مغربی انتہا پسندی کی تازہ مثال!

رفی نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏مارچ 11, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,122
    السلام علیکم اردو مجلس!

    یوں تو اہل مغرب کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اور اس سلسلے میں وہ مسلمانوں پر بنیاد پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے گھنائونے الزامات لگا کر خود کو امن کے علمبردار ثابت کرنے میں جتے رہتے ہیں، جیسے ہی ان کا کوئی فرد کسی دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہوا اسے ذہنی مریض قرار دے کر انفرادی عمل گردانا جاتا ہے۔ مغرب میں جہاں مسلمانوں اور خاص کر مسلمان عورتوں پر مذہبی حملے اب معمول بنتے جا رہے ہیں وہیں برطانیہ میں اس کی ایک منظم شکل سامنے آئی ہے جس میں اجتماعی طور پر مسلمانوں کو سزا دینے کا دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے اور اس کی پروموشن کے لئے درج ذیل پمفلٹ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ جس میں مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے ستانے پر مختلف پوائینٹس دینے کا اعلان کیا گیا ہے:

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ ایڈمن

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,064
    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ۔
    اجتماعی طور پر سزا دینا یہ مغرب کا ہر زمانہ میں معمول رہا ہے ۔ لیبیا ،الجزائر ، اندلس وغیرہ کی تاریخ ایسی سزاؤں کہ ذکر سے بھری ہوئی ہے
     
  3. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    وعلیکم السلام رحمۃ اللہ وبرکاتہ

    جب کسی مسلم ملک میں گڑبڑ شروع ہوتی ہے آپسی انتشار عروج کو پہنچنا شروع ہوتا ہے تو اہل مغرب کیوں ہم پر مہربان ہوتے ہیں ؟کیوں اپنے ملکوں میں مستقل قیام کیلئے جگہ دیتے ہیں ؟ کبھی اس بابت سوچا ہے ہم نے ؟

     
    • حوصلہ افزا حوصلہ افزا x 1
  4. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,777
    السلام علیکم

    لندن، یارکشائز، لیسٹرشائد، نوٹنگھمشائر، پر اس خبر سے واننگ ہے، اس خبر اور پمفلٹ کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی کسی مسلم کو اس پر کوئی گھبراہٹ یا پریشانی ہے، البتہ محتاط ضرور رہیں گے اس خبر کے ساتھ ایک نوٹ بھی لکھا ہوا ہے۔
    Anyone who receives one of the letters should call police on 101
    If you have information about the individual or group responsible, call police in confidence on 0800 789 321

    ===========
    جی ضرور بتائیں۔

    والسلام
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • دلچسپ دلچسپ x 1
  5. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    انکو عام مسلمانوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ انکو پناہ دیں اور دنیاوی ضرورتوں میں انکی مدد لیکن اصل حدف اگلی نسل ہوتی ہے جسکو یہ اپنے رنگ میں ڈھال سکیں انکا معروف مقولہ ہے" ہمیں تمہاری نہیں بلکہ تہماری اگلی نسل کی ضرورت ہے " جب ان پناہ گزینوں پر دنیا کھلتی ہے تو یہ اپنا سب کچھ بھلا دیتے ہیں "الا ماشاءاللہ "اور پھر مغربی دنیا کی اسی چکا چوند میں گم ہونا ہی اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہيں

    ابھی حالیہ یہانپر سوریہ کے مسلمانوں کی حالت بھی دیکھی ہے اور انہوں نے تو ایک دم ہی رنگ بدلا ہے اور وہ ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش میں ہیں چال و ڈھال میں اور مغرب کی تہذیب کو گلے لگانے میں انہوں نے زیادہ وقت بھی نہیں لگایا "اکا دکا " کو چھوڑکر اوریہ حال مجموعی طور پر یہاں دیکھنے میں آیا ہے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,069
    بھائ میرا خیال ہے کہ سوریہ، لبنان اردن وغیرہ کا ماحول ویسے بھی کچھ آزاد سا ہے۔ ان کا عام رہن سہن، لباس وغیرہ مغرب سے بہت ملتا جلتا ہے۔ اس لیے انہیں وہاں ایڈجسٹ ہونے کے لیے اپنے آپ کو بہت زیادہ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق x 1
  7. رفی

    رفی منتظمِ اعلٰی

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,122
    مصیبت زدہ علاقوں کے جو مہاجرین ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر مظلوموں سے ہمدردی ختم ہو جاتی ہے۔ جیسے سوریا والوں کو مغرب میں دیکھ لیں۔ فلسطینیوں اور برماویوں کو سعودیہ میں دیکھ لیں۔ کشمیریوں اور افغانیوں کو پاکستان میں دیکھ لیں۔ ابو حسن بھائی سے اسی بابت بات ہوئی تو انہوں نے انتہائی عمدہ نکتہ بتایا کہ دراصل جو راسخ العقیدہ لوگ ہوتے ہیں وہ عموما اپنا علاقہ نہیں چھوڑتے اور کمزور عقیدے والے فورا چھوڑ دیتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  8. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس مصیبت و پریشانی کو خوشگوار سمجھتے ہیں اور اپنا اس ملک سے نکل جانے کا بہترین ذریعہ مانتے ہیں

    لیکن اصل لوگ جو ایمان کی قوت سے لبریز ہوتے ہیں وہ اس پر شہادت کو ترجیع دیتے ہیں دیار غیر کی ہجرت سے اپنے مقام پر موت کو فوقیت دیتے ہیں اور آپ اسکا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں

    اور میں بذات خود ابھی تک جتنی بھی سوریہ کی فیملیوں سے ملا ہوں کسی کے بھی ظاہری آثار ایسے نہیں دکھائی دیئے جسکو دیکھ کر لگے کہ یہ مشکلات سے دوچار ہوکر یہاں پہنچے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو ابتدائی ایام میں ہجرت کرکے ترکی ،اردن اور مصر پہنچے اور پھر یورپی ممالک کیلئے اپنی فائلیں تیار کرنے لگے اور 99 فیصد کے جاننے والے پہلے سے ان ممالک میں قیام پذیر ہیں اور یہ تجربہ بھی یہیں پر ہوا

    اور بہت سے مسلم اورغیر مسلم کو دیکھا جنہوں نے پہلے انکی بھرپور مدد کی لیکن جب انکے طور طریقوں سے واقف ہوئے تو ہاتھ کھینچ لیا بلکہ جو مسلم یہانپر عرصہ دراز سے مقیم ہیں جب انہوں نے انکو دیکھا کہ ایک برس میں ہی نئی گاڑی اور بڑے گھر" سود " پر لینے کیلئے یہ لوگ تیار ہیں تو بہت سے لوگ ان سے ہاتھ کھینچ بیٹھے اور ویسے بھی ان لوگوں کو " حلال و حرام " سے کوئی سروکار نہیں " الاماشاءاللہ "

    آج بھی الغوطہ میں اور سوریا کے مختلف مقامات پر امت محمد ﷺ کے بیٹے اور بیٹیاں شھادت والی زندگی کو اپنانے کیلئے سینہ سپر کیے ہوئے ہیں، اللہ اکبر
     
    Last edited: ‏مارچ 13, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • متفق متفق x 1
  9. ابو حسن

    ابو حسن رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    348
    جب سوریہ کے پناہ گزین کینیڈا آنا شروع ہوئے تو اس سے پہلے مسجد میں ہماری کمیونٹی کی میٹنگ ہوئی اور سب لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں اور میں عربی بات چیت کیلئے تھا

    تو ہمارے 200 کلومیٹر کے علاقہ میں سب سے بڑا گروپ والنٹیر کا مالٹن مسجد کا تھا ،اب چندہ کیلئے اعلان کیا گیا

    اور جو بھی فیملی کسی گھر یا فلیٹ میں شفٹ ہوتی ہماری مسجد کیطرف سے 500 ڈالر کا ویلکم پیکج انکوہم دے کر آتے "جس میں گوشت سبزیاں دالیں برتن کمبل تکیے وغیرہ"

    اور تقریبا 300 سے زیادہ فیملیوں کو یہ پیکج ہم دے کر آئے ،ابھی ہماری کمیونٹی میں تقریبا 10 فیملی ہیں اور ایسا دل اچاٹ ہوا کہ ان کو کچھ دینے کو بھی دل نہیں کرتا اور حقیقت یہی ہے کہ جو اچھے لوگ ہیں وہ ابھی بھی وہیں سوریہ میں ہیں

    ہمارے ایک قریبی جاننے والوں نے اپنے ذاتی 150،000 ڈالر خرچ کرکے ایک سوریہ کی فیملی بلوائی اور ایک سال میں ہی ان لوگوں سے تنگ آگئے ہیں اور اکثر میری اہلیہ سے بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ہم سمجھو محنت سے اکٹھے کرتے ہیں اور یہ لوگ خرچ کرنے میں ذرا برابر بھی پرواہ نہیں کرتے اور اب انکو بڑاگھر لینا ہے ، کہتی ہیں اب کوئی کسی سوریہ کی فیملی کی مدد کا کہتے ہیں تو معلوم نہیں کیوں نام سنتے ہی دل اچاٹ ہوجاتا ہے
    ،
    ہماری مسجد وکیمیونٹی نے 6 فیملیوں کا سوچا تھا سپانسر کرنے کا اورایک کو سپانسر کیا جوکہ بیوہ تھی اور چار بچے اور یہ فیملی ترکی میں تھی اور ایک فیملی کا خرچ 150،000 ڈالر ہے

    میں خود اس فیملی کو لینے کیلئے ائیرپورٹ پر پہنچا اور میرے پاس 8 سیٹوں والی وین تھی اب سامان میرے ساتھ رکھا جانا تھا اور ایک ماہ کیلئے ہوٹل میں 2 کمرے کا فلیٹ کرایہ پر لیا گیا

    اور مجھے یہی تھا کہ 2 سے تین بیگ ہونگے لیکن میں حیران رہ گیا جب میں نے 16 بڑے اور چند چھوٹے بیگ دیکھے اور اب وین کی سیٹیں میں نے فولڈ کیں اکیلے نے بیگ لوڈ اور ان لوڈ کیے اور رات کو کمر میں شدید تکلیف محسوس ہوئی، اب آپ اندازہ لگائیں کہ یہ تو بیوہ کا حال تھا اور جو مکمل فیملیاں تھیں انکا کیا حال ہوگا ؟ اور یہ کیسے مہاجر تھے جو اتنے سامان کے ساتھ آسانی سے ہجرت کرکے وہاں پہنچے ؟

    اب یہ فیملی شروع کے ایام میں کچھ 100 کلومیٹر دور شہر میں قیام پذیرہونے کا اسرار کررہی تھی کیونکہ اس شہر میں ان کے جاننے والے رہتے تھے اور یہ انہی سے رابطہ میں تھے اور دوسری وجہ یہ بتاتی کہ دوسری سوریا کی فیملیاں ہمیں نیچے گرانے کی کوشش کرینگی اس لیے ہم یہاں نہیں رہنا چاہتے " اور یہ بات ہم سب کی سمجھ سے بالا تر تھی" اب ایک سال کی دیکھ بھال مسجد کے ذمہ تھی تو ہم سب کی رائے تھی کہ یہ قریب کہیں رہیں تاکہ ضرورت کے تحت ہم انکی مدد کرسکیں اور پھر جب کمیونٹی کی عورتوں نے انکے ساتھ برتاؤ کیا تو یہ یہی پر رہنے کو ترجیح دینے لگے کیونکہ لوگوں نے مسجد کی وجہ اور بیوہ ہونے کی نسبت سے بہت سر پر بٹھایا

    اب یہی ان سب سوری فیملیوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے ہیں اور اسکا بیٹا جوکہ 18 برس کا ہے وہ نیکر پہنے گھوم رہا ہوتا ہے اور اب ہماری کمیونٹی کے بہت سے لوگ اس فیملی سے بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں

    اتنے شاید گورے فاروڈ نہیں جتنے یہ لوگ ہیں اور جو گند انہوں نے یہاں پھیلانا شروع کیا ہے اس سے مزید بگاڑ پیدا ہوگا

    جیسا کہ میں نے اپنے ایک تھریڈ میں یہ کہا تھا :

    یہ منظر کچھ یوں تھا کہ ایک عرب لڑکی " بِکَنِی " پر حجاب اُوڑھے ہوئے تھی اور وہ ظاہری طور پر اپنے مسلماں ہونے کی پہچان دکھا رہی تھی
     
    Last edited: ‏مارچ 13, 2018
    • معلوماتی معلوماتی x 3
  10. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,777
    السلام علیکم

    بھائی یہ لیگل اپینین نہیں ہے ادھر ادھر سے سن پر آپ نے کوٹ کر دی ہے، اگر آپ کو اس کی کیمسٹری بیان کرنے کو کہا جائے تو آپ نہیں کر پائیں گے۔

    دوسرا عرب ممالک سے جو آپ نے لکھا اس پر بابر بھائی نے بیان کر دیا، ان پر مزید یہ کہ ان ممالک سے زیادہ تر مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہیں اور ان کی خواتین بھی حجاب پہنتی ہیں ان کے رنگ روپ اور شکل سے پہچان کرنا مشکل ہے، اس پر چاہے تو یہ مسلمان ہوں یا عیسائی لباس یہ بہت قیمتی پہنتے ہیں، ان ممالک میں شادی کر کے آنے والے اور اسائلم سیکر دونوں میں بہت فرق ہے، شادی کر کے آنے والے مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں اور اسائلم کلیم کرنے والے صاحب حیثیت ہوتے ہیں اس لئے ان کا رہن سہن بھی اچھا ہوتا ہے ان کی چال یہاں آ کر نہیں بدلتی بلکہ اپنے ملک میں جو ہوتی رہی وہی رہتی ہے۔

    والسلام
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں