جبر اور پناہ

سیما آفتاب نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏فروری 8, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    371
    جھوٹی عزت اور بے معنی غیرت نے مجھ جیسی کئی قندیلوں کو وقت سے پہلے بجھا دیا ، سنبھلنے اور بدلنے کا جو حق خدا نے مجھے دیا تھا وہ آپ نے مجھ سے چھین لیا , میں معاشرے کیلئے خراب تھی لوگوں کے اخلاق کیلئے خطرہ تھی . میں جیسی بھی تھی ، آپکی دنیا سے چلی گئی . اپنی کوئی بھی صفائی پیش کئے بغیر میں آپ سے بس یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اب تو برائی ختم ہوگئی نا ؟ لوگوں کے اخلاق بھی بچ گئے ، معاشرے کا کیا ہوا ؟ ٹھیک ہوگیا ؟

    اوپر تحریر کیا گیا پیراگراف ڈرامہ سیریل ” باغی ” کا آخری ڈائلاگ ہے ، یاد رہے کہ باغی ڈرامہ قندیل بلوچ کی زندگی پر بنایا گیا . پورا ڈرامہ تو نہیں دیکھا پر قندیل کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ آخری پیراگراف بہت عجیب لگا ، اول تو قندیل کا قتل غیرت کے نام پر نہیں ہوا تھا ، یہ خالص پیسوں اور لالچ کا معاملہ تھا ، دوم یہ کہ برائی کبھی ختم نہیں ہوتی یہ اپنے بطن سے ہزاروں دیگر برائیوں کو پیدا کر کے اس تاریک انجام تک پہنچتی ہے جو ازل سے اسکا ٹھکانہ رہا ہے . یہ بھی یاد رہے کہ یہ ڈرامہ عمیرہ احمد کی کمپنی کا تحریر کردہ ہے ہاں ہاں وہی عمیرہ احمد جو “ پیر کامل ” جیسا شاہکار لکھ چکی ہیں …

    خیر اس پر بعد میں بات کریں گے پہلے آپکو کچھ روز قبل کا ایک واقعہ سنا دوں ، پرسوں صبح جب ناشتہ کرنے بیٹھا تو ابو نے بتایا کہ گاؤں میں قتل ہوگیا ہے ، چونکہ ہماری برادری بہت بڑی ہے اور لگ بھگ چار مختلف دیہاتوں تک ہمارا خاندان پھیلا ہوا ہے لہذا استفسار کیا کہ کون سے گاؤں میں ؟
    اسی اثنا ابو نے ٹی وی آن کیا تو ہمارے اٹک شہر کے قریبی گاؤں میں اسی قتل بابت بتایا جارہا تھا کہ باپ نے بیوی اور 2 بیٹیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا . بہرحال پھر میں مصروف ہوگیا لہذا اس بابت معلوم ہی نہ کرسکا ، آج جب اپنے پھوپھا سے ملنے گیا تو انھوں نے اس اندوہناک واقعہ کا ذکر چھیڑ دیا .
    ” جی بہت ظلم کیا ہے ظالم شخص نے ..” میرا پہلا جملہ وہی تھا جو ایسا واقعہ سن کر کہنا چاہئے ..

    ” ہاں ظلم تو ہوا ہے ، پر یار جس طرح میڈیا اسے پیش کر رہا ہے معامله اتنا سادہ نہیں ہے ” انکل اس موضوع پر تفصیلی بات کرنے کے موڈ میں تھے لہذا میں خاموشی سے انکی بات سننے لگا ، اور جو باتیں انھوں نے کی اسے سننے کے بعد مجھے وہ شخص قاتل اور گنہگار تو لگا پر ظالم و جابر وہ ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آپ خود کرلیجئے گا . کہانی کچھ یوں تھی کہ

    ” یہ شخص اپنی بیٹیوں سے بہت محبت کرتا تھا ، ہمارے گاؤں کے ساتھ ہی اسکی بہت زیادہ زمینیں تھیں پر اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہ اس گاؤں میں شفٹ ہوا کہ یہاں سے شہر قریب پڑتا تھا ، ایک بیٹی وکیل اور دوسری ڈاکٹر بن رہی تھی لہذا فیسوں کی مد میں سالانہ لاکھوں روپے جاتے تھے اور یہ جناب ہر سال اپنی کچھ زمین بیچ کر بچوں کو اعلی تعلیم دلوا رہا تھا . ایسے میں موصوف کی بڑی بیٹی نے ایک لڑکے سے چھپ کر شادی کرلی اور گھر چھوڑ گئی ، چونکہ یہ جناب سید تھے لہذا بیٹی کی منت سماجت کی گئی کہ گھر آجاؤ اور ٹھیک سلیقے سے شادی کر کے رخصت ہوجاؤ تا کہ باپ کی عزت بنی رہے ، پر پھر ہوا کچھ یوں کہ بڑی بہن کی دیکھا دیکھی چوٹی بہن کے بھی پر نکل آئے اور ہوتا یہ کہ رات باپ کو نیند کی گولی کھلا کر سلا دیا جاتا ، بڑی بہن ایک طرف نکل جاتی اور چھوٹی دوسری جانب جبکہ ماں کا کردار بھی شرمناک ہو چکا تھا ، پورے گاؤں میں ان ماں بیٹیوں کے کارنامے سب جان چکے تھے ، ایک بار اس شخص نے بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی جس پر ماں بیٹیوں نے مل کر اسے مارا اور اسکا گریبان وغیرہ پھاڑ دیا . اگر آپ گاؤں میں معلوم کریں تو یہ شخص اتنا شریف انسان تھا کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی یہ شخص ایک مکھی یا مچھر بھی مار سکتا ہے . اس شخص کو بیوی اور بیٹیوں نے کھانا دینا بند کردیا تھا اور اسکی حیثیت گھر کے کتے سے بھی بدتر ہو چکی تھی . جبکہ نیند کی گولیاں اور کیپسول کھلا کھلا کر ذہنی مریض تو اسے ویسے ہی بنا دیا گیا تھا . لہذا اس رات اسکا دماغ خراب ہوگیا اور اپنی بیوی اور بیٹیوں پر ریپیٹر سے گولیوں کی بوچھاڑ کردی . اسکا بیٹا جو ابنارمل ہے اس نے باپ کو روکنے کی کوشش کی جس پر ایک گولی اسے بھی لگی اور آج خبر آئی ہے کہ اس کا بھی انتقال ہو چکا ہے . “

    یہ تو وہ واقعات ہیں جو سارا گاؤں جانتا ہے ، اندرون خانہ وہ شخص روز کن اذیتوں سے گزر رہا تھا اسکا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا . اب میڈیا سمیت ہر فورم پر ” غیرت کے نام ” پر قتل کی بات کی جارہی ہے پر حالات اس نہج تک کیسے اور کیوں پہنچے ان عوامل پر کوئی بات نہیں کرتا . وہ شخص جو خود ٹرک چلاتا رہا اور اپنی آبائی زمینیں بچ کر اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہا تھا وہ اگر اپنی بیٹیوں کو مار چکا ہے تو کیا وہ اکیلا ذمہ دار ہے ؟
    بیٹی کو گھر سے بھاگنے سے روکنا اتنا بڑا جرم تھا کہ بیٹی اپنے باپ پر ہاتھ اٹھانے لگے ؟ یہ جرات بیٹی کو کس نے دی ؟ یہ سوچ اس بیٹی کے دماغ میں کس نے ڈالی کہ رات گزارنے والا عاشق اسے اسکے اس باپ سے زیادہ پیار کرتا ہے جس نے اپنی زندگی بیٹی پر لگا دی .

    اب یہ ” پیر کامل ” لکھنے والی محترمہ وہاں پردہ کروا کر یہاں ٹی وی پر قندیل جیسی سوچ کو جسٹیفائی کروا رہی ہیں ؟

    عمیرہ احمد صاحبہ آپ نے کہا کہ

    ” جھوٹی عزت اور بے معنی غیرت نے مجھ جیسی کئی قندیلوں کو وقت سے پہلے بجھا دیا “

    محترمہ کیا ہی خوب ہوتا کہ آپ لکھتی
    ” عورت کی جھوٹی آزادی نے عورت کو مرد کیلئے طوائف سے بھی بدتر بنا دیا ، جہاں وہ مختصر لباس پہننے سے لیکر ناچ گانا تک مرد کی نگاہ کو تسکین دینے کیلئے کرتی ہے ، اور اسے برہنہ کرنے والے بھیڑئے اس عورت کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ جیسے جیسے تم اپنا جسم ہمارے لئے کھولتی جاؤ گی ویسے ویسے آزاد خیال بنتی جاؤ گی “

    یہ تحریر پڑھنے والی تمام بہن بیٹیاں یہ بات اپنے پلو سے باندھ لیں کہ آپکے بھائی آپکے والد وہ واحد مرد ذات ہیں جو آپکی اک ذرا سی تکلیف پر تلملا اٹھتے ہیں ، نا کوئی آپکو آپکے بھائی سے زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی آپکے باپ سے زیادہ آپ سے محبت کرسکتا ہے . باقی آپ صرف سر سے دوپٹہ اتارو زمانہ آپکے تن پہ پہنا ہر کپڑا نوچ نکالنے کیلئے تیار بیٹھا ہے . یہ میڈیا میں بیٹھی بلائیں اور چڑیلیں آپکی سوچ کو نوچ کھانے کیلئے ہر دم تیار بیٹھی ہیں . باقی کبھی کوٹھوں پہ بیٹھی طوائفوں کی کہانیاں سن لیں ، اکثریت آپکو وہ ملیں گی جو ماں باپ کے ” جبر ” سے بچ کر محبوب کی ” پناہ ” میں جانے کیلئے گھر سے نکلی تھیں ، اور اب کسی بھی پناہ کے قابل نہیں رہی ہیں ….!۔

    ملک جہانگیر اقبال
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں