خلافتِ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

مجیب منصور نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏جون 25, 2008 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. مجیب منصور

    مجیب منصور -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2008
    پیغامات:
    2,151
    ضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ مسلمانوں کا خلیفہ کسے بنایا جائے۔ بیہقی شریف میں ہے کہ خلافت کے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے صحابہ کرام حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے دولت خانے پر جمع ہوئے اور متفقہ طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کردیا۔ تمام مہاجر و انصار صحابہ نے آپ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر منبر پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کے مجمع پر نظر ڈالی تو اس مجمع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور چچازاد بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ نہیں تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں صحابہ کو بلوایا اور آپ نے فرمایا کہ آپ حضور کے خاص صحابیوں میں سے ہیں اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ مسلمانوں میں اختلاف پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ سُن کر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اے خلیفہء رسل آپ ہرگز فکر نہ کریں اور آپ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی یہی جواب دیا اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ (تاریخ الخلفاء)
    مسلمانو ! سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی 2 سال 3ماہ تک خلافت رہی۔ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔ آپ کا دور اسلامی تاریخ کا سُنہری دور تھا۔ آپ نے اپنے منصب کا کبھی غلط استعمال نہیں کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سے ہی اسلام دشمن یہود و نصارٰی اس کوشش میں رہے کہ کسی طرح مسلمانوں کا شیرزاہ بکھر جائے۔ وہ اس تاک میں لگے رہے کہ کوئی ایسی کمزوری ہاتھ لگے جو مسلمانوں میں اختلاف کا سبب بن جائے۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے اہلبیت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان نفرت پیدا کرنا چاہی اور یہ الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے دورِ خلافت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں چھوڑے ہوئے باغ فدک کو غصب کرلیا اور حضور کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا۔ اسلام دشمن قوتوں کا یہ اعتراض مسلمانوں میں انتشار برپا کرنے کے لئے ہے۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ خاتونِ جنّت حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا دنیا کے مال و اسباب کو حقیر سمجھتی تھیں۔ اور دنیا کے اسباب کی ان کے سامنے کوئی حیثیت نہ تھی۔ وہ تو اپنا سب کچھ راہِ خدا میں لٹا دینے والی تھیں۔ باغ فدک سے متعلق اسلام دشمن قوتوں کے اعتراض کا جواب یہاں صرف اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ مسلمانوں کو گُمراہی سے بچایا جا سکے۔ اسلام دشمن قوتوں کے اس اعتراض کی روشنی میں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ “باغ فدک“ کیا ہے تاکہ اس اعتراض کے صحیح اور غلط کا اندازہ ہوسکے۔
    مدینہ منورہ سے تقریباً ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر خیبر کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام فدک ہے اس گاؤں پر یہودیوں کا قبضہ تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے بعد جب لشکر اسلام کے ہمراہ واپس آ رہے تھے تو راستے میں اہل فدک کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے حضور نے محیصہ بن مسعود انصاری صحابی کو تبلیغ کے لئے بھیجا۔ یہودیوں نے صُلح کے طور پر فدک کی آدھی زمین مسلمانوں کو دے دی اس وقت یہ باغ اسلامی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ یہ باغ کھجور کی پیداوار، ٹھنڈے پانی کے چشمے اور اناج وغیرہ کے لئے مشہور تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آمدنی اہل بیت اور مسافروں پر خرچ کرتے ایک حصّہ ازواج مطہرات کے لئے سال میں استعمال کیلئے دیتے اور جو رقم بچ جاتی اسے غریب و ناداروں میں تقسیم فرما دیتے۔
    مسلمانو ! بعض اسلام دشمن قوتیں علم سے نا آشنا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہ پروپیگنڈہ کرتی ہیں کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں باغ فدک پر قبضہ کرلیا اور اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کو ان کے وارث اہل بیت کو نہیں دیا۔ حضور کی لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد مکرم کی میراث کا مطالبہ نہیں کیا اور کہنے لگیں کہ فدک تو ہمارا ہے رسول اللہ ہمیں دے کر گئے ہیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق نے فدک دینے سے منع کردیا۔ اس طرح خاتونِ جنّت بی بی فاطمہ ان سے شدید ناراض ہوئیں اور جیتے جی ان سے گفتگو نہیں کی اور جب ان کے انتقال کا وقت آیا تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ میرے جنازے میں ابو بکر کو شریک نہ کیا جائے۔ اس طرح ابو بکر نے حضور کی لاڈلی بیٹی کو ناراض کیا اور ان کو اذیّت دی حضور کا تو یہ فرمان ہے کہ فاطمہ کی اذیّت سے مجھے بھی اذیت ہوتی ہے۔ لٰہذا ابو بکر نے بی بی فاطمہ کو ہی ناراض نہیں کیا بلکہ پیغمبر اسلام کو بھی ناراض کر دیا۔
    یہ وہ اعتراض ہے جسے اسلام دشمن قوتوں نے اٹھایا تھا جسے آج بھی ان کے آلہ کار اٹھاتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
    یاد رکھئے ! انبیاء کرام کی وراثت درہم و دینار اور دنیا کی جائیداد ہرگز نہیں ہوتی بلکہ ان کی میراث شریعت کا علم ہے۔ انبیاء دنیا میں نہ کوئی جائداد چھوڑتے ہیں اور نہ اس کا کسی کو اپنا وارث بناتے ہیں۔ جو کچھ بھی وہ دنیا میں چھوڑتے ہیں سب صدقہ کر جاتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
    ہم گروہ انبیاء کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہے۔ (ملاحظہ کیجئے مسلم شریف، بخاری شریف، مشکوٰۃ صفحہ 550)
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد حضور کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ذریعے حضور کے مال سے اپنا حصہ تقسیم کروالیں تو اس موقع پر اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا “کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا ہم کسی کو اپنے مال کا وارث نہیں بناتے ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ سب صدقہ ہے۔ (مسلم شریف جلد دوم صفحہ 91)
    معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چھوڑا ہوا مال اہل خانہ کے لئے جائز نہیں کیونکہ وہ مال صدقہ ہے۔ اگر وہ مال جائز ہوتا تو جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا پھر اس کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا دروِ خلافت آیا تو باغ فدک ان کے اختیار میں بھی رہا مگر ان میں سے کسی نے بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عبّاس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کو باغ فدک میں سے حصّہ نہیں دیا جس سے یہ واضح ہو گیا کہ نبی کے ترکہ میں وراثت نہیں ہوتی اور اہل بیت کے لئے اس کا حصّہ لینا جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو باغِ فدک نہیں دیا۔ کیونکہ ان کے لئے وہ جائز نہیں۔ لٰہذا جو لوگ فدک کے واقعہ کو آڑ بنا کر سیدنا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو غاصب کہتے ہیں وہ خود غاصب جھوٹے اور صحابی کی شان میں توہین کرنے والے ہیں لٰہذا مسلمانوں کو ایسے باطل اور غلط نظریات رکھنے والے گمراہوں سے دُور رہنا چاہئیے۔
    مسلمانو ! علماء فرماتے ہیں کہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کا جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا تو اس موقع پر سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سنایا۔ وہ ارشاد کیا ہے۔ آئیے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے اس حقیقت کو سنئیے۔ امام بخاری، بخاری شریف میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ۔
    حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بھیجا اور حضور کی میراث کا مطالبہ کیا تو جواب میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تعالٰی کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
    ہماری مالی وراثت نہیں ہوتی جو مال ہم چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
    بخدا میں حضور کے صدقات میں کوئی تبدیلی نہیں کروں گا۔ جس طرح وہ عہد نبوت میں تھے ویسے ہی رہیں گے اور میں ان میں ایسا ہی کروں گا جس طرح ان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ مذید فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے کہیں زیادہ یہ محبوب ہے کہ میں اللہ تعالٰی کے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے داروں کے ساتھ حُسن سلوک کروں۔ (بخاری شریف جلد اوّل صفحہ 526)
    مسلمانو ! سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مذکور بالا ارشاد پر غور فرمائیے اور ذرا بتائیے کہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے باغ فدک کے مطالبہ پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا کیا وہ قابل اعتراض ہے کیا اس جواب میں بے ادبی کا شائبہ پایا جاتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ آپ ذرا اس بات پر بھی غور کیجئے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے باغ فدک کا مطالبہ کس حیثیت سے کیا۔ اگر کوئی یہ کہے یہ مطالبہ حضور کے انتقال کے بعد بحیثیت وراثت کے کیا تھا تو یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ وراثت تو مُردے کی تقسیم ہوتی ہے۔ کیا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نعوذ باللہ حضور کو مُردہ سمجھتی تھیں ؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ انبیاء بعد انتقال بھی زندہ ہوتے ہیں۔
    یاد رکھئے ! ذاتی جائیداد وہ ہے جو کسی کو ورثے میں ملے یا جس نے دن رات محنت مزدوری کرکے اس جائیداد کو خریدا ہو۔ باغ فدک حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ تو ورثے میں ملا اور نہ ہی آپ نے مال و دولت جمع کرلے اسے خریدا۔ آپ نے دنیوی دولت جمع نہیں کی بلکہ علم کی دولت لے کر آئے اور علمی وراثت عطا فرما کر دنیا سے تشریف لے گئے۔
    علامہ واقدی فرماتے ہیں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال کا وقت قریب آیا تو آپ نے چند صحابہ کو طلب فرمایا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ عمر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے میرے خیال میں عمر رضی اللہ عنہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جتنا کہ آپ ان کے بارے میں خیال فرماتے ہیں۔ پھر امیر المؤمنین نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے رائے طلب کی۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ عمر کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور ہم لوگوں میں ان کا کوئی مثل نہیں۔ پھر آپ نے حضرت سعید بن زید، اسد بن خضیر اور دیگر انصار و مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کو طلب فرمایا اور ان کی رائیں طلب کیں جواب ملا کہ آپ کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں اور وہ اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں اس کے بعد کچھ اور صحابہ کرام بھی آئے ان سے بھی رائے لی پھر اس کے بعد ایک وصیّت نامہ تحریر فرمایا۔
    مسلمانو ! اپنے بعد میں نے تمہارے اوپر عُمر بن خطاب کو خلیفہ منتخب کیا ہے ان کا حکم ماننا اور فرمانبرداری کرنا۔ پھر اس وصیّت نامہ کو مہر بند کرکے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے سُپرد کر دیا جسے وہ لے کر لوگوں میں گئے۔ اور اعلان عام کیا لوگوں نے خوشی خوشی حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لیا۔
     
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں