موبائل فون کا مثبت اور تعمیری استعمال

بابر تنویر نے 'ادبِ لطیف' میں ‏فروری 11, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    ہر گذرتے دن کے ساتھ موبائل ٹیکنالوجی ایڈوانس سے ایڈوانس تر ہو تی جارہی ہے۔ جب فون نہیں ہوتا تھا تو گھر سے نکلتے ہوۓ بتانا پڑتا تھا کہ کب تک واپس آجائيں گے۔ اور اگر ذرا دیر ہو گئ تو پھر گھر والے پریشان۔ پھر فون آگيا۔ تھوڑی آسانی ہو گئ۔ اگر آنے میں تاخیر ہوگئ تو کہیں بوتھ وغیرہ سے فون کردیا اور بتا دیا کہ آنے میں دیر ہو جاۓ گی اور گھر والے مطمئن ہو گۓ۔
    پھر موبائل آگيا۔ تو پیغام رسانی کی دنیا ہی بدل گئ۔ جب چاہا اور جہاں چاہا رابطہ کرلیا۔ شروع شروع کے موبائلوں کی اہمیت اس وقت کے لحاظ سے بہت زیادہ تھی۔ حالانکہ وہ موبائل 3310 وغیرہ محدود صلاحیت کے حامل تھے۔ نہ تو بہت زیادہ کونکٹیکٹس سیو کیے جاسکتے تھے اور میرا خیال ہے کہ پانچ سے زیادہ پیغامات بھی سیو نہیں ہو سکتے تھے۔
    پھر موبائل ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کے منازل طے کرنا شروع ہو‏ئ۔ میموری بڑھائ گئ، پھر کیمرا آیا اس کے بعد دو کیمرے اور اگلے مرحلے پر ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کے ساتھ سے مربوطی اور تصویر اور ویڈیو ریکارڈنگ اور پھر ترسیل۔ اور ویڈیو چاٹ وغیرہ نے موبائل فونز کی دنیا ہی تبدیل کردی۔ اور ہر آۓ دن اس ٹیکنالوچی میں کوئ نئ تبدیلی لے کر آتا ہے۔
    جس طرح ہر چیز کا اچھا یا برا ہونا اس کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہے، اسی طرح موبائل پر ڈرامے، گانے وغیرہ سنے جاتے ہیں اور اسی پر تلاوت اور قرآن و حدیث وغیرہ بھی پڑھے اور سنے جا سکتے ہیں۔
    موبائل فون کا ایک اچھا استعمال دیکھنے کا اتفاق آج جمعہ کی نماز میں ہوا ، یہاں پر اکثر ائمہ خطبہ جمعہ کسی کاغذ پر لکھ کر لاتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ ہوا کچھ یوں کہ امام صاحب اذان کے بعد خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوۓ تو انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا۔ ہم سمجھے کہ شائد اسے خاموش کر رہے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے اسی موبائل کو دیکھ کر خطبہ شروع کیا تو پھر ہمیں اصل بات کی سمجھ آئ کہ وہ خطبہ کو موبائل ہی میں محفوظ کر کرکے لاۓ ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ کسی چیز کے اچھا یا برا ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔ امام صاحب نے اس موبائل کا ایک اچھا استعمال ڈھونڈ نکالا۔
    اور اسی موبائل کا ایک غیر مناسب استعمال آپ نے حرمین شریفین میں دیکھا ہوگا۔ لوگ سیلفی لیتے لیتے ان مقامات کا تقدس ہی بھول جاتے ہیں۔ اسی لیے سعودی حکومت کو اس بارے میں ایک قانون پاس کرنا پڑا کہ جس کی رو سے ان مقدس مقامات میں تصاویر وغیرہ کھینچنے کو ممنوع قرار دے دیا گيا ہے۔
    اسی طرح اس کا ایک برا استعمال یہ بھی ہے کہ لوگ ہمہ وقت موبائل میں ہی مصروف رہتے ہیں۔ اور اکثر ارد گرد کی ہوش بھی نہیں رہتی۔ کسی محفل مین بیٹھے ہیں یا کہیں جارہے ہیں۔ موبائل استعمال کرتے ہوۓ روڈ پر چلے جا رہے ہیں۔ یہ نہیں دیکھا کہ آگے بجلی کا کھمبا ہے۔ سیدھا اسے جاکر ٹکر ماری۔ اب کھمبے کا تو کچھ نہیں بگڑا لیکن ان کے سر پر نقش نگار بن گۓ اور موبائل کا نقصان اس کے علاوہ۔
    موبائل آج کی روزمرہ زندگي کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اس کا استعمال ضرور کیجیے لیکن مثبت طریقے سے۔ اور ایسے کہ زندگي کے دوسرے معمولات متاثر نہ ہوں۔ اسے اپنی زندگي کی ضروریات کا حصہ ضرور بنایے لیکن اپنے لیے مصیبت نہیں۔
    شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 3
    • اعلی اعلی x 1
    • مفید مفید x 1
  2. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,869
    جزاك الله خيرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بالکل متفق ۔۔۔ کسی چیز کا استعمال ہی اس کے مفید یا نقصان دہ ہونے کے بارے میں عمومی رائے قائم کرتا ہے۔ سہولت کو ضرورت اور پھر 'لت' کا درجہ دینے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 3
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    ہر چیز کے فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں، موبائل تو اب روز مرہ کی ضرورت بن چکی ہے اور اس نے آکر کئی چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اللہ ہمیں اس کا مفید اور کار آمد استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    درست فرمایا شاہ جی۔ اس کا ایک مفید استعمال مسجد نبوی میں بھی کیا جاتا ہے۔ جہاں پر نمازی خطبہ جمعہ کا ترجمہ فوری طور پر سن سکتے ہیں۔
     
  6. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    یہ سچ بات ہے کہ استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسکا استعمال اجرو ثواب کیلئے کرتا ہے یا پھر حرام اور ناجائز امور کیلئے

    موبائل سے خطبہ پڑھنے کا مجھے برا تجربہ ہوا ہے ،

    گھر کے سامنے مسجد میں کئی بار خطبہ جمعہ نئے عالم بننے والے نو جوانوں کو دیا جاتا ہے تو ایک جمعہ کو مولانا نے تقریر کی خطبہ سے پہلے اور صحابہ کرام کے مناقب پر بیان کر رہے تھے اور میں تصور میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور انکی قربانیوں اور اللہ کے ڈر کو سوچتے ہوئے دل ایک دم نرما گیا اور آنسو بہنا شروع ہوگئے اور میں انہی اثرات میں تھا کہ پھر ایک نوجوان خطبہ کیلئے منبر پر آیا اور آذان ہوئی اور اس کے بعد اس نے خطبہ کیلئے موبائل فون نکالا اور خطبہ پڑھنا شروع کیا اور جب نے میں یہ دیکھا تو ان اثرات سے میری ساری کی ساری کفیت چند لمحوں میں زائل ہوگئی اور عجیب بھاری پن محسوس ہونے لگا، نماز میں بھی ایسا رہا ، بعد میں اپنے امام و خطیب ابو یونس سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے بھی تعجب ہوا کہ اس نے موبائل سے خطبہ پڑھا( حالانکہ ہر ایک کے پاس موبائل ہوتا ہے پر خطبہ میں موبائل عجیب لگا اور جو رعب زبانی ، کاغذ اور کتاب کے استعمال کا خطبہ کے درمیان میں دیکھا وہ موبائل میں بالکل نہیں، ذاتی رائے )

    بحرحال یہ میرے ساتھ تجربہ ہوا تھا اور آپ سب کا اس میں اختلاف رائے بھی ہوسکتا ہے اور قرآن و سنت کو علاوہ ہر کسی کو اختلاف راۓ کا حق حاصل ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    امریکہ کی ایک ریاست میں قانون پاس کیا گیا ہے کہ آپ سڑک پر چلتے ہوئے یا سڑک پار کرتے ہوئے دیکھے گئے تو غالبا 50 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑئے گا
    ،
    موبائل کا ایک غیر مناسب استعمال آپ نے حرمین شریفین میں دیکھا ہوگا۔ لوگ سیلفی لیتے لیتے ان مقامات کا تقدس ہی بھول جاتے ہیں۔میں آپکی اس بات سے متفق ہوں

    حرمین میں تو حد ہی ہوگئی ہے موبائل فون سے سیلفیوں کی (سیلفیوں کی اور سلفیوں کی بھی :)) ذرا برابر بھی یہ دھیان نہيں کہ کس مقام پر ہیں اور اسکا ادب کس حد تک ملحوظ خاطر رکھنا ہے ؟ اس میں دین دار طبقہ بھی شامل ہے الا ماشاءاللہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    جی بھائ ذاتی راۓ تو پھر ذاتی ہی ہوتی ہے۔ ورنہ میرے خیال میں اس سے کوئ زیادہ فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ اثر تو بولنے والے کے الفاظ اور انداز میں ہونا چاہیے۔
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,161
    میرے نوٹس، سلائیڈز اور کتابیں زیادہ تر فون میں ہوتے ہیں اور طالبات کو بھی کلاس میں فون پر کتاب وغیرہ پڑھنے کی اجازت ہے۔ کاغذ شریف کو ہم نے اپنی غربت کے سبب خیر باد کہہ دیا ہے۔ جو کوئی کتاب کے بہانے لیکچر کے دوران ویب سرفنگ کرے اس کی آنکھوں کی حرکت اور سکرولنگ سے بآسانی پکڑا جا سکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,207
    جی یہ تجربے اور مشاہدے کی بات ہے۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں