پلیز آپ لیموں نہ بنیں

سیما آفتاب نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏فروری 26, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    [​IMG]
    پلیز، آپ لیموں نہ بنیں:

    سب کے ساتھ اکثر ہوتا ہے کہ اگر سو بندہ بھی آپکی تعریف کر رہا ہو ، آپکا حوصلہ بڑھا رہا مگر پھر صرف کسی ایک بندے کی منفی بات و حوصلہ شکنی سے آپ اتنا دل پر اثر لیتے ہیں کہ اچھی بات کہنے والے آپکو شاید آپ کبھی بھول جاتے مگر اس منفی بات اور حوصلہ کو توڑ پھوڑ کر دینے والے کو ہمیشہ یاد رکھتے اور مستقبل میں ہمیشہ اس سے دور رہنے کی ہی کوشش کرتے.

    کسی کی کامیابی سے جلنا ، حسد کرنا ، نظر آتا دیکھ کر بھی اسکی محنت کو نہ ماننا ، حوصلہ افزائی و تعریف نہ کرنا، اپنی عقل ٹھیک اور دوسروں کی بات غلط لگنا، صرف منفی بات ہی پکڑ کر اسکو ظاہر کرنا، منفی کمنٹس دینا، اوروں کو بھی مذاق بنانے کو شامل کرنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ تمام احساسات ہیں جو لوگوں کے دلوں کبھی نہ کبھی پیدا ہو ہی جاتے ہیں، ہمیں پتا بھی نہیں چلتا اور ہم بہت دل توڑ جاتے ہیں، جب احساس ہوتا تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، یا تو پودا مرجھا چکا ہوتا ہے یا کسی اور کے خیال سے وہ اتنی نشونما پا جاتا ہے کہ اسکو پھر آپکی پروا ہی نہیں رہتی کہ اور بہت سے مل جاتے دھوپ سے بچانے، پانی وغیرہ ڈالنے کو.

    ہمیں مسلسل سیکھتے رہنا چاہیے اور ساتھ ہی ہمیں خود کو پرکھنا پڑے گا کہ ہم کیسے خود کو بہتر سے بہتر بنائیں، یاد رکھیں کہ ایسی منفی باتیں سب کو پیش آ سکتی، یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے بس ہمیں قابو رکھنا ہے خود پر اور اس عادت کو ختم کرنا ہے. اگر ہم کسی کو صرف الفاظ ہی اچھے نہیں دے سکتے تو باقی چیزیں دینا تو دور کی بات ہے پھر.تو دوستو، اپنی باتوں ، جملوں اور الفاظوں کو اچھا بنائیے، دل میں حسد و جلن محسوس ہو تو صرف چپ رہنا ہی بہتر....کوئی بات نہ کہیں....دل میں چھپا لیں ....رب سے دعا کریں قابو پانے کی ....اگرچہ شروع شروع میں قابو کرنا مشکل ہو گا مگر پھر عادت پر ہی جانی ہے...مثبت سوچ و احساسات خود بخود پیدا ہوتے جائیں گے تب پھر آپ دل سے حوصلہ و تعریف کرنا سیکھ جائیں گے.

    آخر میں اتنا ہی کہ یاد رکھیں ہم میں سے ہر ایک بندہ اس دنیا میں اپنی زندگی کی ایسی کتاب لکھ رہا ہوتا ہے کہ جسکے پچھلے اوراق پلٹنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی پھر ہم کسی کو دیا دکھ مٹا سکتے ہیں، ہم صرف روزانہ خوبصورت باتیں لکھ کر ہی اسے اچھا بنا سکتے ہیں.... ہاں مگر صرف معافی و توبہ کا ریموور کسی وقت بھی کام سکتا ہے......آپ خود سمجھ گئے ہوں تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی بتا دیں کہ منفی بات اس ترش لیموں کی طرح ہوتی ہے جس کے چند قطرے ہی کافی ہوتے پورے سالن میں اپنا اثر دکھانے کو.. تو اس لئے پلیز، آپ لیموں نہ بنیں.

    تحریر : جمشید

    کچھ دل سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
    • مفید مفید x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,282
    عمدہ تحریر ہے، شیئر کرنے کا شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    پسند کرنے کا شکریہ
     
  4. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    535
  5. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت شکریہ
     
  6. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جزاک اللہ خیرا بے حد عمدہ تحریر سسٹر جی ۔۔۔۔

    احباب کو رہی میرے عیبوں کی جستجو
    میں پُرخلوص اُنکے ہنر تولتا رہا

    اعتدال پسندی کا طبیعت میں ہونا بڑا معنی رکھتا ہے نہ ہی اتنے نرم بنو کہ نچوڑ دیے جاؤ نہ ہی اتنے سخت کے توڑ دیے جاؤ
    اتنا ضرور ہے کہ منفی باتوں کا ، منفی لوگوں کا، منفی رویوں کا اتنا اثر نہ لیں اور نہ ہی اپنے اعصاب پر سوار کریں کہ وہ آپ کے اندر کا سکون برباد کر دے،کسی کی بھی سوچ کے تعین کی ذمہ داری کسی طور نہیں لی جاسکتی مثبت بھی ہو سکتی ہے منفی بھی ۔۔۔۔سمیرا احمد اپنے ناول یارم میں اِک جگہ لکھتی ہیں کہ۔۔۔
    ۔۔۔۔

    جانتے ہو انسان کسے کہتے ہیں ۔۔۔؟
    جس کی آنکھوں میں احترام ہو اور الفاظ میں نرمی۔۔۔جسکے اخلاق میں رحم دلی اور مقاصد میں اعلی ظرفی ۔۔۔ایسا انسان جو بولتا ہے تو زخموں پر مرہم رکھتا ہے اور نہ بولے تو زخم ہرے نہیں کرتا۔۔۔جو احساسات پر کمندیں نہیں ڈالتا بلکہ اُن پر پھوار بن کر برستا ہے ۔۔۔
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,282
    بہت عمدہ پہلو کی طرف آپ نے توجہ دلائی۔ بے شک اعتدال کی راہ اپنانے میں ہی عافیت ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    ”اچھی خصلت، غور و خوص کرنا اور میانہ روی نبوت کے چوبیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔

    اسی مضمون کی دیگر کئی احادیث بھی موجود ہیں جن میں اعتدال پر چلنے والوں کو ہی منزل مقصود تک پہنچنے کی بشارت دی گئی ہے۔

    اس لئے نہ تو اتنا کڑوا بنو کہ سب تھو تھو کریں اور نہ اتنا میٹھا کہ جو چاہے ہڑپ کر لے!
     
    • متفق متفق x 2
  8. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    جزاک اللہ خیرا
    ہمارے دینی علم میں اضافہ کرنے کےلیے بہت شکریہ
     
  9. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت عمدہ ۔۔۔ بلاشبہ اعتدال ہی بہترین راہ ہے

    جزاک اللہ خیرا
     
  10. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں