آئیے اپنے رب کی محبت کی طرف رغبت کیجیئے

ابوعکاشہ نے 'امام ابن قيم الجوزيۃ' میں ‏فروری 6, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    حافظ ابن القیم رحمہ اللہ نے مدارج السالکین میں اللہ کی محبت کے بارے میں کیا خوب فرمایا ہے:

    "اللہ کی محبت ایسا مقام ہے کہ جس میں تمام رغبت کرنے والے رغبت کرتے رہتے ہیں، اس کی خاطر تمام سبقت لے جانے والے مستعد و کمربستہ رہتے ہیں، اور اسی بلند مرتب قائم و فائز رہ کر محبت کرنے والوں نے اپنی زندگیوں کو فنا کر دیایہ قلوب و أرواح کی غذا ہے، اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے.
    اور یہ ایک ایسی زندگی ہے کہ اس سے محروم رہنے والوں کا شمار مُردوں میں ہوتا ہے. یہ ایک ایسا نور ہے جسے کھو دینے والا ہمیشہ تاریکیوں کے سمندر میں غوطے کھاتا رہتا ہے. یہ ایک ایسی شفاء ہے کہ جس کے نا ہونے سے تمام بیماریاں دل پر حملہ آور ہوتی ہیں، یہ ایک ایسی لذت ہے، جو اسے حاصل کرنے میں کامیاب نا ہو سکا، اس کی پوری زندگی ہموم و غموم اور تکالیف و آلام کی آئینہ دار بن جاتی ہے
    اللہ کی محبت ایمان و اعمال اور مقامات و احوال کی روح ہے. کہ اس سے محروم رہنے والی پر چیز اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نا ہو، یہ محبت راہ چلتوں کے بوجھ اٹھا کر انہیں بآسانی منزل مقصود پر پہنچا دیتی ہے. اور ایسے منازل تک پہنچانے کے شرف سے مشرف کرتی ہے اگر محبت نہ ہوتی وہاں تک پہنچنے کا کوئی تصور نا ہوتا، اور یہ محبت جنت میں ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہے کہ اس کی عدم موجودگی میں جنت کا داخلہ نا ممکن ہوتا.
    اللہ کی قسم! اللہ سے محبت کرنے والے دنیا و آخرت کے شرف کے خزانے سمیٹ گئے، اور اللہ تعالی نے اپنی مشیت اور حکمت بالغہ کے ساتھ اسی دن یہ فیصلہ فرما دیا تھا جس دن تمام خلائق کی تقدیریں لکھیں کہ انسان قیامت کے دن اس کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ دنیا میں محبت ہو گی. تو محبین صادقین( اللہ سے اچھی محبت کرنے والوں کے لیے یہ کتنی عظیم نعمت ہے )

    آئیے اپنے رب کی محبت کی طرف رغبت کیجئیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    ہمیں اپنی ذات سے محبت ہے، اپنی اولاد سے محبت ہے، اپنے مال سے محبت ہے۔ دنیا سے محبت ہے۔ اور دنیا کو پانے کے لئے ہم اللہ کے نیک بندوں سے بھی محبت کرتے ہیں بلکہ غلو کی حد تک محبت جو عبادت کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ پھر دل کے نہاں خانوں میں اللہ سے محبت کی جگہ بچتی ہی کہاں ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں