اذان کے وقت دعا کرنا!

رفی نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏مارچ 21, 2018 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

    شیخ محترم اس حدیث مبارکہ کے بارے میں کیا حکم ہے:

    چنانچہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو چیزیں کبھی رد نہیں ہوتیں، یا بہت ہی کم رد ہوتی ہیں، اذان کے وقت، اور میدان کار زار کے وقت جب گھمسان کی جنگ جاری ہو
    ابو داود نے اسے روایت کیا ہے، اور یہ روایت صحیح ہے، صحیح الجامع (3079)

    اگر یہ صحیح ہے تو اس کی ابو داود کی ہی درج ذیل حدیث سے اور بخاری کی مشہور عام حدیث "کہ جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو" سے کس طرح تطبیق دی جائے گی؟

    ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں، پھر جب تم اذان ختم کر لو تو مانگو، تمھیں دیا جائے گا۔
    سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 524
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,943
    دونوں روایات صحیح ہیں۔
    اور دونوں میں تطبیق ممکن ہے
    ایک تو یہ کہ اذان کا جواب دینا اذان کے وقت دعاء کو مانع نہیں۔ یعنی اس وقت جواب بھی دیا جا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ دعاء بھی کی جاسکتی ہے۔
    اور دوسرا یہ کہ دیگر احادیث میں یہ وضاحت ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان دعاء رد نہیں ہوتی۔ یعنی وقت اجابت جو اذان سے شروع ہوا وہ اقامت تک رہتا ہے۔ سو اس دوران دعاء کی جائے تو مقبول ہوتی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  3. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,450
    جزاک اللہ خیرا شیخ محترم!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں