میں اپنے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟

ابو حسن نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏جنوری 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    الحمد للہ

    1 - جب آپ صدق نیت اورپختہ اورصحیح عزم کرلیں تواسلام کی خدمت کرسکتے ہیں :

    اس لیے کہ اللہ تبارک وتعالی ہراس عمل میں برکت کرتے ہیں جوخالصتا اس کی رضاحاصل کرنے کےلیے کیا جاۓ اگرچہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو ، اور اخلاص کے ساتھ کو‏ئ بھی اطاعت کی جاۓ اگرچہ وہ عمل انسان کی نظرمیں قلیل اورآسان ہی ہو لیکن جب وہ خالصتا اللہ تعالی کے لیے ہواوراللہ تعالی کی عبادت کرنامقصود ہوتواللہ تعالی اس عمل کی بنا پرکبیرہ گناہ بھی معاف فرمادیتے ہیں جس طرح کہ حدیث بطاقہ ( لاالہ الا اللہ لکھے ہوۓ کا غذ والی ) میں ہے ۔

    2 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں : جب آپ صراط مستقیم کی پہچان کرلیں اوراس پرچلیں گے : صراط مستقیم ہی ایک ایسا راستہ ہے جس پرہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوۓ دعوت وتبلیغ میں وسائل کا استمال کرتے رہے اوراس راستے میں آنے والی مشکلات اورتکالیف پرصبر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں پرشفقت ورحمت کرتے رہے حالانکہ لوگ معاصی اورگناہوں کوپسند کرتے ہیں ۔

    3 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں : جب آپ سب موجودہ امکانیات اورپاۓ جانے والے حالات سے استفادہ کریں ، اور یہ عظیم نعمت ہے ، اللہ تعالی کے حرام کردہ کے علاوہ باقی سب مباح اورجائزوسائل شرعیہ کے ساتھ لوگوں کودعوت دیتے رہیں جس میں شرعی دلائل اورآداب کوملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ۔

    4 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں: جب آپ نے اپنے نفسی اورمادی حقوق پر اسلامی حقوق کومقدم رکھا ، دین اسلام کی خدمت کا معنی یہ ہے کہ آپ اپنا قیمتی اورنفیس مال ودولت اوروقت و کوشش ، اورفکرو سوچ وغیرہ اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کریں ۔

    مثال کے طورپرکبھی آپ نے کسی ایسے شخص کودیکھا ہے جوکسی کھیل کوپسند کرتا ہوکہ وہ کس طرح اس کھیل کے لیے اپنا وقت وجھد اورمال ودولت اپنے اس محبوب کھیل کے لیے خرچ کرتا ہے ! توبلاشک وشبہ آپ کوتو بدرجہ اولی یہ کرنا چاہيۓ ۔

    5 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں: جب آپ علماء کرام اوردعاۃ ومصلحین کے طریقے پرچلیں اوراس راستے میں آنے والی مشکلات وتکالیف پرصبراورمشقت برداشت کریں توآپ عبادت عظیم میں ہیں اوریہی انبیاء ومرسلین اوران کے نھج پرچلنے والوں کا کام ہے ۔

    6 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں : جب آپ کاہلی وسستی اور کمزوری وضعف اورشک وشبہ سے بچ کردوررہیں، کیونکہ یہ دین عزیمت وہمت و شجاعت وبہادری اوراقدام کا دین ہے اوردعوت کوسست و کاہل اوریا پھر جاہل کے علاوہ کوئ‏ اورنقصان نہیں پہنچا سکتا ۔

    7 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہیں :جب آپ نے اپنے دل کا رابطہ اللہ سے رکھیں اورکثرت کے ساتھ دعا و استغفاراورقرآن مجید کی تلاوت تسلسل سے کریں ، کیونکہ کثرت ذکراللہ کے علاوہ کوئ ایسی چيزنہیں جودلوں کوروشن اور روحوں کوصیقل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے عمل کرنے والا بناۓ کہ وہ تھکاوٹ محسوس ہی نہ کرے اورکوشش کرنے میں ملال محسوس نہ کرے ، اورنوافل و عبادات کے ساتھ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے ۔

    8 - آپ اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں : جب آپ ان باعمل علماء سے مرتبط رہیں جنہوں نے اس دین کی نصرت و مدد کے لیے اپنی کاوش وجھد پیش کی جوکہ ہرایک کے علم میں ہے اس لیے کہ ان علماء کی راہنمائ اوران کے علم کے ماتحت چلنے میں ہی عظیم خیروبھلائ اورنفع عمیم ہے ۔

    9 - آپ اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں : جب آپ نے اپنے یومی اورہفتہ وار اورماہانہ اوقات کومنظم کرلیا ، کیونکہ کچھ ایسے اعمال ہیں جوآپ ایک دن میں مکمل کرسکتے ہیں ، اورکچھ ایسے ہیں جوایک ہفتہ میں اورکچھ ایسے ہیں جوماہانہ ہیں اورکچھ ایسے ہیں جوسالانہ ہیں ۔

    اعمال یومیہ کی مثال : ان لوگوں کودعوت دینا جنہیں آپ روزانہ دیکھتے اورملتے ہیں ۔

    ہفتہ واراعمال کی مثال : جن سے آپ ہرہفتہ ملاقات کرتے ہیں ۔

    ماہانہ اعمال کی مثال : مثلاخاندانی اجتماعات جن میں سب لوگ جمع ہوتے ہیں ۔

    سالانہ کی مثال : بڑے سالانہ اجتماعات اورملاقاتیں یا حج اورعمرہ کا سفر اوراسی طرح دوسرے اعمال ۔

    10 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہيں : جب آپ اپنی سوچ وفکر کا کچھ حصہ دین کوھبہ کردیں ، اوراپنے وقت و عقل اورفکر و مال ودولت کا کچھ حصہ دین کے لیے وقف کردیں ، اورآپ کاشغل اورھم وسوچ دین بن جاۓ اگرآپ اٹھیں تواسلام کےلیے اوراگرچلیں تواسلام کے لیے ، اگر سوچیں تواسلام کے لیے ، اوراگرخرچ کریں تووہ بھی اسلام کے لیے ، اوراگربیٹھیں تواسلام کے لیے ۔

    11 - آپ اسلام کی خدمت اس وقت کرسکتے ہيں: کہ جب بھی کوئ خیروبھلائ کا کام دیکھیں توجلدی سے اس کی طرف لپکیں ، اوراس کام میں اپنے عمل کے ساتھ حصہ ڈالیں ۔۔۔۔ آپ تردد کا شکارنہ ہوں اس میں تاخیر نہ کریں ، اورپیچھے نہ ہٹیں ۔

    واللہ تعالی اعلم .

    ( عبدالملک القاسم کی کتاب : کیف اخدم الاسلام سے لیا گیا ہے دیکھیں صفحہ نمبر = 18 )

    https://islamqa.info/ur/22154
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,097
    بہت عمدہ شیئرنگ!

    بہت عمدہ مثال ہے، اس میں مزید اضافہ کرنا چاہوں گا کہ کسی کھیل کا بہترین کوچ بھی وہی بنتا ہے جو کھیل کے کسی خاص شعبے میں مہارت رکھتا ہو۔ تو اسلام کی بہترین خدمت کے لئے دین کی کسی ایک فیلڈ میں مکمل دسترس حاصل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,064
    جزاک اللہ خیرا

    بالکل بجافرمایا رفی بھائ۔ اس میں تھوڑا اضافہ کرتا چلوں کہ اگر ایک سے زیادہ فیلڈ میں مہارت حاصل ہو جاۓ تو پھر سونے پر سہاگہ ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    عمدہ. کچھ اس موضوع پر بھی لکھنا چاہیے
    شیخ عبدالملک القاسم وہی ہیں. جن کے مختصر دینی پمفلٹس نے دو دہائیوں تک علماء کی روایتی دعوت دین سے زیادہ لوگوں کی فکر و سوچ کو بدلا. دین کی خدمت کرنے والے نہیں جانتے انہیں کرنا کیا ہے؟ لوگوں کا تزکیہ و تربیت کرنی ہے. یا فقط علم دکھانا ہے.جو خود پسندی، نااہلی تک جا پہنچی ہے.
    سو میں سے نوے فیصد دین کی خدمت کرنے والے دعوت دین کی روح سے ناواقف ہیں.باقیوں پر ذمہ داری اتنی زیادہ ہے کہ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتے. کیا کریں. اور کیا نا کریں. مگر کرنا انہی مختصر لوگوں کو ہے. کیونکہ امام اعظم محمدعربی سے امام محمد التميمي تک قدرت کا یہی قانون رہا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    ماشاء اللہ تینوں بھائیوں بہت اچھی نشاہدہی کی ،

    ہم سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی دعوت و حکمت کی صفات کو اپنانے کی کوشش کريں تو سب کچھ آسان ہوجاتا ہے ،سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم اس مسلمان کے عمل سے نفرت کی بجائے اسی سے ہی نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اور نرمی کی بجائے ہم میں شدت آجاتی ہے " الا ماشاء " اور پھر وہ مسلمان ہم سے متنفر ہوجاتا ہے،اور صرف اللہ کی رضا کے بجائے ہم اپنی ذات پر لے لیتے ہیں اور لوگ ہم سے دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں

    جس یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا آپ ﷺ نے کبھی اسکو احساس بھی نہیں ہونے دیا ،کیا ہی اعلی درجہ کا اخلاق ہے ؟ اللہ اکبر ، اس واقعہ نے بہت رلایا مجھے کہ کہاں میرے نبی ﷺ کے اخلاق و درگزر اور کہاں میں ؟
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں