[سیاسی شعور] ہم سیاسی کام کیسے کریں؟-1: ابتدائیہ، پس منظر، ضرورت، مقصد

دیوان نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏مارچ 20, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. دیوان

    دیوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    36
    السلام علیکم، ایک دلچسپ موضوع کا آغاز کررہا ہوں۔ جہاں تک میری معلومات ہے اردو زبان میں اس طرح کی کوئی چیز دستیاب نہیں ہے۔ان شاء اللہ چند قسطوں میں ایک مکمل لائحہ عمل پیش کروں گا جس کا مقصد آپ کی قوت فکر کو مہمیز لگانا ہے۔ پڑھنے کے بعد اپنی رائے سے ضرور نوازیے گا۔
    =============================================
    ابتدائیہ
    کہا جاتا ہے اعمالکم عمالکم یعنی جیسے اعمال ویسے حکام۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ الناس علی دین ملوکھم یعنی لوگ اپنے حاکم کے طرز پر چلتے ہیں۔ حاکموں کا جو طرز عمل ہے اس سے ہمارے ٹاک شوز بھرے ہوئے ہیں۔ اور عام پاکستانیوں کے متعلق بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنے حاکموں سے مختلف ہیں۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھیں تو کسی طرح کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ اب بس قیامت کا انتظار رہ جاتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود جو بات میری سمجھ میں آتی ہے کہ جو کچھ میں کرسکتا ہوں کر گزروں۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے:
    اگر (بالفرض) قیامت طاری ہوچکی ہو اور (اس وقت) تم میں سے کسی کے پاس کھجور کا پودا ہو (جس کو وہ لگانا چاہتا ہو) تو اگراس سے کے لیے ممکن ہو کہ اس کو لگا دے تو ایسا کر گزرے (مسند احمد)
    یعنی قیامت کے شروع ہونے کے باوجود نیک عمل سے مت رکو۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ایک کوشش آپ کے سامنے ہے۔ نتیجہ اللہ کے حوالے!
    اس کتابچے کا پس منظر
    پچھلے سال یعنی 2017ء میں امریکہ میں صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی خود امریکیوں کے لیے غیر متوقع تھی۔ اس کی نااہلی روز روشن کی طرح عیاں تھی لیکن بہرحال وہ امریکہ کا صدر بن گیا۔ فکر رکھنے والے لوگ فورا حرکت میں آئے اور اس کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا گیا اور کچھ اقدامات بھی کیے گئے تاکہ اس کو ناکام بنایا جائے۔ اس طرح کے لوگوں میں سے ایک جوڑے نے اپنی نوکریاں چھوڑ کر ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اس تحریک کے کام کو کرنے کے لیے ایک کتابچہ تیار کیا تاکہ جو لوگ ان کا ساتھ دیں ان کو معلوم ہو کہ کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے۔ اسی کتابچے کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپنے ماحول کے مطابق یہ کتابچہ تیار کیا ہے۔
    یہاں مجھے اپنا وہ سوال یاد آگیا جو میں نے ایک عالم دین سے کیا تھا۔ میں ان محترم سے سوال کیا تھا کہ ہم کیوں پستی کا شکار ہیں جب کہ مغربی دنیا ترقی پر ہے؟ ان کا جواب تھا کہ جب ہمارے اندر ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے کہ وہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا یعنی نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا اپنی ذمہ داری سمجھیں گے تو ہمارے بھی حالات بدل جائیں گے۔ یہاں اتنا جان لیجیے کہ بعض علما کے نزدیک امر بالمعروف و نہی عن المنکر توحید، نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کے بعد چھٹا رکن ہے۔ ضرور غور فرمائیں!
    یہ کام کیوں ضروری ہے؟
    جہاں دو پاکستانی جمع ہوتے ہیں پاکستان کے تباہ کن حالات ان کا موضوع گفتگو ہوتا ہے۔ عموما یہ گفتگو مسائل کے تذکرے تک ہی محدود رہتی ہے جو ایک اچھی بات ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ صرف مسائل کی نشاندہی کرنے کے بجائے ان کے حل کے متعلق بھی سوچا جائے۔ مثال کے طورپر کچھ عرصے پہلے واٹس ایپ پر کسی سرکاری ہسپتا ل کے ایک ڈاکٹر کا کلپ گردشی (وائرل) تھا جو مریض کے ساتھ آنے والوں کےساتھ انتہائی بدتمیزی سے پیش آرہا تھا۔ یہ تو صرف مسئلے کا ذکر ہوا۔ جب کہ ایسے موقع پر کرنے کا کام یہ تھا کہ اس ڈاکٹر کے ہسپتال کا سراغ لگا کر اس کے افسر کو خطوط، موبائل پیغامات یا اورکسی ذریعے سے ایسے بدتمیز ڈاکٹر کے خلاف سخت کاروائی بات کا مطالبہ کیا جاتا۔
    حالات خود بخود نہیں بدلیں گے نہ ہی آسمان سے فرشتے حالات کی اصلاح کے لیے نازل ہوں گے۔ یہ ملک جو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے جو ہمارا وطن ہے، ہماری شناخت ہے یہی ہماری آنے والی نسلوں کا بھی وطن ہے۔ خدانخواستہ اگر ہم نے اپنے حالات بدلنے کی کوشش نہ کی تو پستی کی جس حد کو ہم پہنچ گئے ہیں اور اس کے جو نتائج سامنے آئیں گے وہ کسی کو بھی پسند نہ آئیں گے۔
    اس کتابچے کا مقصد
    پاکستان ایک مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیا ں دیں۔ لاکھوں لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان میں آبسے۔ ان سب کی ایک ہی خواہش تھی کہ پاکستان ایک اسلامی فلاحی مملکت بنے۔ لیکن ہوا کیا؟ ابتدا ہی سے موقع پرستوں نے اس ملک کو اپنی ملکیت بنا لیا اور تاحال یہ جاری ہے اور بظاہر اس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس ملک کو بہتر بنانے اور اس کو جس مقصد کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں تھیں اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی لگن ہر پاکستانی کو بے چین کرتی رہتی ہے۔ وہ اس مقصد کے لیے اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہتا ہے اور اپنے طور پر اس کے لیے کوششیں کرتا رہتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ انفرادی طور پر کیے گئے کام اتنا اثر نہیں رکھتے جتنا اثر اجتماعی کوششوں کا ہوتا ہے۔ اور ہمارے رہنماؤں کا وہ طبقہ جس نے اس ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی انفرادی کوششوں کا کوئی اثر نہیں لے رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انفرادی کوششوں کو اجتماعی شکل دی جائے اس طور پر کہ کوئی نئی جماعت بنانے کی بجائے ہر علاقے میں ہم خیال لوگوں کو ایک گروپ کے ذریعے سے جوڑ دیا جائے جو اپنے علاقے کی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک لائحہ عمل اختیار کریں۔ اس کتابچے میں ایسا ایک لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتابچہ ہر شخص کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ: ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
    یہ کتابچہ حرف آخر نہیں بلکہ تالاب میں پہلا پتھر ہے۔ پڑھیے، غور کیجیے، اس کو استعمال کیجیے، اس میں اپنی ضرورت کے مطابق ترمیم کیجیے، اپنے تجربات کی روشنی میں اس کو بہتر بنائیے، اس کو عام کیجیے اور اپنی استطاعت کے مطابق کام میں لگ جایئے۔
    اللہ آپ کا حامی اور مددگار!
    (جاری ہے)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. دیوان

    دیوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    36
    ووٹ کی شرعی حیثیت
    عام طور پر لوگ ووٹ دینے کو ایک ایسا معاملہ سمجھتے ہیں جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے وہ کسی احساس ذمہ داری سے بے خبر اس کو استعمال کرتے ہیں۔بلکہ اکثر اوقات ایسے شخص کے حق میں استعمال کرتے ہیں جو فکر آخرت سے بے خبر ہوتا ہے جس کے اثرات اس دنیا میں بھی سب کو بھگتنے پڑتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کی جواب دہی کرنے پڑے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ ووٹ کی شرعی حیثیت واضح کردی جائے تاکہ ہر ووٹ دینے والا اس کی اہمیت کو سمجھے اور سوچ سمجھ کر اپنے ووٹ کو استعمال کرے۔
    شرعی اعتبار سے ووٹ کی تین حیثیتیں ہیں۔
    ووٹ کی ایک حیثیت شہادت، یعنی گواہی کی ہے۔ جس شخص کے حق میں انسان ووٹ ڈالتا ہے تو وہ درحقیقت اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ امیدوار دیانت و امانت کے ساتھ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کو جانتے ہوئے کہ وہ امیدوار ان اوصاف کا حامل نہیں ہے اور پھر بھی اس کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے تو وہ جھوٹی گواہی کا مرتکب ہوا جو گناہ کبیرہ ہے جس کی آخرت میں جوابدہی کرنی ہوگی۔

    ووٹ کی دوسری حیثیت سفارش کی ہے۔ یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کے حق میں سفارش کرتا ہے کہ اس کی رائے میں یہ امیدوار اس منصب کا اہل ہے۔ اگر سفارش بجا اور ٹھیک ہوئی تو ایسی سفارش کا کرنے والے کو بھی کا اجر ملے گا اور اگر یہ ناجائز ہوئی ہے تو اس کا گناہ سفارش کرنے والے کو بھی ملتا ہے۔اس پہلو سے بھی ووٹ دینے والے کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر اس کا ووٹ کسی نااہل اور بددین کو پڑ گیا تو اس کے ذریعے ہونے والی تمام تر برائیوں میں وہ بھی اس کا شریک سمجھا جائے گا جس کا وہ آخرت میں جواب دہ ہوگا۔

    ووٹ کی تیسری حیثیت کسی کو اپنا وکیل بنانے کی ہے۔یعنی ووٹ دینے والا امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے۔لیکن اس وکالت کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ معاشرے کے تمام افراد تک اس کا نفع اور نقصان پہنچتا ہے اس لحاظ سے بھی ووٹ دینے والے کو اپنا وکیل مقرر کرتے ہوئے دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کسی اہل فرد کو یہ منصب سونپ رہا ہے۔ بصورت دیگر اس نااہل کی تمام بداعمالیوں میں وہ بھی اس کا شریک ہوگا۔

    ووٹ کا صحیح استعمال آپ کے حق میں اجر و ثواب کا ذریعہ ہے اور اس کا غلط استعمال کرنے کی صورت میں آپ کا منتخب کردہ نااہل نمائندے کے تمام اعمال کے آپ برابر کے ذمہ دار ہیں اور وہ تمام لوگ جن کے حقوق اس نااہل نے ضائع کیے وہ بھی روز قیامت اللہ کے سامنے اس نااہل کو وٹ دینے والے سے اپنے حقوق کے طلب گار ہوں گے۔ اور یہ ایک دو نہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں ہوں گے اس لیے اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہر شخص کے لیے لازم ہے اس لیے کہ قیامت کے دن حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہوگا۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اپنا ووٹ کسی غلط آدمی کو دینے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ آپ ایک کبیرہ گناہ میں شریک ہورہے ہیں جس کی جوابدہی آپ کو روز قیامت کرنی ہے۔اسی طرح یہ بھی واضح ہوکہ ووٹ دینا ایک شرعی ذمہ داری ہے اور کسی اہل آدمی کو ووٹ دینے سے گریز کرنا شرعی جرم ہے اور نیک قابل امیدوار کو ووٹ دینے کا فائدہ اس دنیا میں بھی آپ کو ملے گا اور آخرت میں بھی آپ کے لیے اجر کا باعث ہوگا۔

    کرنے کا کام
    ٭ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اس مضمون کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائے۔ اس کا ایک طریقہ تو ای میل ہے۔ چنانچہ ہم میں سے ہرشخص کو چاہیے کہ اپنے احباب کو اس پوسٹ کو ای میل کریں۔
    ٭ اپنے عزیز رشتہ داروں اور دوستوں میں اس کا ذکر کریں۔
    ٭ جہاں کسی سبب سے ذاتی طور پر پہنچنا ممکن نہ ہو وہاں خط کے ذریعے اس پمفلٹ کو پہنچائیں۔
    ٭ اپنی ویب سائٹ پر اس کو پوسٹ کریں۔
    ٭ اپنے محلے کی مساجد کے ائمہ تک اس کو پہنچائیں اور ان سے گزارش کریں کہ وہ حسب موقع ووٹ کے صحیح استعمال کی طرف لوگوں کو متوجہ کریں۔
    ٭ اپنے علاقے کے باشعور اور ذی اثر لوگوں تک بھی اس کو پہنچائیں۔
    ٭ اپنے علاقے سے جاری ہونے والے اخبارات تک اس کو پہنچائیں۔
     
  3. دیوان

    دیوان رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مئی 4, 2015
    پیغامات:
    36
    اس کتابچے کے بنیادی نکات
    اس کتابچے میں کوئی نیا نظام پیش نہیں کیا گیا بلکہ موجودہ جمہوری نظام کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خیر کے کام میں لگانا ہے۔ اس کتابچے میں پیش کردہ لائحہ عمل کے بنیادی نکتے یہ ہیں:
    1) منتخب نمائندوں کے حوالے سے کام کرنے کا ایک ڈھنگ
    2) منتخب نمائندوں کو کھلا اور واشگاف پیغام پہنچانا کہ ہم تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں
    3) ہر پاکستانی میں سیاسی شعور پیدا کرنے کا ایک طریقہ کار
    4) تبدیلی کے لیے دباؤ نچلی سطح سے بڑھانا
    5) تبدیلی کا کام مقامی سطح پر کیا جائے
    6) قطعی طور پر غیرجانبدارانہ
    7) عدم تشدد عدم تخریب
    نوٹ: یہ لائحہ عمل بنیادی طور پر سیاسی کام کے بارے میں طریقہ کار پیش کرتا ہے لیکن اگر غور کریں تو اس کو کسی بھی اجتماعی کام میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اپنا دائرہ عمل طے کیجیے، اہداف طے کیجیے اور کام شروع کردیجیے۔
    اختصاریہ
    اگلے صفحات میں آپ جو کچھ پڑھیں گے اس کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے۔
    کیا کام کرنا ہے؟
    منتخب نمائندے کیا چاہتے ہیں؟
    مقامی سطح پر گروپ کس طرح منظم کرنا ہے؟
    گروپ کس طرح کام کرے گا؟
    کیا کام کرنا ہے؟
    اس لائحہ عمل کو تفصیل سے جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس سے ہم کو کیا حاصل کرنا ہے۔ اس کا بنیادی ہدف ہر پاکستانی میں سیاسی شعور بحال کرنا ہے۔ تاکہ پیشہ ور، خاندانی سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کرکے پاکستان میں ایک ایسی قیادت کو آگے بڑھایا جائے جو عام پاکستانی کی فلاح اور بہبود کے لیے کام کرے۔ یہ سب اور مزید حاصل کرنے کے لیے:
    · ہر پاکستانی کو اس کے ووٹ کی اہمیت باور کرانا ہے۔
    · ہر پاکستانی کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ اپنے ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے وہ پاکستان کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔
    · ہر پاکستانی تک یہ بات پہنچانی ہے کہ جس کو اس نے اپنا نمائندہ چنا ہے اس پر نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
    · نمائندے کو یہ بات سمجھا دینی ہے کہ اگر تم ایمانداری سے کام نہیں کرو گے تو ہم تم کو دوبارہ منتخب نہیں ہونے دیں گے۔
    · ہر پاکستانی کو یہ پیغام دینا ہے کہ قومی اہمیت کے مسائل میں آنکھ بند کرکے نہیں بیٹھنا بلکہ اپنی آواز اقتدار کے ایوانوں تک اس زور و شور سے پہنچانی ہے کہ ہمارے منتخب نمائندے کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ان کو اپنے فیصلوں کا جواب دینا پڑے گا۔
    نوٹ:دیکھیے
    [سیاسی شعور] ووٹ کی شرعی حیثیت
    اس کام کا طریقہ کار یا لائحہ عمل
    گروپ کا قیام
    اس کام کی بنیاد گروپ کا قیام ہے۔ یہ گروپ ان ہم خیال لوگوں پر مشتمل ہوگا جو اپنی کوششوں کو اجتماعی شکل دینا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان کی سیاست میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکیں۔ اس کام کو ملک گیر سطح پر کرنا ہے۔ پاکستان کے ہر ہر حلقے اور ہرہر محلے کی سطح پر گروپ قائم کیے جائیں جو اپنے مقامی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنا طریقہ کار خود طے کریں۔ ایک شہر بلکہ ہر انتخابی حلقے میں متعدد گروپ بھی ہوسکتے ہیں بلکہ ہونے چاہییں جو جہاں تک ہوسکے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ البتہ ہر گروپ اپنے طور پر ایک آزاد حیثیت رکھتا ہو۔ یہ کام البتہ مرکزی نہیں ہوگا اس طور پر کہ اس کا ایک صدر ہو جس کے تحت مختلف عہدے دار ہیں۔
    البتہ ایسا واقعہ جس کا اثر قومی سطح پر ہوسکتا ہے اس کے لیے تمام گروپوں کو مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ مثلا کسی حلقے میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی اور اس کے کچھ ثبوت بھی سامنے آگئے ہزاروں لاکھوں لوگوں نے اس کو دیکھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ گو کہ یہ ایک حلقے میں ہوا لیکن یہ معاملہ اب قومی سطح کا ہے اس لیے کہ اگر اس واقعے کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو اور جگہوں پر بااثر لوگ اسی طرح کی دھاندلی کریں گے۔ بھرپور اثر کے لیے البتہ ضروری ہے کہ سارے پاکستان سے سب گروپ مل کر ایک ہی وقت پر احتجاجی کاروائی کریں تاکہ بات میں وزن پیدا ہو جائے۔
    نوٹ:اس قسم کی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ایک ڈھیلا ڈھالا سا کوئی نظم ہونا چاہیے جو اس قسم کے موقعوں پر ملکی سطح پر کاروائی کو منظم کرسکے۔ یہ کام گو کہ غیرمرکزی ہے لیکن قومی سطح پر اس کو اثرانداز بنانے کے لیے کوئی ایسا نظم ہونا چاہیے جو تمام گروپوں میں رابطے کا کام سرانجام دے تاکہ بوقت ضرورت پاکستان کی سطح پر کوئی کاروائی کرنی ہو تو گروپوں کو متحرک کیا جا سکے۔
    1) جیسا کہ بتایا گیا اس کام کی بنیاد گروپ پر ہے۔ گروپ بنانا یا نہ بنانا یہ سب آپ کے حالات پر منحصر ہے۔ البتہ گروپ کا قیام لازمی ہے۔ گروپ کے بغیر یہ کام نہیں چل سکے گا۔
    2) اگر علاقے میں پہلے ہی سے کوئی گروپ قائم ہے تو اس کے ساتھ کام کرنا بہتر ہوگا۔ البتہ اگر ہم آہنگی نہ ہو تو اپنا علیحدہ گروپ بنا لیں۔
    3) ہر گروپ اپنا دائرہ عمل چنے گا۔ یعنی گروپ کا کام بلدیاتی سطح پر ہوگا یا پارلیمانی سطح پر۔ اس میں بھی گروپ کی توجہ کا مرکز صرف جس علاقے میں وہ گروپ قائم ہے اس کا حلقہ، بلدیاتی، صوبائی یا وفاقی پارلیمان ہی ہوگا۔ البتہ کسی اہم مسئلے پر آپ اپنے دائرہ عمل کو بڑھا سکتے ہیں لیکن یہ ایک وقتی بات ہوگی۔
    4) اس گروپ کی ممبرشپ ہر پاکستانی کے لیے کسی امتیاز کے بغیر کھلی ہوئی ہو۔
    گروپ میں افراد کی تعداد
    5) گروپ میں شامل افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی ضابطہ تو نہیں ہوسکتا لیکن بعض تجربات کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سات آٹھ مستقل مزاج افراد بھی کام کو لے کر چل سکتے ہیں۔ یہ تعداد البتہ حتمی نہیں ہے۔ بلکہ جتنے لوگ بھی شامل ہوجائیں اچھا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ شامل ہونے والے تو بہت ہوں لیکن اگر کام کو مستقل مزاجی سے کرنے والے سات آٹھ بھی ہوں تو کام نتیجہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو بہت فعال نہ ہوں ان کو گروپ میں ضرور شامل رکھا جائے اور مشوروں میں ان کو ضرور شامل کیا جائے۔ یہ بھی شراکت کا ایک درجہ ہے۔ اپنے گروپ میں ہر عمر کے آدمی کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تجربے کا کوئی بدل نہیں!
    6) گروپ کا ایک لیڈر ضرور ہونا چاہیے جو آپس کے مشورے سے چنا جائے۔ اس سلسلے میں یہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک متعین مدت کے بعد گروپ کے کسی اور ممبر کو لیڈر بننے کا موقع دیا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ ہر گروپ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے۔
    7) گروپ لیڈر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے ممبران سے مشورہ کرکے بہتر سے بہتر فیصلہ کرے۔ یاد رہے لیڈر مشورہ لینے کے بعد جو فیصلہ کرے سب لوگوں کو اس کا ماننا ضروری ہے۔
    8) باہمی مشورے سے اپنے گروپ کا ایک اچھا سا نام بھی چن لیجیے۔ گروپ کے نام میں اپنے علاقے کا نام بھی کسی طور شامل کریں تاکہ ایک شناخت قائم ہوسکے۔
    9) اس گروپ کا تعارف اور اس کے اغراض و مقاصد کو لکھ لیا جائے۔ انتہائی ضروری ہے کہ آپ کے گروپ کے اغراض و مقاصد گنے چنے ہوں تاکہ آپ کی سرگرمیاں محدود دائرے میں رہیں۔ گروپ کے مقاصد بالکل واضح اور متعین ہونے چاہیں۔ آپ جو مقاصد مناسب سمجھتے ہوں ان کو اختیار کریں لیکن یاد رہے کہ ہر گروپ کا ایک بنیادی مقصد اپنے نمائندے کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانا ہے اور اس کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر مجبور کرنا ہے اور یہ پیغام دینا ہے کہ اگر وہ اپنے منصب کے تقاضے پورے نہیں کرے گا تو اس کے دوبارہ انتخاب کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
    10) اپنے گروپ کے کچھ بنیادی قواعد بھی طے کرلیں جن کے ذریعے کاموں کو انجام دیا جائےگا۔
    11) کچھ لوگوں کو ذمہ دار منتخب کرلیں جن کی ذمہ داریاں بھی طے کرلیں۔کم ازکم ایک یا دو افراد کو گروپ کی تنظیم کا ذمہ دار بنایا جائے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گروپ کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے کسی اور کو ذمہ دار بنایا جائے۔ گروپ کے کسی ممبر کو مزید لوگوں کو شامل کرنے کا ذمہ دار بنایا جائے۔
    12) ایک ذمہ دار گروپ کی سرگرمیوں کی رپورٹ لکھنے پر مامور ہونا چاہیے۔
    13) گروپ کا ای میل اکاؤنٹ، واٹس ایپ گروپ اور فیس بک پر ایک اکاؤنٹ بنا لینا چاہیے۔ یہی بنیادی طور پر اس گروپ کی شناخت، اس کا دفتر، اس کی سرگرمیوں کے متعلق خبروں کا ذریعہ ہوگا۔ اس کے ذریعے آپ دوسرے لوگوں کو اپنے گروپ میں شمولیت کی دعوت دے سکتے ہیں۔ واٹس ایپ کے ذریعے سے بھی گروپ میں شمولیت کی دعوت دی جاسکتی ہے۔
    نوٹ: اس واٹس ایپ گروپ میں علاقے سے متعلق سرگرمیوں کے علاوہ کچھ نہ بھیجیں۔
    14) ایک پمفلٹ کی صورت میں اپنے اغراض و مقاصد لکھ کر کئی کاپیاں بھی کرالیں تاکہ وہ لوگ جو سوشل میڈیا استعمال نہیں کرتے ان تک بھی بات پہنچائی جاسکے۔ یہ پمفلٹ کسی انفرادی ملاقات کے وقت ساتھ لے جانا نہ بھولیے۔
    15) یہ گروپ اپنی مدد آپ کے اصول پر چلے گا۔ تمام تر مالی اخراجات ممبران خود اٹھائیں گے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ گروپ کے اخراجات کم از کم حد تک رہیں تاکہ کسی پر بار نہ پڑے۔
    16) ہر گروپ کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ محلے اور شہر کی سطح پر اپنی سرگرمیوں اور ان کے نتائج سے عام لوگوں کو باخبر رکھے اور ان نتائج پر غور و خوض کرنے کے بعد ان کو آگے کا لائحہ عمل بھی بتائے۔
    17) ایک حلقے میں ایک سے زیادہ گروپ ہونے ضروری ہے اس لیے کہ حلقے اتنے بڑے بڑے ہوتے ہیں کہ ایک گروپ کی رسائی ممکن نہیں اس لیے لازمی ہے کہ ایک حلقے میں ایک سے زیادہ خودمختار گروپ ہوں جو اپنے اپنے طور پر کام کریں۔
    مقامی کام پرتوجہ
    اس کام میں بنیادی نکتہ اپنے مقامی کام پر پوری توجہ مرکوز رکھنا ہے۔ گروپ کی بنیاد پر آپس میں تبادلہ خیال کے ذریعے اپنے کام کو آگے بڑھایا جائے۔گو کہ دوسرے گروپوں سے تبادلہ خیالات بلکہ بعض اوقات مل کر کام کرنے کا بھی موقع آسکتا ہے، لیکن اصل اہمیت اپنے علاقے میں کام کرنا ہے۔ ہم خیال افراد کا ایک مجموعہ بہت سے ایسے کام کرسکتا ہے جو بڑے بڑے گروپ نہیں کرسکتے۔ اس کی مثال گوریلا جنگ کی ہے جہاں چھوٹے چھوٹے گروپ بڑی بڑی فوجوں کی کمر توڑ دیتے ہیں۔
    یاد رہے!
    · اس کتابچے کا مقصد ملک میں جاری ناانصافی، ظلم، بدعنوانی، اقربا پروری وغیرہ کا خاتمہ ہے لیکن یہ کام نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارگی کی بنیاد پر کرنا ہے۔
    · اپنی بات دوسروں تک بہترین طریقے سے پہنچائیں۔ جو آپ کی بات سے متفق ہوں وہ آپ کے ہم خیال ہیں۔ جو اس سے متفق نہ ہوں وہ آپ کے دشمن نہیں ہیں۔
    · غلط بیانی، جھوٹ سے ہر حال میں بچیں۔
    · بداخلاقی سے بچیں کسی کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
    · ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ جیسی سرگرمیاں اس کام کے لیے قطعی مفید نہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال آتا ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے تو فورا رک جائیں۔ ورنہ آپ خیر کی نہیں شر کی مدد کرنے والے ہوجائیں گے۔
    · پولیس اور دیگر امن عامہ کے اداروں سے قطعی نہ الجھیں۔ ان کے اختیارات بے حساب ہیں اور ہمارے ملک میں یہ کسی اخلاقی یا قانونی بندشوں سے آزاد ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ بڑی حد تک نمائندوں کے زیر اثر ہوتے ہیں۔
    منتخب نمائندے کیا چاہتے ہیں؟
    اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ہمارے منتخب نمائندے یا وہ جو منتخب ہونا چاہتے ہیں کس طرح سوچتے ہیں؟ اس سے ہمیں ان کی نفسیات کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور شعور و آگہی کے اس کام کو آگے بڑھانے اور نتیجے تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔
    سب سے بنیادی بات جو سمجھنے کی ہے کہ ہر منتخب نمائندہ اس بات کی شدید خواہش رکھتا ہے کہ وہ بار بار منتخب ہوتا رہے۔ ان میں سے ہر ایک کی مستقل سوچ یہی ہوتی ہے کہ کسی طور یہ منصب اس سے نہ چھوٹے۔ اس مقصد کے پیش نظر وہ جھوٹی سچی باتوں سے اپنی ساکھ قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے حلقے کے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ ان کی خدمت میں ہر وقت مشغول ہیں۔ سوائے چند لوگوں کے ان کی اکثریت کسی فکری نظریے کی پابند نہیں ہے نہ ہی یہ کسی بلند مقصد کے لیے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ بلکہ ان کا واحد مقصد اپنے ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہے۔
    یہ لوگ انتخابی مہم کے دوران تو ہر طرح کے وعدے کرتے ہیں جن سے ان کا مقصد ووٹ لینا ہوتا ہے اس کے بعد وہ اپنے حلقے سے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوجاتے ہیں۔ ان کے پیش نظر یہی ہوتا ہےکہ اگلی دفعہ پھر کچھ نئے وعدے کچھ نئے منصبوے پیش کرکے ووٹ لے لیں گے۔
    اپنے مفادات کے حصول کے لیے انتخابات میں کامیابی ایک ان پر ایک مستقل دباؤ ہے جس میں یہ رہتے ہیں۔ ان کی اسی فکر کو ان کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ وہ اس طرح کہ ان کے دوبارہ انتخاب کا مسئلہ غیریقینی بنا دیا جائے تو وہ یقینا اپنی سوچ اور عمل کو بدلنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان کو یہ باور کرا دینا ہے کہ تم ہمارے نمائندے ہو اور تم کو ہمارے مسائل کے حل کے لیے کام کرنا ہے بصورت دیگر ان تک یہ پیغام صاف صاف پہنچا دینا ہے کہ تمہارا دوبارہ منتخب ہونا ناممکن ہوگا۔ اس کا ایک ہی طریقہ کار ہے وہ یہ کہ ہر پاکستانی کو سمجھانا ہے کہ وہ اپنا ووٹ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کرے کیونکہ اس کا ووٹ صرف اسی پر اثرانداز نہیں ہوتا بلکہ ہزاروں لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔
    یہ بات ذہن میں واضح رہے کہ ہماری سیاسی قیادت میں جو لوگ شامل ہیں ان میں کئی اپنے اپنے حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ گو کہ یہ لوگ اپنے علاقوں کے لوگوں کو کچھ نہیں دیتے لیکن اپنے وسائل کی کثرت، سیاسی چمک اور برادری کی لپک اور عمومی جہالت کو استعمال کرتے ہیں اور بار بار منتخب ہوجاتے ہیں۔ لیکن امید کی کرن شوشل میڈیا کا عام استعمال ہے جو اب ہر پڑھے لکھے اور ان پڑھ شخص کی دسترس میں ہے۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ ان لوگوں کو بھی شعور اور آگہی دی جاسکتی ہے۔
    اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ اگر وہ نمائندہ ایک ایسے حلقے سے منتخب ہوا ہے جو اس کے خاندان یا پارٹی کا گڑھ ہے تو وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس کے حلقے والے اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ درحقیقت ذرائع ابلاغ نے عام سطح پر اس قدر شعور پیدا کردیا ہے کہ اب ہر پاکستانی کسی نہ کسی درجے میں اپنے حقوق کا احساس کرنے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احساس کو پختہ کیا جائے اور اسے ایک مستقل قوت کی شکل دے دی جائے۔ اس کتابچے میں دیے گئے لائحہ عمل کا یہی مقصد ہے۔
    یہ بھی یاد رکھیں
    یہ بات ذہن میں رہے کہ جو لوگ اس وقت پاکستان کی سیاست پر چھائے ہوئے ہیں ان کے نزدیک ان کے مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی حد تک بھی جانے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت اور اس کے تمام ادارے ان کے گھر کی باندی بنے ہوئے ہیں۔ آپ کا ان کی سرگرمیوں کا ڈھول بجانا ان کے سیاسی مستقبل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی جس سے ان کے منصب کو خطرہ درپیش ہوسکتا ہے اور وہ شدید رد عمل کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ان سے نمٹنا آسان نہیں۔ اسی لیے اس کتابچے میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ ٹکراؤ سے بچنا ضروری ہے۔ اس مفاد پرست ٹولے سے نمٹنے کے لیے دو ہتھیار انتہائی کارگر ہوں گے۔
    · سوشل میڈیا کا استعمال جس کے ذریعے سے آپ بغیر ٹکراؤ کے بھی اپنی بات پیش کرسکتے ہیں۔
    · اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا جو پہلے ہتھیار یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔
    ہم اکثریت میں ہیں! مفاد پرست طبقہ بہت تھوڑا ہے۔ اپنا پیغام محبت اور حکمت سے دیں۔ ان شاءاللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
    میں اپنے گروپ میں لوگوں کو کیسے شامل کروں؟
    اوپر دئیے ہوئے طریقہ کار کے مطابق گروپ قائم کرنے کے لیے افراد کو اکٹھا کرنا ایک لازمی کام ہوگا۔ لوگوں کو کسی کام پر ابھارنے کے لیے ان سے انفرادی رابطہ بے حد ضروری ہے۔ذیل میں چند نکات ہیں جو آپ انفرادی ملاقات میں پیش کرسکتے ہیں جو امید ہے کہ لوگوں کو گروپ میں شمولیت پر آمادہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
    · آپ کے گروپ کے مقاصد کے علاوہ ان مسائل کا تذکرہ جن سے علاقے کے لوگوں کو سامنا ہے لوگوں کو آپ کا ساتھ دینے پر ابھار سکتا ہے۔ لوگ اسی وقت کسی کام میں دلچسپی لیتے ہیں جب ان کو اس میں اپنا کا کوئی ذاتی فائدہ نظر آتا ہے۔
    · آپ کس طرح اپنے نمائندے کی توجہ علاقے کے مسائل کی طرف دلانا چاہتے ہیں اور ان کے حل کے لیے آپ کے ذہن میں کیا تجاویز ہیں ان کا تذکرہ کرنے سے بھی لوگ آپ کا ساتھ دینے پر رضامند ہوسکتے ہیں۔
    · اپنی گفتگو کے ساتھ ان کی بات کو بھی پوری توجہ سے سنیں۔ بلکہ کوشش کریں کہ زیادہ وقت ان کی بات سنیں تاکہ ان کی سوچ اور فکر آپ کو پتہ چل سکے۔
    · اپنے گروپ کے مقاصد کا پمفلٹ بھی ملاقات کے وقت پیش کرنا چاہیے۔ بعض اوقات انسان فوری فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا اس لیے ممکن ہے کہ وہ بعد میں کسی وقت پمفلٹ کو پڑھ کر آپ کا ساتھ دینے پر راضی ہوجائے۔
    · ملاقات کے ایک دو دن بعد موبائل پر رابطہ کرکے ان کو دوبارہ گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔
    یہاں اس بات کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی بھی آپ کو ملے گی جو آپ کے کام سے متفق ہوں گے لیکن اپنی ذاتی وجوہات کی وجہ سے عملی طور پر گروپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ ایسے لوگوں کو آپ متفق کہہ سکتے ہیں۔ ان سے اتنی اجازت ضرور لے لیں کہ آپ ان کا نام اپنے واٹس ایپ گروپ میں شامل کرلیں۔ ایسے لوگوں کو کم اہم نہ سمجھیں، یہ خاموش اکثریت بہت کام کی ہوتی ہے۔
    اگلا قدم
    جب گروپ قائم ہوگیا تو اب اس کو سرگرم کرنے کا موقع آتا ہے۔ اپنی سرگرمیاں شروع کرنے سے پہلے آپ کو یہ معلومات ہونی درکار ہوں گی:
    · آپ جس سطح پر کام کرنا چاہتے ہیں اس کے مطابق ذرائع ابلاغ (میڈیا) کے ذریعے اپنے آپ کو باخبر رکھیں۔ اپنے گروپ کے ساتھ اس پر تبادلہ خیال کریں اور اگر ضروری سمجھیں تو اپنے نمائندے کو بھی اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔ یاد رکھیں اختلاف رائے کے باوجود تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اس کتابچے میں دیے گئے طریقہ کار کا مقصد ان نمائندوں کو یہ باور کرانا ہے کہ تم پر کچھ لوگوں نے نظر رکھی ہوئی ہے اور تمہاری سرگرمیوں کو ہر شخص تک پہنچائیں گے۔
    · اپنے حلقے کی حدوں کا پتہ لگائیں۔ واضح رہے بلدیاتی حلقہ بندیوں اور اسمبلیوں کی حلقہ بندیوں میں فرق ہوتا ہے۔ ایک صوبائی حلقے میں متعدد بلدیاتی حلقے ہوتے ہیں۔
    · اپنے نمائندے (بلدیہ یا پارلیمان) کا پتہ
    · فون نمبر
    · موبائل نمبر
    · ای میل، فیس بک صفحہ یا اسی طرح کی دیگر معلومات جن کے ذریعے آپ اپنے نمائندے سے رابطہ قائم کر سکیں۔
    · ہر نمائندے کی پارٹی وابستگی کا بھی پتہ کریں۔
    · اس پارٹی کے دفتر کا پتہ، فون نمبر وغیرہ بھی معلوم کرلیں۔ساتھ ہی دفتر کے ذمہ دار کے متعلق بھی معلومات حاصل کرلیں۔
    · یہ بھی معلوم کریں کہ وہ آپ کے حلقے میں رہتا ہے یا اس سے دور۔
    · بلدیہ کی صورت میں مئیر کے رابطے مثلا اس کا پتہ، فون، موبائل وغیرہ۔
    · صوبائی اسمبلی کے اسپیکر، قومی اسمبلی کے اسپیکر، اور سینٹ کے چئیرمین کے رابطے مثلا ان کے پتے، فون، موبائل وغیرہ۔
    · اگلے مرحلے پر یہ تمام معلومات اپنے واٹس ایپ گروپ اور فیس بک صفحے کے ذریعے اپنے ممبران اور اپنے دیگر واقف کاروں تک پہنچا دیں تاکہ ہر شخص ان سے آگاہ ہوجائے۔ ان معلومات کو آپ اپنے کام کا دعوت نامہ بنائیں۔ مثال کے طور پر اس کو اس طرح لکھیں:
    محترم دوست، السلام علیکم،
    ہم سب علاقہ ------------------ کے رہنے والے ہیں۔ ہم سب کا فرض ہے کہ اس علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔ اس علاقے کے ہمارے بلدیاتی نمائندے کا نام جناب ------------------ ہے، اس کے صوبائی اسمبلی میں ہمارے نمائندے کا نام جناب ------------------ ہے،قومی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی جناب ------------------ کرتے ہیں۔ یہ ہمارے ووٹوں کے ذریعے اس نمائندگی کے ذمہ دار ٹھہرے ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے علاقے کے مسائل ان تک پہنچائیں۔ اور اس علاقے کے نمائندے ہونے کی حیثیت سے یہ ان حضرات کا فرض ہے کہ ان مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں۔ ذیل میں ان حضرات سے رابطہ کرنے کی معلومات دی گئی ہیں تاکہ آپ اپنے مسائل ان تک پہنچا سکیں۔ ہم سب متحدہ طور پر اس کام کو اچھی طرح یوں انجام دے سکتے ہیں کہ ایک گروپ کی شکل میں ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں آپ کا موبائل نمبر واٹس ایپ گروپ میں شامل کرلیتا ہوں۔ اس گروپ کا نام میں نے یہ ------------------ رکھا ہے۔
    والسلام،
    نمائندوں کے رابطے
    ----------------------
    ----------------------
    ----------------------
    ----------------------
    · ضرورت محسوس کریں تو ان معلومات کو لکھ کر کچھ کاپیاں کرالیں۔ کسی وقت دینے میں کام آئیں گی۔
    · اپنے نمائندے کی سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ آپ جب اس سے بات کریں تو اس کے بارے میں مکمل باخبر ہوں۔ اسی طرح آپ کے نمائندے کے بارے میں اخبارات میں اگر کچھ چھپ رہا ہے تو اس سے بھی باخبر رہنے کی کوشش کریں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ Google Alertes : recevez des alertes lorsque du contenu susceptible de vous intéresser est publié sur le Web پر اپنے نمائندے کا نام لکھ دیں۔ جیسے ہی اس کے متعلق کوئی خبر لگے گی آپ کو ای میل مل جائےگی۔
    آپ کا نمائندہ آپ کو اہمیت کب دے گا؟
    · اگر آپ اس کے حلقے سے تعلق رکھتے ہیں (اسی لیے آپ اپنی سرگرمی اپنے حلقے تک محدود رکھیں)۔
    · آپ کی ذاتی ای میل، خط یا ذاتی ملاقات اس پر بہت اثر انداز ہوگی۔ مواد حقیقی اور مدلل ہونا چاہیے۔
    · معروف اخبارات اور میڈیا کے دوسرے ذرائع میں آپ کی طرف سے شائع ہونے والے خط، مضامین وغیرہ بھی ان پر بہت اثر انداز ہوں گے۔
    · کسی معروف ادارے کی طرف سے توثیقات بھی ان پر بہت اثرانداز ہوں گی۔
    · آپ کے علاقے کی معروف شخصیات کا آپ کا ساتھ دینا۔
    نمائندے سے ملنے کے مواقع
    پہلا موقع: نمائندے کا دفتر
    نمائندے سے ملنے کے لیے سب سےا چھی جگہ اس کا دفتر ہے ۔ ملاقات کے لیے جانے سے پہلے اس کے ملنے کے اوقات معلوم کرلیے جائیں۔
    اگر اپنے نمائندے سے بالمشافہ ملاقات ہو تو اس صورت میں متعدد مسائل پر گفتگو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ ان مسائل کو تفصیلا لکھ کر لے جائیں اور گفتگو کے وقت ان نوٹس کو سامنے رکھ لیں تاکہ بات واضح اور دلیل کے ساتھ ہو۔ اگر ضرورت محسوس کریں تو اپنےمسئلے کے متعلق موبائل پر تصویریں یا ویڈیو کلپ بھی لے جائیں تا کہ اپنے نمائندے کے سامنے پوری صورت حال رکھ سکیں۔ یہ تمام مواد اپنے نمائندے کو دے دیں یا بعد میں مناسب ذریعے سے بھیج دیں۔
    جب کئی مسائل پر بات کرنی ہو تو ایک اہم نکتہ یہ سامنے رہے کہ وہ مسئلہ جو فوری طور پر درپیش ہے اس پر سب سے پہلے بات کریں۔ دیگر مسائل پر بعد میں بات کریں۔
    ملاقات کے بعد اپنی تحریر کی نقل نمائندے کو دے دیں یا کسی مناسب ذریعے سے اس تک پہنچا دیں۔
    اگرنمائندےسےرابطہ نہ ہو تو؟
    اگر آپ اپنے نمائندے کے دفتر جائیں اور اسے اپنے دفتر میں نہ پائیں تو اس کے دفتر میں موجود عملے کے پاس اپنا نام اور اپنا لکھا ہوا کاغذ چھوڑ دیں۔ اس کے بعد بھی آپ ایک آدھ بار دوبارہ اس کے دفتر جائیں ۔ اگر کئی بار جانے کے باوجود بھی آپ کا نمائندہ دفتر سے غائب ملتا ہے اور نہ ہی آپ کی ای میل، خط یا موبائل کا جواب دیتا ہے تو یہ چند کام کیے جاسکتے ہیں:
    · اس اطلاع کو اپنے گروپ میں شیئر کردیں۔
    · ذرائع ابلاغ تک پہنچا دیجیے۔
    · اس کا جس پارٹی سے تعلق ہے اس کے کسی ذمہ دار تک بھی یہ اطلاع پہنچا دیں۔
    جس ادارے میں وہ آپ کی نمائندگی کررہا ہے اس کے سربراہ تک اس کی اطلاع کردیں۔ مثلا بلدیہ کے مئیر کو اطلاع کردیں۔گو کہ یہ حضرات اس نمائندے پر کوئی ادارتی اختیار (authority) نہیں رکھتے جس کے ذریعے سے وہ اس سے جواب طلب کرسکیں لیکن بد اچھا بدنام برا کی حکمت عملی یقینا رنگ لائے گی۔
    · (اخباری اعلامیہ) پریس ریلیز جاری کردیں۔ اور اگر اخباری نمائندہ آپ سے رابطہ کرے تو بلاجھجھک اس کو سوالات کا جواب دیں۔ واضح رہے ہر سوال کاجواب دینا آپ پر لازمی نہیں!
    نوٹ: پریس ریلیز جاری کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ اپنے گروپ کے لیٹر ہیڈ پر اپنا بیان لکھ کر اس اخبار کے دفتر میں پہنچا دیں۔ آج کل یہ کام ای میل کے ذریعے سے بھی ہوسکتا ہے۔
    نوٹ: ہر تحریر گروپ کے لیٹر ہیڈ پر لکھی جانی چاہیے۔
    اگر نمائندہ ملنے سے انکار کردے
    اگر آپ کا نمائندہ آپ سے ملنے سے انکار کرے تو اس کو مشتہر کر دیں۔ اس کے دفتر تک جائیں۔ زیادہ سے زیادہ افراد کو ساتھ لے جائیں۔ ساتھ میں ایک چھوٹا سا بینر لے جائیں جس پر اس طرح کی عبارت لکھیں:
    ہم اپنے بلدیہ یا قومی اسمبلی کے نمائندے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے دفتر کے باہر کھڑے ہیں۔ انہوں نے ہم سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔ ہم ان کے منتظر ہیں۔
    وہاں اپنی ویڈیو بنائیں اور اپنے علاقے کے اخبارات اور رپورٹروں تک اس کو پہنچائیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اپنی ویڈیو کلپ شئیر کریں۔ جس طرح ہوسکے اس کو مشتہر کریں۔ بہت دیر تک وہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں۔ اتنی دیر کافی ہے جتنی دیر میں ایک مناسب ویڈیو کلپ بن جائے۔ کسی قسم کی غیرقانونی حرکت کی ضرورت نہیں ہے۔
    دوسرا موقع : عوامی شرکت کے مواقع
    یہ نمائندے مختلف عوامی موقعوں پر موجود ہوتے ہیں۔ مثلا کسی افتتاح، کسی تعمیر کے آغاز، کسی قومی ملی پروگرام وغیرہ۔ بعض اوقات یہ خود مہمان خصوصی ہوتے ہیں یا کسی مہمان خصوصی کے ساتھ ایسے موقعوں پر موجود ہوتے ہیں۔ اس موقع سے بھی بھرپور فائدہ اٹھائیں اور پر اپنی موجودگی کا ثبوت دیں۔ اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو باقی مجمع سے مختلف رکھیں۔ مثلا آپ کے گروپ کے لوگ ایک طرح کا لباس پہنیں۔ یا کوئی بیٹر اٹھائیں۔ اس بینر پر اپنے گروپ کا نام لکھ کر اس نمائندے کو خوش آمدید کہیں۔
    موقع پر موجود اخباری نمائندوں سے بات کریں۔ مختصر انداز میں اپنی آمد اور اپنے مسائل کا تذکرہ کریں۔مسائل کی فہرست پیش کرنے کے بجائے ایک یا دو اہم مسئلے اخباری نمائندوں کو پیش کریں۔ جو کچھ کہنا ہے اس کی بھرپور تیاری کرکے جائیں اور اس کو اپنے لیٹر ہیڈ پر لکھ کر ساتھ رکھ لیں۔ چند نسخے بھی ساتھ لے جائیں۔ اپنی بات پیش کرنے کے بعد اس تحریر کی نقل اخباری نمائندوں کو دے دیں۔
    اگر آپ کسی ایسے قومی، صوبائی یا شہری مسئلے پر اپنی رائے دینا چاہتے ہیں جو پالیسی کے درجے میں ہے تو اس پر اپنا موقف لکھ کر لے جائیں اور موقعے پر موجود اخباری نمائندوں کے سامنے پیش کریں اور اس کی نقل ان کو دے دیں۔
    نوٹ:لیٹر ہیڈ کی سائڈ پر گروپ کا تعارف ہونا چاہیے۔
    نمائندے کے میزبانوں تک رسائی حاصل کریں
    افتتاح یا دوسری تقریبات جس میں آپ کے نمائندے شرکت کرتے ہیں متعدد بار وہ کسی نہ کسی ادارے کی میزبانی کے تحت ہوتی ہیں۔ اگر آپ کا نمائندہ آپ کی بات کو سنجیدہ نہیں لے رہا ہے تو اس موقع پر تقریبات کے میزبان تک اپنی بات پہنچا دیں۔ بعض اوقات مختلف ادارے اس تقریب کو اسپانسر کر رہے ہوتے ہیں جن کے اشتہار بھی ایسے موقعوں پر لگے ہوتے ہیں۔ ان اسپانسرز تک بھی اپنی بات پہنچا دیں۔
    آج کل ہر ادارہ اپنی ساکھ کے بارے میں بہت حساس ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ مستقبل میں اس نمائندے کو ایسی کسی تقریب میں شمولیت کا موقع نہ ملے جو اس کی ساکھ کے لیے بہت بری بات ہوگی۔
    تیسرا موقع: علاقے میں ہونے والی کارنر میٹنگ میں حصہ لیں
    اگر آپ کا نمائندہ آپ کے علاقے میں کوئی کارنر میٹنگ کرے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تیاری کریں۔ اعداد و شمار اور حقائق جمع کریں اور ان کو بنیاد بنا کر سوالات تیار کریں جو گروپ کے ممبران اس نمائندے سے کریں۔ اس کی بھرپور مشق کرلیں تاکہ مجمع کے سامنے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ ٹکراؤ کی کیفیت قطعی نہ ہونے دیں!
    اس کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ خود علاقے میں کام کرنے والے گروپوں کے ساتھ مل کر ایک کارنر میٹنگ کا اہتمام کریں اور اپنے نمائندے کو اس میں بلائیں۔ علاقے کے معزز و معروف لوگوں کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیں۔
    اس کارنر میٹنگ میں اپنے نمائندے کے سامنے اپنے مسائل پیش کریں اور اس کی بات کو بھی سنیں۔ اس سے یقین دہانی حاصل کریں۔ میٹنگ کے اختتام کے بعد اس میٹنگ کی رپورٹ تیار کریں جس میں اس کا ذکر ضرور کریں کہ نمائندے نے یہ یقین دہانی کرائی ہے۔ اس رپورٹ کی ایک نقل نمائندے تک بھی پہنچا دیں۔
    ایسے کسی اجتماع کے موقع پر علاقے کی مساجد کے ائمہ کو بلا کسی تفریق مسلک کے شرکت کی دعوت دیں۔ بلکہ اگر حلقے میں غیرمسلم آبادی بھی رہتی ہے تو ان کے معروف لوگوں کو بھی ایسے اجتماعات میں شامل کرلیں۔ اگر کوئی شریک اس میں مسلک کو ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کو فورا روک دیں اور اجتماع سے چلتا کردیں اور آئندہ کے لیے اس کو بلیک لسٹ کردیں اور دیگر گروپ جو آپ کے رابطے میں ہوں ان تک بھی اس کی اطلاع کردیں۔
    نوٹ:
    • اس سلسلے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ کھلے مقامات پر کسی اجتماع کے قیام میں بعض قانونی تقاضے ہوتے ہیں ان کا پورا خیال رکھیں۔ آپ کا نمائندہ اس سلسلے میں آپ کی مدد کرسکتا ہے۔ اس سلسلے میں تمام کاروائی تحریری ہونی چاہیے۔
    • نمائندے کو پابند کریں کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر محض علاقے کے مسائل پر بات کرے۔
    · نمائندے کو پابند کریں کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالا ہو کر محض علاقے کے مسائل پر بات کرے۔
    چوتھا موقع: رابطے کے مزید طریقے
    اگر کسی وقت ضرورت محسوس ہو تو اپنے علاقے کے لوگوں کو اس بات کی طرف راغب کریں کہ وہ اپنے نمائندے کو خط لکھیں یا فون اور موبائل کے ذریعے رابطہ کریں۔ اگر اس کا ای میل ہے تو اس کے ذریعے بھی اپنی بات اس تک پہنچائیں۔ جب کثیر تعداد میں لوگ اپنے نمائندے سے رابطہ کریں گے تو نمائندہ اس کو کسی طور نظرانداز نہیں کرسکتا۔جلد یا بدیر میڈیا میں بھی یہ بات آجائے گی جو اس نمائندے پر بہت بھاری انداز میں اثرانداز ہوگی۔اگر اپنے نمائندے سے فون یا موبائل پر رابطہ کریں تو صرف ایک مسئلے پر اس سے گفتگو کریں اور اس مسئلے کی تفصیل فون کرنے سے پہلے اپنے سامنے لکھ کر رکھ لیں تاکہ بات کرنے میں آسانی ہو۔
    مساجد کے ائمہ تک بھی علاقے کے مسائل کی خبر پہنچائیں۔ اس میں مسلک کی کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔ گو کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ منتخب نمائندوں پر اثرانداز ہوسکیں لیکن یہ لوگ عوامی شخصیت ہونے کی وجہ سے اس طور پر فائدہ مند ہوسکتے ہیں کہ اپنے حلقہ احباب میں جو اکثر بہت وسیع ہوتا ہے اس کا ذکر کریں گے اور اس سے بھی بات پھیلے گی اور اس کا بہت اچھا اثر پڑے گا۔ دوسرے مذہب کے لوگ بھی اگر آپ کے علاقے میں رہتے ہیں تو ان کی معروف شخصیات تک بھی رسائی حاصل کریں اور علاقے کے مسائل ان تک پہنچائیں۔
    نوٹ: ہر شخص میں تحریری صلاحیت نہیں ہوتی اس لیے آپ کے پاس خط کا ایک نمونہ تیار ہونا چاہیے جو آپ اپنے گروپ میں شامل لوگوں کو بھیج دیں، یا اس کی کاپیاں تقسیم کردیں تاکہ لوگ اس نمونے کو استعمال کرکے اپنی بات نمائندے تک پہنچا سکیں۔۔
    اپنی گفتگو کا ریکارڈ بنائیں
    اگر آپ کی ملاقات اپنے نمائندے سے ہو یا کسی اور طریقے سے رابطہ ہو تو اس گفتگو کے نوٹس بنائیں۔ یہ نوٹس آپ کے لیے ایک یادواشت کے طور پر کام کریں گے۔ ان نوٹس کو صاف لکھ کر اپنے ساتھیوں کے سامنے پیش کریں اور جو کچھ آپ سے کہا گیا اس کا تجزیہ کریں۔ اس کی ایک کاپی مناسب ذریعے سے اپنے نمائندے تک بھی پہنچا دیں۔
    ان نوٹس میں مندرجہ ذیل باتیں ضرور درج کریں:
    · تاریخ ، وقت اور جگہ۔
    · کس طریقے سے بات ہوئی (بالمشافہ، فون، موبائل وغیرہ)۔
    · اگر آپ کی بات براہ راست اپنے نمائندے کے بجائے اس کے کسی نائب سے ہوئی تو اس کا نام ضرور درج کریں۔
    · آپ کی کیا گفتگو ہوئی۔
    · آپ کو کیا جواب ملا۔
    اگر آپ کو اس نمائندے سے دوبارہ گفتگو کی ضرورت پڑی تو یہ نوٹس آپ کے لیے مددگار ہوں گے۔ آپ کو اس کی کہی باتوں کا حوالہ دینے میں آسانی ہوگی۔
    جب مسئلہ حل نہ ہو تو؟
    اگر آپ کا مسئلہ حل نہ ہو تو اپنے اس نمائندے کو اس کی یادہانی کرائیں۔ اس یاد دہانی کے وقت اپنی پچھلی گفتگو کا حوالہ ضرور دیجیے۔ مدت کا ذکر بھی کیجیے کہ آپ نے اتنے دن انتظار کرنے کے بعد دوبارہ رابطہ قائم کیا ہے۔ ایک آدھ بار یاددہانی کے بعد بھی کام نہ ہو تو اپنے سوشل گروپ کے ذریعے سے اس کو تمام ممبران تک پہنچا دیں اور ساتھی ہی ذرائع ابلاغ (میڈیا) تک بھی پہنچا دیں۔ اپنے نوٹس کی مدد سے ذرائع ابلاغ (میڈیا) کو ایک بریفنگ لکھ کر دے دیں۔ اس طرح ان کو آپ کے مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہوگی اور اپنے اخبار یا چینل کے ذریعے اس کو بہتر انداز میں پیش کرسکیں گے۔ ساتھ ہی اس نمائندے کی پارٹی کے ذمہ داروں تک بھی بات پہنچا دیں۔
    نوٹ: تمام ذرائع ابلاغ کے دفاتر بھی ہوتے ہیں اور وہ پابند ہیں کہ آپ کی بات کو سنیں اور اپنی پالیسی کے مطابق اس کو نشر کریں۔
    یہ بات پیش نظر رہے کہ اگر آپ کا نمائندہ اپنے طور پر صحیح اور اچھے کام کررہا ہے اور آپ کے مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے تو اس کی تعریف و ستائش بھی ضروری ہے۔ اس کے لیے جو طریقہ مناسب ہو اختیار کیا جائے۔ لیکن ایسا قطعی طور پر غیرجانبداری سے کیا جائے۔ اس کام میں آپ کی شرکت کی بنیاد صرف اخلاص اور خدمت ہو۔
    اہداف
    اس لائحہ عمل پر کام کرنے کےلیے ابھی بہت کچھ معلومات درکار ہیں۔ ان میں بعض چیزیں جو ضروری ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:
    1) بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داریاں
    2) صوبائی اسمبلی کے ممبران کی ذمہ داریاں
    3) قومی اسمبلی کے ممبران کی ذمہ داریاں
    4) سینیٹ کے ممبران کی ذمہ داریاں
    5) ان چاروں اداروں کے ممبران کو ملنے والے مالی و دیگر فوائد کی فہرست
    آپ کے کام کا کیا فائدہ ہوگا؟
    ایک فطری سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ اس طرح کی سرگرمیوں سے کیا حاصل ہوگا؟ جب آپ میدانی کام کریں گے تو وہ چند نتیجے جو حاصل ہوں گے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
    1) آپ کے علاقے کے لوگ اس بات کو جان لیں گے کہ ان کا نمائندہ ان کے لیے کیا کام کررہا ہے اور کون سا ضروری کام نہیں کررہا ہے۔
    2) بہت سے لوگ جو آپ کے کام میں آپ کا ساتھ نہ دیں گے لیکن ان کی خاموش حمایت آپ کے ساتھ ہوجائے گی۔
    3) آپ کے نمائندے کو کسی نہ کسی درجے میں یہ احساس ہوگا کہ اب کام کرنا پڑے گا صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا۔
    4) آپ کےنمائندے کے سیاسی مخالفین کو بہت سا مواد مل جائے گا جو وہ اس کے خلاف استعمال کرے گا جو یقینا آپ کےنمائندے کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ اپنی کارکردگی بڑھائے گا۔
    بعض عمومی نکات
    · ایسے تمام مواقع جہاں کچھ لکھ کر پیش کرنے کا موقع آئے تو بہتر تو یہ ہے کہ کمپیوٹر پر کمپوز کرایا جائے بصورت دیگر خوش خط لکھا جائے تاکہ پڑھنے میں تکلیف نہ ہو۔
    · یاد رہے اگر مضمون ایک سے زیادہ صفحوں کا ہے تو ہر صفحے پر نمبر بھی لکھیں۔ تحریر پر تاریخ بھی لکھ دیں تاکہ بعد میں حوالہ دینے میں آسانی رہے۔
    · یاد رکھیں زبانی کلامی بات کی کوئی اہمیت نہیں۔ لیکن لکھی ہوئی ایک سطر بھی ٹنوں وزن رکھتی ہے۔ اس لیے جب بھی آپ اپنے حلقے کے کسی نمائندے کے پاس جائیں تو اپنا مسئلہ لکھ کر لے جائیں اور اس کو پیش کردیں یا مناسب ذریعے سے اس تک پہنچا دیں۔
    · بعض اوقات اگر کسی مقام پر میٹنگ کرنا ممکن نہ ہو تو نیٹ کے ذریعے کانفرنس کال سے کام چلایا جاسکتا ہے۔
    · جب بھی اپنے نمائندے تک کچھ لکھا ہوا پہنچائیں تو کوشش کریں کہ اس کی وصولی کی رسید حاصل کریں۔ یہ بعد میں سند کے طور پر کام آسکتی ہے۔
    · اپنی معلومات اور تجربات کو عام کرتے رہیں۔ کوئی بھی شخص آپ سے خود اپنا گروپ قائم کرنے میں مدد کا طالب ہو تو ہر ممکن حد تک اس کی مدد کریں۔ جتنے زیادہ لوگ اس کام میں شامل ہوں گے اتنا ہی کام آسان ہوجائے گا۔
    · اس کام کو کرنے کے لیے بہت زیادہ پیسے درکار نہیں ہیں اس لیے اگر کوئی شخص اپنے گروپ کے ساتھیوں سے بہت زیادہ چندہ طلب کررہا ہے تو وہ فراڈ ہے ایسے گروپ کو فورا چھوڑ دیں۔
    اگر آپ کچھ نہ کرنا چاہیں تب بھی
    ہر شخص کے اپنے حالات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے بعض اوقات چاہتے ہوئے بھی کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی بھی اور طریقے سے اس کام میں اپنا حصہ نہیں ڈال سکتا۔ ذیل میں وہ چند طریقے درج ہیں جن کے ذریعے آپ بغیر کسی محنت کے اس کام میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔
    · اللہ سے دعا کریں کہ جو اس کام میں لگ رہے ہیں اس کے لیے آسانی فرمائے۔
    · اس مضمون کی غلطیوں کی نشاندہی کریں۔
    · اس مضمون کی چند نقلیں اپنے احباب میں تقسیم کیجیے۔ نائی کی دکان یا یا بکسٹال کے ذریعے بھی اس کو تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
    · اپنے علاقے کے کسی گروپ میں متفق کے طور پر شامل ہوجائیں اور اس کے بھیجے ہوئے پیغامات کو اپنے علاقے کے دوسرے لوگوں تک forward کریں۔
    · اس لائحہ عمل کو بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی بات ذہن میں آئے تو اپنے قریب کے کسی گروپ تک پہنچا دیں۔
    · آپ اگر کمپیوٹر گرافکس کے ماہر ہیں تو اس کام کی مناسبت سے پوسٹر تیار کریں اور اپنے علاقے کے گروپ تک پہنچادیں۔
    انتحابی مہم کے دوران
    پچھلے صفحات میں جو کچھ پیش کیا گیا اس میں سارا زور انتخاب کے بعد نمائندوں کے احتساب پر ہے لیکن اس بات کی ضرورت اپنی جگہ ہے کہ انتخابات کے دوران بھی گروپ اپنے آپ کو متحرک رکھیں تاکہ لوگوں کو ووٹ دینے اور صحیح امیدوار کو ووٹ دینے کے سلسلے میں رہنمائی کی جاسکے۔
    کوشش کریں کہ اپنے نمائندے کی کارکردگی کا ایک ایماندارانہ جائزہ تیار کریں اور اپنے علاقے کے لوگوں تک اس کو پہنچا دیں۔ یہ کام کسی پارٹی وابستگی سے ہٹ کر کریں اور واٹس اپ یا جو ذریعہ آپ مناسب سمجھیں اپنے علاقے کے لوگوں تک پہنچا دیں۔ اس جائزے کے نتیجے میں جو آپ کی رائے بنتی ہو اس کا برملا اظہار کردیجیے۔ لیکن کسی کے لیے ووٹ کی اپیل مت کریں ورنہ لوگ آپ کے تجزیے کو پارٹی بازی سمجھ کر نظرانداز کردیں گے اور آپ کی محنت ضائع جائے گی۔
    اس سلسلے میں سب سے پہلے تو تمام امیدواروں کے کوائف جمع کیے جائیں۔ اگر وہ اپنی نشست پر دوبارہ انتخاب لڑرہے ہیں تو کام بہت آسان ہے اس لیے کہ ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہوگی۔ اس کو سامنے رکھ کر اس امیدوار کے چناؤ کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کردیں۔
    مزید یہ کہ یہ امیدوار اپنی انتخابی مہم کے دوران جب مختلف علاقوں میں جاتے ہیں اور کارنر میٹنگیں کرتے ہیں۔ ہر گروپ کو چاہیے کہ وہ ہر امیدوار سے منتخب قسم کے سوالات کرے تاکہ اس کی صلاحیتوں کا پتہ چل سکے۔ ذیل میں ایسے ایک سو کے قریب سوالات دیے گئے ہیں جن کے ذریعے امید ہے کہ امیدوار کے متعلق ایک رائے قائم کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس موقع پر کسی امیدوار کی بے جا حمایت یا مخالفت سے بچتے ہوئے محض ان سوالات کے جوابات سے جو آپ کا تاثر بنے بے لاگ اس کو اپنے گروپ کے ذریعے عام کردیں۔ ان سوالات کے علاوہ جو اور سوالات آپ کے ذہن میں آئیں اس کو بھی ضرور استعمال کریں البتہ یہ عمومی باتیں پیش نظر رہنی چاہئیں۔
    · سوالات حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں تیار کیے جائیں۔
    · سوالات زیادہ طویل نہ ہوں۔ تین چار سطریں کافی ہیں۔
    · نمائندے کا جواب صرف لفظی ہیر پھیر نہ ہو بالکل واضح ہو۔
    · کوشش ہونی چاہیے کہ سوالات برارہ راست اسی نمائندے سے متعلق ہو۔ اس کی پارٹی سے متعلق نہ ہوں۔ ورنہ اس کو آپ کے سوال کو ٹالنے کا موقع مل جائے گا۔
    · ان سوالات کو لکھ لیا جائے اور اپنے حلقے کے لوگوں میں عام کردیا جائے۔
    اختتامیہ
    · یہ لائحہ عمل کسی طور پر بھی حتمی نہیں بلکہ ابتدا ہے جو یقینا سمجھ رکھنے والوں کو ایک نقطہ آغاز دے گا اور وہ اپنی کوششوں سے اس کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔ البتہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگر اس کام کو صحیح طور پر پوری جانفشانی اور ثابت قدمی سے کیا گیا تو پاکستان میں احتساب کا جو عمل رکا ہوا ہے وہ یقینا جاری ہوجائے گا۔ اس لیے کہ احتساب اور شفافیت کی جو صدائیں اس وقت مختلف حلقوں سے بلند ہورہی ہیں ان کو ایک بہتر اور زیادہ منظم شکل میں اظہار کا موقع ملے گا تو یقینا پاکستان میں عدل و انصاف کی راہ ہموار ہوگی۔
    · اگر آپ اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کریں تو اس فورم پر اس کو پیش کریں تاکہ کسی اور کو بھی کام شروع کرنے کی ہمت ہو۔
    · اگر آپ نے اس گائیڈ کو کارآمد پایا اور اس کو عمل میں لائے ہیں تو ہمیں اپنے تجربات اور کامیابیوں سے آگاہ کریں۔ ہم اس کو اس لائحہ عمل کا حصہ بنا دیں گے۔ اس طرح ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔
    · برائے مہربانی اس کتابچے کو آگے ضرور بڑھائیے۔ امید ہے کہ کوئی ہم سے بہتر انداز میں اس میں پیش کیے گئے طریقہ کار کو استعمال کرے اور پاکستان کو اس کے حقیقی مقصد کو حاصل کرنے میں اپنا حصہ ڈالے۔
    · اگر آپ کو اس میں کوئی کمی نظر آئے یا اس کو بہتر بنانے کی کوئی تجویز ذہن میں آئے تو اس فورم پر اپنا سوال بھیجیں ان شاء اللہ تبادلہ خیال سے کچھ نہ کچھ جواب نکل ہی آئے گا۔
    رموز
    اس کتابچہ میں نمائندے سے مراد ہے:
    · سینٹ کا ممبر
    · قومی اسمبلی کا ممبر
    · صوبائی اسمبلی کا ممبر
    · بلدیہ کا ممبر
    اس کتابچے میں مناسب ذریعے سے مراد ہے:
    · ڈاک کے ذریعے
    · دستی خط
    · ای میل
    · فون /فیکس
    · فیکس
    · ملاقات
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    14,160
    وعلیکم السلام
    سیاسی شعور کی باقی اقساط بھی اسی تھریڈ میں پوسٹ کریں. نیا تھریڈ شروع نا کریں
    یہ رسالہ، تحریر کسی کی ہے؟مضمون نگار کا حوالہ بھی دیں.
     
    • متفق متفق x 1

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں