سیاست، جوتے، اور مذہب

محمدیاسین راشد نے 'اركان مجلس كے مضامين' میں ‏مارچ 14, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمدیاسین راشد

    محمدیاسین راشد رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 21, 2017
    پیغامات:
    18
    سیاست، جوتے، اور مذہب...........
    از قلم:محمد یاسین راشد
    ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

    میاں نواز شریف اور عمران خان کو جوتے پڑنے سے لے کر خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینکنے تک، ایک بات تو کنفرم ہے کہ اختلافات چاہے سیاسی ہوں یا مذہبی، فکری ہوں یا نظری، ہمارے معاشرے میں عدمِ برداشت کا رجحان بہت کم ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر.

    میانہ روی، رواداری، تحمل مزاجی، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، عفو و درگزر کرنا ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ امن و امان اور محبت و اخوت کا گہوارہ بن جاتا ہے.

    اور جس معاشرے میں ان اوصاف کی کمی ہو وہ معاشرہ اضطراب و بے چینی، انتہا پسندی و جارحانہ پن، تشدد و لاقانونیت، اشتعال و طیش، اور برہمی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے.

    گالیاں دینا، گندی زبان کا استعمال کرنا، جوتے اور سیاہی پھینک کر بدلہ لینا، وہ چاہےکسی سیاسیت دان کی طرف سے ہو یا مذہبی رہنما کی طرف سے، سیاسی جیالے طرف سے ہو یا ہو مذہبی کارکن کی طرف سے قابلِ مذمت ہے.

    اس طرح کے واقعات کب رونما ہوتے ہیں جب ایک جیالہ اپنے قائد کی زبان درازی، لب و لہجے، فکر و نظر کی مکمل سماعت کرنے کے بعد اپنے آپ کو اندھی عقیدت اور تقلید کے ساتھ اس کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش کرتا ہے. آج کل اس طرح کی ریس میں سب سے آگے مجھے خادم رضوی صاحب ہی نظر آتے ہیں جن کی تقریر میں قرآن و حدیث کی بات کم گالی گلوچ، جگتیں، پھبتیاں، فحش کلامی، بے ہودگی زیادہ نظرآتی ہے. اور وہی بے ہودگی ان کے جیالوں کا بھی طرہ امتیاز ہے

    ختم نبوت کے تحفظ میں برصغیر پاک و ہند میں بہت ساری تحریکیں وجود میں آئیں لیکن اس طرح کا رویہ اور پس منظر، طریقہ کار اور حکمت عملی، کسی سے بھی نظر نہیں آئی جو یہ مولانا اور ان کے جیالے برپا کئے ہوئے ہیں.

    پتہ نہیں یہ رضوی صاحب کون سا دفاع و تحفظ ختم نبوت کر رہے ہیں جس میں انتہا پسندی، شدت پسندی، اختلاف و تفرقہ بازی، تکفیری ذہن سازی، اسلام کی بدنامی، علماء کی تذلیل، اورعدم برداشت کو فروغ مل رہا ہے.

    آج بھی اس طرح کے واقعات ان جیسے قائدین کی تقریریں سن کر رونما ہو رہے ہیں. میں کہتا ہوں کہ طالب علم طلحہ منور نے جوتا پھینک کر کون سا معرکہ رضوی صاحب کے نام کیا ہے اور غازی بن کر لوٹے ہیں یا اپنے ادارے اور اساتذہ کی تعلیم و تربیت کا کون سا پاس رکھا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دینی ادارے جو صحیح منہج پر قرآن و سنت کی ترویج کر رہے ہیں ان کے لیے بھی سیکولر ازم، اسلام مخالف نظریات کے حاملین کو اسلام کے قلعوں کے خلاف زبان درازی کا موقع ہی دیا ہے.

    لبیک یا رسول اللہ کی رٹ لگانے والو خود انہیں حکمرانوں سے ڈیل بھی کرتے ہو لفافے بھی وصول کرتے ہو ختم نبوت کے نام پر سودے بازی بھی کرتے ہو کیا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا دعوتی طریقہ کار یہ تھا جو آج تم نے شروع کر رکھا ہے.

    میری قانونی و عسکری اداروں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں اب لوگوں کو طالبان جیسے غنڈہ گردوں سے عسکری طاقت کے ساتھ امن و سکون مل گیا ہے تو خدارا اس کو قائم رکھنے کیلئے ایسے سیاسی اور مذہبی قائدین کی تقاریر پر بھی پابندی لگائی جائے جو اس طرح کی غنڈہ گردی پر مبنی نظریات قائم کرتی ہوں.

    ورنہ وہ وقت قریب ہے کہ جب سیاسی اور مذہبی جلسوں میں ن لیگ تحریک انصاف پر، متحدہ والے پیپلز پارٹی پر، بریلوی دیوبندیوں پر، دیوبندی اہل تشیع پر جوتے یا سیاہی پھینکنے کی بجائے سرعام گولیاں چلائیں گے.
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,455
    جوتے او گالیوں کی سیاست یہ ابتداء ہے ۔ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے ۔ مذہب ، تہذیب ثانوی چیزیں ہیں ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں