امر المعروف ونہی عن المنکر

SZ Shaikh نے 'قرآن - شریعت کا ستونِ اوّل' میں ‏مارچ 18, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

Tags:
  1. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    كُنْتُـمْ خَيْـرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ ۗ (قرآن 3 : 110)

    :تم سب امتوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کے لیے بھیجی گئی ہیں اچھے کاموں کا حکم کرتے رہو اور برے کاموں سے روکتے رہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو"۔


    نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا فریضہ اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ یہ وہ فریضہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کی فضیلت کے دو بڑے اسباب میں سے ایک قرار دیا ہے۔ قرآن میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم کسی بھی سوسائٹی میں برائی کو روکنے اور اچھائی کو فروغ دینے کا عمل اسلامی اصطلاح میں ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کہلاتا ہے۔ قرآن مجید کی یہ آتیں براہ راست تمام انسانوں کو خطاب کرکے ہمیں ہمارے فرض منصبی سے آگاہ کرتی ہے کہ ہم اسی صورت میں بہترین امت کے اہل ہو سکتے ہیں جب تک ہم ہماری ذمہ داریاں کی ادائیگی ادا کرتے رہے گے۔ وہ یہ کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور بدی سے روکے جو رب کائنات نے ہمیں سونپی ہیں تاکہ فریضہ حق ادا کر سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ قران مجید نے ہمیں وہ پیمانہ بھی بتا دیا کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے؟ اور وہ پیمانہ اللہ تعالی نے خود طے کیااور اس کا تصور واضح کردیا اور اس کو قرآن کے احکامات کے ساتھ جوڑ دیا جس کاحکم لازم ہے ۔نیکی اور بدی کا تصور لوگوں پر نہیں چھوڑا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ورنہ لوگوں میں کئ طرح کے اختلاف ہوتے ۔ اس میں اللہ کی بہت بڑی حکمت ہے اور اس کا کرنا ہم پر لازم قرار دیا۔ اللہ تعالی کی فرما نبرداری باعث خیر اور رحمت ہے۔جو ہمارا آقا اور مالک ہے۔ ہم ایک امتی ہونے کی حثیت سے اس حکم کو معاشرے میں نافذ کرے۔ تب ہی ہمارے معاشرے میں امن، عدل اور انصاف قائم ہوگا۔ کائنات کا نظام اسی عدل کے میزان پر قائم ہے اور ہم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم میزان میں خلل پیدا کرے جو رب کائنات نے بناے ہیں۔ اور اگر ہم نے اس منصب سے تغافل برتا تو پھر اس کے سنگین تنائج ہونگے جو کہ مندرجہ ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ تم اس شہر کو اس شخص سمیت سارے شہر والوں پر الٹ دو کیونکہ شہر والوں کو میری نافرمانی کرتا ہوا دیکھ کر اس شخص کے چہرے کا رنگ ایک گھڑی کے لئے بھی نہیں بدلا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

    مسلمان اسے کہتے ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کے قانون کے حوالے کر دے۔ مگر یہ امید نہ کرے کہ وہ دنیا سے لا تعلق رہ کر خانقانوں اور مسجدوں میں بیٹھ کر صرف اللہ اللہ کرے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نازل ہونے سے پہلے اپنا زیادہ تر وقت غار حرا میں گزارا کرتے۔ مگر وحی کے نزول کے بعد وہ کبھی پھر غار حرا میں تشریف نہیں لے گئے۔ اور مسلسل جدوجہد کا پیکر بنے۔ تاکہ معاشرے سے تمام برائیوں کو مٹا سکے اور امن اور انصاف کو قائم کرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اللہ پر ایمان لا کر اللہ کے قوانین کی تعمیل کی۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف) یعنی قرآنی تعلیمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار میں رچی اور بسی ہوئی تھی۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ذرا بھی منحرف نہ تھے۔ خود قرآن کریم میں آپ کے بلند اخلاق و کردار کی شہادت دی گئی ہے کہ ”بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں“ (سورہ القلم آیت:۴)

    قران مجئد ایک ایسی بابرکت کتاب ہے جس کا پڑھناباعث ثواب ہے۔ یہ زندگی میں انقلاب برپاکرتی ہے۔ اور یہ اسی وقت رونما ہو گا جب ہم اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونگے۔ آج ہم میں سے بہت اپنے آپ کو عبادت گزار اور متقی کہتے ہیں ۔ دراصل دین کی بنیادی عبادتیں ہمیں اس بڑی عبادت کے لئے تیار کرتی ہے جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنے آپ کو صرف عبادتوں تک محدود کر لیا ہے۔ اور اسے ہی کل عبادت سمجھ لیا ہے۔ اور معاشرے کی برائی کو گونگے، بہرے اندھے اور کی طرح صرف نظر کر رہے ہیں۔ اور ہمارے جذبہ ایمان میں کوئی جنبش نہیں ہوتی۔ ہم صرف اپنی زندگی اور اس کی لذتوں میں گم ہیں۔ ہم نے اپنے اطراف سے بالکل آنکھ بند کر لیا ہے۔ جس طرح اللہ تعالی نے سبت والوں کے ساتھ جو سلوک کیا کہ ان لوگوں کو بھی سزا دی جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کو بھی سزا دی جو خود نیکی کرتے تھے اور برائی سے روکتے نہیں تھےاور صرف اور صرف ان لوگوں کو بچایا جو اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ ہم بھی اپنی انفرادی ذمےداری کے ساتھ ساتھ اجتماعی فرائض کو بھی پورا کرے۔ اگر ہم امر بالمعروف وہی عن المنکرکا فریضہ ترک کر دیا تو اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے گےاور نہ ہی ہماری نمازیں قبول ہو گی۔ یہ فریضہ ہماری نجات کی ضامن ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

    "اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نیکی کاحکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیجے گا۔ پھر تم اسے (مدد کے لیے) پکارو گے تو تمہاری پکار کو ردّ کر دیا جائے گا۔‘‘ (ترمذی)

    قرآن مجید نے جس طرح نیکی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی تعریف کی ہے، اسی طرح ان لوگوں کی مذمت بھی کی ہے جو نیکی کا حکم نہیں دیتے اور برائی سے نہیں روکتے:

    ’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰؑ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، بُرا طرزِعمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا‘‘۔ (المائدہ)

    مذکورہ آیت کے مطالعے کی روشنی میں مسلمان صرف انفرادی حیثیت ہی میں صالح انسان نہیں ہوتا، جو اچھے کام کرتا ہے، بُرائی سے بچتا ہے اور اپنے ایک خاص دائرے میں زندگی گزارتا ہے، نہ اسے یہ فکر ہو کہ خیر کادائرہ سمٹ رہا ہے اور اسے بے وقعت بنایا جارہا ہے، نہ اسے یہ پریشانی ہو کہ بُرائی اس کے اردگرد پھیل رہی ہے اور انسانوں کو برائی کے دلدل میں ڈالا جارہا ہے۔ اور ان سب سے لاتعلق ہو کر صرف اور صرف اپنی ہی زندگی میں مگن ہے۔ اور یہ مومن کا شیوہ نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان اپنی ذات میں ایسا صالح انسان ہوتا ہے جس کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ اوروں کی بھی اصلاح کرے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر صرف انفرادی سطح پر سر انجام دیا جانے والا فریضہ نہیں بلکہ اس کو جماعتی و معاشرتی سطح پر کرنا لازم ہے۔

    سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ” تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دینے اور اس کی اصلاح کی طاقت رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے ۔ “ ہناد نے یہ حدیث یہیں تک بیان کی ۔ جبکہ ابن علاء نے بقیہ کو یوں پورا کیا ” اگر یہ ہمت نہ ہو تو زبان سے روکے ، اگر زبان سے روکنے کی ہمت نہ ہو تو پھر اپنے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کی سب سے کمزور کیفیت ہے ۔ “ ( سنن ابوداود)

    "اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اور اچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے، اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں"۔ ( قرآن 3 : 104)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,239
    یقینا بھلائی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے لئے اچھے اخلاق کی بھی ضرورت ہے۔

    شیئر کرنے کا شکریہ، جزاک اللہ خیرا!
     
    • مفید مفید x 1
  3. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    وایاک ۔۔
    جی ہاں ۔۔۔ بہت ہی اہم نکتہ ہے ورنہ ہماری دعوت بے اثر ہے۔ بہت بہت شکریہ!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. صدف شاہد

    صدف شاہد ناظمہ

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    206
    جزاک اللہ خیرا
    بے حد عمدہ ایمان کو تازہ دم کرنے والی تحریر کے لئے ڈھیر سارا شکریہ

    اس زمرے میں چند باتوں کا خیال کرنے کی شدید ضرورت ہے کہ جب آپ کسی کو نیکی کی دعوت دیں یعنی بھلائی کی تلقین کریں اور جس کی جہاں اصلاح مقصود ہو اُس کے ساتھ نرمی، شفقت اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں یاد رکھیں نیکی کی طرف دعوت دینے والا صابر و بُردباد ہوتا ہے اور جو بات کہے اُس پر عمل کرنے والا بھی یعنی مبلغ اگر باعمل ہو تو اُسکی بات، نصیحت جلد اثر کرتی ہے ورنہ اُلٹا ضد پیدا ہونے لگتی ہے لوگوں کی نفسیات کے مطابق اُن کی سمجھ کی سطح پر آ کر دلائل کے ساتھ قائل کیا جائے نہ کہ تذلیل کی جائے۔ ۔اپنا قبلہ سیدھا نہیں کرتے اور دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہتے اسلام کو بحیثیت نظامِ حیات قبول کرنے اور اسلامی احکامات و تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ایمان کامل ہوتا ہے ایمان کے بنا مسلمان کا وجود بے معنی ہے کہ ہم صرف اس لئے مسلمان ہیں کہ ایک مسلم گھرانے میں پیدائش ہوئی ہماری۔بے شک یہ ایک بہت بڑی نعمت ہےایمان تو کُل ٹھہرا جس کا ایک فیصد حصہ بھی اگر حاصل ہو جائے تو وجود مکمل ہو جائے لیکن ہم اپنے عمل ، قول و فعل میں جھوٹے اور منافق ہیں ہیں ہم خودی کو کُل سمجھنے لگتے ہیں بے اختیار ہو کر اگر انسان اللہ کے اختیارات کو سمجھے تو وہ کوئی سمجھ نہیں ہوتی اللہ کو نعمتوں اور اختیارات کے زمانے میں سب سے بڑا اختیا روالا ماننے والا ہمیشہ دنیا و آخرت میں کامیا ب ہے ۔انفرادی و اجتماعی دونوں سطحوں پر اگر اصلاح ہو گی تبھی ایک بے مثال اسلامی ریاست کا وجود ممکن ہو سکے گا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  5. SZ Shaikh

    SZ Shaikh رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    53
    انشاءاللہ ضرور۔۔آپ کے قیمتی اور مخلصانہ مشوروں کا بہت بہت شکریہ ۔۔ اللہ آپ کو چزائے خیر دے۔ صحت وعافیت اور نظامت سے نوازے رکھے۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں