" الفاظ " استعمال میں احتیاط کریں۔

بابر تنویر نے 'ادبِ لطیف' میں ‏فروری 12, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,128
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
    الفاظ کے استعمال کے حوالے سے واٹ ساپ پر ایک پر اثر تحریر موصول ہوئ۔ جسے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

    *"الفاظ"*

    "الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
    کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں۔ ۔ ۔

    کچھ "غلامی"

    کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں۔ ۔ ۔

    اور کچھ "وار"۔

    ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،

    تو سمجھ آیا ۔۔۔۔!!

    لفظ صرف معنی نہیں رکھتے،

    یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔

    یہ ہاتھ رکھتے ہیں،
    جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔

    یہ پاؤں رکھتے ہیں،
    جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔

    اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجہ" کا اسلحہ تھما دیا جائے،
    تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔

    اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جاؤ،
    انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے
    یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔

    کیونکہ

    یہ تمہاری "ادائیگی" کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔

    اور "بادشاہ" اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے "بڑے بادشاہ" کو جواب دہ بھی....

    *خاص تحفہ*
    *اچھے لوگوں کے لیئے!*
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
    • متفق متفق x 1
  2. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    بہت عمدہ انتخاب

    چند دن پہلے الفاظ کے بارے میں ایک آرٹیکل پڑھا تھا اس میں سے ایک الچسپ اقتباس پیش ہے۔


    الفاظ کس طرح نہ صرف انسان بلکہ دیگر موجودات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اس کا آنکھیں کھولنے والا تجربہ ایک جاپانی سائنس دان Dr. Masaru Emoto نے پانی پر کیا جس کا احوال ان کی کتاب The hidden message in water میں بیان کیا گیا ہے، جس کا اردو ترجمہ محمد علی سید نے اپنی کتاب ’’پانی کے عجائبات‘‘ میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے، جسے پڑھ کر ہمیں شکر اور ناشکری کے الفاظ کے حیران کن اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس جاپانی سائنس دان نے پانی کو اپنی لیبارٹری میں برف کے ذرات یعنی کرسٹلزکی شکل میں جمانے کا کام شروع کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے ڈسٹلڈ واٹر، نلکے کے پانی اور دریا اور جھیل کے پانیوں کے نمونے لیے اور انھیں برف کے ذرات یعنی Crystals کی شکل میں جمایا۔

    اس تجربے سے اسے معلوم ہوا کہ پانی، اگر بالکل خالص ہو تو اس کے کرسٹل بہت خوبصورت بنتے ہیں لیکن اگر خالص نہ ہو تو کرسٹل سرے سے بنتے ہی نہیں یا بہت بدشکل بنتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو انجکشن میں استعمال ہوتا ہے) خوبصورت کرسٹل بنے، صاف پانی والی جھیل کے پانی سے بھی کرسٹل بنے لیکن نلکے کے پانی سے کرسٹل بالکل ہی نہیں بنے کیوں کہ اس میں کلورین اور دوسرے جراثیم کش اجزا شامل تھے۔اس کے بعد اس نے ایک اور تجربہ کیا جس کے نتائج حیران کردینے والے تھے۔ اس نے شیشے کی سفید بوتلوں میں مختلف اقسام کے پانیوں کے نمونے جمع کیے۔

    ڈسٹلڈ واٹر والی بوتل پر اس نے لکھا “You Fool” اور نلکے کے پانی والی بوتل پر لکھا “Thank You” یعنی خالص پانی کو حقارت آمیز جملے سے مخاطب کیا اور نلکے کے پانی کو شکر گزاری کے الفاظ سے اور ان دو بوتلوں کو لیبارٹری میں مختلف مقامات پر رکھ دیا۔ لیبارٹری کے تمام ملازمین سے کہا گیا جب اس بوتل کے پاس سے گزرو تو You Fool والی بوتل کے پانی کو دیکھ کر کہو “You Fool” اور “Thank You” والی بوتل کے پاس ٹھہرکر سینے پر ہاتھ رکھ کر جھک جاؤ اور بڑی شکر گزاری کے ساتھ اس سے کہو “Thank You”۔

    یہ عمل 25 دن جاری رہا۔ 25 ویں دن دونوں بوتلوں کے پانیوں کو برف بنانے کے عمل سے گزارا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔ ڈسٹلڈ واٹر سے (جو خالص پانی تھا اور اس سے پہلے اسی پانی سے بہت خوبصورت کرسٹل بنے تھے) کرسٹل تو بن گئے لیکن انتہائی بدشکل۔ ڈاکٹر اموٹو کے کہنے کے مطابق یہ کرسٹل اس پانی کے کرسٹل سے ملتے جلتے تھے جن پر ایک مرتبہ انھوں نے “SATAN” یعنی شیطان لکھ کر رکھ دیا تھا۔

    نلکے والا پانی جس سے پہلے کرسٹل نہیں بنے تھے، اس مرتبہ اس پر ’’تھینک یو‘‘ لکھا ہوا تھا اور کئی لوگ 25 دن تک اس پانی کو دیکھ کر ’’تھینک یو‘‘ کہتے رہے تھے، اس پانی سے بہترین اور خوب صورت کرسٹل بن گئے تھے۔اس کا مطلب یہ کہ نعمتوں کو ٹھکرانے، انھیں حقیر سمجھنے اور ان کا مضحکہ اڑانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خالص پانی آلودہ پانی میں تبدیل ہوگیا۔ نعمتوں کا ادراک کرنے اور انھیں دیکھ کر شکریہ ادا کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ آلودہ پانی خالص آب حیات میں تبدیل ہوگیا۔ہمیں ترقی یافتہ، مہذب قوم بننے کے لیے دوسروں کی تعریف اور شکریہ ادا کرنا سیکھنا ہوگا۔ ان کی خامیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائے ان کی اچھائیاں تلاش کرکے انھیں کھلے دل سے باآواز بلند سراہنا ہوگا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ صرف اسی وقت ہم ایک اخلاقی و ایمانی طور پر پھلتی پھولتی قوم بن پائیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    بے شک الفاظ سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں۔ تعلیم یافتہ کہلانے کا حقدار وہی شخص ہے جو لفظوں کا استعمال جانتا ہو کہ کز موقعے پر کونسے الفاظ مرہم بن سکتے ہیں اور کون سے نشتر!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    ہہہہہہہہ
    بڑی بڑی کمپنیاں خاص طور پر فارما سیوٹیکل سے متعلقہ لاکھوں روپے پانی کی صفائی پر لگاتی ہیں، انہیں اس تحقیق سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
     
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    جملوں میں الفاظ کا بہترین انتخاب ہی شخصیت کی عکاسی کر رہے ہوتے ہیں

    اب یہ اس شخص پر منحصر ہے کہ

    وہ موقع کی مناسبت سے کن الفاظ کا استعمال کرتا ہے ؟

    اوران کے ذریعہ سے اپنی کیا پہچان بناتا ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    اسی لئے بڑے سیانے کہہ گئے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    353
    کئی تو واقعی تولنے کیلئے ترازو کے چکر میں ہوتے ہیں:LOL: اب نہ ایسا ترازو ملے اور نہ الفاظ نکلیں:ROFLMAO:
     
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    اس کے بارے میں سیانے کہتے ہیں
    ایک چپ اور سو سکھ!
     
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,128
    ہمارے چچا مذاقا کہا کرتے تھے
    عقلمند پہلے تولدے سن تے فیر گل کردے سن
    تے او ترکڑی ہمیشہ ہتھ وچ رکھدے سن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • ظریفانہ ظریفانہ x 1
  10. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    533
    جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
    مدتوں سوچنا مختصر بولنا
    (شاعر نا معلوم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں