اندھی تقلید عقلوں کو سلب کرکے رکھ دیتی ہے

ابو حسن نے 'اتباعِ قرآن و سنت' میں ‏جنوری 28, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    ( تحریر از ابو حسن ، میاں سعید )


    اندھی تقلید عقلوں کو سلب کرکے رکھ دیتی ہے

    أبا هريرة قال لرجل يا ابن أخي إذا حدثتك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا فلا تضرب له الأمثال

    حضرت ابوہریرہ نے ایک آدمی سے بیان فرمایا اے بھتیجے! جب میں تم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث مبارکہ بیان کیا کروں تو تم (اس کے مقابلے میں) لوگوں کی باتیں (قیل وقال) بیان نہ کیا کرو


    قال الإمام أبو حنيفة رحمه الله " لا يحل لأحد أن يأخذ بقولنا ما لم يعلم من أين أخذناه "

    امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے
    " كسى شخص كے ليے حلال نہيں كہ وہ ہمارے قول كو لے اور اسے علم ہى نہ ہو كہ ہم نے وہ قول كہاں سے ليا ہے "

    وفي رواية عنه " حرام على من لم يعرف دليلي أن يفتي بكلامي "

    اور ايک روايت ميں ان كا قول ہے
    " جو شخص ميرى دليل كا علم نہ ركھتا ہو اس كے ليے ميرى كلام كا فتوى دينا حرام ہے "

    آج کل نام امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ لیکر فتوی اپنا تھوپ دیتے ہیں اور نکتہ چینی کرنے والے امام صاحب کو برا کہہ رہے ہوتے ہیں اور کچھ میں ویسے تعصب پایا جاتا ہے اور وہ اصل کو چھوڑ کر امام صاحب پر چڑھ دوڑتے ہیں ، اللہ ﷻ سمجھ عطا فرمائے


    قال الإمام أبو حنيفة قال رحمه الله " إذا صح الحديث فهو مذهبي " زاد في رواية أخرى " فإننا بشر ، نقول القول اليوم ونرجع عنه غدا "
    امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ كا قول ہے " جب حديث صحيح ہو تو وہى ميرا مذہب ہے "

    ايک دوسرى روايت ميں اضافہ ہے" يقينا ہم بشر ہيں "
    اور ايک روايت ميں ہے" آج ہم ايک قول كہتے ہيں، اور كل اس سے رجوع كر لينگے "


    وقال رحمه الله " إذا قلت قولا يخالف كتاب الله تعالى ، وخبر الرسول صلى الله عليه وسلم فاتركوا قولي "
    اور رحمہ اللہ كا قول ہے
    " اگر ميں كوئى ايسا قول كہوں جو كتاب اللہ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے مخالف ہو تو ميرا قول چھوڑ دو "


    اللہ اکبر ،امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ خود یہ حکم دیں کہ " اگر ميں كوئى ايسا قول كہوں جو كتاب اللہ اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى حديث كے مخالف ہو تو ميرا قول چھوڑ دو " لیکن ہم کہیں " نہ نہ" ہم تو آپ کی یہ بات ہرگز نہ مانیں گے کیونکہ ہم پکے حنفی ہیں اورجو کوئی بھی اس کے برخلاف " احناف میں ایسا ہے کہہ کر ورغلائے گا " ہم اسکی بات کو ضرو بضرو مانیں گے نہ خود سے علم دین حاصل کریں گے اور نہ ہی تحقیق کرینگے اور امام ابو حنيفہ رحمہ اللہ کے اس قول کو پس پشت ڈالتے ہوئے سینہ ٹھوک کر کہیں گے کہ " ہم پکے حنفی ہیں "


    اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں "میں بشر ہو، مجھ سے درست ، غلط سب کچھ ہو سکتا ہے، چنانچہ میری رائے کو دیکھو، اور جو کچھ کتاب و سنت کے موافق ہو اسے لے لو، اور جو کچھ کتاب وسنت کے مخالف ہو، اسے چھوڑ دو"

    اور امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں "جب تم میری کتاب میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پاؤ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اپنا لینا، اور میری بات چھوڑ دینا"

    اور امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں " دلیل کتاب و سنت میں ہے"، اور اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا "جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کو رد کر دے، تو وہ ہلاکت کے کنارے پر ہے"

    چنانچہ امام کے قول سے متصادم حجت و دلیل ثابت ہو جانے کے بعد کسی امتی کو کسی شخص کی بات کی وجہ سے صحیح نص ترک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    یہی حال نام نہاد "اہل سنت " کا ہے کہ رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک اور متبرک سنتوں کو چھوڑ کر بدعتوں کوسینوں سےلگائے اپنے آپ کو ہم سنی کہتے ہیں " تف ہے ایسی سنیت اور عاشقی پر "

    اور سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے اپنی فرمانبرداری اور نافرمانی کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ؟ اور اسکی کیا اہمیت ہے ؟ اور ہمیں کس سے بچنا اور کن امور کو لازم کرنا ہے اس کیلئے سیدالاولین و الاخرین ﷺ کی تعلیمات کو جاننا بہت ضروری ہے

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَی اللَّهَ

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے فرمانبرداری کی میری اس نے اللہ ﷻ کی فرمانبرداری کی اور جس نے نافرمانی کی میری اس نے اللہ ﷻ کی نافرمانی کی

    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    تَعْصِي الإِله وَأنْتَ تُظْعم حُبَّهُ هذا محالٌ في القياس بديعُ
    لَوْ كانَ حُبُّكَ صَادِقاً لأَطَعْتَهُ إنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ


    امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ کی نافرمانی کہا اور میں نے اس کی جگہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم کی نافرمانی لکھا ہے

    تَعْصِي محمدا وَأنْتَ تُظْعم حُبَّهُ هذا محالٌ في القياس بديعُ
    لَوْ كانَ حُبُّكَ صَادِقاً لأَطَعْتَهُ إنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيعُ

    تم محمد ﷺ کی نافرمانی بھی کرتے ہو اور محبت کے دعوی بھی کرتے ہو
    یہ عقل کے نزدیک محال بھی ہے اور عجیب بھی

    اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم انکی اطاعت کرتے
    اس لیے کہ محب ہمیشہ محبوب کی اطاعت کرتا ہے


    بہترین انسان وہی ہے جو سنتوں پر عمل کرکے معزز بنے، اور بد ترین
    انسان وہی ہے جو بدعتوں سے نسبت رکھے


    وقال عبد الله بن عباس رضي الله عنهما "إن أبغضَ الأمور إلى الله البدَع".

    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ "اللہ کے ہاں ناپسندیدہ ترین عمل بدعات ہیں"


    وقال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما "كلُّ بدعةٍ ضلالة وإن رآها الناسُ حسنة".

    اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ "ہر بدعت گمراہی ہے، اگرچہ لوگ اسے اچھا ہی کیوں نہ سمجھیں"


    وقال عبد الله بن مسعود رضي الله عنه "اتَّبِعوا ولا تبتدِعوا؛ فقد كُفِيتُم، وكل بدعةٍ ضلالة".

    اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ "اتباع کرو، بدعات ایجاد نہ کرو، تمہیں نجات کیلئے [سنتیں] کافی ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے"


    وقال حُذيفة رضي الله عنه "كلُّ عبادةٍ لا يتعبَّدُها أصحابُ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم فلا تعبَّدُوها؛ فإن الأولَ لم يدَع للآخر مقالاً".

    اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ " تم آج ایسی عبادت نہ کرو جسے صحابہ کرام نے نہیں کیا کیونکہ انہوں نے تمہارے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی"


    وقال الإمام مالك رحمه الله تعالى "من أحدثَ في هذه الأمة شيئًا لم يكن عليه سلفُها، فقد زعَم أن محمدًا صلى الله عليه وسلم خانَ الرسالة؛ لأن الله تعالى يقول الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا [المائدة: 3]، فما لم يكن يومئذٍ دينًا فلا يكونُ اليوم دينًا"

    اور امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ "جو شخص اس امت میں سلف صالحین سے غیر ثابت شدہ کوئی نئی چیز ایجاد کرتا ہے، اسکا یہ نظریہ ہے کہ [نعوذ باللہ]محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام رسالت میں خیانت کی ہے
    حالانکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے {الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا} میں نے آج تم پر تمہارا دین مکمل کرکے اپنی نعمت پوری کردی ، اور تمہارے لئے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے[المائدة : 3] تو جو اُس وقت دین نہیں تھا، وہ آج بھی دین نہیں ہوسکتا"


    وقال سفيان الثوري رحمه الله تعالى "من أصغَى بسمعه إلى صاحب بدعة، خرجَ من عصمة الله ووُكِل إلى نفسه"

    سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں "جو شخص کسی بدعتی شخص کی بات پر کان دھرے تو وہ اللہ ﷻ کی پناہ سے نکل جاتا ہے، اور اللہ اسے اسی کے حال پر چھوڑ دیتا ہے"


    فدُوروا مع سُنَّة نبيِّنا وسيِّدنا محمد صلى الله عليه وسلم دُوروا مع السنَّة حيث دارَت، واعلَموا أن كل عبادةٍ لا دليل عليها من كتاب الله أو سنَّة رسوله صلى الله عليه وسلم فهي عبادةٌ مُختلقة، وطريقةٌ مُبتدَعة، وزيادةٌ مُخترَعة، ولو استَحسَنَها من استَحسَنَها ..

    چنانچہ ایسے ہی عمل کرو، جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بیان ہوا ہے، اور یہ بات ذہن نشین کرلو کہ ہر ایسی عبادت جس کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دلیل نہیں ہے، تو وہ خود ساختہ عبادت اور بدعتی طریقہ ہے، چاہے اسے اچھا کہنے والا کوئی بھی ہو۔


    فاحذَروا أن تنتكِسُوا في حمئَتِها، أو تتدنَّسُوا بضلالتها.

    اپنے آپکو بچاؤ! کہ کہیں اسکی دلدل میں نہ پھنس جانا، اور یا اسکی گمراہی میں نہ پڑ جانا۔


    واللہ اعلم۔
     
    Last edited: ‏مئی 3, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,091
    جزاک اللہ خیرا!

    اللہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    وایاکم ، آمین
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں