سچے واقعات اور سبق آموزحقیقی کہانی

ابو حسن نے 'متفرقات' میں ‏فروری 17, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    یہ ایک ایسے انسان کے مختلف واقعات ہیں جس کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں

    فرضی نام عبداللہ

    عبداللہ پاکستان کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق ہے اور اس کے والد موحد انسان تھے اور اسے دین سے ایسی رغبت پیدا ہوئی کہ بہت سے جید علماء سے ملنا بھی ہوا اور ان سے مستفید بھی ہوتا رہا اور دینی کتب کا رسیا بن گیا

    دل کا بہت اچھا انسان (اللہ تعالی راقم الحروف کوغلو سے محفوظ رکھے) دوسروں کی فکر رکھنے والا

    پھر نکاح ہوگیا اور بیوی بھی ایسی ملی کہ وہ بھی کھلے دل والی اور باپردہ ،شروع کے ایام تھے اور عبداللہ کی اہلیہ اسکے مزاج سے زیادہ واقف نہیں تھی

    اب کبھی کچھ اللہ کے راستہ میں دینا ہوتا تو اہلیہ اس سے پوچھتی کہ وہ فلاں مسجد ، مدرسہ یا کسی حاجت مند کو کچھ دینا ہے تو کتنے دوں ؟

    اور اسکا جواب ہوتا میرے رب نے میری " اوقات " سے بڑھ کر مجھے دیا ہے اور دے رہا ہے،اس مالک نے کبھی گن کر مجھے نہیں دئیے تو تجھے بھی حساب لگا کر دینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں جب پاس میں ہیں توجتنے دل میں آئے اس سے زیادہ دو اور دیکھنا اللہ رب العزت اس سے کئی گناہ زیادہ دے گا اور ہم اس کیلئے دینگے وہ مزید عطا کرے گا اور مال روک کر رکھنے والے سے وہ بھی روک لیتا ہے

    ایک دن عبداللہ کے ایک خاص دوست سے اسکی بات چیت ہوئی اور وہ بھی دین دار تھا تو حال احوال جاننے کیلئے دونوں کی بات چیت ہوئی پھر عبداللہ کے اصرار پر دوست نے بتایا کہ جمع پونجی خرچ ہوچکی ہے اور ایک کاروبار شروع کیا ہے لیکن کچھ خاص رقم پاس میں نہیں بس اس کیلئے تھوڑا پریشان ہوں

    عبداللہ کے پوچھنے پر بتایا کہ 50 ہزار کی ضرورت درپیش ہے فی الحال ،عبداللہ نے اسے تسلی دی کہ کوئی بات نہیں اللہ خیر کرے گا آپ بس اللہ تعالی سے دعا کرو اور پھر چند باتوں کے بعد ایک دوسرے کو الوداعی کلمات کہہ کر رابطہ منقطع ہوگیا

    عبداللہ نے اپنی اہلیہ کو صورت حال بتائی اور کہا کہ میرے دوست کو اس وقت رقم کی ضرورت ہے اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسکو قرض کی صورت میں دوں اور نہ ہی ایسا کچھ کرنا چاہتا ہوں کہ دوست میرے احسان تلے دب جائے،اہلیہ نے اس سے کہا جو آپکو مناسب لگتا ہے وہ کریں

    عبداللہ نے دوسرے دن اپنے دوست کو بنک کے ذریعہ رقم منتقل کی اور کہا کہ بھائی میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں کہ آپ کے دو بچے ہوئے لیکن میں نے انکے لیے کوئی ہدیہ نہیں بھیجا اور کل اہلیہ سے بات کررہا تھا تو مجھے اس نے یاد دلایا

    اب ایسا ہے کہ 30 ہزار بیٹی کیلئے (جو کہ 6 برس کی ہے) اور 20 ہزار بیٹے کیلئے (جو کہ 4 برس کا ہے) چچا اور چچی کی طرف سے اور ساتھ میں تاخیر سے ہدیہ دینے پر بہت بہت معذرت

    بھائی میں آپکو کوئی قرضہ نہیں دے رہا بس یہ رقم فی الحال اپنے کاروبار میں لگا لیں پھر آہستہ آہستہ منافع میں سے رقم الگ کرتے جانا اور بیٹی اور بیٹے کو انکا ہدیہ دے دینا، دوست نے جواب میں کہا کہ میں اب کیا کہوں ؟ بھائی میں یہی کہتا ہوں اللہ تعالی آپکو بے انتہا رزق حلال عطا فرمائے

    عبداللہ کی اہلیہ کی ایک کزن کا خاوند کافی پریشان حال تھا اور وہ کسی عرب ملک میں روزگار کیلئے جانا چاہتا تھا لیکن خرچ آڑے آجاتا ،اب یہ کزن گہری سہیلی بھی تھی تو اس سہیلی نے باتوں باتوں میں تذکرہ کیا تو اہلیہ نے عبداللہ سے ذکر کیا

    عبداللہ نے اہلیہ سے کہا کہ دیکھو اگر پاس میں مطلوبہ رقم ہے تو دے دو اور وہ بھی "قرض حسنہ" کی صورت میں اور رقم کی واپسی کا خیال دل سے نکال دینا یعنی دے کر بھول جانا وہ لوٹادیں تو ٹھیک وگرنہ مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں

    اب سہیلی کے شوہر نے تگ و دود کرنا شروع کی اور اسکو ویزا مل گیا اور سہیلی نے ڈیڑھ لاکھ کی رقم قرض کیلئے مانگی جو کہ عبداللہ نے اپنی اہلیہ کے ذریعہ سے رقم کی ترسیل کروادی اور اس بات کو برس بیت گیا اور سہیلی کے شوہر نے کبھی بھول کر بھی عبداللہ کو فون نہیں کیا:LOL:

    ایک دن عبداللہ کو مقامی مسجد کے امام صاحب نے بتایا کہ ہم نے اسلامی سکول کھولا ہے اور اس میں مدد کی ضرورت رہتی ہے جیسا کہ ایک صاحب اپنی دو بچیاں لائے داخل کروانے کیلئے لیکن وہ 2 بچیوں کی 400 ڈالر ماہانہ فیس ادا نہیں کرسکتے صرف 300 ڈالر دے سکتے ہیں تو عبداللہ نے مولانا سے کہا آپ انہیں کہیں کہ آپ کیلئے خصوصی ریاعت ہے آپ 300 ہی ادا کریں اور مولانا 100ڈالر ماہانہ میری طرف سے اس بیٹی کیلئے لیکن شرط یہ ہے کہ انکو اس بات کی کبھی خبر نہ ہونے پائے اور یہ سلسلہ دوبرس سے زائد عرصہ سے چل رہا ہے

    ایسا بھی نہیں ہے کہ عبداللہ کوئی کارباری یا لکھ پتی انسان ہے بلکہ ملازمت پیشہ ہے اورایک معقول تنخواہ ہے اسکی لیکن اس کے باجود اپنی اسطاعت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے اور اس کے قرابت دار بھی اس کے ایسے اعمال کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں

    ایک دوست جن کا انتقال ہوچکا ہے یہ میرے ساتھ بیتا انکا واقعہ ہے (اللہ تعالی انکی آخرت کی منزلوں کو آسان فرمائے اور حشر کے دن نامہ اعمال داہنے ہاتھ عطا فرمائے) میں پاکستان گیا تھا چھٹیوں میں تو ایک دن انکے گھر گیا اور پھر ہم مسجد کی طرف جانے لگے تو انہوں نے مجھے ہزار کا نوٹ تھماتے ہوئے کہا کہ گلی کی نکڑ والے گھر پر دستک دینا اگر کوئی بچہ آئے تو کہنا کہ کسی بڑے کو بلاؤ اور اگرکوئی بڑا آئے تو یہ اسے دے دینا ،اگر وہ پوچھیں تو کہنا کہ ایک بندہ پکڑا کرچلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ کے گھر دے دوں، بتانے کی ضرورت نہیں کہ کون تھا،

    میں نے دروازے پر دستک دی ایک مرد نکلا سلام و دعا کے بعد میں نے ایسا ہی کیا تو وہ پوچھنے لگا کہ کون آدمی ؟ میں نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ادھر کو گیا ہے اور ہزار کا نوٹ اسکو تھما کر مسجد کی طرف آگیا اور راستہ میں مجھ پر ہر بات " ان کے بتائے بغیر" آشکار ہوگئی کہ کیا ہی خوب انداز ہے مدد کرنے کا اور سامنے والے کو کانوں کان خبر بھی نہیں کہ میرا ہمسایہ میری مدد کررہا ہے جو کہ انجان ہاتھوں سے رقم مجھ تک پہنچا رہا ہے ،اس دن مجھے ان سے دوستی پر فخر محسوس ہوا کہ " دایاں ہاتھ دے اور بائیں ہاتھ کو خبر بھی نہ ہو":cry:

    یہ سب حقیقی باتیں ہیں کوئی بھی بات اپنے سے بنائی ہوئی نہیں

    بحرحال یہ تھی خالص اللہ کی رضا کیلئے اپنے مسلمان بہن بھائی کی مدد کرنا اور دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی خلوص نیت سے دوسروں کی بے لوث مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین

     
    Last edited: ‏فروری 17, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    آج ایک ویڈیو کلپ دیکھا جو خیر کی طرف دعوت کا ذریعہ تھا اوربہت ہی احسن طریقہ سے غریب کی اپنی حیثیت کے مطابق مدد کرنے کا ایک الگ طریقہ

    (یہ چونکہ کلپ بنایا گیا تھا اب یہ حقیقی واقعہ کو لیکر بنایا گیا یا پھر ویسے ہی تخلیق کیا گیا ؟ " واللہ اعلم " لیکن ہے سبق آموز)

    ایک شخص دکان پر آتا ہے اور دکاندار سے کیلوں اور سیب کی قیمت دریافت کرتا ہے

    دکاندار: کیلے 10 درھم کلو اور سیب 12 درھم کلو ہیں

    گاہک دکان سے پھل چننے لگ جاتا ہے اتنے میں ایک عورت دکان میں داخل ہوتی ہے اور دکاندار سے کیلوں اور سیب کی قیمت دریافت کرتی ہے

    دکاندار: کیلے 2 درھم کلو اور سیب 3 درھم کلو ہیں

    عورت نے الحمدللہ کہا اب پہلے والے گاہک کو سن کر غصہ آیا اور اس نے غصہ سے دکاندار کی طرف دیکھا قبل اس کے کہ گاہک کچھ بولتا ؟ دکاندار نے اسے آنکھ سے اشارہ کیا اور خاموش رہنے کا اشارہ دیا

    عورت ان دونوں کے اشاروں سے بے خبر دکان کے اس حصہ کی جانب بڑھی جہانپر دونوں پھل رکھے تھے اب عورت نے اپنا سامان لیا اور چلی گئی

    دکاندار نے گاہک سے مخاطب ہوکر کہا " اللہ جانتا ہے " کہ میں نے آپکو قیمت کے بارے میں دھوکہ ہرگز نہیں دیا

    دراصل یہ ایک بیوہ عورت ہے اور اس کے 4 چھوٹے یتیم بچے ہیں اور میں نے بارہا کوشش کی اسکی مالی مدد کرنے کی لیکن یہ سختی سے انکار کردیتی ہے اور کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے پر تیار نہیں ہوتی

    تو میں نے اسکا یہی حل نکالا کہ جب بھی یہ مجھ سے "سودا و سلف " خریدنے آتی میں اس چیز کا بھاؤ ایک دم کم بتاتا اور یہ خوشی سے خرید کرلے جاتی

    اور خاص بات یہ ہے کہ یہ عورت میری دکان پر ہفتہ میں دو مرتبہ آتی ہے اور جس دن یہ آکر جاتی ہے اس دن میری دکان پر سے بہت زیادہ گاہک سامان خرید کر لے جاتے ہیں اور یہ میرے رزق میں برکت کا سبب بنتی ہے اللہ کی جانب سے اور میرے لئے خوشی و مسرت کا باعث ہوتا ہے کہ میں اس طریقے سے اسکی مدد کرتا ہوں

    گاہک کی آنکھوں میں آنسوں آگئے یہ واقعہ جان کر پھر اس نے آگے بڑھ کر دکاندار کر سر پر بوسہ دیا اور دعا دی اور چلا گیا

    دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی خلوص نیت سے دوسروں کی بے لوث مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین
     
    Last edited: ‏مارچ 9, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    سبحان اللہ
     
  4. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    352
    یہ واقعہ چند روز قبل کا ہے لیکن سنا آج

    ایک سسٹر نے اپنے بچے کے علاج کیلئے مدد طلب کی فیس بک کے گروپ پر

    تو اہلیہ نے بھی حسب توفیق اللہ کے دئیے ہوئے میں سے اس بہن کو کچھ رقم منتقل کی کچھ دو ماہ قبل یا اس سے کم عرصہ ہوا ہے

    کل رات کسی نے فیسبک پر ایڈ لگائی اپنا ذاتی زیور بیچنے کیلئے اور ساتھ میں رائے پوچھی کہ کونسی جگہ زیادہ بہتر ہے جہانپر میں یہ بیچ سکوں ؟ تو بہت سی بہنوں نے مشورے دیئے ،اسی طرح اہلیہ نے بھی بتایا کہ ہمارے قریب کچھ دکانیں ہیں تو آپ وہاں سے بھی قیمت لگوالیں

    پھر آج اہلیہ نے ایڈ لگا نے والے کی پروفائل دیکھی تو یہ وہی بہن تھی جس نے اپنے بچے کے علاج کیلئے مدد طلب کی تھی اب اہلیہ نے انکو فون کیا اور حال و احوال پوچھا اور بچے کا پوچھا کہ ابھی وہ کیسا ہے ؟

    تو اس بہن نے بتایا کہ چونکہ اس علاج کیلئے امریکہ جانا ہے اور اسکا علاج وہیں پر ممکن ہے ان شاءاللہ اور کینیڈا کے ڈاکٹروں نے وہیں کا بتایا ہے اور خرچہ چونکہ 2 لاکھ ڈالر ہے اور اس کیلئے ہم دونوں میاں بیوی کافی پریشان تھے

    چند دن پہلے ہم گھر سے باہرگئے تھے اور واپس آئے تو دیکھا کہ کوئی نوٹس لگا ہوا ہے ہم سمجھ " کوڑا اٹھانے " والے لگا کر گئے ہیں جب دیکھا " 60 ہزار ڈالر کا ڈرافٹ چیک " تھا اور بغیر کسی نوٹس اور نام کے اور ابھی تک معلوم نہیں کہ دینے والا کون ہے ، اللہ اکبر

    ایسے بھی لوگ ہیں جو یوں اپنے رب کی رضا کیلئے کثیر رقم دیتے ہیں اور اپنا آپ بھی ظاہر نہیں کرتے

    پھر بتایا کہ کچھ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی رقم ابھی تک جمع ہوچکی ہے اور میں اپنے زیور بھی بیچ کر اس میں شامل کرنا چاہتی ہوں ،اہلیہ نے کہا کہ دیکھیں اللہ پر توکل رکھیں توپھر دیکھیں کیسے اللہ اپنے ہاں سے مدد کے اسباب پیدا کردیتا ہے ؟ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا جہاں سے اللہ کی طرف سے مدد آتی ہے

    گزشتہ جمعہ کو ہمارے ہاں مسجد میں قریبی کیمیونٹی کے لوگ آئے اور انہوں نے " سری لنکا " کے مسلمانوں کیلئے چندے کی اپیل کی اور خطیب صاحب نے بھی بتایا کہ کچھ 75 مساجد کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور کثیر تعداد میں مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے اور حسب توفیق چندے میں اپنا حصہ ڈالیں

    نماز کے بعد جب میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور چندے کیلئے معمولی سی رقم دی تو جو بھائی بکس پکڑ کر کھڑے تھے رقم پرنظر پڑتے ہی بہت دعائیں دینے لگے اور

    میں جلدی سے دروازے کی جانب بڑھ گیا کیونکہ میرا ضبط ٹوٹ گیا تھا اور دل میں خیال آیا تھا کہ میں بھی اس قابل ہوں کہ یہ معمولی رقم اللہ کے نام پر دے سکوں ؟

    بے شک یہ سب میرے رب کا فضل و کرم ہے اور مجھ میں کہاں اتنی سکت اور اوقات ؟

    اور مسجد سے گھر تک پہنچنے تک میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں اور اللہ کے حضور معافی بھی مانگی کہ میرے رب یہ سب تیرا دیا ہوا ہے اور اسی میں سے میں نے تیرے نام پر دیا وگرنہ میری کہاں اتنی اوقات اور تو میرے اس دینے کو اپنی رضا کیلئے قبول فرمالے:cry:

    اللہ تعالی ہمیں فراخ دلی سے اسکی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ریا و دکھلاوے سے محفوظ رکھے ،آمین
     
    Last edited: ‏مارچ 28, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں