دنیا کی دوڑ کب تک

بابر تنویر نے 'ادبی مجلس' میں ‏فروری 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    "پا" بابر آپ کہاں ہوں؟ "اپنے آفس میں" میں نے جواب دیا۔

    "پا میں ہاسپٹل ہوں اور کل میرا آپریشن ہے مجھے فورا ہی ملیں"۔ میں نے اس ملنے کا وعدہ کیا تو فون رکھ دیا۔

    یہ فون قریب ہی رہنے والے ایک صاحب کا تھا۔ جو ایک ریستوراں میں نوکری کرتے ہیں۔ تقریبا روزانہ ہی مسجد آتے جانے ان سے ملاقات رہتی ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے بائیں بازو اور سینے میں درد کی شکایت کی۔ ان کی تمام علامات دل کی کہ بیماری کی جانب اشارہ کر رہی تھیں۔ میں نے اسے کہا کہ فورا ہی کسی ہاسپٹل جا کر اپنا چیک اپ کراؤ۔ اگلے ایک مہینے تک میں اس سے پوچھتا رہا کہ ڈاکٹر کے پاس گئے کہ نہیں؟ لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتا کہ کام کی بہت مصروفیت ہے۔

    آفس سے اٹھ کر میں اس سے ملنے ہاسپٹل چلا گيا. مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگا "پا بابر آپ صحیح کہتے تھے مجھے فورا ہی ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے تھا"۔ میں نے پوچھا کہ تم یہاں ہاسپٹل میں کیسے پہنچے؟۔ اس نے بتایا کہ کل میں کمپنی کے کچھ نۓ ورکرز کو میڈیکل کے لیے کلینک لے کر گيا تھا۔ وہاں میں نے سوچا کہ میں بھی ڈاکٹر کو دکھادوں۔

    آگے کی روداد یہ ہے کہ ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا رپورٹ لکھی اور اسے کہا کہ اب تم گھر نہ جانا بلکہ سیدھے ہاسپٹل جاؤ اور ڈاکٹر کو یہ رپورٹ دے دینا۔ وہ ہاسپٹل پہنچا اور ڈاکٹر کو وہ رپورٹ دکھائ اور ڈاکٹر نے فورا ہی اسے داخل کر لیا۔ اور اسے بتادیا کہ کل تمہارا آپریشن ہے۔

    اس کے بعد اس نے مجھے کوئ 30 ہزار ریال دیے اور کہا کہ میں ان پیسوں کو اپنے پاس رکھ لوں۔ ہاسپٹل سے واپس آکر میں واپس لے لوں گا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم نے اتے پیسے اپنے پاس کیوں رکھے ہوۓ ہیں؟ انہیں بینک میں رکھو یا پھر پاکستان بھجوا دو۔ اس نے بتایا کہ اس کا یہاں اور پاکستان دونوں جگہ کوئ بینک اکاؤنٹ نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھر والوں کا کوئ بینک اکاؤنٹ ہے۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں؟ کہنے لگا " میں ہاسپٹل سے فارغ ہو کر آپ کو بتاؤں گا۔

    ہم میں سب جانتے ہیں کہ آخر کار انجام کیا ہوگا۔ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لمحہ کوئ زیادہ دور نہیں جب یہ سب کچھ ہمارے لیے بے معنی ، بے وقعت ہو جاۓ گا۔ یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر ہم ایک نۓ سفر پر روانہ ہو جائيں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سفر کی تیاری تو ہم نے روانگي سے پہلے کرنی ہے۔ زادہ راہ یہیں اکھٹا کرنا ہے۔ کیونکہ اس سفر کے دوران صرف وہی کچھ ہمارے پاس ہوگا۔ جسے ہم اس دنیا میں رہتے ہوۓ آگے بھیج چکے ہوں گے۔ اور وہ ہوں گے ہمارے نیک اعمال، صدقہ جاریہ وغیرہ

    لیکن ہم اس انجام سے بے پروا ہو کر دنیا داری کی دوڑ میں لگے ہوۓ ہیں۔ خواہشات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ اپنے انجام کو بھول کر ہم اس فانی دنیا میں ایسے مگن ہیں کہ جیسے ہمیں یہاں سے جانا ہی نہیں۔

    بچپن میں والدین کی طرف سے دنیاوی تعلیم کی اہمیت کو ہر موقع ہر قدم اجاگر کیا جاتا ہے۔ اور بچے کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ جتنا زیادہ وہ دنیاوی تعلیم میں کامیاب ہوگا زندگي میں اتنا ہی کامیاب ہوگا۔ اور پھر وہ دلجمعی سے پڑھائ میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اور پھر ایک وہ دن آتا ہے کہ والدین بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ دیکھو وہ ہمارا بیٹا انجینئر بن گيا، ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کر لی۔ اپنا کاروبار اب خود سنبھال رہا ہے۔

    صاحـبزادہ اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگيا۔ فکر ہوگئ اس کی شادی کی۔ شادی بھی ہوگئ۔ یہ سب کچھ تو زندگی کا ایک حصہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور دوڑ بھی زندگي کا حصہ بن جاتی ہے۔ وہ دوڑ جس کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے :

    أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ (‏(لوگو!) تم کو (مال کی) بہت سی طلب نے غافل کر دیا ‏)

    مال و دولت، جاہ و عزت کی دوڑ ہمیں اپنے انجام سے غافل کیے ہوۓ ہے۔ سائکل والا خواب دیکھ رہا ہے کہ اسے موٹر سائکل مل جاۓ، موٹر سائکل گاڑی کے خواب دیکھ رہا ہے اور جسے گاڑی میسر ہے وہ اور اچھی گاڑی کی تمنا دل میں لیے ہوۓ ہے۔ ایک گاڑی والا ایک سے زیادہ کی تمنا کر رہا ہے۔ جس کے پاس مکان نہیں ہے وہ پیسے جمع کر رہا ہے کہ ایک چھوٹا سا مکان سر چھپانے کے لیے بنا لے۔ جس کے پاس چھوٹا مکان ہے وہ اس سے بڑا مکان بنانے کے لیے پیسہ جمع کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ اگر اسے سب کچھ میسر ہو بھی جاۓ تب بھی مال و دولت جمع کرنے کی اس کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ وہ زیادہ ، اور زیادہ جمع کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

    اور اپنی خواہشات اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے کبھی وہ اپنے پیاروں سے دور بھی ہو جاتا ہے۔ پردیس چلا جاتا ہے۔ اور پھر وہ بہت سے پیسے پانے کے لیے بہت کچھ کھو دیتا ہے۔اپنی جوانی اپنی بیوی اپنے بچے، ماں باپ ، بہن بھائ دوستوں سب سے دور ۔ صرف پیسے کمانے میں مشغول۔ ایک مشین کی طرح۔ صبح سویرے کام پر نکلا اور شام کو گھر پہنچا۔ کھانے وغیرہ کا بندوبست کیا۔ کھانا وغیرہ کھا کر دوستوں سے گپ شپ ایک چھوٹے سے کمرے میں باقی کام کرنے والوں کا ساتھ نیند۔ یہی اس کے شب و روز کی روداد ہے۔ ۔ مہینے کے آخر میں تنخواہ ملی تو وہ اپنے ملک میں اپنے گھر والوں کو بھجوا دی۔

    اور پھر سال دو سال میں ایک دفعہ اپنے ملک کا چکر بھی لگا لیا چار دن اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گذار لیے اور پھر وہی پردیس کے شب و روز۔ اس کے گھر والے بھی اس زندگی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ اور پھر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انہیں اس کے آنے جانے سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ اکثر گھر آتے ہیں پوچھا جاتا ہے کہ کتنی چھٹی آۓ ہو اور کب واپس جاؤ گے۔ جیسے انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ ہمیشہ کے لیے تو نہیں واپس آگیا۔

    شب و روز یونہی گذرتے رہتے ہیں اور اس کی زندگي کی پونجی ہاتھ سے نکلتی رہتی ہے۔ اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ پونجی پردیس میں ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اور گھر اس کی بھیجی ہوئ رقم وصول کرنے کے بجاۓ اس کا بے جان جسم وصول کرتے ہیں۔ اور پھر روتے دھوتے اسے زمین کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اور یہ رونا دھونا بھی اکثر اوقات ہر مہینے آنے والے ان پیسوں کے لیے ہوتا ہے جسے وہ اپنی زندگي کی قیمت پر اپنے گھر والوں کو بھیجا کرتا تھا ۔

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ نے خود ہی ایسی خواہشات پالی ہوتی ہیں جو کہ اسے اپنوں سے دور رہنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ گھر والے، بیوی اور بچے لاکھ کہیں کہ ہمارے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے اور اب تمہارے باہر رہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ اور, مزید اور کے چکر میں ایسا پھنسا رہتا ہے کہ پھر اپنوں میں واپسی اسے یاد ہی نہیں رہتی۔

    پردیس میں رہتے ہوۓ ایسے بہت سے لوگوں کی مثالیں آپ کو مل جائيں گی جو کہ دولت کی اس دوڑ میں کھو کر اپنے گھر بار اپنے بال بچوں بلکہ اپنے آپ کو بھی بھول چکے ہیں۔ اور منزل کے ایسے نشان کی جانب بھاگے چلے جا رہے ہیں کہ وہ جتنا اس کے قریب جاتے ہیں وہ نشان کسی متحرک گاڑی کی طرح ان سے اور دور ہو جاتا ہے۔

    تو ذکر ہو رہا تھا ان صاحب کا۔ دو تین دن کے بعد وہ ہاسپٹل سے فارغ ہو گیا میں اس سے ملنے اور اس کے پیسے واپس دینے گیا تو وہاں میں نے اس سے پھر کہا کہ اتنے پیسے اپنے ساتھ کیوں لیے پھرتے ہو اور تم نے اپنا بینک اکاؤنٹ کیوں نہیں رکھا؟ کہنے لگا کہ کیا بتاؤں بہت مصیبت میں پھنسا ہوا ہوں۔ پھر اس نے اپنی تمام روداد بیان کی جس کا لب لباب کچھ اس طرح ہے

    یہ بھائ کشمیر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے گھر کے ساتھ اس کے ایک کزن کی زمین ہے۔ اور اس کا کزن انگلینڈ میں مستقل طور پر رہتا ہے۔ آج سے کوئ 13 سال پہلے اس نے اپنے کزن سے اس زمین کے بارے میں بات کی کہ تم تو مستقل انگلینڈ میں رہتے ہو۔ اپنی زمین مجھے بیچ دو۔ اس کے کزن نے حامی بھر لی اور پھر ایک قیمت بھی طے کر لی۔ اس کا ارادہ وہاں مدرسہ اور مسجد وغیرہ بنانے کا تھا۔ ارادہ تو یقینا نیک تھا۔ لیکن میرے خیال میں بندے کو اس طرح کا سودا کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے لیے رقم کا بندوبست بھی ہو سکتا ہے کہ نہیں۔

    یہ کوئ 13 سال پہلے کی بات ہے۔ اور اس وقت سے یہ پیسے جمع کرنے میں لگا ہوا تھا۔ اور اس عرصہ میں وہ پاکستان بھی نہیں گیا ۔ اور اپنے گھر والوں کو ایک محدود رقم خرچہ کے لیے بھیجتا رہا۔ دس سال میں اس نے کوئ 2 لاکھ ریال کی رقم جمع کرلی اور پھر وہ رقم یہاں ایک انوسٹمنٹ کمپنی میں جمع کرادی اس کمپنی نے اسے ہر ماہ کچھ منافع دینے کی یقین دھانی کرائ اور شائد ایک دو بار کچھ منافع دیا بھی جو کہ اس نے اپنی جمع شدہ رقم میں ہی جمع کردیا۔ اور اس کی کل رقم بڑھ کر تقریبا 2 لاکھ تیس ہزار ریال ہوگئ۔

    اب سے کچھ دو سال پہلے یہاں کی حکومت نے اس کمپنی کو بند کر دیا اور کہا کہ تمام لوگوں کی رقم واپس کر دی جاۓ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی رقم بیرون ملک مختلف کاروباروں میں لگی ہوئ ہے اور جیسے جیسے رقم واپس ملے گي لوگوں کو واپس کر دی جاۓ گے۔ اور ان دو سالوں میں اسے شائد 20 ہزار ریال ملے ہیں اور باقی رقم ابھی تک اس کمپنی کے پاس ہی ہے۔ اور یہ بھی معلوم نہی کہ کب ملیں گے۔

    اب سے کوئ دو ماہ پہلے وہ ملا تو بڑے غصے میں تھا۔ اور کہنے لگا کہ میرے کزن کی بیوی پاکستان آئ تھی اور انہوں نے مجھے وہ زمین بیچنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور وہ اس زمین کا سودا کہیں اور کرنا چاہ رہی ہے۔ میں نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ دیکھو میں تو وہاں مسجد اور مدرسہ بنانا چاہتا تھا اور دیکھو انہوں نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ ان شاء اللہ تمہیں تمہار نیت کا پھل ضرور ملے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تو سوچو کہ وہ لوگ اور کتنا انتظار کرتے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے اس زمین کا سودا کتنے میں کیا تھا تو کہنے لگا کہ دو کروڑ۔ میں سوچنے لگا کہ دس سال میں اس نے تقریبا دولاکھ ریال جمع کیے یعنی تقریبا 50 لاکھ روپے میں نے اس سے پوچھا کہ اب تک تو تمہارے پاس 25٪ فیصد بھی رقم جمع نہیں ہوئ باقی پیسے کہاں سے کرتے۔ تو کہنے لگا کہ ایک بار زمین تو میرے نام لگا دیتے تو پھر دیکھا جاتا۔ میں نہیں تو میری اولاد انہیں پیسے دیتی رہے گي۔ اس کی باتوں سے کچھ ایسا محسوس ہوا کہ کہیں نہ کہیں اس کی نیت بھی شفاف نہیں تھی۔ شائد وہ سوچ رہا تھا کہ انہوں نے کون سا روز روز پاکستان آنا ہے۔ ایک بار زمین میری ہوگئ تو پھر جب پیسے ہوں گے تو دے دوں گا۔ لیکن شائد وہ اس بات کو بھول گيا کہ اگر اپنی زندگي میں وہ ایسا نہ کر سکا تو پھر آگے جا کر یہ حساب کیسے چکاۓ گا۔ وہاں تو پیسوں کا لین دین بھی نہیں ہوگا۔

    ہم میں سے اکثر لوگ روزی روٹی کمانے کے لیے پردیس آۓ ہوۓ ہیں۔ اور نیت یہی ہوتی ہے کہ ہم گھر بار بنا لیں اور اپنے بچوں کے معیار زندگي کو بہتر بنا لیں۔ لیکن اس سب میں ہمیں اس حد تک جانا چاہیے جس حد تک ہمارے وسائل ہمیں اجازت دیں۔ اور وہی کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمیں کسی مشکل میں ڈالے بغیر حاصل ہو جاۓ۔ ورنہ اکثر یہ حال ہوتا ہے جیسا کہ ان صاحب کا ہوا ہے۔

    اور پھر وہی ہوگا جو کہ ازل سے ہوتا آیا ہے۔ جو یہاں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن تو یہاں سے جانا ہی ہے۔ اولاد، رشتہ دار اور جو کچھ اس دنیا میں کمایا ہوگا، جمع کیا ہوگا سب کچھ یہیں رہ جاۓ گا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم دینا داری میں ایسے نہ کھو جائیں کہ پھر ہم اس وقت کو بھول ہی جائيں۔ خواہشیں ضرور کریں لیکن اتنی نہیں کہ ان کی تکمیل ہی ممکن نہ سکے اور پھر بلاوا آ جاۓ۔

    آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کی مدد فرماۓ اور ہماری تمام جائز خواہشات کو ہمارے لیے ممکن بنا دے ۔ آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • اعلی اعلی x 1
    • مفید مفید x 1
    • تخلیقی تخلیقی x 1
  2. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    پا بابر اللہ تعالی آپکو جزائے خیر دے

    جب ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر " اپنی سوچ کے مطابق کی دینداری " پر عمل کرینگے تو پھر دوسروں کا نقصان تو کرینگے لیکن ساتھ ساتھ اپنی عاقبت اپنے ہاتھوں برباد کرتے ہوئے دارالآخرہ کیطرف جائیں گے

    اپنی چارد کو دیکھتے ہوئے پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہے ، میرے ایک سسرالی عزیز نے مجھے کہا کہ میں آپکو 10 ہزار ڈالر قرض دے دیتا ہوں آپ "مورگیج " پر اپارٹمنٹ لے لو اور جو ابھی کرایہ دیتے ہو ؟ اسکے مساوی قسطیں دینا ہوگی

    میں نے کہا بھائی آپکی محبت کا شکریہ لیکن نہ تو میں کسی سودی لین دین میں ملوث ہونا چاہتا ہوں اور نہ ہی کسی حرام چیز کی ضرورت ہے

    کہنے لگے کہ یہانپر مفتیوں کے فتاوی ہیں کہ آپ پہلا گھر اس طرح لے سکتے ہیں

    میں نے کہا کہ مجھے اسکی کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی مجھے کرایہ پر رہتے ہوئے کوئی تکلیف محسوس ہوتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بہت عمدہ اور بہت اعلٰی، یہ کہانی اپنے اندر بہت سے اسباق سموئے ہوئے ہے، جہاں نیت کا شفاف ہونا ضروری ہے وہیں منزل تک پہنچنے کا طریقہ کار بھی صحیح ہونا چاہئے، باقی جو لوگ پیسے کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے لئے بھی سوچنے کا مقام ہے کہ اپنے پیاروں کی عمریں پیسے کی پیچھے ضائع کر کے اگر کوئی دنیاوی رتبہ مل بھی جاتا ہے تو اس کا کیا فائدہ جب کمانے والا ہی نہ رہے تو۔ اور جو لوگ اپنے گھر والوں کے لئے دن رات کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہئے کہ گھر والوں کی دنیا بہتر بنانے کے لئے اپنی عاقبت کو نہ خراب کریں۔
     
    • متفق متفق x 2
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    بہت اچھا کیا۔ کیونکہ یہ تو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔
     
  6. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    443
    یہ اپنی عاقبت کو اپنے ہاتھوں برباد کرنے کا سودا ہے

    میرے ایک عزیز ہیں اور گزشتہ سے قبل جمعہ کی نماز کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو گھر کے حال و احوال پر بات ہوئی تو کچھ حلات جنکے متعلق میں پہلے سے جانتا ہوں اور کچھ مزید برے حالات بتائے ،
    میں نے کہا بھائی ایک بات کہوں ؟ برا نہ منانا

    بولے کہیے

    ابوحسن : بھائی آپ اس "مورگیج " کی لعنت کو طلاق دے کر اپنی جان چھڑا لو

    عزیز: میں کئی بار اسکا ارادہ کرچکا ہوں پر عمل کرنے میں تاخیر ہورہی ہے

    ابوحسن : بھائی اب تو یہ کرنا ہی کرنا ہے

    عزیز: میں جب تبلیغی جماعت سے جڑا تھا تب ہی ارادہ کرلیا تھا بس عمل کرنے میں تاخیر ہورہی ہے

    ابوحسن : بھائی میں آپکے سامنے ہی ہوں اور کتنا عرصہ ہوگیا ہے مجھے یہاں پر لیکن اس بارے کبھی سوچا بھی بھی نہیں اور
    " ایک عزیز جنکا نام میں نہیں لینا چاہتا " مجھ سے کہا کہ میں آپکو 10 ہزار ڈالر قرض دے دیتا ہوں آپ "مورگیج " پر اپارٹمنٹ لے لو اور جو ابھی کرایہ دیتے ہو ؟ اسکے مساوی قسطیں دینا ہوگی

    میں نے کہا بھائی آپکی محبت کا شکریہ لیکن نہ تو میں کسی سودی لین دین میں ملوث ہونا چاہتا ہوں اور نہ ہی کسی حرام چیز کی ضرورت ہے ، کہنے لگے کہ یہانپر مفتیوں کے فتاوی ہیں کہ آپ پہلا گھر اس طرح لے سکتے ہیں ،میں نے کہا کہ مجھے اسکی کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی مجھے کرایہ پر رہتے ہوئے کوئی تکلیف محسوس ہوتی ہے

    آپ ہی مجھے بتاؤ کہ وہ کونسا ایسا مسلمان ہے جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے اعلان جنگ کرے ؟ ہم چند لوگوں سے نہيں لڑسکتے اور کہاں رب کائنات ؟

    عزیز: آپ صحیح کہہ رہے ہو بس ایک بات آڑے آہی ہے اور وہ اہلیہ

    ابوحسن : بھائی آپ اسے کہہ دو کہ میں آخرت میں اپنی جان نہ چھڑا پاؤں گا اور ایک بات کہ آپ اہلیہ کے بڑے بھائی کو شامل حال کرلو وہ تبلیغی جماعت سے وابستہ ہے ،مجھے امید ہے کہ بہتر حل نکل آئے گا

    عزیز: ان شاءاللہ کچھ نہ کچھ کرتا ہوں

    ابوحسن : آپ اسکو بیچ کر کوئی اپارٹمنٹ یا چھوٹا گھر لے لیں اور پھر دیکھیے گا کہ اللہ تعالی آپکے گھر کے حالات کیسے تبدیل کریگا اور خوشحالی کیسے گھر میں آتی ؟ کیونکہ آپ اپنے رب کی رضا پر عمل کرنے والے ہو اور وہ اسکا بدلہ دنیا وآخرت میں دے گا ان شاءاللہ

    گزشتہ دنوں میری اہلیہ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ آپ وقتا فوقتا بھائی سے بات کرتے رہیں اور کہیں جتنی جلدی ہوسکے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں