میاں تم اپنا کام کرو

صدف شاہد نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏مارچ 20, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    میاں ! تم اپنا کام کرو

    [​IMG]

    ہوا چل رہی ہے۔ ہوا کا کام چلنا ہے۔ یہ چلتی رہے گی۔ میاں تم اپنا کام کرو۔
    اس آواز نے مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا۔ میں بول اٹھا ۔ یہ آواز کیوں سنائی دے رہی ہے۔
    میاں ۔ آواز کا کام ہے سنائی دینا ۔ تم اپنا کام کرو۔
    فضا میں ایک چیخ ابھری۔ چند لمحے بعد معدوم ہوگئی۔
    میں کہہ اٹھا۔ یہ چیخ کیسی ہے۔؟
    وہ بولا۔ کوئی وار کرتا ہے ۔ درد ہوتا ہے۔ چیخ ابھرتی ہے۔ پھر مٹ جاتی ہے۔
    میاں تم اپنا کام کرو ۔

    [​IMG]


    ڈاکٹر کے کلینک پر رش تھا۔ معلوم ہوا۔ غلط انجیکشن لگانے پر ایک مریض چل بسا۔
    ایسا کیوں ہوا؟
    میاں ۔ یہ تو اکثر ہوتا ہے جب دو چار سال ڈاکٹر کے پاس کمپوڈری کر کے اپنی دکان سجا کر بیٹھ جاتے ہیں تو ایسا ہوتا ہے ۔
    میاں ۔ ایسا ہوتا رہا ہے۔ ہوتا رہے گا۔ تم اپنا کام کرو۔
    مرغی فروش نے تکبیر پڑھ کر چار مرغیوں کو ایک ساتھ ذبح کیا۔
    میں چیخ پڑا۔ یہ کیا!!!!!!!
    ایک حلال۔ باقی حرام۔۔۔
    وہ بول اٹھا۔ اتنا وقت کہاں کہ حلال حرام کے چکر میں پڑیں ۔ہم ایک تکبیر سے سو مرغی حلال کرتے ہیں ۔ بھئی تکبیر کا بڑا اثر ہوتا ہے۔
    میاں ایسا ہوتا ہے۔ تم اپنا کام کرو۔
    ایک جگہ نوجوان بے ہنگم انداز میں ناچ رہے تھے۔
    پاس ہی گرلز اسکول تھا۔ لڑکیاں آ جا رہی تھیں ۔
    میں چلایا۔ "یہ کیا ۔۔ یہاں احترام کا ماحول ہونا چاہیے۔ اور یہ لڑکے یہاں ناچ گا رہے ہیں ۔۔
    وہ جھلا کر بولا۔۔ خاموش ہو جاو۔ نئی نسل کی تفریح برباد مت کرو۔۔
    میاں ۔ نوجوانی میں خون گرم ہوتا ہے۔ گرم چیز ایک جگہ ٹکتی ہے بھلا ۔ خون اچھلتا ہے ۔ اچھلتا رہتا ہے۔
    تم اپنا کام کرو۔

    میں ایک بازار میں جا پہنچا۔ عورت اور مرد ایک ساتھ آ جا رہے تھے۔ ایک جانب کالے دانتوں والا شیطان کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں شہد نما چھتا تھا۔۔ وہ اپنا ایک ہاتھ لمبا کرتا۔ اور ان عورتوں اور مردوں کے سینے سے گزر کر دل میں پہنچا دیتا ۔
    میں چیخ کر بولا ۔
    شرم کرو۔ شرم کرو۔ یہ کیا کر رہے ہو۔ یہ ہوس کے وسوسے ان میں کیوں داخل کرتے ہو۔
    وہ ہنسا۔ اس کے کالے دانت نمایاں ہوگئے۔
    "ازل سے میں اپنا کام کرتا آرہا ہوں ۔ میاں ۔ تم اپنا کام کرو۔"
    میں ایک مسجد میں داخل ہوا ۔
    سیاہ داڑھی والا وہ شخص مجھے اچھا لگا۔ وہ بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ اچانک میں نے ایک خوف ناک منظر دیکھا ۔
    اس کا ہاتھ ایک معصوم بچی کے سینے کی جانب بڑھا۔ میں لرز گیا۔
    رک جاو۔ ایسا نہ کرو ۔ خدا کا واسطہ۔ رک جاو۔
    وہ مسکرا دیا۔
    یہی تو دور ہے لطف اندوزی کا۔ یہ تو چلتا رہتا ہے۔میاں تم اپنا کام کرو۔
    ۔۔۔۔
    میں نے واپسی کی راہ لی۔ خاموشی کی چادر اوڑھ کر لیٹ گیا۔
    رفتہ رفتہ مجھے نیند آگئی۔
    عالم خواب میں کوئی زور سے چلایا۔
    اے ضمیر۔ سو کیوں گئے۔۔۔
    میں مسکرایا۔
    میاں ۔! ایسا تو چلتا رہتا ہے۔ تم اپنا کام کرو

    غلام یاسین نوناری
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    اس لئے تو اللہ نے ہمیں بہترین امت کہا ہے کہ ہمیں اپنے کام سے کام نہیں رکھنا بلکہ لوگوں کو نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا ہے، اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ذلت و رسوائی ہی ہمارا مقدر ہوگی، اور آج معاشرے میں پھیلی بے حسی، بے راہ روی اور ظلم و جبر کے ذمہ دار وہی تو ہیں جو کہتے آئے ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھیں، ہر ایک نے اپنی قبر میں جانا ہے، نہیں جو کچھ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے، آپ کی ناک تلے کیا جا رہا، اگر آپ اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے تو آپ بھی اتنے ہی قصور وار ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
    • متفق متفق x 1
  3. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308

    بالکل سہی کہہ رہے ہیں آپ یہ کچھ دن پہلے ہی نیوز سُن رہی تھی میں کہ اِک جعلی لیڈی ڈاکٹر صاحبہ ایک سال سے ہسپتال میں موجود تھی گائنی شبہ میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کتنی معصوم زندگیوں سے کھیل
    رہے یہ لوگ تبھی یہ شئیرنگ لگائی ہے ضرور عملے کے لوگ بھی ملوث ہوں گے اس میں خیر ۔۔۔۔۔

    قاسم علی شاہ کا اک آ اقتباس شئیر کر رہی ہوں یہاں ۔۔۔۔۔۔۔

    کہتے ہیں کسی جنگل میں آگ لگ گئی اور اتنی خوفناک آگ کو دیکھتے ہوئے سارے جانور جنگل سے بھاگ گئے۔ جنگل میں ایک درخت پر چڑیا کا گھونسلہ تھا چڑیا نے جب آگ دیکھی تو فورا اُڑی اور جنگل کے پاس موجود ندی کے کنارے پر پہنچی ،اُس نے اپنی چونچ میں پانی کی چند بوندیں بھریں اور جنگل کی آگ پر پھینکنی شروع کیں ۔یہ عمل اُس نے کئی بار کیا اِسی دوران جنگل کے بادشاہ شیر کی نظر اُس پر پڑ گئی ۔شیر بولا کہ اے چڑیا تیری چندپانی کی بوندیں کہاں جنگل کی آگ بجھائیں گی چڑیا نے کہا :
    بادشاہ سلامت آپ کا سوال اتنااہم نہیں کہ یہ چند بوندیں کہاں جنگل کی آگ بجھائیں گی ؟ بلکہ سوال اُس بادشاہ کُل کائنات کا اہم ہو گا مجھ سے آخرت کے روز پوچھے گا کہ اے چڑیا جب پورا جنگل آگ سے جھلس رہا تھا تو تُو نے اس جنگل کی آگ بجھانے کے لئے کیا کیا؟تب میں انتہائی ادب اور احترام سے اپنے اللہ کو یہ بتا سکوں گی کہ اے مالکِ کُل کائنات ! جب جنگل جل رہا تھا تو میں اُسے بچانے کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق چند بوندیں پانی کی پھینکیں تھیں اور میرا مالک خوش ہو کر فقط اتنا کہہ دے گا کہ جا چڑیا میں آج تجھ سے راضی ہوا ۔۔۔۔۔


    مالکِ کل کائنات تو ایک حقیر مچھر کی مدد سے نمرود جیسے شہنشاہ کو ذلت کی موت دے سکتا ہے اور اپنی حکمت دکھانے پر آئے تو کمزور مکڑی کے جالے کی مدد سے اپنے محبو ب ﷺ جو وجہ تخلیقِ کائنات ہیں کو حفاظت فراہم کر سکتا ہے
    ہم ایسے ﷺنبی کی اُمت ہو کربے راہ روی کا شکار ہیں نیکی کی پہل کرنے کے لئے ہرپہلا اُٹھنے والے قدم کسی دوسرے کی پہل کے انتظار میں رہتا ہے اس لئے معاشرے میں بہتری کے لئے ہم سب کو اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالنا ہے

    جزاک اللہ خیرا



    ٖ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  4. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    445
    جو مشین سے ذبح کی جاتیں ہیں ان پر ایک ہی مرتبہ تکبیر پڑھی جاتی ہے اور ایک وقت میں کئی ہزار مرغیاں ذبح ہوتی ہیں اور بعض تو تکبیر پڑھ کر سوئچ آن کر دیتے ہیں اور جب تک مشین چلتی رہے وہی تکبیر کفایت کرتی ہے اور انکے پاس مفتیان کے فتاوی ہیں اسطرح حلال و جائزہونے کے

    اور ہمارے یہاں دو قسم کے ذبیحہ ہیں مشین سے اور ہاتھ سے ، مشینی سستا ہے بانسبت ہاتھ سے ذبح ہونے والے کے

    " حلال مانیٹرنگ اتھارٹی "
    ہاتھ سے ذبح ہونے والے مذبح خانہ پر ایک انسپیکٹر کھڑا ہوتا ہے جو یہ ہاتھ سے ذبح کرنے والے پاس کھڑا ہوتا ہے اور پھر وہی مہر لگاتا ہے اس پورے بکس پر اور یہ پوری ایک ٹیم ہے جو ایسی گوشت کی دکانوں والوں کو سرٹیفکیٹ دیتے ہیں جسکے یہ ماہوار چارج کرتے ہیں اور اگر کوئی گھپلہ کرے تو اسکا سرٹیفکیٹ اسی وقت منسوخ کردیا جاتا ہے " حلال مانیٹرنگ اتھارٹی "

    ذبیحہ کے حلال ہونے کیلئے تسمیہ پڑھنا شرط ہے، اور اہل علم کے راجح موقف کے مطابق بھولنے یا لا علمی کی وجہ سے یہ ساقط نہیں ہو سکتا۔

    اصولی طور پر تسمیہ کسی معین جانور کو سامنے رکھ کر پڑھا جاتا ہے۔
    لیکن ایک ہی وقت میں متعدد جانوروں کو ذبح کرنے والے خود کار آلات کے سامنے آنے پر علمائے کرام ایسے آلات سے ذبح شدہ جانور کے حلال ہونے کیلئے تسمیہ کی شرط سے متعلق متعدد آراء رکھتے ہیں:

    1- ایک ہی وقت میں اگر مشین سے کئی جانور ذبح ہوتے ہوں تو پھر مشین چلانے والے کی جانب سے ایک بار مشین چلانے پر ایک دفعہ تسمیہ پڑھنا کافی ہوگا، یہی فتوی دائمی فتوی کمیٹی نے دیا ہے اور اسلامی فقہی اکیڈمی کی جانب سے قرار داد بھی یہی پاس کی گئی ہے۔

    2- مشین چلانے والے کی طرف سے ایک بار تسمیہ پڑھنا کافی ہے، بشرطیکہ جن مرغیوں کو ذبح کرنا چاہتا ہے وہ اس کے سامنے ہوں، مثال کے طور پر مرغیوں کو چین وغیرہ میں لگا دیا گیا ہو۔ یہ فتوی شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا ہے۔

    3- ان آلات کیساتھ ذبح کرتے ہوئے تسمیہ پڑھنا مشکل ہے، اس لیے ان کے ذریعے ذبح کرنا حلال نہیں ہے۔

    ان میں سے راجح پہلا موقف ہی ہے؛ اس کے درج ذیل دلائل ہیں:

    دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی میں ہے کہ:
    "خود کار طریقے سے ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟ اس کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ مشینوں کے ذریعے بیک وقت دسیوں مرغیاں ایک ہی تسمیہ کہہ کر ذبح کر دی جاتی ہیں، اور اگر کوئی شخص بہت بڑی تعداد میں مرغیاں ذبح کر رہا ہے تو کیا اس کیلئے ایک ہی بار تسمیہ کہنا درست ہے؟ یا ہر بار اسے الگ سے تسمیہ کہنا ہوگا؟"
    تو کمیٹی نے جواب دیا:

    1- جدید آلات کے ذریعے ذبح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ یہ آلات تیز دھار والے ہوں، اور حلق کیساتھ دیگر رگوں کو بھی کاٹ دیں۔

    2- اگر مشین ایک وقت میں متعدد مرغیاں ذبح کرے تو سب کیلئے ایک بار تسمیہ پڑھنا کافی ہوگا، اور یہ تسمیہ کوئی مسلمان یا اہل کتاب میں سے کوئی بھی مشین کو ذبح کی نیت سے چلاتے وقت پڑھے گا۔

    3- اگر مرغی کو ذبح کرنے والا شخص اپنے ہاتھ سے مرغیاں ذبح کر رہا ہے تو ہر مرغی پر الگ سے بسم اللہ پڑھنی ہوگی۔

    4- ذبح کرنے کی جگہ سے ذبح کرنا لازمی ہے، یعنی خوراک کی نالی سمیت خون کی دونوں یا کوئی ایک رگ لازمی کاٹی جائے۔

    بکر ابو زید۔۔۔ صالح الفوزان ۔۔۔ عبد الله بن غدیان ۔۔۔ عبد العزیز بن عبد الله آل شیخ " انتہی
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (22/463)

    اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی (22/ 462) میں یہ بھی ہے کہ:
    "جانور ذبح کرنے والی مشین کو چلاتے وقت صرف ایک ہی بار تسمیہ پڑھنا کافی ہے؟ یہ واضح رہے کہ مشین چلاتے وقت صرف ایک بار ہی تسمیہ پڑھا جاتا ہے"

    تو کمیٹی نے جواب دیا:
    "متعدد جانوروں کو یک بار ذبح کرنے کیلئے مشین چلانے والا شخص ایک بار تسمیہ کہہ دے تو یہ کافی ہوگا، بشرطیکہ مشین چلانے والا شخص مسلمان ، یا اہل کتاب میں سے یہودی یا عیسائی ہو۔
    عبد الله بن غدیان ۔۔۔ عبد الرزاق عفیفی۔۔۔ عبد العزیز بن عبد الله بن باز" انتہی

    گزشتہ اسلامی فقہی اکیڈمی کی قرار دادوں میں یہ بھی ہے کہ:
    "آٹھویں شق: اصولی طور پر مرغیوں اور دیگر جانوروں کو ہاتھ سے ذبح کیا جائے ، تاہم اگر دوسری شق میں مذکور تمام شرائط اور ضوابط پورے ہوں تو پھر مرغیوں وغیرہ کو خود کار آلات سے ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چنانچہ یک بار میں جتنی بھی مرغیاں ذبح ہوں ان کیلئے ایک بار تسمیہ پڑھنا کافی ہے، اور جیسے ہی یہ تسلسل ٹوٹے تو پھر دوبارہ سے تسمیہ پڑھنا ہوگا" انتہی
     
    Last edited: ‏مارچ 20, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    اس سلسلے میں ایک بہترین مثال یہ بھی ہے کہ فرض کریں ایک آدمی پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہو اور ایک بچہ رینگتے ہوئے کھائی کی طرف جا رہا ہو اور یہ بندہ اسے نہ بچائے کہ اسے بس اپنے کام سے کام رکھنا ہے تو سوچیں کہ وہ آدمی قانون اور شریعت کی نظر میں قابل گرفت ہوگا یا نہیں؟ اسی طرح جب ہمارے سامنے کوئی غلط کام ہو رہا ہو تو ہم اگر اسے روک نہیں پاتے تو کم از کم اس کا تذکرہ تو کریں اگر وہ بھی نہیں کر پاتے تو ایمان کی کم ترین سطح پر اس کو برا تو سمجھیں۔ لیکن شاید اب کسی کو یہ کہنے بھی ضرورت پیش نہیں آتی کہ اپنا کام کرو کیونکہ ضمیر مردہ ہو چکے ہیں اور احساس دفن ہو چکا ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    509
    اس "اپنے کام سے کام رکھنے" اور "جیو اور جینے دو" کی سوچ نے ہمیں اپنے بھی کسی کام کا نہیں چھوڑا۔۔۔ ہم دوسرے کا بھلا تو کیا سوچیں گے اپنے بھلے سے بھی گئے کہ "یہی دنیا کا چلن ہے" ۔ نیکی اور بدی کا تصور تو جیسے ختم ہو گیا ہے ۔۔ جب آپ کسی کام کو برا سمجھیں گے تو خود وہ کام کرنے سے رکیں گے اور اگلا قدم دوسروں کو روکنا یا ٹوکنا ہوگا ۔

    چڑیا والے واقعے سے مجھے بھی ایک واقعی یاد آیا جو اس وقت کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ برد کرنے کے لیے آگ تیار کی جا رہی تھی تو ایسے میں ایک پرندہ اپنی چونچ میں پانی کے قطرے لاتا اور اس آگ پر ڈالتا ۔۔ کسی نے کہا کہ بھلا یہ چند قطرے کیسے اس بڑی آگ کو بجھا پائیں گے تو وہ پرندہ جواب دیتا ہے کہ " مجھے یہ فکر نہیں یہ چند قطرے اس آگ کو بجھا پائیں گے یا نہیں مجھے یہ امید ہے کہ اللہ کے ہاں میرا نام آگ بجھانے والوں لکھا جائے گا نہ کہ آگ بھڑکانے والوں میں۔"

    سو ہمیں اپنی بساط بھر 'امر بامعروف ونہی عن المنکر' کا فریضہ انجام دیتے رہنا چاہئیے۔

    اتنی عمدہ شئیرنگ کے لیے جزاک اللہ خیرا
    خوش رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  7. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    بالکل یہی بطور امت ہم پر فرض ہے، ورنہ کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ اپنا دین چھوڑو نہیں دوسرے کا چھیڑو نہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • متفق متفق x 1
  8. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    509
    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,614
    "میاں" صاحب تو اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ چاہے سیاست کا میاں ہو یا کوئی گدی نشیں میاں۔۔۔ اور تو اور گھر میں بھی ایک "میاں" ہوتے ہیں۔ وہ بھی اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ ابتسامہ
    اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب لوگ اپنی اپنی ذات میں "میاں" ہیں۔ جس کو صرف اپنے آپ سے غرض ہوتی ہے۔ نتیجتا سیاست والے میاں حاکم ہیں اور باقی میاں محکوم، اور گھر والے میاں میاوں ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. ابو حسن

    ابو حسن محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 21, 2018
    پیغامات:
    445
    یہ نعرہ بدعتی ملاؤں نے اپنی عوام کو سکھایا ہے وگرنہ إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ

    دین وہی ہے لیکن اس میں بدعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے

    اسی وجہ سے یہ نعرہ ایجاد کیا گیا " اپنا دین چھوڑو نہیں دوسرے کا چھیڑو نہیں " نعرہ میں نے نام رکھا ہے

    ایک بدعتی گروپ نے مجھے حرم بیت اللہ میں یہ کہا " لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ " جبکہ میں انکو سنت عمل کا بتا رہا تھا اور اس سورۃ میں کفار کو جواب دیا گیا اور ان بدعتی ملاؤں نے اسکو مسلمانوں پر فٹ کردیا

     
    Last edited: ‏مارچ 21, 2018
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  11. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308

    اس بارے علم میں اضافے کے لیے
    جزاک اللہ خیرا
     
  12. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    آپ نے بڑی عمدہ مثال سے واضح کیا ہے
    جزاک اللہ خیرا
     
  13. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    جی سسٹر بالکل
    تھوڑا تھوڑا حافظے میں ہے ۔۔۔۔۔
    اس پرندے کا نام ابابیل تھا جہاں تک میرے ذہن میں آ رہا ہے اور اس پرندے کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ قرآن مجید کی سورہ فیل میں اس کا ذکر کیا گیا ہے یمن کا بادشاہ ابرہہ نے جب مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی
    نیت سے حملہ کیا تو بفضلِ اللہ ابابیل پرندوں نے بھی
    جھنڈ کی صورت اُن کی فوج پر کنکریوں سے جوابی حملہ کیا تھا ۔ابرہہ کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچا اور سب کے سب ابرہہ اور اس کے ہاتھیوں سمیت اس طرح ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں
    پاکستان نےبھی ۲۲۰۰ کلومیٹر تک پرواز کرنے والے پہلے میزائل کے تجربے کو بھی اسی نسبت سے ابابیل کا نام دیا جو دشمنانِ وطن کے لئے موت کا سامان ہے
    ابابیل کے گوشت کو تبھی حرام قرار دیا نبیﷺ نے کہ لوگ اس کا شکار نہ کریں ۔یہ پرندہ اُڑتے ہوئے بھی ہوا میں شکار کر سکتا ہے
    اس طرف توجہ دلانے کے لئے بے حد شکریہ
    اللہ پاک ہمیں امر بامعروف ونہی عن المنکرکا فریضہ سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
    سلامت رہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  14. صدف شاہد

    صدف شاہد نوآموز.

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2018
    پیغامات:
    308
    بہت اچھا جی
    گو کہ میاں میاں کی زبان خوب سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔
    گھر والے میاں میاوں زیادہ اس پہ اکتفا کرتے ہیں ۔۔۔۔
    ایک چپ ہزار سُکھ
     
  15. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    509
    جی شاید ابابیل ہی تھا وہ پرندہ ۔۔

    جزاک اللہ خیرا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    ایسا کوئی مستند واقعہ کسی خاص پرندے کے ساتھ منسوب نہیں ہے، بلکہ مسند احمد کی ایک حدیث کے مطابق جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو تمام جانور آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگے، سوائے چھپکلی کے جو پھونکیں مار کر آگ سلگانے لگی تھی۔ اسی لئے رسول اللہ کا حکم ہے کہ چھپکلی کو قتل کر دیا جائے۔

    رہا ابابیل تو یہ کسی خاص پرندے کا نام نہیں بلکہ پرندوں کے جھنڈ کو ابابیل کہا جاتا ہے۔
     
  17. سیما آفتاب

    سیما آفتاب محسن

    شمولیت:
    ‏اپریل 3, 2017
    پیغامات:
    509
    جی مستند کا تو شک ہے اسی لیے میں نے کہا تھا کہ "بیان کیا جاتا ہے" ۔۔ اور اکثر محافل میں کسی چھوٹی کوشش کی حوصلہ افزائی کے لیے ذکر کیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم
    جی میں نے بھی ایک بار ابابیل سے منسوب ایک واقعے کی تصدیق کے لیے تحقیق کی تھی تو مجھے دونوں باتیں ملیں
    ابابیل حرام ہے یا حلال ۔۔ بحوالہ محدث فورم

    اللہ بہتر جانتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں