رخصتی کے موقع پر بچیوں کو اہم نصائح

صدف شاہد نے 'گوشۂ نسواں' میں ‏مارچ 17, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268

    رخصتی کے موقع پر بچیوں کو اہم نصائح


    مری بچی دلہن بن کر نئے گھر تجھ کو جانا ہے
    فسردہ چھوڑ کر ہم کو نیا گلشن بسا نا ہے
    نئے لوگو ں میں رہنا ہے ، نئے رشتے نبھا نا ہے
    محبت با نٹ کر غیر وں کو بھی اپنا بنا نا ہے

    بنا قربا نیو ں کے چا ہت و عزت نہیں ملتی
    بڑا گھر مل تو سکتا ہے مگر ر ا حت نہیں ملتی

    بہت سے امتحا ں اسکو ل و کا لج میں دئیے تو نے
    بہت اسناد پائی ہیں ، بہت تمغے لئے تو نے
    گھر یلو کام بھی سب زمہ د اری سے کئے تو نے
    بہت ادھڑ ے ہوئے رشتے محبت سے سئیے تو نے


    ترے سر پر کھڑا ہے اب نیا اک امتحا ں بیٹی
    اسے بھی پاس کرنا ہے دعا کرتی ہے ماں بیٹی


    اگر تجھ سے خطا ہو جائے تو اقرار کر لینا
    ندا مت کا جہا ں تک ہو سکے اظہار کر لینا
    بری عا دت ہے ہر ا ک بات پر تکرار کر لینا
    اور اپنے واسطے خود زندگی دشوار کر لینا

    تجھے اچھی بہو بننا ہے اچھی ماں بھی بننا ہے
    شریک زندگی کے دل کی د ھڑ کن جاں بھی بننا ہے

    چھپا کر اپنے شوہر سے کوئی بھی کام نہ کرنا
    وہ محفل ہو کہ تنہا ئی سدا اللہ سے ڈرنا
    اگر شوہر ہو غصے میں بحث کا د م نہیں بھرنا
    پلٹ کر کچھ نہیں کہنا کوئی الزام نہ دھرنا


    مز اج اس کا اگر برہم ہو چپ رہنا ضروری ہے
    تھمے جب اس کا غصہ حال دل کہنا ضروری ہے


    جو شوہر کام سے آئے تجھے سنوری ہو ئی دیکھے
    ترے ہونٹوں پہ اک مسکا ن سی بکھر ی ہوئی دیکھے
    ہو گھر سمٹا ہوا ہر چیز کو نکھری ہوئی دیکھے
    نہ بھولے سے بھی وہ صورت تری اتری ہوئی دیکھے


    بہت خوش کن ہو جب اس کے تصور میں بھی تو آئے
    سدا مہکی ہوئی رہنا کبھی تجھ سے نہ بو آئے


    کبھی د ھمکی نہ دینا روٹھ کر میکے کو جانے کی
    کوئی حاجت نہیں ہے اس قدر شو خی میں آنے کی
    ضرورت کیا ہے اس کے پیار کو یوں آزمانے کی
    کہیں ایسا نہ ہو وہ تاک میں ہو اس بہا نے کی

    اگر کہدے چلی جائو رہے گی کیا تری عزت
    گرہ پڑ جائے گی دل میں تری گھٹ جائے گی وقعت

    انہیں جھگڑوں سے ہے پیارے خلیفہ کو پر یشانی
    کہ عا ئلی مسائل کی ہے گھر گھر میں فراوانی
    نہیں زیبا کسی ایسی جما عت کو یہ ناد ا نی
    کہ جس کا کام ہو اخلا ق عا لم کی نگہبا نی

    یہ کمزو ر ی کہیں دنیا میں نہ مشہور ہو جا ئے
    کہیں ایسا نہ ہو منزل ہما ر ی د ور ہو جائے

    کبھی سسر ا ل کی با تیں نہ میکے میں بتا نا تم
    نہ میکے کے کبھی سسرال میں قصے سنا نا تم
    حما قت سے کسی پر بر تر ی نہ یوں جتا نا تم
    زبا ں قا بو میں رکھنا بے ضرو رت مت ہلا نا تم

    رو ا داری بر تنی ہے ، وضع داری نبھا نی ہے
    بگڑ جائے جو کوئی بات حکمت سے بنانی ہے

    یہی جنت جہنم میں بدل جا تی ہے غفلت سے
    کئی رشتے چٹخ جا تے ہیں بس لہجے کی حدت سے
    بگڑ جا تے ہیں کتنے کام عرؔ شی جو ش و عجلت سے
    ا جڑ جا تے ہیں کتنے گھر فقط غصے کی شدت سے

    نہ دامن ہا تھ سے چھو ٹا اگر صبر و متا نت کا
    نتیجہ دیکھ لے گی تو محبت کی کرا مت کا

    یہ تقوی کی کمی ہے جو کئی چہرے بدلتی ہے
    غرور نفس بنتی ہے کبھی نفرت میں ڈ ھلتی ہے
    کبھی اک بد گما نی بن کے بر سوں دل میں پلتی ہے
    گھر وں میں آگ بھڑ کا تی جلا تی اور جلتی ہے

    کئی پیارے محض اک بد ظنی سے چھو ٹ جا تے ہیں
    زرا سی ٹھیس لگتی ہے تو رشتے ٹو ٹ جاتے ہیں

    تجھے دو خاندا نوں کو سدا یکجا ن رکھنا ہے
    نہ اس شیشے میں بال آئے ہمیشہ دھیان رکھنا ہے
    اسی مقصد کی خاطر نفس کو قر با ن رکھنا ہے
    ہر اک سے پیار کرنا ہے ہر اک کا مان رکھنا ہے

    برائی گر کرے کوئی بھلا ئی ہو جواب اس کا
    خدا کے گھر سے پائے گی اجر تو بے حساب اس کا

    سسر اور ساس کی ماں باپ سے بڑھ کر اطاعت ہو
    اشا رہ ان کا تم سمجھو تمہارا کام خدمت ہو
    عزیزوں سے بھی شو ہر کے سدا لطف و مروت ہو
    کسی بھی فرد کو تجھ سے نہ میری جاں شکا ئت ہو

    جہاں تک میں نے سمجھا ہے جہاں تک میں نے جانا ہے
    اگر راضی ہوا شوہر تو جنت میں ٹھکا نہ ہے

    ترا رتبہ بہت بڑھ جائے گا جب ماں بنے گی تو
    خدا کے لطف و احساں کی نئی پہچاں بنے گی تو
    نئی اک داستاں کا دل نشیں عنواں بنے گی تو
    ہر اک کو پیار دے سایہ رحماں بنے گی تو

    تری آغوش ہی بچوں کا پہلا مد ر سہ ہو گا
    یہ وہ ایمان ہے جس میں نہ کوئی وسو سہ ہو گا

    نما زوں کو ادا کرنا تلا وت مگن رہنا
    خدا کے سا منے تنہا ئی میں تو حال دل کہنا
    کڑے حالات بھی آئیں تو ان کو صبر سے سہنا
    حیا کی اوڑھنی ہو سر پر ہو تن پر شکر کا گہنا

    ترے لب پر کبھی بھی شکوہ آلا م نہ آئے
    ترے ماں باپ پر پیا ری کو ئی الزام نہ آئے

    ارشاد عرشی ملک
     
    • اعلی اعلی x 2
    • متفق متفق x 1
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,281
    بہت عمدہ شیئرنگ، گو کہ گھر کا ماحول خوشگوار رکھنا دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے لیکن اس میں بیوی کی حکمت و دانش کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اگر شروع سے ہی اسے برابری کا درس اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی نصیحتیں کر کے بھیجا جائے تو وہ گھر تو نہیں چلا پاتیں البتہ صبح سویرے ٹی وی پر بیٹھ کر مارننگ شو ضرور چلا لیں گی۔

    پھر بھی مرد کی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہے۔ اس کے لئے بھی اگر کچھ نصیحتیں ہو جائیں تو بہت اچھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268

    سہی کہا بالکل آپ نے

    گھر تو مل ملا کر ہی چلا کرتے ہیں اور بسا بھی ۔۔۔۔
    دونوں کا لائحہ ِ عمل یہی ہوتا ہےکنبےخاندان کی بہتری کے لئے اپنی اپنی ہمت کے مطابق کوشش کرنا کہ وہ قائم دائم رہے
    مرد کی ذمہ داری سب سے بڑی شاید یہ ہے اپنی متاعِ حیات کی ڈھال بن کر کھڑا رہے اُسکا مددگار رہےاُسکی راہنمائی کرے ایک فرد کا بدلنا آساں ہوتا ہے نہ کے افراد کا۔۔۔۔اور کنبہ افراد پر مشتمل ہوتا ہے اس لئے وقتا فوقتا اُسے احساس دلاتا رہے کہ وہ اُس کے ساتھ ہے تاکہ گھر کی ذمہ داریاں اُٹھاتے اُسے دِقت پیش نہ آئے اور جہاں غیرمناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑے تو مناسبِ حکمتِ عملی سے کام لے سکے نہیں تو مرد بہتر جانتے ہوں گے اب میں کیا کہوں اس بارے
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    454
    بہت عمدہ نصیحتیں ہیں ۔۔۔ جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    268
    سراہنے کے لئے بہت سارا شکریہ سلامت رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں