آداب مجلس کا ایک اہم پہلو.

محمدیاسین راشد نے 'متفرقات' میں ‏فروری 20, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدیاسین راشد

    محمدیاسین راشد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 21, 2017
    پیغامات:
    18
    اگر مجلس میں ایسی گفتگو ہو رہی ہو یا ایسی خبر دی جا رہی ہو جس کا ہمیں پہلے سے علم ہو تو وہاں اس نیت سے شراکت یا اظہار نہیں کرنا چاہئے کہ مجھے تو اس بات کا پہلے ہی علم تھا یا میں نے یہ بات پہلے ہی سن رکھی تھی بلکہ وہاں سکوت کا مظاہرہ کرنا چاہئے ورنہ آپ سوءِ ادب کے حامل ہو جائیں گے. جیسا کہ
    عطـاء بـن أبی ربـاح فرماتے ہیں:
    "إن الشـاب لیحدثني بحديـث فأسـتمع إليه كأني لـم أسـمعه، ولقـد سـمعته قبـل أن يـولد"
    (الجامع لاخلاق الراوي وآداب السامع للخطیب بغدادي ۱/۲۰۰)
    "بے شک جب کوئی نوجوان مجھے حدیث بیان کرتا تو میں اس کو ایسے سنتا گویا کہ میں نے یہ( پہلے) سنی ہی نہ ہو حالانکہ میں نے اس حدیث کو اس کی ولادت سے پہلے ہی سنا ہوتا."

    («الادب عنوان السعادة» بقلم صالح بن عبدالعزیز سندی سے اقتباس)

    (از محمد یاسین راشد)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا، بہت عمدہ نصیحت!
     
  4. Abdulla Haleem

    Abdulla Haleem رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جولائی 19, 2014
    پیغامات:
    119
    نصیحت ٹھیک ہے.

    لیکن اسی بات کو اگر ہم اس حیثیت سے دیکھیں کہ کوئی شخص کسی کی لکھی ہوئی کوئی مضمون کسی اور ویب سائٹ سے نقل کرکے یہاں چپساں کردیں.

    اور جانتے بوجھتے ان سے اس کے اصل مأخذ یا لکھاری کے بارے میں مت پوچھیں تو صحیح نہیں لگتا.
    میرے خیال میں ایسے
    پوچھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ پوچھنا اچھی بات ہے.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں