عربی زبان "لغۃ الضاد" (ض) نہیں بلکہ ایک دوسرے حرف کی زبان ہے!

کنعان نے 'عربی علوم' میں ‏جنوری 29, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,802
    عربی زبان "لغۃ الضاد" (ض) نہیں بلکہ ایک دوسرے حرف کی زبان ہے!

    العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ عہد فاضل
    ہفتہ 27 جنوری 2018م

    عربی زبان کے بارے میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ یہ "لغۃ الضاد" یعنی "ض" کی زبان ہے۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ عربی کے اولین ماہرین اور علماء نے ایک دوسرے حرف کو "ض" پر ترجیح دی اور اسے عربی زبان کی امتیازی خصوصیت شمار کیا۔ وہ حرف الظاء یعنی "ظ" ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ وہ حرف ہے جو بقیہ دیگر اقوام کے مقابلے میں صرف عربوں کی خاصیت بنا۔

    عربی مشہور لغت "لسان العرب" میں کہا گیا ہے کہ حرف "ض" عربوں کی خاصیت ہے۔ اس حوالے سے ابو الطیب المتنبی کے ایک شعر کا حوالہ بھی دیا گیا۔ ساتھ ہی لسان العرب لغت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک دوسرا حرف جو عربوں کی زبانوں پر خصوصیت کا محور بنا اور دنیا کی دیگر اقوام اس سے خالی رہیں وہ حرف "ظ" ہے۔

    عربی کی سب سے قدیم لغت "کتاب العین" تیار کرنے والے خلیل بن احمد الفراہیدی (100- 170هجری) نے سب سے پہلے یہ دعوی کیا کہ "ظ" وہ حرف ہے جو خاص طور پر صرف عربوں کو نوازا گیا اور عجمی اقوام میں سے کسی کے حصّے میں نہیں آیا۔

    تاہم المتنبی کا یہ قول کہ "ض" کا بولا جانا عربوں کے لیے فخر کا باعث ہے، اس نے الفراہیدی کے قول پر غلبہ پا لیا۔ اس طرح "ض" عربی زبان کی پہچان بن گیا اور آج تک عربی زبان کو "ض کی زبان" کہا جاتا ہے۔

    البتہ ایک اور حرف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ عربی زبان کو "ض" اور "ظ" کے علاوہ اس حرف کے ذریعے خصوصیت بخشی گئی اور وہ حرف "ح" ہے۔ علامہ بن فارس اپنی کتاب "الصاحبی" میں بیان کرتے ہیں کہ عربوں کی زبان کو "ح" اور "ظ" سے خصوصیت ملی۔

    علاوہ ازیں یہ بھی کہا گیا کہ عربی زبان کو دو حروف الف اور لام کے ذریعے انفرادیت حاصل ہوئی جو نکرہ لفظ کو معرفہ بنانے کے لیے "اَل" کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں۔ غیر عرب اقوام کو اس میں کوئی حصّہ نہیں ملا۔

    عربی کی لغت قاموس "المحيط" میں آتا ہے کہ حرف "ض" خاص طور پر عربوں کے حروف تہجی میں ہے اور حرف "ظ" عربوں کی زبان کے ساتھ مخصوص ہے !

    ادھر عربی زبان کی ایک ضخیم ترین لغت "تاج العروس" نے الفراہیدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حرف "ظ" وہ حرف ہے جس کو عربوں کی زبان کے ساتھ ہی مخصوص کیا گیا اور بقیہ اقوام اس امر میں عربوں کے ساتھ شریک نہیں۔

    عربی زبان کے ایک بڑے عالم ابو عمر عثمان بن سعيد الدانی الاموی القرطبی (371 – 444 ہجری) نے اپنی کتاب "الفرق بين الضاد والظاء" (ض اور ظ میں فرق) میں اعلانیہ طور پر لکھا ہے کہ "عربی زبان کے ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ عربوں کو حرف "ظ" کے ذریعے خصوصیت بخشی گئی جو کسی اور قوم کو حاصل نہیں۔ عربوں کے سوا کوئی اس حرف کو نہیں بولتا ہے۔ اس انوکھے پن کے باعث عربی زبان کی لغت میں اس حرف کے الفاظ قلیل ترین ہیں جن کی تعداد سو کے قریب بنتی ہے"۔

    اگرچہ عربی زبان کے بنیادی اصول دیگر حروف کے درمیان حرف "ظ" کا مقام بیان کرتے ہیں تاہم اس کے باوجود حرف "ض" عربی زبان کی شناخت بن گیا۔ آخر یہ کیسے ہوا ؟

    مختلف ذرائع جن میں بعض قدیم ذرائع شامل ہیں حرف "ض" کو عربی کی شناخت بنانے کے دفاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک حدیث کا سہارا لیتے ہیں جس میں "لغۃ الضاد" کا ذکر آیا ہے۔ تاہم اس حدیث کو بے بنیاد شمار کیا جاتا ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر میں اس امر کی تصدیق کی ہے۔

    ڈاکٹر جواد علی نے اپنی مشہور کتاب "المفصّل في تاريخ العرب قبل الإسلام" میں باور کرایا ہے کہ لغۃ الضاد سے متعلق حدیث درحقیقت "ضعیف اور غریب " احادیث میں سے ہے اور اس کو روایت کرنے والے بھی "غریب احادیث کے اصحاب" ہیں۔
    (غریب حدیث وہ ہوتی ہے جس کے سلسلہ سند میں کسی زمانے میں بھی راوی کی تعداد صرف ایک رہ گئی ہو)۔
    ڈاکٹر جواد کے مطابق اس حدیث کی بنیاد پر کوئی علمی حکم نہیں لگایا جا سکتا اور یہ کسی طور بھی استشہاد کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کی حدیث وضع کرنے کی بنیاد قحطانی اور عدنانی قوم کے بیچ معروف عصبیت بھی ہو سکتی ہے۔

    بالخصوص جب کہ ماہرین زبان اور اہل ادب نے ایک بے بنیاد حدیث کے پیچھے چلتے ہوئے حرف "ض" کو عربی زبان کے تعارف اور شناخت کی بنیاد بنا دیا.. جب کہ عربی کی قدیم ترین لغتوں نے دیگر اقوام کے مقابل حرف "ظ" کو عربوں کی خصوصیت اور امتیاز قرار دیا۔

    ح




     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں