اللہ کے نام پر۔۔۔

سیما آفتاب نے 'متفرقات' میں ‏فروری 27, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    [​IMG]
    اللہ کے نام پر۔۔۔
    سیما آفتاب
    قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے کہ : " تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو اور جو کچھ تم خرچ کروگے اللہ اس سے بےخبر نہ ہوگا"۔ (سورہ اٰل عمراٰن)

    ہم تو اللہ کے نام پر دینے کے لیے بچے ہوئے سکے اور پرانے نوٹ رکھتے ہیں کہ کو ئی مانگنے والا ملا تو دے دیں گے ۔۔۔
    پرانے کپڑے جن کے یا تو رنگ خراب ہو چکے ہوتے ہیں، یا آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں یا جن سے دل بھر جاتا ہے وہ نکال کر الگ رکھ دیتے ہیں (اللہ کے نام پر) کسی ضروررت مند کو دینے کے لیے ۔۔۔

    دنیاوی مشاغل میں جو تھوڑا “فارغ وقت” مل جائے تو سوچتے ہیں کہ کچھ اللہ کا ذکر کرلیا جائے یا آج نماز پڑھ لیتے ہیں۔۔۔
    ہم تو “بے کار” “پرانی” “فالتو” اور “فارغ” چیزیں نکالتے ہیں اللہ کے لیے اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بہترین دے (وہ کریم دیتا بھی ہے)۔۔۔یہ کھلا تضاد نہیں تو اور کیا ہے؟

    کیا ہم اس عمل کو 'نیکی' شمار کرسکتے ہیں؟؟ کیونکہ اعمال کا دارومدار تو نیتوں پر ہوتا ہے۔
     
    Last edited: ‏فروری 28, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • مفید مفید x 2
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    بہت عمدہ موضوع ہے لیکن کوشش کریں کہ جب بھی حدیث بیان کریں تو اس کا حوالہ ساتھ ضرور ہو۔ کیونکہ سنی سنائی بات آگے پھیلانا بھی جھوٹ کے برابر ہوتا ہے اور سب سے برا جھوٹ کسی بات کو اللہ اور اللہ کے رسول سے منسوب کرنا ہے۔ مجھے تو ان الفاظ میں کوئی حدیث باوجود تلاش کے نہیں ملی گو کہ پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں دینے کی دیگر احادیث موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس حوالہ ہو تو ضرور عنایت کیجئے گا۔

    موضوع کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ہم جس سے محبت کرتے ہوں، اسے اگر کچھ دینا ہو تو سب سی اچھی چیز منتخب کر کے دیتے ہیں، اور جس کو بوجہ مجبوری کچھ دینا ہو تو اسے کوئی فالتو یا ناکارہ چیز پکڑا دیتے ہیں، یہی حساب ہمارا اللہ سے ہوتا ہے جو اللہ سے محبت کرتے ہیں وہ اپنی محبوب چیز اللہ کے نام پر اللہ کی راہ میں دیتے ہیں۔ اور جن کے دل میں دنیا کی محبت زیادہ ہوتی ہے وہ بادل نخواستہ دیتے تو ہیں لیکن فالتو اور بے کار شئے۔ حالانکہ سب کچھ اسی کا دیا ہوا ہے۔ اللہ ہمیں کامل مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے منور فرمائے، آمین!
     
    Last edited: ‏فروری 27, 2018
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    532
    عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ » [متفق علیه]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    Sahih Muslim Hadees # 2315

    حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرَحَى وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرَحَى وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخْ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهَا وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ

    اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے : ابو طلحہ مدینہ میں کسی بھی انصاری سے زیادہ مالدار تھے ، ان کے مال میں سے بیرحاء والا باغ انھیں سب سے زیادہ پسند تھا جو مسجد نبوی کے سامنے واقع تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں تشریف لے جاتے اور اس کا عمدہ پانی نوش فرماتے ۔
    انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : "" تم نیکی حاصل نہیں کرسکوگے جب تک ا پنی محبوب چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو گے ۔ "" ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کی : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ : تم نیکی حاصل نہیں کرسکو گے حتیٰ کہ ا پنی پسندیدہ چیز ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو ۔ "" مجھے اپنے اموال میں سے سب سے زیادہ بیرحاء پسند ہے اور وہ اللہ کے لئے صدقہ ہے ، مجھے اس کے اچھے بدلے اور اللہ کے ہاں ذخیرہ ( کے طور پر محفوظ ) ہوجانے کی امید ہے ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے جہاں چاہیں رکھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بہت خوب ، یہ سود مند مال ہے ، یہ نفع بخش مال ہے ، جو تم نے اس کے بارے میں کہا میں نے سن لیا ہے اور میری رائے یہ ہےکہ تم اسے اپنے قرابت داروں کو دے دو اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے عزیزوں اور چچا کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  5. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    توجہ دلانے کے لیے جزاک اللہ خیرا :) ۔۔۔ اللہ معاف فرمائے ۔۔ اپنی حد تک تحقیق کے بعد میں نے تحریر میں ترمیم کردی ہے۔

    جی اسی طرح ہماری اللہ سے 'محبت' کے دعوے کا پول کھل جاتا ہے۔۔ اللہ ہمیں ہدایت دے آمین!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    ترجمہ بھی عنایت فرمادیں تو بہتر ہوگا
     
  7. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    بہت اعلٰی، جزاک اللہ خیرا!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    532
    عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ » [متفق علیه]

    ترجمہ
    اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    398
    جزاک ا للہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں