گھوڑے کے متعلق وارد احادیث

ابو حسن نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏فروری 9, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    دو برس قبل ایک دوست مولانا شاکر نے "گھڑسواری" سیکھنے کی بات کی تو دونوں نے مل کر ڈھونڈنا شروع کیا کہ کونسا اصطبل بہتر ہے جو صحیح سیکھاتے ہیں کچھ جگہوں پر گئے ،طریقہ کار معلوم کیا اور پھر ایک جگہ نام کا اندراج کروایا اور نئے جوتے خریدے جو خاص گھڑسواری کیلئے استعمال ہوتے ہیں اور"HALF CHAPS " خریدیں اور پہنچ گئے سیکھنے کیلئے ،ہفتہ وار 5 کلاسیں ہوئیں اور بہت ہی خوشگوار تجربہ ہوا ،

    اور یہ ایک پروگرام بھی دیکھا جو بہت دلچسپ تھا جس میں کچھ نوجوان شامل تھے جنہوں نے نئے گھوڑے منتخب کرنے کے بعد انکی ہر طرح سے دیکھ بھال کرنی اور پھر گھڑسواری کیلئے تیار کرنا ہوتا ہے اور پھر انکا آخری مرحلہ تھا جس میں اپنے سدھائے ہوئے گھوڑے پر ریس کے مقابلہ میں حصہ لینا اور اول آنا تھا اور اس پروگرام میں تجربہ کا ماہرین استاد بھی شامل تھے جو ان نوجوانوں کی وقتا فوقتا رہنمائی بھی کرتے رہے



    ایک دن مولانا شاکر نے مجھ سے کہا کہ آپ کو جو کوئی بھی گھوڑے کے متعلق معلومات ملیں وہ مجھے بھی شئیر کریں تو اس وقت کچھ احادیث اکٹھی کیں تھیں سوچا کیوں نہ یہانپر شئیر کی جائیں

    حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا ایک شخص کے لئے ثواب کا باعث ہے، اور ایک شخص کے لئے بچاؤ کا ذریعہ ہے، اور کسی کے لئے گناہ کا سبب ہے، باعث ثوا ب اس شخص کیلئے ہے جس نے گھوڑا ﷲ کی راہ میں باندھا، اور اس کی رسی باغ یا چراگاہ میں دراز کر دی جس قدر وہ باغ یا چراگا میں چرے گا، اسی قدر اس کو ثواب ملے گا، اور اگر اس کی رسی ٹوٹ جائے، اور ایک بلندی یا دو بلندی پھاندے تو اس کے ہر قدم اور لید پر اس کو ثواب ملے گا اور اگر وہ نہر کے پاس سے گزرے، اور اس سے پانی پی لے، اگر چہ اس کے پانی پلانے کا ارادہ نہ ہو، تو اس پر نیکیاں ملیں گی، اسی لئے یہ اس کے لئے اجر کا سبب ہے، اور وہ شخص جو اس کی مالداری کی وجہ سے اور سوال سے بچنے کیلئے باندھے اور اس کی گردن اور اس کی پیٹھ کے متعلق ﷲ تعالی نے جو حق مقرر کیا ہے، اس کو نہ بھولے تو اس کے لئے بچاؤ کا ذریعہ ہے، اور جو شخص اس کو فخر و ریا کی وجہ سے یا اہل اسلام کے متعلق مجھ پر کوئی آیت نہیں اتری بجز اس جامع اور بے مثل آیت کے (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ) الخ جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جو شخص ذرہ برابر برائی کرے گا، وہ اس کو دیکھ لے گا-
    ( صحیح البخاری - 2208)



    قتادہ حضرت انس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے تھے کہ مدینہ میں ایک باردشمن کے حملے کو خوف ہوا تو نبی صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابوطلحہ سے ایک گھوڑا مستعار لیا جس کا نام مندوب تھا چناچہ آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوکر گئے جب واپس ہوئے تو فرمایا ہمیں کوئی خطرہ کی بات نظر نہیں آئی اور ہم نے اس گھوڑے کو پایا کہ دریا ہے-
    ( صحیح البخاری - 2444)


    ذکو ان حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی عبادت بتائے جو جہاد کے ہم مرتبہ ہو آپ نے فرمایا کہ ایسی عبادت تو کوئی نہیں لیکن کیا تم یہ کر سکے ہو- کہ جب مجاہد جہاد کیلئے نکلے تو اپنی مسجد میں جائے اور نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور سست نہ ہو اور برابر روزے رکھے کوئی روزہ نہ چھوڑے اس نے عرض کیا کہ حضرت ایسا کون کر سکتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ مجاہد کا گھوڑا جب اپنی رسی میں بندھا ہوا چرنے کیلئے چلتا پھرتا ہے تو اس گھوڑے کے ہر ہر قدم پر مجاہد کیلئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں-
    ( صحیح البخاری - 2590)


    طلحہ بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ کی روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جو شخص ﷲ کی راہ میں جہاد کرنے کیلئے گھوڑا پالے، اور محض ﷲ ایمان لانے کی وجہ سے اس کے وعدوں کو سجا سمجھے تو بیشک اس کا کھانا اس کا پینا اس کی لید اور اسکا پیشاب غرض اس کی ہر چیز ثواب بن کر قیامت کے دن اس جہاد کرنے والے کے اعمال میں وزن کی جائیگی، اور یہ وزن بڑابھاری ہوگا-
    ( صحیح البخاری - 2653)


    معن بن عیسیٰ ابی بن عباس بن سہل اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہمارے باغ میں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کا ایک گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا، اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا نام لخیف(خ کے ساتھ) تھا-
    ( صحیح البخاری - 2655)



    قتادہ حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ میں کچھ خوف تھا، تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے عاریتہ ہمارے مندوب نامی گھوڑا لیا، اور اس پر سوار کی اور سفر سے لوٹ کر فرمایا کہ ہم نے کوئی خوف کی بات نہیں دیکھی، اور بیشک ہم نے اس گھوڑے کو دریاکی طرح سبک روپایا-
    ( صحیح البخاری - 2657)


    ابوصالح سمان حضرت ابوہریرہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا گھوڑا تین قسم کے آدمیوں کے پاس ہو سکتا ہے، ایک شخص کیلئے باعث اجر ہے، ایک شخص جس کے لئے باعث ستر ہے، اور ایک شخص کیلئے جرم کا سبب ہے، لیکن وہ شخص جس کے لئے باعث ثواب ہے، وہ شخص ہے، جو اس کو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کیلئے پالے اور کسی چراگاہ یا باغ میں اسکو لمبی رسی میں باندھ دے تو اس پر چراگاہ یا باغ کا جو جو حصہ اس رسی کے اندر آئیگا اتنے ہی تنکوں کے برابر نیکیاں اس کو ملیں گی، اور اگر اتفاق سے وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلہ یا دو ٹیلہ پھاند جائے تو اس کی لید کے وزن اور قدم کے نشانوں کے برابر اس کو نیکیاں ملیں گی، اور اگر اس کا گذر کسی نہر پر ہو جائے، تو جس سے وہ پانی پی لے اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو، تب بھی اسے نیکیاں ملیں گی، اور جو شخص گھوڑے کو دکھا وے، اور فخر کی غرض سے باندھے، اور اہل اسلام کی دشمنی کیلئے رکھے، تو وہ گھوڑا اس کیلئے جرم کا سبب ہے جب رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے گدھوں کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان کے بارے میں مجھے کوئی حکم نہیں ملا مگر یہ آیت (فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) الخ یعنی جو ذرہ برابر نیکی کریگا اسے دیکھ لیگا، اور جو ذرہ برابر برائی کرگا وہ اسے دیکھ لے گا، یہ آیت جامع ہے-
    ( صحیح البخاری - 2660)


    قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ والوں کو حریفوں کا کچھ خوف پیدا ہوگیا تھا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہوگئے جو بہت سست چلتا تھا یایہ کہ اس میں سستی تھی، پھر آپ جب لوٹے، تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو دریا کی طرح سبک رو پایا، پھر وہ گھوڑا اس کے بعد ایسا ہوگیا، کہ کوئی گھوڑا اس سے سبقت نہ لے جاتا تھا
    ( صحیح البخاری - 2667)



    محمد حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہوا تو رسالت ماب صلی ﷲ علیہ وسلم نے ابوطلحہ کے سست گھوڑے پر سواریکرکے اس کو ایڑلگا ئی اور دوسرے آدمی بھی اپنے گھوڑوں پر سوار آپ کے پیچھے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے اور لوٹ کر فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں البتہ یہ گھوڑا صبار فتار اور سبک سیر ہے پھر اس کے بعد وہ گھوڑا سواری میں کبھی بھی کسی سے پیچے نہیں رہتا تھا-
    ( صحیح البخاری - 2756)



    ابوصالح حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑوں کی تین قسمیں ہیں بعض لوگوں کے لئے موجب ثواب ہیں بعض کے لئے باعث ستر اور بعض کے لئے موجب گناہ لیکن وہ شخص جس کے لئے یہ باعث ثواب ہیں وہ ہے جس نے گھوڑے کو خدا کی راہ میں جہاد کرنے کے واسطے باندھا اور کسی چراگاہ یا کسی باغ میں چرنے کے لئے ایک بڑی رسی میں باندھ دیا تو جس قدر زمین اس چراگاہ یا باغ کی اس رسی میں آ جائے گی اتنی ہی نیکیاں اس شخص کو ملیں گی اور اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک دو ٹیلے پھاند کر جائے تو اس کی لید (پیشاب وغیرہ سب کچھ) مالک کے لئے موجب ثواب ہو گی اور اگر کسی نہر پر جا کر پانی پی لے- اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ بھی نہ کیا ہو، تب بھی اس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور جو کوئی مالداری ظاہر کرنے و پردہ پوشی کے لئے خیرات وغیرہ سے بچنے کے لئے اور ﷲ کا حق ادا کرنے کے لئے جو اس کی گردن پر ہے گھوڑا پالے تو ایسا گھوڑا مالک کے لئے باعث ستر ہو گا اور اس کو بطور فخر دکھانے کی نیت سے مسلمانوں کی دشمنی کے لئے باندھے تو یہ گھوڑا اس کے لئے موجب گناہ ہو گا- نبی صلی ﷲ علیہ وسلم کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن جامع اور بے مثل یہ آیت جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا-
    ( صحیح البخاری - 3385)


    سماک بن حرب، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن دحداح پر نماز جنازہ ادا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ننگی پیٹھ والا گھوڑا لا یا گیا اس کو ایک آدمی نے پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اس نے کودنا شروع کردیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے دوڑتے ہوئے آرہے تھے قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ابن دحداح کے لئے جنت میں کتنے خوشے لٹکنے والے ہیں-
    ( صحیح المسلم - 2142)



    علی بن رباح، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عنہ نے فرمایا بہترین گھوڑے وہ ہیں جو سیاہ رنگ کے ہیں جن کی پیشانی اور ناک کے قریب تھوڑی سی سفیدی ہو اور پھر وہ گھوڑے جن کے دونوں ہاتھ، پیر اور پیشانی سفید ہوں سوائے دائیں ہاتھ کے اور پھر اگر کالے رنگ کے نہ ہوں تو ان ہی صفات والا سیاہی مائل سرخ رنگ کا گھوڑا ہو۔
    ( جامعہ ترمذی - 1747)




    نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مضمر گھوڑوں کی حفیاء سے ثنیةالوداع تک گھڑ دوڑ کروائی جو تقریبا چھ میل کا فاصلہ تھا اور غیر مضمر گھوڑوں کے درمیان ثنیة الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑ کروائی یہ ایک میل کا فاصلہ تھا۔ میں بھی ان لوگوں میں شریک تھا چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لیکر ایک دیوار پھلانگ گیا۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ، جابر، انس، اور عائشہ رضی اللہ عنھم سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
    ( جامعہ ترمذی - 1750)




    عقیل بن مسیب، حضرت ابووہب الجشمی سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ گھوڑا اختیار کرو جو کمیت ہو سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والا یا اشقر ہو سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والا یا کالا ہو سفید پیشانی اور سفید ٹانگوں والا۔
    ( سنن ابو داؤد - 2523)



    ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم شکال گھڑے کو نا پسند فرماتے تھے اور شکال وہ گھوڑا ہوتا ہے جس کی پچھلی داہنی ٹانگ اور اگلی بائیں ٹانگ میں سفیدی ہو یا اس کے بر عکس ہو۔
    ( سنن ابو داؤد - 2527)



    عمارہ بن خریمہ، سے روایت ہے کہ ان کے چچا نے جو حضور صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی تھے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا۔ اور آپ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے اعرابی کو اپنے پیچھے لے کر چلے تاکہ اسے گھوڑے کی قیمت ادا کریں حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم تیز تیز چلنے لگے جبکہ اعرابی نے کچھ سستی کی اچانک کچھ لوگ اس اعرابی کے سامنے آ گئے اور اس گھوڑے کے بارے میں بھاؤ تاؤ کرنے لگے اور انہیں اس کا احساس نہیں تھا کہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خرید چکے ہیں، اس اعرابی نے حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو پکارا اور کہا کہ اگر تم گھوڑا خرید چکے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں اسے بیچ ڈالوں۔ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم وہیں کھڑے ہو گئے جب آپ نے اعرابی کی پکار سنی اور فرمایا کیا میں اسے تجھ سے نہیں خرید چکا وہ اعرابی کہنے لگا نہیں خدا کی قسم نہیں میں نے اسے تجھ سے فروخت نہیں کیا۔ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہیں میں اسے تجھ سے خرید چکا ہوں اب اس اعرابی نے کہنا شروع کیا اچھا گواہ لاؤ تو حضرت خزیمہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ فورا بول پڑے کہ میں گواہی دیتا ہوں تو نے اسے فروخت کر دیا ہے پس حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تو کیسے شہادت دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ کی تصدیق کی وجہ سے۔ چنانچہ حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا۔
    ( سنن ابو داؤد - 3560)



    ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم شکال گھوڑا پسند نہیں فرماتے تھے امام نسائی فرماتے ہیں کہ شکال اس گھوڑے کو کہتے ہیں جس کے تین پاؤں سفید ہوں اور چوتھا نہ ہو یا ایک پاؤں سفید ہو اور باقی تین پاؤں سفید نہ ہوں نیز شکال ہمیشہ پاؤں میں ہوتا ہے ہاتھ میں نہیں ہوتا ہے۔
    ( سنن نسائی - 3602)




    ایک مرتبہ نبی کے تذکرہ میں حضرت انس بن مالک نے فرمایا آپ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت سخی اور بہادر تھے ایک شب مدینہ والے گھبرا گئے (کہ کہیں دشمن نہ آگیا ہو) اور آواز کی جانب چلنے لگے تو انہیں اللہ کے رسول ملے۔ آپ ان سے پہلے ہی آواز کی طرف پہنچ چکے تھے اور آپ ابوطلحہ کے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپ کی گردن میں شمشیر تھی اور فرما رہے تھے لوگو گھبراؤ مت آپ لوگوں کو گھروں کو واپس بھیج رہے تھے۔ پھر آپ نے اس گھوڑے کے بارے میں فرمایا ہم نے اسے سمندر (کی طرح رواں اور تیز رفتار) پایا۔ حماد کہتے ہیں کہ مجھے ثابت نے یا کسی اور نے بتایا کہ ابوطلحہ کا یہ گھوڑا پہلے بہت سست تھا اس کے بعد وہ کسی سے پیچھے نہ رہا۔
    ( سنن ابن ماجہ - 2772)



    محمد بن عقبہ، حضرت تمیم داری فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا جو راہ خدا کیلئے گھوڑا پالے پھر خود اس کے گھاس دانہ کا انتظام کرے تو اسے ہر دانہ کے بدلہ ایک نیکی ملے گی۔
    ( سنن ابن ماجہ - 2791)

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں