفر ممکن نہيں علاوہ ازیں پاسپورٹ ہو

    ابو حسن : " ما عندي اقامة " میرے پاس اقامہ نہيں

    سعودی : " لا يا أخي ؟ لازم اقامة و بدون اقامة ما اقدر وصل لك" نہیں میرے بھائی ؟ اقامہ تو لازمی ہے اور بغیر اقامہ کے میں تمہیں وہاں نہیں پہنچاسکتا

    ابو حسن :" اقدر بدون اقامة , ما تعرف من امس غير النظام ما تقرأ جريدة ؟ بغیر اقامہ کے ہوسکتا ہے ، تمہیں نہیں معلوم کل سے نظام تبدیل ہوچکا ہے ،تم نے اخبار نہيں پڑھا ؟

    سعودی : " لا ما اعرف نظام جديد " میں نظام کی تبدیلی کے بارے میں نہیں جانتا

    ابو حسن : " عندك بطاقة شخصي ؟" تمہارے پاس تمہارا شناختی کارڈ ہے ؟

    سعودی : " نعم عندي " ہاں میرے پاس ہے

    ابو حسن :" خلاص , لو احد تركب معك و ما عنده اقامة لكن عندك بطاقة شخصية فا تمشي لاثنين ،أوعنده بطاقة جنسيه ف هذا هو نظام جديد" بس ٹھیک ہے ، اگر کوئی تمہارے ساتھ سوار ہو اور اسکے پاس اقامہ نہ ہو لیکن تمہارے پاس تمہارا شناختی کارڈ ہو تو دونوں کیلئے چلے گا، یا اسکے پاس اسکا شناختی کارڈ ہو یہ ہے نیا نظام

    اس نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور بولا یا تو میں تمہیں واپس اتارتا ہوں یا پھر اقامہ دکھاؤ تفتیش پر پکڑ لیں گے تو تمہارے ساتھ مجھے بھی پریشانی اٹھانی پڑے گی ، پہلے تو میں نے پریشان حال صورت بنائے رکھی پھر جب اقامہ نکال کر دکھایا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی اورپھر ہم سفر پر رواں دواں ہوگئے،


    ان شاءاللہ جاری ہے ، آپ بھی اپنے واقعات جواب میں لکھیں
     
    Last edited: ‏جنوری 27, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    نئے سعودی لڑکے کالج سے ڈپلومہ کرکے آتے تو نوکری کیلئے آتے اور میرے شعبہ میں نئے آنے والے کو میرے پاس بھیج دیتے عربی بات چیت کیلئے اور مجھے مزید عربی لغت سیکھنے کو ملتی

    ایک لڑکا میرے ساتھ مل کر کام کررہا تھا تو گپ شپ کے دوران مجھے کہتا ہے ایک سوال پوچھوں ؟ میں نے کہا پوچھو

    سعودی : تمہارے پاکستان میں کارخانے ،فیکٹریاں ہیں

    ابو حسن : (وہ میرے کام کی وجہ سے تعجب کر رہا تھا) نہیں ، ہمارے ہاں تو جنگل ہے:) اگر کارخانے ،فیکٹریاں نہ ہوتی تو ہم لوگ کام کے متعلق تجربہ کار کیسے ہوتا ؟ ہمارے پاس سب کچھ ہے الحمدللہ،

    پھر میں نے مذاقا کہا
    سنو! تم لوگوں کے پاس کچھ نہیں تھا سوائے اونٹوں کے " جب یہاں گاڑی آئی تو پہلی مرتبہ سعودیوں نے روڈ پر چلتی دیکھی اور ایک بولا "بسم اللہ ماشاءاللہ " دیکھو دیکھو نیا جانور ، پیچھے سے ایک بائیک والا بھی آرہا تھا ،تو دوسرا جلدی سے بولا وہ دیکھو اسکا بچہ بھی پیچھے آرہا ہے ";)

    یہ سن کر سعودی لڑکا بہت ہنسا پھر پوچھتا ہے تم یہ مثالیں لاتے کہاں سے ہو ؟ میں نے کہا تم جیسوں کیلئے خزانہ اکٹھا کرکے رکھا ہوا ہے:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    ایک کے ساتھ یہ واقع ہوا ،ریاض میں مقیم تھا ،اور جو لوگ سعودیہ میں رہتے یا رہے ہیں انکو بخوبی علم ہے کہ مختلف سڑکوں کا نام

    " شارع عشرین "
    "شارع ثلاثین "
    "شارع اربعین "
    "شارع ستین "

    یعنی 20 فٹ کے راستہ کا نام " شارع عشرین "

    اب یہ کوسٹر میں سوار ہوا جو کہ پہلے سٹاپ سے لیکر آخری سٹاپ تک کے درمیاں کہیں بھی اتریں 2 ریال کرایہ

    اور جس نے اترنا ہوتا وہ اٹھ کر دروازے کے قریب پہنچ جاتا اور ڈرائیور پوچھتا کہ کہاں اترنا ہے ؟ اور جواب پر مطلوبہ مقام پر اتار دیتا ،

    اب یہ بھی دروازے پر آکر کھڑا ہوگیا تو ڈرائیور نے پیچھے دیکھنے والے شیشہ سے دیکھ کر پوچھا

    سعودی :" وین نزل انت ؟ " تونے کہاں اترنا ہے ؟

    شاہ : " خمسۃ ثلاثین " 35

    سعودی : " ایش تقول ؟" کیا کہا تم نے ؟

    شاہ : " خمسۃ ثلاثین " 35

    سعودی : تعجب سے " وین ھذہ خمسۃ ثلاثین " یہ 35 کہاں ہے ؟


    شاہ :" قبل شویا شارع اربعین " 40 سے تھوڑا پہلے

    سعودی نے بریک لگائی اور بہت ہنسا پھر بولا تم کرایہ رہنے دو تم نے مجھے خوش کردیا ورنہ جب میں گھر سے نکلا تھا تو بیوی سے جھگڑا کرکے آیا تھا

     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 4
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,237
    ابتسامة. میاں صاحب تھریڈ کے لیے . شکریہ. یہ سلسلہ جاری رکھیں
    عام عربی، بدو لوگ بہت سادے ہوتے ہیں. ان کے ساتھ گپ شپ سے زندگی خوشگوار رہتی ہے .
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    ریاض شہر کے علاقہ بطحا جسکو غیر عربی "بتھا " بولتے ہیں اپنی دیسی عربی میں،
    اپنے دوست کے ساتھ کچھ سامان لینے گیا اور یہ جگہ میری رہائش کے قریب ہی ہے اور جمعرات کو عصر کے بعد اور جمعہ کی نماز کے بعد انتہا رش ہوتا ہے یہاں پر چونکہ یہ بازار ہے

    میں مذاقا کہتا تھا ہفتہ کے دن سے بلدیۃ والے صفائی شروع کرتے ہیں اور جمعرات آجاتی ہے ابھی انکی صفائی بھی مکمل نہ ہوپاتی کہ پھر سے نیا کچرا جمع ہونے لگ جاتا

    بازار جاتے ہوئے میری نظر کپڑے پر پڑی جو ایک بنگالی سٹال پر بیچ رہا تھا اور یہ سب ہوتا بھی غیر قانونی ہے ،ایک بڑے بکس پر ہارڈ بورڈ کا پیس رکھ کے اسکو چادر سے ڈھانپ دیں سٹال تیار اور جونہی نعرہ لگا " بلدیۃ " تواپنا سٹال مطلب چادر کے چاروں کناروں کو پکڑو اور دوڑ لگا دو ،جیسا حرمین کے باہر راستوں میں لوگ اسی طرح سامان بیچ رہے ہوتے ہیں

    تو میں بتا رہا تھا میری نظر کپڑے پر پڑی جو ایک بنگالی سٹال پر بیچ رہا تھا ،دل میں خیال آیا کیوں نہ " ثوب " سلوائی جائے ،

    ابو حسن : بُندو یہ کپڑا کتنے کا میٹر ہے ؟

    بنگالی : سو ریال بھائی

    ابو حسن : کیا ؟

    بنگالی : سو ریال بھائی

    میں سن کر ہکا بکا رہ گیا کہ 100 ریال کا میٹر، تو صرف کپڑا 300 ریال اور مزید سلائی کی رقم ؟ چلو چھوڑو اور چل پڑا ،تھوڑا آگے جاکر ایک خیال بجلی کی تیزی سے ذہن میں کوندا اور گڑبڑ کا احساس ہوا اور میں واپس آیا اس کے پاس

    ابو حسن : بُندو " کم فلوس ؟ کلم عربی " کتنے پیسے ؟ عربی میں بتاؤ

    بنگالی :" ستہ ریال " 6 ریال

    ہنسی کہ رکنے نہ پائے ، زیادہ تر بنگالی چ کو س سے بولتے ہیں ،

    "چوری کرےگا" ہوجائے گا "سوری کرے گا"، " پانچ " بن جائے گا" فانس"

    اب وہ 6 کو چَھو کہہ رہا تھا بنگالی میں جو تبدیل ہوکے " سو " ہوگیا تھا

    یہ واقعہ 2003 کا ہے اور آج بھی اسی طرح ذہن میں نقش ہے ،الحمدللہ

    ان شاءاللہ جاری ہے ، آپ بھی اپنے واقعات جواب میں لکھیں


     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    صبح 9 بجے ہمارا چائے کیلئے تفریح کا وقت ہوتا تھا اور ہماری میز پر ایک بنگالی جس کا نام "عبدالمطلب" بھی ہمارے ساتھ بیٹھتا تھا

    بنگلہ دیشی لوگ کھانے پینے کی چیزوں کیلئے "کھائے با " یعنی " کھاؤ گے " استعمال کرتے ہیں سوائے چند ایک کے جو صحیح اردو جانتے یا علماء وغیرہ

    مثلا ،چائے کھاؤ ،پیپسی کھاؤ حتی کہ سگریٹ بھی کھاؤ :)

    اب ایک دن یہ میرے سامنے بیٹھا ناشتہ کررہا تھا اور بولا

    بنگالی : مجھے مخاطب کرتے ہوئے بُندو "پراٹھا پیو " (چونکہ اسنے غور کیا کہ ہم کھانے اور پینے کا لفظ استعمال کرتے تو اسلئے اسنے بھی ایسا کیا پر اسکو یہ نہیں معلوم تھا کہ کن چیزوں پر کھانے کے لفظ کا استعمال ہوتا ہے)

    ابو حسن : (چائے کا کپ میرے ہونٹوں پر تھا اور ہنسی کے اس طوفان کو کیسے میں نے ضبط کیا یہ مجھے خبر ہے یا میرے رب کو اور میں نے ہنسی کو روکے ہوئے اسکو جواب دیا) بُندو " ابھی میں نے بسکٹ پیا ہے اور اب چائے کھا رہا ہوں ";)

    -----------------

    اسی کا دوسرا واقعہ
    کمپنی میں 2 وقت ڈاکٹر آتا تھا "صبح اور شام " چونکہ کمپنی میں 24 گھنٹے کام ہوتا تھا اور یہ ڈاکٹر مصری تھا اور اسکا نام اسکے اپنے لوگوں نے "ڈاکٹر پینا ڈول " رکھا ہوا تھا اسکی وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر بیماریوں کیلئے وہ " پیناڈول " کا انتخاب مریض کیلئے کرتا تھا

    اب یہ بنگالی بھی لائن میں کھڑا تھا ،اپنی باری پر یہ اسکے پاس گیا اب عربی بھی پوری پوری آتی تھی:)


    بنگالی : "داکتر فی جوا حرارہ کتیر " اندر میں بہت گرمی ہے " اپنے جسم کی طرف اشارہ کرتے ہو

    ڈاکٹر : " طیب تشرب ماء کثیر " ٹھیک ہے ، تم پانی زیادہ پیو

    یہ منہ لٹکائے باہر آیا اور مجھے کہتا ہے ڈاکٹر سے میری بات کرو

    ابو حسن : تمہیں کیا ہوا ہے ؟

    بنگالی : بُندو " اَمِیں بخار آسی بھائی " مجھے بخار ہوا ہے بھائی

    ابو حسن :تم نے ڈاکٹرکو نہیں بتایا

    بنگالی : بتایا بھائی

    ابو حسن : تو ڈاکٹر نے کیا کہا ؟

    بنگالی : "انا کلام داکتر فی جوا حرارہ کتیر " میں نے ڈاکٹر سے کہا اندر میں بہت گرمی ہے "ھو کلام طیب تشرب ماء کثیر " وہ کہتا ہے، ٹھیک ہے ، تم پانی زیادہ پیو

    میں اندر گیا ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا " ھو مریض و محموما " وہ بیمار ہے اور بخار میں مبتلا ہے

    ڈاکٹر : "ھو مجنون کلمنی داکتر فی جوا حرارہ کتیر :) وانا قال طیب تشرب ماء کثیر" وہ پاگل مجھے کہتا ہے اندر میں بہت گرمی ہے تو میں نے کہا : ٹھیک ہے ، تم پانی زیادہ پیو
     
    Last edited: ‏جنوری 27, 2018
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,295
    ہہہہہہہ بہت عمدہ!
    بنگالیوں کی اردو اور عربی کے کیا کہنے۔ ایک جملہ تو ضرب المثل بن گیا ہے:
    "سوریا کا باسا مور گیا ۔ ۔ ۔ ۔"
     
    Last edited: ‏فروری 9, 2018
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  8. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    چڑیا کا بچہ مرگیا
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  9. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    361
    ہم اور پٹھان ڈرائیور

    جو لوگ ریاض میں رہتے ہیں اور جدید صناعیۃ میں کام کرتے ہیں انکو بخوبی اندازہ ہے کہ بطحاء سے ٹیکسیاں صناعیۃ کی طرف آتی جاتی ہیں جو کہ عمومی طور پر ایک سواری سے 3 ریال لیتے ہیں اور 4 سے 5 سورایاں بٹھاتے ہیں

    اور صبح کو لوگ بطحاء سے سوار ہوتے جاب پر جانے کیلئے اور ترتیب یہ ہوتی کہ
    پہلے 3 نمبر صناعیۃ
    پھر 2 نمبر صناعیۃ
    اور آخر میں ایک نمبر کی طرف اور یہی ترتیب معروف و معقول تھی اور سب لوگ اپنے اپنے وقت پر پہنچ جاتے کام پر

    " ٹیکسیاں لائن میں کھڑی ہوتی ہیں تو آگے والی ٹیکسی بھرنے کے بعد دوسری کی باری آتی ہے اور اس میں اکثریت پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی ہوتی اور جو بھی نیا ہوتا وہ شروع کے دنوں میں ٹیکسی اسی روٹ پر چلاتا "

    اب ایک صبح میں جاب پر جانے کیلئے بطحاء پہنچا اور ایک پٹھان بھائی سواریاں بٹھا رہے تھے اب میں بھی بیٹھ گیا

    خان صاحب نے مین روڈ سے جاتے ہوئے یو ٹرن لیا اور ایک نمبر صناعیۃ کی طرف رخ کیا اور ہم سب بول پڑے

    خان صاحب کہاں جارہے ہو ؟

    خان صاحب : ہم ایک نمبر صناعیۃ جاتا ہے

    خان صاحب ایک نمبر صناعیۃ کیوں جارہے ہو ؟ پہلے 3 نمبر صناعیۃ چلو

    خان صاحب : ہم ایک نمبر صناعیۃ جائیگا پھر 3 نمبر صناعیۃ

    خان صاحب ہم سب لیٹ ہوجائیں گے

    خان صاحب : مڑا ہم کیا کرے ؟ تم لیٹ ہوتا ہے تو ہو:oops:

    خان صاحب آپ پہلی مرتبہ آئے ہو ادھر اسی لیے آپکو معلوم نہیں

    خان صاحب : مڑا ہم ایک نمبر صناعیۃ جائیگا، اور اس کو پہلے اتارے گا جو پہلے سوار ہوا

    اب جو پہلے سوار ہوا وہ بھی بول پڑا کہ بھائی آپ 3 نمبر صناعیۃ پہلے چلو اور اسطرف سے اتارتے ہوئے چلتے جاؤ اور میری وجہ سے دوسرے لیٹ بھی نہيں ہونگے

    لیکن خان صاحب نہ مانے " پٹھان کی ایک زبان " والا کام کیا جو بول دیا سو بول دیا :ROFLMAO::LOL::ROFLMAO:

    اب اس نے ہم سب کو اسی ترتیب سے اتارا جس طرح ہم سوار ہوئے اور اس دن سوائے پہلی سواری کے سبھی لیٹ ہوگئے:oops:

    پھر جب کبھی بھی پٹھان ڈرائیور دیکھتا :) پہلے پوچھتاکہ بھائی کس ترتیب سے جاؤ گے اور پھر سوار ہوتا


     
    • دلچسپ دلچسپ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں