خطبہ حرم مکی کمزوروں اور بزرگوں سے اچھا تعامل از فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی حفظہ اللہ

سیما آفتاب نے 'خطبات الحرمین' میں ‏مارچ 19, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    [​IMG]
    مسجد حرام کے امام و خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعیقلی حفظہ اللہ
    جمۃ المبارک 28 جمادی الاخرہ 1439 ھ بمطابق 16 مارچ 2018
    عنوان: کمزوروں اور بزرگوں سے اچھا تعامل
    ترجمہ: محمد عاطف الیاس
    بشکریہ: کتاب حکمت


    پہلا خطبہ:
    الحمداللہ! ہر طرح کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ معاف کرنے والا اور بہت عزت والا ہے۔ وہی دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن لاتا ہے۔ اسی کا فرمان ہے:
    ’’اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔‘‘ (سورۃ الانعام: 96)
    میں اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر اور تمام صحابہ کرام پر۔
    بعد ازاں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    میں اپنے آپکو اور آپ سب کو پرہیزگاری اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    ’’دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔‘‘ (سورۃ الحشر: 18۔ 20)
    اے امت اسلام!
    انسان زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ پہلے بچپن کی کمزوری دیکھتا ہے جس میں وہ انتہائی بے بس ہوتا ہے۔ پھر وہ نوجوانی کی عمر کو پہنچتا ہے اور پھر چند ہی سال گزرتے ہیں کہ اسے پھر دوبارہ کمزوری دیکھنا پڑتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
    ’’اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت میں تمہاری پیدائش کی ابتدا کی، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کر دیا وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الروم: 54)
    نبی کریم ﷺ کمزور لوگوں کے ساتھ اچھا تعامل کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ چاہے وہ کمزور لوگ چھوٹے ہوں یا بڑے، بچے ہوں یا بوڑھے۔ آپ ﷺ خود بھی ان لوگوں کے ساتھ اچھا تعامل کرتے تھے اور لوگوں کو بھی ان کے ساتھ بھلے طریقے سے پیش آنے کی تلقین کرتے تھے۔
    سنن ترمذی میں صحیح سند کے ساتھ سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اپنے کمزور لوگوں میں تلاش کرو! آپ کو رزق اور نصرت کمزور لوگوں کی وجہ سے ہی ملتی ہے۔
    یعنی اگر میری محبت چاہتے ہو اور میری قربت کے خواہشمند ہو تو کمزور لوگوں کا خیال رکھو، ان کے احوال جانتے رہو اور ان کے حقوق محفوظ رکھو، ان کے ٹوٹتے دل جوڑتے رہو اور ان کے ساتھ قول و عمل میں اچھا معاملہ کرو۔
    نبی ﷺ کی رحمت کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ بچوں کے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آتے تھے۔
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے بڑھ کر کسی شخص کو بچوں کے ساتھ نرمی کرنے والا نہیں پایا۔
    اسی طرح انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے قریبی علاقے میں دودھ پیتے تھے۔ آپ ﷺ ہمارے ساتھ اس کی طرف جاتے، ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کو اٹھاتے اور انہیں چوم کر پھر واپس لوٹ آتے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
    اسی طرح صحیح بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص سے کہا جو اپنے بچوں کو چومتا نہیں تھا کہ: اگر اللہ تعالی نے تیرے دل سے رحمت نکال ہی دی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔
    آپ ﷺ بچوں کا خاص خیال رکھتے، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان کے ساتھ مذاق بھی کیا کرتے تھے، ان کی احوال پوچھتے تھے اور ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہیں۔
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ میرا ایک بھائی تھا جس کا نام تھا ابو عُمَیر۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آتا تو آپ اسے کہتے: ابو عمیر! نُغَیر کا کیا حال ہے۔ یعنی تمہاری چھوٹی چڑیا کا کیا حال ہے جس سے تم کھیلتے تھے۔ کبھی آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے اور نماز کا وقت ہوجاتا تو وہ حکم دیتے کہ ہمارے استعمال کی چٹائی کو صاف کر لیا جائے اور اس کے اوپر پانی چھڑک دیا جائے۔ پھر آپ ﷺ امامت کرواتے اور ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھتے۔ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
    نبی ﷺبچوں کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے ان کے بچپنے کا خیال رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ انہیں کھیل کود کی ضرورت ہے۔ چنانچہ وہ ان کو سکھاتے مگر جھڑکتے نہیں تھے، انہیں یاد دہانی کراتے مگر سختی نہ کرتے۔
    صحیح مسلم میں سیدنا انس رضی اللہ ہو تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بہترین اخلاق والے تھے۔ ایک روز آپ نے مجھے کسی کام بھیجا تو میں نے کہا خدا کی قسم! میں نہ جاؤں گا! اور دل ہی دل میں میں سوچ رہا تھا کہ میں جاؤں گا، کیونکہ آپ نے مجھے حکم دیا ہے۔ یہ کہہ کر میں نکل گیا اور راستے میں بچّوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ آئے اور پیچھے سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آپ ﷺ مسکرا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: اُنَیس! جہاں میں نے کہا تھا وہاں چلے جاؤ! پھر میں نے کہا: جی! اے اللہ کے رسول! میں ابھی جاتا ہوں!
    اے امت اسلام!
    جس طرح نبی کریم ﷺ نے چھوٹے بچوں کے ساتھ رحمت والا معاملہ کرنے کی تلقین کی ہے اسی طرح اپنے بڑوں کا احترام کرنے اور ان کے ساتھ بھی نرمی والا معاملہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ ہو تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بوڑھا آدمی نبی ﷺ کو تلاش کرتا ہوا آیا تو مجلس میں بیٹھے لوگوں نے اس بوڑھے آدمی کے لیے جگہ بنانے میں تھوڑی تاخیر کردی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
    ’’جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑے اس کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘
    اسے امام ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    یعنی جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی قدر اور عزت نہیں کرتا اور ان کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے اور اسلام میں گزری ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں آگے نہیں کرتا وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے۔
    شعب الایمان میں روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے بچوں کے ساتھ رحمت والا معاملہ کرنے اور بڑوں کے ساتھ نرمی برتنے والے کو جنت کی بشارت دی ہے۔
    اسی طرح سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انس! بڑوں کی عزت کیا کرو! چھوٹوں پر رحم کیا کرو! ایسا کرو گے تو تو جنت میں میرے ساتھی بنو گے۔
    اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    بھلا ہم عمر رسیدہ لوگوں کی عزت کیسے نہ کریں جبکہ رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ
    ’’بزرگ مسلمان کی عزت اللہ تبارک وتعالیٰ کے اجلال کا حصہ ہے۔‘‘
    اسے امام ابوداؤد نے حسن درجہ کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    ہم اپنے بڑوں کی عزت کیوں نہ کریں جبکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
    آپ کے بڑوں کی وجہ سے ہی آپ کو برکت ملتی ہے۔ اسے ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان نے روایت کیا ہے۔
    تو اے خیر اور برکت کے متلاشیو! بڑوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرکے برکت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ کیوںکہ ایسا کرنے سے انسان نیکی اور احسان بھی کرتا ہے اور اسے اچھا مشورہ بھی ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ نیک لوگوں کی صحبت بھی نصیب ہوتی ہے۔
    اے ہمارے بزرگو!
    اللہ آپ کی کمزوری پر رحم فرمائے! آپ کی مشکلات آسان کرے! آپ کی نیکیوں کو بڑھائے۔ آپ نے بہت محنت کی ہے، ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے، ہماری تربیت کی ہے اور ہمیں تعلیم دی ہے۔ اگر اس دنیا میں آپ کی محنت کو بھلا دیا گیا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے کبھی نہ بھولے گا۔ اگر لوگ آپکی نیکی کا بدلہ نہیں دیتے تو یاد رکھیے کہ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور اللہ کے پاس بہترین جزا ہے۔
    جزا بھی ویسی ہی ہوتی ہے جیسا عمل ہو۔ جو بڑوں کی عزت کرتا ہے اللہ تعالی اسے لمبی زندگی نصیب فرما تا ہے اور اسے ایسے لوگوں کی صحبت نصیب فرماتا ہے جو بڑھاپے میں اس کی عزت کریں۔
    سنن ترمذی میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    جو نوجوان کسی بزرگ کی عزت کرتا ہے اللہ تعالی اس کے بڑھاپے میں اسے ایسے لوگ ضرور نصیب فرماتا ہے جو اس کی عزت کریں۔
    اللہ کے بندو!
    بڑوں کے حقوق یہ ہیں کہ ان کا اکرام کیا جائے، ان کی عزت کی جائے، انہیں اپنی مجلسوں میں موزوں ترین جگہ پر بٹھا کر ان سے مجلسیں سجائی جائیں، انہیں بیٹھنے کے لئے بہترین جگہ دی جائے، انہیں ان ناموں سے پکارا جائے جو انھیں سب سے زیادہ پسند ہوں، ان سے ملتے وقت مسکرا کر ملا جائے، ان کی غلطیوں سے درگزر کیا جائے اور ان کی بھلائیوں کا ذکر کیا جائے۔ بزرگوں کو ماضی کے کارناموں کے ذکر اور تعریف کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔
    رسول اللہ ﷺ اپنے مقام اور مرتبے کے باوجود ہمیں سکھاتے ہیں کہ بڑے شخص کی عزت کس طرح کی جائے اور اس کے ساتھ کس طرح کا تعامل کیا جائے۔
    مسند امام احمد میں روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد ابو قحافہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اٹھا کر رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے بٹھا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
    بزرگوں کو گھر میں رہنے دیتے۔ ہم خود ان کے پاس چلے جاتے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔
    امام ترمذی کی کتاب الشمائل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میرے پاس ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی! رسول اللہ ﷺ آئے اور پوچھنے لگے کہ یہ بڑھیا کون ہے؟ میں نے کہا: میری خالہ ہے۔ پھر اس بوڑھی عورت نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے۔ اس پر آپ نے فرمایا:
    اے ام فلاں! جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جاتی!
    وہ روتی ہوئی واپس لوٹ گئی۔ پھر آپ ﷺنے انہیں پیغام بھیجا کہ جنت میں کوئی بوڑھی عورت بڑھاپے کی حالت میں نہیں داخل ہوتی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے پھر اسے نوجوان کر دیتا ہے۔ فرمان الہی ہے:
    ’’ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے۔ اور انہیں با کرہ بنا دیں گے۔ اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن۔‘‘ (سورۃ الواقعہ : 35 ۔37)
    اے مسلمان معاشرے کے لوگو! اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ تھکاوٹ اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے جسم کو کمزوری لاحق ہوجاتی ہے اور اس وجہ سے اس کے صبر میں کمی اور زبان میں تیزی آجاتی ہیں۔ اس سب کے باوجود نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ بڑا ہی اچھا معاملہ کرتے تھے، ان کا دل لگائے رکھتے تھے اور ان کے ساتھ بڑی حکمت سے چلتے تھے۔
    مَیسُور بن مَخزَمَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ و سلم کے پاس کہیں سے کچھ پوشاکیں آئیں۔ میرے والد ابو محزمہ نے مجھے کہا: چلو نبی کریم ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ہمیں بھی ایک پوشاک دے دیں۔ چنانچہ وہ اپنے والد کے ہمراہ گئے اور دروازے کے قریب رک کر کوئی بات کرنے لگے۔
    اہل علم بیان کرتے ہیں کہ ابو مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی طبیعت میں ذرا سختی تھی۔
    میسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ بات کرنے لگے تو نبی ﷺ نے ان کی آواز کو پہچان لیا۔ آپ ان کی آواز سن کر باہر آگئے اور انہیں ایک پوشاک کی خوبیاں دکھاتے ہوئے فرمانے لگے: میں نے یہ پوشاک آپ کے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ میں نے یہ پوشاک آپ کے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا۔
    اللہ کے بندو! بزرگوں کا خیال کرنا اور ان کے کام آنا ایک بہترین عبادت ہے، مصیبتیں دور کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ بالخصوص جبکہ وہ بزرگ ہمارے اپنے والدین ہوں۔ ان کا خیال رکھنے سے بہت سی مشکلات بھی آسان ہو جاتی ہیں۔
    صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں وہ حدیث آئی ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے ان تین لوگوں کے متعلق بتایا کہ جو سفر میں بارش سے بچنے کے لیے کسی غار میں گھس گئے اور ایک بڑے پتھر نے غار کا منہ بند کر دیا۔ پھر تینوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کا ذکر کرکے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ ان تینوں میں سے ایک نے اپنا نیک عمل یہ ذکر کیا تھا کہ وہ اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتا تھا۔ یہ عمل اس غار سے ان کی نجات کا باعث بن گیا۔
    بوڑھے والدین کے کام کرنا اور ان کا خیال رکھنا تو جہاد فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے۔
    معجم طبرانی میں سیدنا کعب بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک طاقتور نوجوان گزرا۔ اس کی شکل و صورت اور توانائی دیکھ کر صحابہ کرام کو بڑا رشک آیا اور وہ کہنے لگے کہ اللہ کے رسول! اگر یہ شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا تو کیا خوب ہوتا! آپ ﷺ نے فرمایا:
    ’’اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کے کھانے کا رزق تلاش کرنے نکلا ہے تو یہ اللہ کی راہ میں ہے! اور اگر یہ اپنے والدین کے لئے رزق کمانے کے لئے نکلا ہے تو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہے! اور اگر یہ اپنے نفس کو پاکیزہ اور عفیف بنانے کے لیے نکلا ہے تو بھی اللہ کی راہ میں ہے! لیکن اگر یہ دکھاوا کرنے اور اپنی طاقت پر فخر و غرور کرنے کے لیے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کے راستے میں ہے۔‘‘
    فرمان الہی ہے:
    ’’تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔ اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔‘‘(سورۃ الاسراء: 23۔ 24)
    اللہ مجھے اور آپکو قرآن عظیم میں برکت عطا فرمائے! آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے! میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں! اپنے لیے اور آپ کے لیے اللہ تعالی سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔ آپ بھی اسی سے معافی مانگیے! یقینا! وہ معاف کرنے والا ہے۔
    دوسرا خطبہ!
    الحمداللہ! اللہ کے لیے بے انتہا، پاکیزہ اور بابرکت تعریف ہے! بالکل ویسی تعریف جیسی اللہ تبارک و تعالی کو پسند ہے اور جو اللہ تبارک وتعالی کی جلالت اور عظمت کے مطابق ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ کی رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، اور آپ کے نقش قدم پر چلنے والوں پر۔
    بعد ازاں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو!
    طویل زندگی اللہ تبارک و تعالیٰ کی ایک نعمت ہے جو اپنے بندوں میں سے چنیدہ لوگوں کو عطا فرماتا ہے۔ تو اللہ کے بندو! اس نعمت کو ان کاموں میں استعمال کرو کہ جو آپ کا عزت بنائیں اور آپکے رب کو راضی کریں۔ گزشتہ عمر میں جو کوتاہیاں ہوئیں ہیں اس کا کفارہ ادا کرتے ہوئے آخرت کی تیاری کرو کیونکہ اس عمر کا باقی حصہ شاید گزشتہ حصے سے سے زیادہ نہ ہو گا۔
    اپنی زندگی کے آخری ایام کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت پر لگائیں، کیونکہ اعمال کا دارومدار ان کے آخری حصے پر ہے۔ جو کسی کام کو کرتے ہوئے زندگی گزار دیتا ہے وہ اسی کام کو کرتے ہوئے مرتا ہے اور جو کوئی کام کرتے ہوئے مرتا ہے وہ اسی کام کو کرتے ہوئے پھر اٹھایا جاتا ہے۔ انسان اپنی لمبی زندگی کی وجہ سے مجاہد فی سبیل اللہ سے بھی بڑا اجر پا سکتا ہے۔
    مسند الامام احمد میں سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس دو شخص ائے، دونوں نے ساتھ ہی اسلام قبول کیا تھا اور ان میں سے ایک عبادت میں زیادہ آگے تھا، چنانچہ وہ اللہ کی راہ میں نکل گیا اور جہاد کرتا ہوا شہید ہوگیا اور دوسرا اس کے بعد ایک سال تک زندہ رہا پھر وہ بھی اپنے بستر پر فوت ہو گیا۔
    طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے میں کھڑا ہوں اور وہ دونوں جنت میں جانے کے منتظر ہیں! جنت کے اندر سے بلانے والا آتا ہے اور بعد میں اپنے بستر پر فوت ہونے والے کو اندر جانے کی اجازت دے دیتا ہے! پھر دوبارہ نکلتا ہے اور شہید کو بھی اجازت دے دیتا ہے! اور پھر دوبارہ باہر آتا ہے اور مجھے دیکھ کر کہتا ہے کہ تو واپس جا! ابھی تیرا وقت نہیں آیا۔ سیدنا طلحہ اٹھ کر اپنی خواب لوگوں کو سنانے لگے تو لوگوں کو انکی خاب پر تعجب ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بات نبی ﷺ تک بھی پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے پوچھا: اس خواب میں تمہیں کونسی چیز پر تعجب ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا! پہلا شخص عبادت میں زیادہ آگے تھا اور پھر اللہ کی راہ میں شہید ہوا لیکن دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل ہوگیا! آپ ﷺ نے فرمایا: کیا وہ اس کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا؟ صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اور رمضان کو بھی پایا اور اس کے روزے بھی رکھے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں بالکل! آپ نے فرمایا: اور اتنی نمازیں بھی پڑھیں اور اتنے سجدے بھی کیے؟ صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں! بالکل! آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کا فاصلہ اتنا دور ہے جتنا زمین وآسمان کا فاصلہ یا اس سے بھی زیادہ۔
    وہ شخص مبارکباد کا مستحق ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے طویل عمر دی ہو اور اس نے نیک اعمال میں اپنی زندگی گزاری ہو اور اس شخص کی بدبختی کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے کہ جسے اللہ تبارک و تعالی نے طویل عمر، کشادہ رزق اور تندرستی دی ہو مگر وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو راضی کرنے والے اعمال نہ کرتا ہو۔
    ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ کے رسول! کونسا شخص بھلا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کی عمر طویل اور عمل نیک ہو۔ دریافت کیا گیا کونسا شخص برا ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی عمر طویل ہو اور عمل برا ہو۔‘‘ اسے امام ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس کے فضل و کرم اور احسان کے واسطے سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں طویل زندگی عطا فرمائے اور نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے! یقینًا! وہ دعا سننے والا اور مراد پوری کرنے والا ہے۔
    اے مسلمان معاشرے کے لوگو! یاد رکھو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ایک ایسا حکم دیا ہے کہ جس کا آغاز اس نے اپنے ذکر سے کیا ہے۔ فرمایا:
    ’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔‘‘
    (سورۃ الاحزاب: 56)
    اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح رحمتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے! اے اللہ! محمد ﷺ پر اور محمد ﷺ کی آل پر اس طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔ یقینا! تو بڑا قابل تعریف اور پاکیزگی والا ہے!
    اے اللہ! چاروں خلفائے راشدین، ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے، صحابہ کرام سے، تابعین عظام سے اور قیامت تک ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہوجا۔ اے اللہ! اپنا خاص فضل و کرم اور احسان فرما کر ہم سب سے بھی راضی ہو جا۔
    اے اللہ! پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما! مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبتیں دور فرما! قرض داروں کے قرض ادا فرما! بیماروں کو شفا عطا فرما!
    اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ان کی پریشانی دور فرما! ان کی مصیبت آسان فرما! اے اللہ! ان کی جانوں کی حفاظت! ان کی عزتوں کی حفاظت فرما! ان کی بیماروں کو شفا عطا فرما اور ان کے شہیدوں کی شہادت قبول فرما۔
    اے اللہ! اپنا خاص فضل کرم اور احسان فرما کر بلاد حرمین کو ہر مشکل اور پریشانی سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ تو اس کی حفاظت فرما! اس کی نگہبانی فرما! اے اللہ! اس پر امن وامان اور سکون و چین کی نعمت ہمیشہ پرھنے والے بنا دے!
    اے طاقت اور عزت والے! یا ذالجلال و الاکرام! اے اللہ! جو ہمارے بارے میں، ہمارے ملک کے بارے میں، یا مسلمان ممالک کے بارے میں کوئی برا ارادہ رکھے تو اسے فرما!
    اے اللہ! سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کی نصرت فرما! اے اللہ! ان کی تائید فرما! انکی حفاظت فرما! اے اللہ! ان کے نشانے درست فرما اونے ثابت قدمی نصیب فرما! اے اللہ! تو ان کا معاون اور مددگار بن جا! اے ارحم الراحمین! انھیں اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت پر اجر عظیم عطا فرما۔
    اے اللہ! ہمارے والدین کو معاف فرما! اے اللہ! وہ بچپن میں ہمارا خیال رکھتے تھے اے پروردگار تو انھیں معاف فرما! اے اللہ! جون میں سے فوت ہو گیا ہے تو اسکی قبر پر رحمت نازل فرما اور اس کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا۔ ہمیں اور اسے جنت الفردوس میں کرتا فرما۔ اے سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والے! اے اللہ! یا ذالجلال والاکرام! ہمارے والدین میں سے جو زندہ ہیں اسے لمبی زندگی عطا فرما اور اسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس کا خاتمہ نیک اعمال پر فرما۔
    ’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔‘‘ (سورۃ الصافات: 80۔ 83)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا سسٹر!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    وایاکم :)
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,313
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    550
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    507
    وایاکم
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں