علم اور عالم

ابو حسن نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 9, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    علم اور عالم
    -----------------


    یہ بات کسی سے بھی مخفی نہیں ہے کہ اس وقت علم اورعمل دونوں میں جدائی اور دراڑیں پڑ چکی ہیں، معرفت اور تربیت جدا جدا ہو چکے ہیں، اس بات سے بہت سے عام و خاص لوگ واقف بھی ہیں

    پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تربیت اصل میں نظریاتی چیز ہے، اس کا تعلق صرف اس بات سے ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ذہنوں کو مختلف علوم و فنون سے بھر دیں

    ان کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تربیت سے متعلق تحقیقی مقالہ جات اور کتب تک رسائی ہو ، یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے شرعی نصوص کو صرف فنون و معارف پر بند کر دیا اور اس میں جو تربیتی پہلو تھا اس سے پہلو تہی کر لی۔

    اس کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے فرمانِ باری تعالی :

    إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ غافر:28

    کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالی سے علم والے ہی ڈرتے ہیں۔

    اور اس آیت کو ہر شخص پر فٹ کر دیا جو کسی بھی علم کا جاننے والا ہے چاہے وہ شرعی علوم ہوں یا دنیاوی فنون
    حالانکہ آیت میں کا مطلب یہ تھا کہ جو اللہ تعالی سے ڈرتا ہے وہ عالم ہے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ "مجموع الفتاوى"( 7/539)میں کہتے ہیں:

    "فرمانِ باری تعالی : إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ غافر:28

    اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی اللہ تعالی سے ڈرتا ہے وہ عالم ہے، یہ معنی درست اور صحیح ہے

    اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جو بھی عالم ہے وہ اللہ تعالی سے ڈرتا ہے۔"


    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اپنے مفید رسالے "فضل علم السلف على علم الخلف" (ص 5) میں لکھا ہے کہ:

    "بہت سے متاخر لوگوں کو اس فتنے نے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا اور وہ سمجھنے لگے کہ جس شخص کی گفتگو، مناظرے، اور دینی مسائل میں بحث و تمحیص بہت زیادہ ہے تو وہ دوسروں سے بڑا عالم ہے!!

    حالانکہ یہ جہالت کی انتہا ہے ذرا اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان میں سے اہل علم کی جانب دیکھیں :

    مثلاً: ابو بکر، عمر، علی، معاذ، ابن مسعود اور زید بن ثابت وغیرہ رضی اللہ عنہم ان کا کلام ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کم ہے، حالانکہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے زیادہ علم والے تھے۔

    اس طرح تابعین کا کلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہے، حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    اسی طرح تبع تابعین کا کلام تابعین سے زیادہ ہے، حالانکہ تابعین ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔

    تو معلوم ہوا کہ علم کثرتِ روایات کا نام نہیں ہے، نہ ہی بہت زیادہ کلام کرنے کا نام علم ہے؛ علم تو دل میں ڈالا جانے والا ایک نور ہوتا ہے جس کے ذریعے بندہ حق سمجھ جاتا ہے، اور اس میں حق و باطل کے مابین امتیاز کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، چنانچہ وہ انتہائی مختصر عبارت میں ایسی گفتگو کرتا ہے جس کے ساتھ مقصود پورا ہو جاتا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں