کبار ائمہ ’’عامیوں‘‘ کو کیسے وقت دیتے تھے؟

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏مارچ 8, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,131
    کبار ائمہ ’’عامیوں‘‘ کو کیسے وقت دیتے تھے؟

    (امام شافعیؒ کے استاد) عظیم محدث امام وکیع بن الجراحؒ کا یہ معمول تھا کہ فجر کے بعد اصحاب الحدیث کےلیے مجلس جماتے جو دن کے ایک حصے تک چلتی۔ پھر وہ گھر چلے جاتے۔ قیلولہ فرماتے۔ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد اس راستے میں جا کر بیٹھ جاتے جہاں سقوں (ماشکیوں) کا آنا جانا ہے۔ یہاں دوپہر کو سقے اپنے جانوروں کو آرام دینے کےلیے کوئی پل بیٹھتے۔ امام وکیع یہاں ان کو قرآن کے ان امور کی تعلیم دیتے جس سے وہ اپنے فرائضِ دین ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ معاملہ عصر تک چلتا، جس کے بعد وہ اپنی مسجد میں لوٹ آتے۔(سِیَر اَعلامِ النُبَلاء 9: 149)

    عظیم عالم عابد عبد اللہ بن عبد العزیز العمری کا معمول تھا: یہ اس دیہاتی علاقے کی طرف نکل جاتے جہاں کے لوگوں کو بڑے شہروں میں جا کر دین سمجھنے موقع نہ ملتے اور نہ ہی وہاں علماء کا جانا ہوتا۔ یہ وہاں ان کو دین کی تعلیم دیتے۔ ضروری امورِ دین کی ترغیب دلاتے اور خاص ڈرنے کے امور سے ان کو خبردار کرتے۔ یہاں تک کہ وہاں کے لوگوں کی حالت خاطر خواہ حد تک دین پر آ جاتی۔(شرح مشکل الآثار 10: 189)

    کیا آج ’’بڑے علماء‘‘ اور ’’عامیوں‘‘ میں فاصلے بڑھ نہیں گئے؟ بلکل فاصلے بڑھ چکے.آج کا عالم دین چاہتا ہے کہ عامی، عامی، عامی، ان پڑھ ہی رہے. بس اس کے علم کی دھاک اہل علم میں بیٹھ جائے. اس طرح عمل ،اخلاص کم، نمود و نمائش، دنیاوی تکلفات زیادہ ہو جاتی ہیں.جتنا عمل، اخلاص، تواضع میں کمی آئے گی.دعوت دین میں برکت ختم ہوتی جائے گی.
    جاہل، ان پڑھ دین و اسلامی تعلیمات کو سیکھنے کی تڑپ رکھنے والوں پر ضروری ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے کبار، متقی، راہ کامل علماء سے علم حاصل کرنے کی کوشش کریں جو کہ تفقہ الدین میں اپنے زمانے کے علماء میں معروف ہوں. ایسے علماء کی مجالس، دروس سے نہ صرف علمی فائدہ حاصل ہو گا،عقیدہ و احکام و مسائل سیکھیں گے، بلکہ نفوس کا تزکیہ بھی ہو گا.
    ۔۔۔
    منقول بتصرف.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • مفید مفید x 1
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,112
    جی بالکل بڑھ گۓ ہیں۔ کئ بار ایسا ہوا کہ کسی "بڑے عالم" سے کوئ بات پوچھی تو جواب ہی نہیں آیا۔ لیکن اس کے ساتھ ایسے بہت سے علماء اب بھی موجود ہیں۔ جو کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں۔ اور سوال کرنے والے کو جواب بھی دیتے ہیں۔ فجزاھم اللہ خیرا
     
    • متفق متفق x 1
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,131
    کسی ایک شخص کے سوال کا جواب دینا یا نا دینا ذمہ داری نہیں ہوتی. یہ عالم دین پر ہے. اس پر ہر سوال کا جواب دینا واجب نہیں. بلکہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ لوگوں کے درمیان رہ کر ان کی اصلاح کی جائے. یہ صفت سلف صالحین اور ان کے نقش قدم پر چلنے والوں میں موجود رہتی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    انہیں کبار علماء کہنا ہی نہیں چاہئے بلکہ متکبر علماء کہیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ کیونکہ جتنا زیادہ علم ہوگا اتنی بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ عام افراد کی اصلاح ان کے حلقہ اثر میں کس حد تک ہوئی!
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,112
    اگر یہ بات ہے تو پھر وہ شخص اپنے مسئلے کے حل کے لیے۔ خود ہی کوئ راستہ تلاش کرلے۔ کیونکہ عالم پر تو اس کے جواب کا واجب ہی نہیں ہے۔
     
  6. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    اسی لئے تو علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، اگر علماء کو ہی ہر سوال کے جواب کا پابند کر دیا جائے تو تقلید کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا!
     
  7. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,112
    لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ ہر مسلمان کا علم اس پاۓ کا نہیں ہوتا جس پائے کا علم ایک عالم کے پاس ہوتا ہے۔
    لیکن اس پوچھنے کو تقلید نہیں کہتے۔ تھوڑا فرق سمجھا دوں۔
    آپ ایک عالم سے کوئ بات پوچھتے ہیں تو وہ بجاۓ قران و حدیث کے حوالے کے یہ جواب دیتا ہے کہ ہمارے امام نے اس مسئلے میں یہ فرمایا ہے۔ اور ہم اس امام کے مقلد ہیں۔ تو یہ تقلید ہے۔
    دوسرے ایک عالم آپ کو قرآن و حدیث کے حوالے سے آپ کے سوال کا جواب دیتا ہے تو پھر علماء اسے تقلید نہیں بلکہ اتبا‏ع سنت کہتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
    بابر بھائی میں آپ کی بات سے متفق ہوں، میرا مطلب تھا کہ پوچھنا ہی علم حاصل کرنا ہی ہے، اگر ایک عالم جواب نہیں دے پاتا تو دوسرے کے پاس جانا فرض ہے۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,131
    واللہ اعلم ، کی اصطلاح معروف ہے. علماء اس کو عالم ہی نہیں سمجھتے جو کہ ہر سوال کا جواب دے. خواص جن کی علماء تک رسائی ہوتی ہے ۔ وہ تو سوال کا جواب لے لیتے ہیں ۔ عامی اور عالم میں فاصلے برقرار ہیں ۔ مگر یہاں موضوع سوال کا جواب نہیں. خلط مبحث نا کی جائے
    بلکہ حسب استطاعت سائل کی تشفی کرنا ہے.اور یہ تشفی اس وقت ہو گی جب عقیدہ و احکام کی بنیادی تعلیمات کے لیے عالم دین سماج میں رہے. صبرو تحمل سے سائل کے ساتھ کچھ وقت گزارے.جب تک سائل کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ کوئی ہمدرد ہمارے درمیان موجود ہے ، اس کی اصلاح چاہتا ہے تو تشفی کیسے ہو گی؟ صرف محراب و منبر پر تقریریں کرنے ، تحریر لکھنے ،کتابیں تالیف کرنے سے اپنے فرض سے عہدہ براہ نہیں ہوا جا سکتا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,232
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں