تاریخ اہلحدیث کی کچھ جھلکیاں

عبدالله رحماني نے 'تاریخ اسلام / اسلامی واقعات' میں ‏فروری 11, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبدالله رحماني

    عبدالله رحماني نوآموز

    شمولیت:
    ‏فروری 11, 2018
    پیغامات:
    7
    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے


    تاریخ اہلحدیث کی کچھ جھلکیاں



    اس خطہ ارض پر کم وبیش ڈیڑھ سو سال انگریزوں کی حکومت رہی ہے اور اس اثناء میں متعدد تحریکیں اٹھیں جن کا مقصد اس سر زمین سے انگریزوں کو نکالنا اور یہاں کے باشندوں کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنا تھا ان تحریکوں ہی کا نتیجہ تھا کہ یہاں سے انگریزوں کی حکمرانی ختم ہوئی اور یہ پورا خطہ حریت و آزادی کی دولت بے پایاں سے بہرہ ور ہوا

    بر صغیر کی تحریکات آزادی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اس میں سب سے زیادہ حصہ مسلمانوں کا ہے سراج الدولہ کی کوشش /ٹیپو سلطان کی جدوجہد / بنگال کی فرائضی تحریک / جماعت مجاہدین کی تگ وتاز / نثار علی تیتو میر کی مساعی سن ١٨٥٧ کی بغاوت اور اس کے بعد کی متعدد تحریکوں کا تعلق مسلمانوں سے تھا غیر مسلموں کا حصہ ان میں بہت کم ہے

    مسلمانوں میں بھی زیادہ تر تحریکوں میں اہل حدیث مسلک سے وابستہ حضرات کی مساعی اوراق تاریخ میں ابھری ہوئی نظر آتی ہے بنگال میں جاری ہونے والی تحریکوں میں اہل حدیث نے بہترین خدمات انجام دیں اور مجاہدین کی تحریک میں جو سن ١٨٢٢سے سن ١٩٤٧ تک جاری رہی اہل حدیث سر گرم رہے ١٨٥٧ کے مجاہد حریت میں کثیر تعداد میں اہل حدیث شامل تھے جن میں سید میاں نذیر حسین دہلوی مولانا احمد اللہ اور مولانا عبدالجلیل علی گڑھی کے اسماء گرامی خاص طور سے لائق تذکرہ ہیں اس جدوجہد کوجن حضرات علماء نے جہاد قرار دی اور اس ضمن میں جولائی ١٨٥٧ میں فتویٰ جاری کیا اور اس پر دستخط ثبت فرماۓ وہ چونتیس علماۓ کرام تھے اس فہرست میں حضرت میاں صاحب کانام نامی سر فہرست ہے یہ فہرست اس دور کے دہلی کے اخباروں میں شائع ہوئی تھی جن میں سے ایک اخبار کا نام ظفر الاخبار دوسرا صادق الاخبار تھا حضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس جرم میں گرفتار ہوۓ اور ایک سال راولپنڈی جیل میں قید رہے

    ١٨٥٧ کے بعد انگریزی حکومت نے بغاوت کے مقدمات بھی اہل حدیث علماء و زعماء پر قائم کئے
    بر صغیر کی سیاسی تاریخ میں یہ مقدمات وہابی مقدمات کے نام سے مشہور ہوۓ ان میں پہلا مقدمہ مئی ١٨٦٤ میں دوسرا ١٨٦٥میں تیسرا اور چوتھا ١٨٧٠ میں اور پانچواں مقدمہ بغاوت ١٨٧١میں قائم ہوا اس طرح ١٨٦٤سے ١٨٧١. تک صرف سات سال کے عرصے میں بغاوت کے پانچ مقدمات قائم کئے گئے اور ان میں ماخوذ بزرگوں کو کالاپانی بھیجا گیا صحیح لفظوں میں کہنا چاہیئے کہ کالا پانی سب سے پہلے ان اہل حدیث قیدیوں کی وجہ سے آباد ہوا
    جنہیں انگریز حکومت نے بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا تھا ان قیدیوں میں عظیم آباد (پٹنہ) مالوہ راج محل اور دیگر مقامات کے نہایت اونچے خاندانوں کے جلیل القدر اہل علم اور اصحاب ثروت حضرات شامل تھے عظیم آباد(پٹنہ) کے اہل حدیث علماۓ کرام کو سب سے زیادہ ہدف ستم بنایا گیا اور یہ اپنے دور کے بے حد معزز لوگ تھے

    ١٩١٩ میں جمیعت علماء ہند قائم ہوئ جو بر صغیر کے علماۓ کرام کی بہت بڑی علمی اور سیاسی تنظیم تھی اس کا قیام مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مولانا سید محمد داؤد غزنوی کی تحریک وتجویز سے عمل میں آیا

    مجلس احرار کے قیام میں بھی اہل حدیث کی سعی و کوشش کو بڑا دخل ہے مولانا داؤد غزنوی طویل عرصے سے اس کے سکریٹری جنرل رہے

    آزادی بر صغیر کے لئے کانگریس اور مسلم لیگ میں اہل حدیث کے بہت سے حضرات نے شرکت کی اور قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں

    بلاشبہ اس سلسلے میں اللہ کے فضل سے اہل حدیث کی خدمات کا سلسلہ نہایت وسیع ہے لیکن بعض دیوبندی حضرات نے جس انداز میں ان کو ہدف تنقید ٹھہرایا ہے وہ انتہائی افسوس ناک اور واقعات کے قطعی خلاف ہے اس معاملے میں تو یقینا ایک سے زائد رائیں ہوسکتی ہیں کہ انہوں نے فلاں سیاسی جماعت میں کیوں شمولیت نہیں کی لیکن ان کی تگ وتاز کی نفی کرنا یایہ کہنا کہ انہوں نے انگریز ی حکومت کی حمایت کی تھی ہرگز قرین صحت نہیں یہ نقطہ نظر حقائق سے اغماض برتنے اور واقعات سے عدم واقفیت کی بھی دلیل ہے اور اظہار تعصب کی بھی

    اسی طرح قادیانیت کے بارے میں کسی اہل حدیث عالم کی مساعی کو مجروح کرنا حقیقت کے سراسر خلاف ہے واقعہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اہل حدیث علماء نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعواۓ نبوت کو چیلنج کیا اور اس پر کفر کا فتویٰ لگایا علماء دیوبند نے بہت بعد میں اس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ مبذول فرمائی تھی

    ہماری عادت کسی سے لڑنے جھگڑنے کی نہیں ورنہ ہمیں خوب معلوم ہے کہ کن کن دیوبندی علماۓ کرام نے انگریزی حکومت کا ساتھ دیا اور کن کن موقعوں پر دیا پھر ١٨٥٧ کے جہاد حریت کے سلسلے میں کن دیوبندی اکابرین نے انگریزوں کی حمایت کی اور اسے جہاد قرار دینے والوں کو شدید ترین نقد وجرح کا نشانہ بنایا اسی طرح بعض دیگر مسائل میں بعض مصالح کی رو سے یابربناۓ تحقیق خاموشی کو ترجیح دی

    دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
    اس گھر کو آگ لگ گئی خود گھر کے چراغ سے


    (یہاں ہم اہل حدیث حضرات سے بھی یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آمین رفع الیدین اور بہت سے مسائل میں تو تمھارے قلم خوب جوش مارتے ہیں اور جوانیاں دکھاتا ہے لیکن اپنے اکابرین علماء دین کے حالات اور تذکرے کے سلسلے میں بلکل ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ابھی بھی وقت ہے اٹھا قلم اور لکھ ڈالو اپنے اکابرین کے تزکرے کو یہ ضروری نہیں کہ تفصیلات سے لکھا جاۓ جو معلوم ہے وہی لکھ دیا جائے ایک ہی ورقہ لکھ دیا جائے آئے ہم آج عہد کرتے ہیں کہ آج سے ہم اپنے وہ اکابرین کے تذکرے کو اجاگر کریں گے جو ناپید ہیں اللہ رب العالمین سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے نہ ہی ہم ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے علمی اور تدریسی تگ ودو کو موضوع گفتگو تھہرایا جاۓ )


    ایک بات جو ادھوری رہ گئی تھی وہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کی تحریک میں حصہ لیا تھا صرف بعض حضرات نے حصہ لیا ہو لیکن سوال یہ ہے کہ اب وہ مسلم لیگ ہے کہاں ؟؟؟؟ وہ تو مدت ہوئ ختم ہو چکی موجودہ ٹولے کو تو مسلم لیگ نہیں کہا جاسکتاہے
    دعا ہے کہ اللہ رب العالمین ہمارے دلوں میں اکابرین دینی بصیرت و تصنیفات اور ان کے کارناموں کو اجاگر کرنے کی توفیق بخشے آمین

    اقتباس (محمد اسحٰق بھٹی صاحب کی تقریظ سے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں