سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وارضاہ کے بارے میں '' منصف '' مورخین کے اقوال

عبد الرحمن یحیی نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏جنوری 31, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,318
    سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منصف مورخین کے اقوال
    ( محدث مدینہ منورہ فضيلة الشیخ عبد المحسن العباد حفظه الله کا مدینہ یونیورسٹی میں دیا گیا لیکچر کا بعض حصہ
    جسے بعد میں کتابی شکل میں شائع کیا گیا )


    1} قال الموفق بن قدامة المقدسي في لمعة الإعتقاد :
    ومعاوية خـــال المؤمنين وكاتب وحي الله وأحد خلفاء
    المسلمين رضي الله تعالى عنهم .

    موفق بن قدامہ لکھتے ہیں :
    معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ مومنوں کے ماموں ہیں اللہ کی وحی کے لکھنے والے ہیں اور مسلمان خلفاء میں سے ایک ہیں ۔

    2} وقال شارح الطحاوية :
    وأول ملوك المسلمين معاوية وهو خــــيـــــر
    ملوك المسلمين .

    شارح عقیدہ طحاویہ کہتے ہیں :
    معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے مسلمان بادشاہ تھے اور مسلمان بادشاہوں میں سب سے بہترین بادشاہ تھے ۔

    3} وقال الذهبي في سير أعلام النبلاء :
    أمير المؤمنين ملك الإسلام .

    ذھبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
    آپ امیر المؤمنین اور اسلام کے بادشاہ تھے ۔


    4} وروى البيهقي عن الإمام أحمد أنه قال :
    الخلفاء أبوبكر وعمر وعثمان وعلي
    فقيل له : فمعاوية قال :
    لم يكن أحد أحق بالخلافة في زمان علي من علي ورحم الله معاوية .

    امام احمد رحمہ اللہ نے کہا :
    ابو بکر ، عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنھم خلفاء ہیں
    پوچھا گیا معاویہ کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
    کہا : سیدنا علی کے دور میں علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے زیادہ کوئی خلافت کا حقدار نہ تھا اور معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ پر اللہ تعالٰی رحم فرمائے ۔

    5} وروى ابن أبي الدنيا بسنده إلى عمر بن عبدالعزيز أنه قال :
    رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المنام وأبوبكر وعمر
    جالسان عنده فسلمت عليه وجلست ، فبينا أنا جالس أُتي بعلي
    ومعاوية فأدخلا بيتا وأجيف الباب وأنا انظر فما كان بأسرع من أن
    خرج علي وهو يقول قضي لي ورب الكعبة ثم ما كان بأسرع من أن
    خرج معاوية وهو يقول غفر لي ورب الكعبة .

    ابن ابی الدنیا سند کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں ، وہ کہتے ہیں :
    میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا ، میں بیٹھا ہوا تھا کہ علی اور معاویہ رضی اللہ عنھما کو لایا گیا اور دروازہ بند کر دیا گیا میں دیکھ ہی رہا تھا کہ دروازہ کھلا اور علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے اور وہ کہہ رہے تھے رب کعبہ کی قسم ! فیصلہ میرے حق میں ہوگیا ، اتنی دیر میں معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نکلے اور وہ کہہ رہے تھے رب کعبہ کی قسم ! مجھے بخش دیا گیا ۔


    6} وروى ابن عساكر عن أبي زرعة الرازي أنه قال له رجل :
    إني أبغض معاوية فقال له : ولم ؟ قال : لأنه قاتل عليا
    فقال له أبو زرعة :
    ويحك إن رب معاوية رحيم وخصم معاوية كريم فأيش دخولك
    أنت بينهما رضي الله تعالى عنهما

    محدث ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے کہا : میں معاویہ سے بغض رکھتا ہوں ، پوچھا : کیوں ؟
    کہا : اس لیے کہ وہ سیدنا علی کے ساتھ لڑے
    ابو زرعہ کہنے لگے :
    تجھ پر افسوس ، معاویہ کا رب بڑا رحیم ہے ، معاویہ کا جن سے جھگڑا ہوا وہ کریم ہیں تمہیں ان دونوں کے معاملے میں کیوں دخل انداز ہو رہے ہو

    7} وسئل الإمام أحمد عما جرى بين علي ومعاوية فقال:
    {{ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ}}
    وكذلك قال غير واحد من السلف .

    امام احمد رحمہ اللہ سے جب سیدنا علی اور معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین معاملے کے متعلق پوچھا گیا تو یہ آیت پڑھی :
    {یہ امت ہے جو گزرچکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا تمہارے لئے، تم ان کےاعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے (141) سورة البقرة }
    اور یہ بات سلف میں کئی افراد نے کہی ہے ۔

    8} وسئل ابن المبارك عن معاوية فقال :
    ماذا أقول في رجل قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم "" سمع الله
    لمن حمده فقال معاوية خلفه : ربنا ولك الحمد .
    ومعلوم أن سمع بمعنى استجاب فمعاوية حصل له هذا الفضل وهو
    الصلاة خلف رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم .

    ابن مبارک رحمہ اللہ سے سیدنا معاویہ کے بارے میں پوچھا گیا تو کہا : اس کے بارے میں کیا کہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تھے تو معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ربنا ولك الحمد کہتے تھے
    یہاں سننا بمعنی جواب دینے کے ہے
    معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز کا شرف عظیم حاصل ہے ۔

    فقيل له ـ أي ابن المبارك ـ أيهما أفضل هو أو عمر بن عبدالعزيز
    فقال : لــتــراب فـي مــنــخــري معاوية
    مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خير وأفــضــل
    من عمر بن عبدالعزيز .

    انہی سے پوچھا گیا کہ سیدنا معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز میں سے افضل کون ہے ؟
    کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ناک میں جانے والی مٹی بھی عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ ) سے افضل ہے ۔

    9} وسئل المعافى بن عمران : أيهما افضل معاوية أو عمر بن عبدالعزيز :
    فــغـــضـــب وقال للسائل :
    أتجعل رجلا من الصحابة مثل رجل من التابعين ، مــعــاويــة
    صاحبه وصــهــره وكــاتــبــه وأمــيــنــه
    على وحي الله .

    معافی بن عمران سے پوچھا گیا : سیدنا معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز میں سے کون افضل ہیں
    غصے میں آگئے اور سائل کو جواب دیا :
    کیا تم صحابہ کو تابعین کے برابر سمجھتے ہو ؟
    معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ صحابی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار اور کاتب اور اللہ تعالی کی وحی کے امین ہیں ۔


    10} وقال الفضل بن زياد : سمعت أبا عبدالله وقد سئل عن رجل
    تنقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضي ؟؟؟
    فقال : إنه لم يجترىء عليهما إلا وله خبيثة سوء ، ما انتقص أحد
    أحدا من الصحابة إلا وله داخلة سوء .

    فضیل بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ ( امام احمد رحمہ اللہ کی کنیت ہے ) سے سنا اُن سے پوچھا گیا کہ جو شخص سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما کی تنقیص کرتا ہے کیا ایسے شخص کو رافضی کہا جائے گا ؟
    فرمایا : یہ جرات وہی کر سکتا ہے جس کے اندر خباثت ہو ، اور صحابہ میں سے کسی کی برائی کوئی نہیں کرتا سوائے اُس کے جس کے اندر گندگی اور پلیدی ہو ۔

    11} وقال ابن المبارك عن محمد بن مسلم عن إبراهيم بن ميسرة قال :
    مــا رأيـــت عمر بن عبدالعزيز ضــرب إنــســانــا
    قــط إلا إنــســانــا شــــتــــم
    مــعــاويــة فـإنه ضربه أسواطاً .

    سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کسی کو نہیں مارتے تھے لیکن اسے کوڑوں کی سزا دیتے جو معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرتا تھا ۔

    12} وقال أبو توبة الربيع بن نافع الحلبي :
    مــعــاويــة ســــــتـــــر لأصــحــاب
    محمد صلى الله عليه وآله وسلم فـــإذا كـــشــــف
    الرجل الــســـتــــر اجــــتــــــرأ
    عــلـــى مـــا وراءه .

    ( امام وکیع بن جراح اور ) امام ابو توبہ ربیع بن نافع الحلبی رحمہ اللہ نے کہا ہے :
    کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لئے بمنزلہ پردہ کے ہیں جب آدمی پردہ کھول دیتا ہے تو اس سے ماورا پر جری ہو جاتا ہے ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 31, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 7
  2. عمر اثری

    عمر اثری -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 21, 2015
    پیغامات:
    460
    الف زیادہ ہو گیا ہے یہاں.
     
    • مفید مفید x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ، کافی دنوں بعد آئے لیکن بہت عمدہ اور معلوماتی تھریڈ کے ساتھ، بارک اللہ فیک!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا شیخ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں